فقہ اسلامی کا تعارف – جلد 03 شمارہ 42
اسلامی فقہ میں طہارت — (بارہواں حصہ )
وضو کے احکام، طریقۂ کار اور اس کے صحیح ہونے کی شرائط
اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے، نجاسات اور مطہرات کی بحث مکمل کرنے کے بعد، اب ہم عملی فقہ کے ایک نئے باب کا آغاز کرتے ہیں، جس کا موضوع نماز اور دیگر عبادات کی اہم ترین تمہید، یعنی وضو ہے۔
جیسا کہ بابِ طہارت کے آغاز میں بیان کیا گیا تھا، اسلامی فقہ میں طہارت کو دو بنیادی حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:
طہارت از خبث: جسم، لباس اور اشیا کو ظاہری نجاستوں سے پاک کرنا۔
طہارت از حدث: انسان کی معنوی اور باطنی پاکیزگی، جو نماز جیسی عبادات کے صحیح ہونے کی بنیادی شرط ہے۔
اب جبکہ پہلے حصے میں نجاسات اور مطہرات کے احکام کا مطالعہ مکمل ہو چکا ہے، ہم دوسرے حصے، یعنی طہارت از حدث، میں داخل ہو رہے ہیں۔
یہ طہارت تین عبادات، یعنی وضو، غسل اور تیمم کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں ہمارا پہلا موضوع وضو کے احکام، اس کے طریقۂ کار اور اس کے صحیح ہونے کی شرائط کا جائزہ لینا ہے۔
شرعی احکام اور ضوابط
الف) وضو کے واجب افعال (دھونے اور مسح کرنے کا طریقہ:
۱۔ چہرہ دھونا
چہرے کو لمبائی میں پیشانی کے اوپر سر کے بال اگنے کی جگہ سے لے کر ٹھوڑی کے آخری حصے تک، اور چوڑائی میں اتنا حصہ دھونا واجب ہے جو ہاتھ کے انگوٹھے اور درمیانی انگلی کے درمیان آتا ہے۔
چہرے کو اوپر سے نیچے کی طرف دھونا ضروری ہے۔
اہم نکتہ: گنجے افراد یا ایسے لوگوں کے لئے جن کے سر کے بال پیچھے ہٹ گئے ہوں، چہرہ دھونے کی حد متعین کرنے کا معیار عام لوگوں کے سر پر بال اگنے کی معمول کی جگہ ہوگی۔
۲۔ دونوں ہاتھ دھونا
دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سے انگلیوں کے سروں تک دھونا واجب ہے۔ پہلے دایاں ہاتھ اور اس کے بعد بایاں ہاتھ دھویا جائے۔
ہاتھوں کو بھی لازماً اوپر، یعنی کہنی سے نیچے، یعنی انگلیوں کی طرف دھونا ضروری ہے۔
۳۔ سر کا مسح کرنا
دائیں ہاتھ کی وضو والی تری سے سر کے اگلے حصے، یعنی پیشانی کے اوپر واقع حصے پر مسح کرنا واجب ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ مسح براہِ راست سر کی جلد پر کیا جائے، بلکہ سر کے اگلے حصے کے بالوں پر مسح کرنا بھی کافی ہے، بشرطیکہ بال بہت زیادہ لمبے نہ ہوں۔
۴۔ پاؤں کا مسح کرنا
تر ہاتھ کی ہتھیلی کو پاؤں کی انگلیوں کے سروں سے لے کر پاؤں کے اوپری ابھار تک پھیرنا واجب ہے۔
پہلے دائیں ہاتھ سے دائیں پاؤں کا مسح کیا جائے اور اس کے بعد بائیں ہاتھ سے بائیں پاؤں کا مسح کیا جائے۔
ب) وضو کے صحیح ہونے کی بنیادی شرائط
۱۔ پانی اور اعضائے وضو کا پاک ہونا
وضو کا پانی مطلق، یعنی غیر مضاف، اور پاک ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح وضو کے اعضا بھی دھونے یا مسح کرنے کے وقت پاک ہونے چاہییں۔
۲۔ پانی اور جگہ کا مباح ہونا
وضو کا پانی اور اس کا برتن غصبی نہیں ہونا چاہیے، یعنی کسی دوسرے شخص کی ملکیت پر ناجائز قبضے کے ذریعے حاصل کیا گیا نہ ہو۔
۳۔ اعضائے وضو پر پانی پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہونا
اعضائے وضو پر کوئی ایسی چیز موجود نہیں ہونی چاہیے جو پانی کو جلد یا بالوں تک پہنچنے سے روکے۔
مثلاً چپکنے والی اشیا، آئل پینٹ، ناخن پالش، جیل نیل پالش، مصنوعی ناخن یا پانی کو روکنے والی کریمیں، اگر پانی کے پہنچنے میں رکاوٹ بنیں تو وضو کے صحیح ہونے میں مانع ہوں گی۔
۴۔ ترتیب اور موالات کی رعایت
وضو کے افعال کو مقررہ شرعی ترتیب کے مطابق انجام دینا ضروری ہے: پہلے چہرہ، پھر دایاں ہاتھ، اس کے بعد بایاں ہاتھ، پھر سر کا مسح اور آخر میں دونوں پاؤں کا مسح۔
اسی طرح وضو کے افعال کو مسلسل انجام دینا ضروری ہے، اس طرح کہ اگلا عمل انجام دینے سے پہلے سابقہ اعضا خشک نہ ہو جائیں۔
عملی مسائل اور مراجعِ تقلید کے فتاویٰ میں اختلافات
۱۔ پاؤں کا مسح کہاں تک کرنا ضروری ہے: پاؤں کے اوپری ابھار تک یا ٹخنے کے جوڑ تک؟
آیاتِ عظام شہید خامنہ ای اور مکارم شیرازی:
پاؤں کی انگلیوں کے سروں سے لے کر پاؤں کے اوپری ابھار تک مسح کرنا کافی ہے، اگرچہ احتیاطِ مستحب یہ ہے کہ مسح کو پاؤں اور پنڈلی کے جوڑ، یعنی ٹخنے تک جاری رکھا جائے۔
آیت اللہ سیستانی:
پاؤں کی انگلیوں کے سروں سے لے کر پاؤں اور پنڈلی کے جوڑ تک مسح کرنا ضروری ہے۔
۲۔ چہرے اور ہاتھوں کو دوسری اور تیسری مرتبہ دھونا
وضو میں چہرے اور ہاتھوں کو پہلی مرتبہ دھونا واجب، دوسری مرتبہ دھونا جائز اور تیسری مرتبہ وضو کی نیت سے دھونا حرام اور وضو کو باطل کرنے والا ہے۔
دوسری مرتبہ دھونے سے متعلق اہم نکتہ:
پہلی یا دوسری مرتبہ دھونے کا معیار یہ نہیں کہ کتنی مرتبہ ہاتھ پھیرا گیا یا پانی ڈالا گیا، بلکہ اصل معیار یہ ہے کہ متعلقہ عضو مکمل طور پر دھل چکا ہو۔
لہٰذا اگر کوئی شخص اپنے ہاتھ پر تین مرتبہ پانی ڈالے اور اس عمل کے نتیجے میں کہنی سمیت پورا ہاتھ پہلی مرتبہ مکمل طور پر دھل جائے تو پانی ڈالنے کے یہ تینوں عمل مجموعی طور پر ایک ہی مرتبہ دھونا شمار ہوں گے۔
۳۔ وضو میں رکاوٹ بننے والی اشیا، جیسے مصنوعی ناخن، پلکیں اور جدید آرائش و زیبائش کے طریقے
آیاتِ عظام شہید خامنہ ای اور مکارم شیرازی:
مصنوعی ناخن اور مصنوعی پلکیں پانی کے پہنچنے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ اگر انہیں ہٹانا ممکن ہو، خواہ اس کے لئے کچھ رقم خرچ کرنا پڑے یا انتظار کرنا پڑے، تو انہیں ہٹانا واجب ہے۔
اگر انہیں ہٹانا بالکل ممکن نہ ہو تو وضوئے جبیرہ انجام دینا ضروری ہے اور احتیاطِ واجب کی بنا پر اس کے ساتھ تیمم بھی کرنا ہوگا۔
آیت اللہ سیستانی:
اگر کوئی رکاوٹ، مثلاً مصنوعی ناخن، دور کرنا ممکن نہ ہو یا اس کے ہٹانے میں شدید مشقت پیش آتی ہو تو وضوئے جبیرہ کرنا ضروری ہے۔
تاہم اگر مصنوعی ناخن نماز کے وقت کے علاوہ، بغیر کسی ضرورت کے لگائے گئے ہوں تو احتیاطِ واجب کی بنا پر وضوئے جبیرہ کے بعد تیمم بھی کرنا ہوگا، اور رکاوٹ دور کرنے کے بعد ان نمازوں کی قضا بھی ادا کرنا ہوگی۔
تربیتی، اخلاقی اور روحانی پیغامات
۱۔ ظاہری طہارت، باطنی پاکیزگی کی تمہید ہے
وضو محض جسم کے بعض اعضا کو دھونے کا نام نہیں، بلکہ قربتِ الٰہی کی نیت اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ارادہ اسے ایک عظیم عبادت میں تبدیل کر دیتا ہے۔
یہ عبادت انسان کی روحانی روشنی، باطنی پاکیزگی اور نماز کے کمال کا ذریعہ بنتی ہے۔
