سدا بہار قرآنی کہانیاں – جلد 03 شمارہ 40

Everlasting Tales of the Quran – Volume 03 Issue 40

لقمانِ حکیم کی داستان؛ وہ شخص جس نے حکمت کے ساتھ زندگی گزاری

حبشہ کی گرم اور دھوپ سے جھلسی ہوئی سرزمین میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کے ظاہر میں سادگی کے سوا کچھ نمایاں نہ تھا۔

ایک سیاہ چہرہ، معمولی لباس، اور گہری خاموشی جس کی کیفیت اس کی نگاہوں میں محسوس ہوتی تھی۔لیکن اس خاموشی کے پیچھے فکر و اندیشے کا ایک چشمہ جاری تھا؛ ایسا چشمہ جس نے بعد میں تاریخ میں اس کا نام "لقمانِ حکیم" کے طور پر ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔

غلامی سے حکمت تک:

جوانی میں لقمان غلامی کی آزمائش میں مبتلا ہوئے۔یہ ایسی تقدیر تھی جو بہت سے لوگوں کو توڑ دیتی ہے، لیکن لقمان کی روح کو نہ توڑ سکی۔

وہ غلام تھے، مگر کسی کے غلام نہیں تھے:

  • نہ غصے کے غلام،
  • نہ خواہشات کے غلام،
  • نہ جہالت کے غلام۔

خاموشی میں، مشاہدے میں اور غور و فکر میں وہ خود کو تعمیر کرتے رہے۔

کئی سال بعد قرآن کریم نے ایک عظیم راز آشکار کیا کہ لقمان وہ شخصیت تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے "حکمت" عطا کر کے ممتاز فرمایا تھا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ أَنِ اشْكُرْ لِلَّهِ

"اور یقیناً ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی کہ اللہ کا شکر ادا کرو۔"
(سورۂ لقمان، آیت ۱۲)

یہ ان کی معلمی کا آغاز تھا؛ ایسا معلم جو دوسروں کو تعلیم دینے سے پہلے خود کو سنوار چکا تھا۔

لقمان کی درس گاہ؛ محبت سے آغاز

لقمان ایسے استاد نہیں تھے جو اپنے شاگرد کو سختی یا طاقت کے ذریعے مخاطب کرتے۔وہ تعلیم کا آغاز محبت سے کرتے تھے؛ ایسے لفظ سے جو قرآن میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا: "یَا بُنَیَّ" یعنی: "اے میرے پیارے بیٹے!”

ایک دن انہوں نے اپنے بیٹے کو اپنے پاس بٹھایا۔ ان کے الفاظ میں شفقت اور محبت کی ٹھنڈک تھی۔ انہوں نے فرمایا:

یَا بُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ

"اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔"

(سورۂ لقمان، آیت ۱۳)

لقمان جانتے تھے کہ اگر فکر کی بنیاد درست نہ ہو تو شخصیت کی کوئی شاخ مضبوط نہیں رہ سکتی۔اس لیے ان کا پہلا سبق:

توحید کا سبق تھا؛ یعنی صحیح عالمی نظریے کی بنیاد۔

دوسرا سبق؛ خدا آگاہی اور اندرونی بصیرت

لقمان جانتے تھے کہ ایک استاد ہمیشہ اپنے شاگرد کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔اس لیے ضروری ہے کہ وہ شاگرد کے اندر ایسا چراغ روشن کر دے جو تنہائی اور مشکلات میں بھی اس کی رہنمائی کرتا رہے۔

انہوں نے ایک حیرت انگیز مثال بیان کی:

يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ

"اے میرے بیٹے! اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہو، پھر وہ کسی چٹان کے اندر ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں، اللہ اسے لے آئے گا۔"

(سورۂ لقمان، آیت ۱۶)

اس سے بیٹے نے سمجھا کہ: کوئی چھوٹا یا بڑا عمل ضائع نہیں ہوتا۔ اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔انسان کو ہر حال میں اپنے اعمال کا خیال رکھنا چاہیے۔

یہ شعور اس کے اخلاقی فیصلوں کا رہنما بن گیا۔

تیسرا سبق؛ سماجی ذمہ داری اور صبر

فکری اور اخلاقی بنیاد قائم کرنے کے بعد لقمان نے اپنے بیٹے کو معاشرے میں ذمہ داری کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے تیار کیا۔

انہوں نے فرمایا:

يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ

"اے میرے بیٹے! نماز قائم کرو، نیکی کا حکم دو، برائی سے روکو، اور جو مصیبت تمہیں پہنچے اس پر صبر کرو۔"

(سورۂ لقمان، آیت ۱۷)

لقمان نے اپنے بیٹے کے لیے ایک خیالی اور مشکلات سے خالی دنیا نہیں بنائی۔انہوں نے حقیقت بیان کی:

  • اصلاح کا راستہ آسان نہیں ہوتا۔
  • حق بات کہنے میں مشکلات آ سکتی ہیں۔
  • صبر انسان کی مضبوطی کا ستون ہے۔

چوتھا سبق؛ عاجزی اور معاشرتی آداب

آخر میں لقمان نے اپنے بیٹے کی توجہ روزمرہ زندگی کے رویّوں کی طرف دلائی:

  • چلنے کے انداز کی طرف،
  • گفتگو کے طریقے کی طرف،
  • اور لوگوں کے ساتھ برتاؤ کی طرف۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ

"اور لوگوں سے (غرور کے ساتھ) اپنا رخ نہ پھیر۔"

(سورۂ لقمان، آیت ۱۸)

اور فرمایا:

وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ

"اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو اور اپنی آواز کو پست رکھو۔" (سورۂ لقمان، آیت ۱۹)

لقمان جانتے تھے کہ اخلاق صرف عبادت گاہوں میں نہیں ہوتا، بلکہ:

  • انسان کے قدموں میں،
  • اس کے لہجے میں،
  • اس کی گفتگو میں،
  • اور روزمرہ کے معاملات میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔

ایک انسان کا کردار اس وقت مکمل ہوتا ہے جب اس کا باطن بھی پاک ہو اور اس کا ظاہر بھی خوبصورت ہو۔

حکمت کا عملی مظاہرہ؛ لقمان کی زندگی کے امتحانات

لقمان کئی سال غلام رہے، لیکن ایسے غلام جو اپنے کردار سے اپنے مالک کو حیران کر دیتے تھے۔

ایک دن ان کے مالک نے کہا: "بھیڑ کے بہترین حصے میرے لیے لاؤ۔"

لقمان نے بھیڑ کا: دل، اور زبان لا کر پیش کر دی۔

چند دن بعد مالک نے کہا: "اب اس کے بدترین حصے لے کر آؤ۔"

لقمان پھردل،اور زبان ہی لے آئے۔

مالک نے حیرت سے پوچھا: "یہ کیسے ممکن ہے؟"

لقمان نے جواب دیا:

"اگر دل اور زبان پاک ہوں تو ان سے بہتر کوئی چیز نہیں، اور اگر یہ آلودہ ہو جائیں تو ان سے بدتر کوئی چیز نہیں۔"

یہ جواب مالک کے دل کو چھو گیا۔

لقمان کے کردار اور حکمت سے متاثر ہو کر وہ انہیں آزاد کر دیا گیا۔

حضرت داؤد علیہ السلام کی صحبت؛ خاموشی کا سبق

بعد میں لقمان حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں رہے۔ ایک دن وہ حضرت داؤد علیہ السلام کی کارگاہ میں داخل ہوئے۔

انہوں نے دیکھا کہ حضرت داؤد علیہ السلام سخت لوہے کو موم کی طرح نرم کر رہے ہیں اور زرہ بنا رہے ہیں۔

لقمان کے دل میں سوال پیدا ہوا، لیکن انہوں نے خاموشی اختیار کی۔ انہوں نے سوچا: "انتظار کرو، حقیقت خود واضح ہو جائے گی۔"

جب حضرت داؤد علیہ السلام نے زرہ پہن کر فرمایا: "جنگ کے لیے یہ بہت اچھی پوشاک ہے۔"

تو لقمان مسکرائے اور کہا: الصَّمْتُ حُكْمٌ وَقَلِيلٌ فَاعِلُهُ

"خاموشی ایک بڑی حکمت ہے، لیکن اس پر عمل کرنے والے کم ہیں۔"

حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا: "یقیناً تم اس بات کے مستحق ہو کہ تمہیں حکیم کہا جائے۔"

زندگی کے طوفان

لقمان نے زندگی میں بہت سی تکلیفیں دیکھیں۔انہوں نے:اپنے عزیزوں کو کھویا،مشکلات برداشت کیں،آزمائشوں کا سامنا کیا،

لیکن کبھی شکایت کی زبان نہ کھولی۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں منقول ہے کہ آپ نے لقمان کے متعلق فرمایا:

"وہ نبی نہیں تھے، بلکہ ایک ایسے بندے تھے جو بہت زیادہ غور و فکر کرتے تھے، مضبوط یقین رکھتے تھے، اللہ سے محبت کرتے تھے اور اللہ بھی ان سے محبت کرتا تھا۔"

زندگی کا اختتام؛ ہمیشہ باقی رہنے والا ورثہ

زندگی کے آخری سالوں میں لقمان نے اپنے بیٹے کو بلایا۔وہی بیٹا جسے وہ کبھی محبت سے:"یَا بُنَیَّ" کہہ کر پکارتے تھے۔

ایک باپ کی خلوت بھری نصیحت میں انہوں نے اپنی زندگی کا سب سے قیمتی خزانہ اسے عطا کیا:

ایسی حکمت بھری باتیں جو آسمانی تعلیمات کا حصہ بن گئیں اور سورۂ لقمان میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئیں۔

لقمان نے فلسطین میں وفات پائی؛ بعض روایات کے مطابق: رملہ، یا طبریہ میں۔لیکن ان کا نام مٹی میں دفن نہیں ہوا، بلکہ دلوں میں زندہ رہا۔

ایسے دلوں میں جو آج بھی ان کی حکمت سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔

حضرت لقمان علیہ السلام کی زندگی سے اساتذہ، مربیوں اور تربیت کے راستے پر چلنے والوں کے لیے بنیادی اسباق:

۱۔ کثرتِ معلومات پر حکمت کی اصل اہمیت

لقمان صرف معلومات یاد کروانے والے استاد نہیں تھے، بلکہ حکمت کے معلم تھے۔

حکمت کا مطلب ہے: "حقیقتوں کو درست طور پر پہچاننا اور انہیں صحیح موقع پر صحیح انداز سے استعمال کرنا۔"

ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف معلومات منتقل کرنا نہیں، بلکہ طالب علم میں:

  • تجزیہ کرنے کی صلاحیت،
  • صحیح اور غلط میں فرق کرنے کی قوت،
  • اور گہری سمجھ

پیدا کرنا ہے۔

۲۔ محبت اور انسان محور تربیت کو ترجیح دینا

قرآن میں لقمان کی تربیت کا پہلا ذریعہ یہ ہے: "یَا بُنَیَّ" یعنی:  "اے میرے پیارے بیٹے!”

وہ تعلیم کا آغاز: محبت، احترام، اور انسانی کرامت سے کرتے ہیں، نہ کہ سختی، طاقت یا خشک انداز سے۔

یہ سبق ہمیں بتاتا ہے کہ استاد کا اثر صرف اس کے علم کی وجہ سے نہیں ہوتا، بلکہ شاگرد کے ساتھ اس کے جذباتی تعلق کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔

۳۔ غور و فکر اور خاموشی؛ علم پیدا کرنے کی بنیاد

لقمان بولنے سے پہلے:کثرت سے غور و فکر کرنے والے،اور حکمت بھری خاموشی اختیار کرنے والےشخص کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔

حضرت داؤد علیہ السلام کے واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ:

  • استاد خود گہری سوچ رکھنے والا نہ ہو تو اس کی بات میں اثر کم ہو جاتا ہے۔
  • جلد بازی سے بچنا،
  • صبر کرنا،
  • اور غور سے مشاہدہ کرنا

سیکھنے اور سکھانے کے بنیادی اصول ہیں۔

۴۔ تعلیم میں تدریجی اور منظم طریقہ اختیار کرنا

لقمان نے اپنے بیٹے کی فکری اور عملی تربیت میں ایک منظم اور مرحلہ وار طریقہ اختیار کیا۔

انہوں نے تعلیم کا آغاز بنیادی ترین حقیقت سے کیا، پھر آہستہ آہستہ شخصیت کے دوسرے پہلوؤں کی تعمیر کی۔

ان کا تربیتی نظام چار بنیادی مراحل پر مشتمل تھا:

۱۔ نظریاتی بنیاد اور فکری بصیرت کی تعمیر

سب سے پہلے انہوں نے: توحید،اللہ کی معرفت،اور شرک کی نفی کی تعلیم دی۔ کیونکہ اگر انسان کا نظریۂ زندگی درست نہ ہو تو اس کے اعمال کی بنیاد مضبوط نہیں ہو سکتی۔

۲۔ اندرونی نگرانی اور خود احتسابی پیدا کرنا

اس کے بعد انہوں نے یہ احساس پیدا کیا کہ انسان چاہے دوسروں کی نگاہ سے چھپ جائے، لیکن اللہ کی نگاہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔

جیسا کہ فرمایا: "اے میرے بیٹے! اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہو، تو اللہ اسے لے آئے گا۔"

(سورۂ لقمان، آیت ۱۶)۔ یہ تعلیم انسان کے اندر:تقویٰ،ذمہ داری،اور خود نگرانی پیدا کرتی ہے۔

۳۔ انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کو مضبوط کرنا

اس کے بعد لقمان نے اپنے بیٹے کو معاشرے میں ذمہ دار کردار ادا کرنے کی تعلیم دی:

  • نماز قائم کرنا،
  • نیکی کا حکم دینا،
  • برائی سے روکنا،
  • اور مشکلات پر صبر کرنا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں تربیت صرف ذاتی اصلاح تک محدود نہیں، بلکہ معاشرے کی بہتری بھی اس کا حصہ ہے۔

۴۔ عملی شخصیت اور اخلاقی رویّوں کی تعمیر

آخر میں انہوں نے روزمرہ زندگی کے اخلاق سکھائے:عاجزی،نرم گفتگو،مناسب چال،اور لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ۔

یہ ترتیب ہمیں بتاتی ہے کہ:فکری بنیاد کے بغیر اخلاق دیرپا نہیں ہوتا، اور اخلاق کے بغیر علم انسان کو کامل نہیں بناتا۔

۵۔ مشکلات کے مقابلے میں ثابت قدمی اور حقیقت پسندی پیدا کرنا

لقمان نے اپنے بیٹے کو اصلاح اور ذمہ داری کا راستہ دکھانے کے بعد فوراً صبر کی تعلیم دی: وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ-"اور جو مصیبت تمہیں پہنچے اس پر صبر کرو۔” (سورۂ لقمان، آیت ۱۷)

لقمان نے اپنے بیٹے کے سامنے ایسی دنیا کی تصویر نہیں بنائی جہاں:کوئی اختلاف نہ ہو،کوئی مشکل نہ آئے،یا ہر شخص فوراً حق قبول کر لے۔

بلکہ انہوں نے اسے حقیقت سے آشنا کیا:حق کا راستہ آزمائشوں سے خالی نہیں۔ اصلاح کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔صبر کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ اس سے تربیتی سبق یہ ملتا ہے کہ:

بچوں اور نوجوانوں کو صرف کامیابی کے خواب نہیں دکھانے چاہئیں، بلکہ انہیں مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے صبر،حوصلہ،اور ثابت قدمی بھی سکھانی چاہیے۔

۶۔ قول و فعل میں یکسانیت؛ عمل کی اہمیت

لقمان کی عظمت کا ایک راز یہ تھا کہ ان کے الفاظ اور ان کا کردار ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے۔

بھیڑ کے دل اور زبان والے واقعے میں یہی حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ: انسان کی اصل قدر اس کے دعووں سے نہیں بلکہ اس کے عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔ تربیت کا سب سے مؤثر ذریعہ: "کردار کے ذریعے تعلیم دینا” ہے۔ شاگرد: صرف یہ نہیں دیکھتے کہ استاد کیا کہتا ہے؛ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ استادکہ کیسے رہتا ہے، کیسے بات کرتا ہے، کیسے غصے کو کنٹرول کرتا ہے، اور لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آتا ہے۔ایک استاد کا عمل ہزار الفاظ سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔

۷۔ معلم کے لیے لقمان حکیم کا پیغام

حضرت لقمان کی زندگی آج کے اساتذہ اور مربیوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اچھا استاد صرف معلومات دینے والا نہیں ہوتا، بلکہ انسان بنانے والا ہوتا ہے۔ وہ علم کے ساتھ حکمت دیتا ہے۔حکم دینے سے پہلے تعلق قائم کرتا ہے۔تنقید سے پہلے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔شاگرد کو صرف کامیابی نہیں بلکہ صحیح انسان بننے کا راستہ دکھاتا ہے۔

اختتامی پیغام

لقمان حکیم کی داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عظمت کا تعلق مال سے نہیں،ظاہری مقام سے نہیں،طاقت سے نہیں، بلکہ حکمت،اچھے کردار،اللہ سے تعلق،اور انسانوں کی تربیت سے ہے۔ ایک غلام بھی تاریخ کا عظیم استاد بن سکتا ہے، اگر اس کے اندر حکمت، اخلاص اور پاکیزہ کردار موجود ہو۔اسی لیے قرآن نے ان کا نام ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا، تاکہ آنے والی نسلیں سیکھ سکیں کہ اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان کتنا جانتا ہے؛ بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے علم کو کس طرح حکمت، اخلاق اور عمل میں تبدیل کرتا ہے۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