۲۔ پانی کے استعمال میں کفایت شعاری اور اسراف سے اجتناب
اسلامی شریعت اس بات پر زور دیتی ہے کہ وضو کم سے کم پانی استعمال کرتے ہوئے انجام دیا جائے۔
وضو میں پانی کا بے جا استعمال اور اسراف ناپسندیدہ ہے۔ مراجعِ تقلید نے بھی اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وضو کے لئے استعمال ہونے والے پانی کی مقدار ایک چلو یا ایک گلاس کے برابر بھی ہو سکتی ہے۔
چند عام اور اہم سوالات
سوال الف: کیا موئسچرائزنگ کریم، سن اسکرین یا جلد کی قدرتی چکنائی وضو میں رکاوٹ بنتی ہے؟
جواب:
اگر کریم جلد میں جذب ہو چکی ہو اور اس نے جلد پر ایسی تہہ نہ بنائی ہو جو پانی کے پہنچنے میں رکاوٹ بنتی ہو تو وضو صحیح ہے۔
اسی طرح جلد کی عام اور قدرتی چکنائی یا پسینہ بھی وضو کے صحیح ہونے میں رکاوٹ نہیں بنتے۔
سوال ب: اگر وضو کرنے کے بعد یا نماز کے دوران معلوم ہو کہ ناخن یا ہاتھ پر کچھ نیل پالش یا چپکنے والی چیز موجود تھی تو کیا حکم ہے؟
جواب:
اگر کوئی ایسی چیز اعضائے وضو کے دھونے والے حصوں، یعنی چہرے اور ہاتھوں، یا مسح کے مقام پر موجود تھی جو پانی یا مسح کی تری پہنچنے میں رکاوٹ بنتی ہو، تو وضو باطل ہے۔ایسی صورت میں اس رکاوٹ کو دور کرنے کے بعد دوبارہ وضو کرنا اور نماز دوبارہ ادا کرنا ضروری ہے۔
سوال ج: کیا وضو مکمل کرنے کے بعد وضو کے اعضا کو خشک کرنا جائز ہے؟
جواب:
جی ہاں، وضو مکمل ہونے کے بعد چہرے اور ہاتھوں کو خشک کرنے میں کوئی حرج نہیں، اگرچہ وضو کی تری کو خود بخود خشک ہونے دینا باعثِ ثواب ہے۔
تاہم جن اعضا پر مسح کرنا ہے، یعنی سر اور پاؤں، وہ مسح سے پہلے خشک ہونے چاہییں، یا ان پر موجود تری اتنی کم ہونی چاہیے کہ ہاتھ کی تری اس پر غالب رہے۔
سوال د: اگر وضو کے نلکے یا برتن کے غصبی ہونے کے بارے میں شک ہو تو ہماری شرعی ذمہ داری کیا ہے؟
جواب:
جب تک ہمیں پانی یا جگہ کے غصبی ہونے کا یقین نہ ہو، اصل یہ ہے کہ انہیں مباح اور ان کے استعمال کو جائز سمجھا جائے۔
لہٰذا عوامی مقامات، دفاتر اور پارکوں میں وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
سوال ہ: اگر ہمیں شک ہو کہ وضو کیا تھا یا نہیں، یا یہ شک ہو کہ ہمارا وضو باطل ہو چکا ہے یا نہیں، تو کیا حکم ہے؟
جواب: قاعدۂ استصحاب اور طہارت کی روشنی میں
۱۔ نماز سے پہلے وضو کرنے کے بارے میں شک
اگر کوئی شخص جانتا ہو کہ وہ پہلے بے وضو تھا، لیکن اب اسے شک ہو کہ اس نے وضو کیا ہے یا نہیں، تو اسے وضو کرنا ہوگا۔
۲۔ وضو کے باطل ہونے کے بارے میں شک
اگر کسی شخص کو یقین ہو کہ اس نے وضو کیا تھا، لیکن اب اسے شک ہو کہ وضو کو باطل کرنے والا کوئی عمل، مثلاً نیند یا ریح خارج ہونا، اس سے سرزد ہوا ہے یا نہیں، تو وہ اپنے وضو کو باقی اور صحیح سمجھے گا۔
شرعی اعتبار سے اس کا وضو برقرار ہے اور اسے دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں۔
۳۔ نماز مکمل ہونے کے بعد وضو کے بارے میں شک
اگر کوئی شخص نماز مکمل کرنے کے بعد شک کرے کہ نماز سے پہلے وہ باوضو تھا یا نہیں، تو اس کی ادا کردہ نماز صحیح شمار ہوگی۔
تاہم آئندہ نمازوں کے لئے اسے دوبارہ وضو کرنا ضروری ہوگا۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

