اداریہ – جلد 03 شمارہ 42
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شجاعت سے قرآن کی دعوتِ عدل و انصاف تک
مقدمہ
ہر ہفتے کی مناسبتیں ہمیں یہ موقع فراہم کرتی ہیں کہ ہم ماضی کے اسباق کو اپنی آج کی ذمہ داریوں سے جوڑیں۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شجاعت اور جنگِ مؤتہ میں اسلام کے جان نثاروں کی قربانیوں سے لے کر علم و دانش کے حصول، معذور افراد کے انسانی وقار کے تحفظ اور غربت کے خاتمے تک، اس ہفتے کی مناسبتیں ہمیں ایک مؤمنانہ زندگی کے حقیقی مفہوم اور انسانیت کی خدمت کے بارے میں غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔
مسلمانوں کے لئے ماضی کی عظیم شخصیات اور تاریخی واقعات کی یاد منانا اسی وقت حقیقی معنویت اور قدر و قیمت رکھتا ہے، جب یہ یادیں عدل و انصاف، ہمدردی، حکمت و دانش اور عملی اقدامات کا سرچشمہ بنیں۔
۱۴ اکتوبر: عالمی یومِ معیار (World Standards Day)
عالمی یومِ معیار پہلی مرتبہ ۱۹۷۰ء میں منایا گیا۔ اس دن کا مقصد ان ماہرین اور اداروں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جو مصنوعات، خدمات اور مختلف نظاموں کے تحفظ، قابلِ اعتماد ہونے، باہمی مطابقت اور معیار کو یقینی بنانے کے لئے اصول و ضوابط مرتب کرتے ہیں۔ یہ معیارات بین الاقوامی تجارت، عوامی تحفظ اور تکنیکی و سائنسی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اسلام سچائی، کام کے اعلیٰ معیار، عمدگی، درستگی اور عہد و پیمان کی پاسداری پر بہت زیادہ زور دیتا ہے۔ یہی وہ بنیادی اصول ہیں جو ذمہ دارانہ انداز میں معیارات مرتب کرنے اور پیشہ ورانہ فرائض کو احسن طریقے سے انجام دینے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
آج کا پیغام: ہمیں اپنی تمام پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں دیانت داری، درستگی، شفافیت اور جواب دہی کو اپنا شعار بنانا چاہیے اور ہمیشہ یہ بات پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ اعلیٰ معیار اور قابلِ اعتماد کارکردگی محض تکنیکی تقاضے ہی نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داریاں بھی ہیں۔
۱۵ اکتوبر: سفید چھڑی اور نابینا افراد کے تحفظ کا عالمی دن
سفید چھڑی نابینا اور کم بینائی رکھنے والے افراد کی آزادانہ نقل و حرکت کی ایک معروف علامت بن چکی ہے۔ یہ ایک مؤثر عملی وسیلہ بھی ہے، جو انہیں اپنے اردگرد کے ماحول میں راستہ تلاش کرنے اور زیادہ خودمختاری کے ساتھ آمد و رفت میں مدد فراہم کرتا ہے۔
سفید چھڑی کا عالمی دن عوامی شعور بیدار کرنے، سڑکوں اور راستوں کو زیادہ محفوظ بنانے اور بصارت سے محروم یا کم بینائی رکھنے والے افراد کو معاشرتی زندگی میں مساوی شرکت کے مواقع فراہم کرنے کے مقصد سے منایا جاتا ہے۔
قرآنِ کریم اہلِ ایمان کو یاد دلاتا ہے کہ انسانی عزت و کرامت ایک عالمگیر اور جامع حقیقت ہے، جس کا انسان کی جسمانی کمزوریوں یا معذوریوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ارشادِ الٰہی ہے:
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ
ترجمہ: ’’اور یقیناً ہم نے اولادِ آدم کو عزت و کرامت عطا کی ہے۔‘‘
(سورۂ اسراء، آیت ۷۰)
آج کا پیغام: ہمیں اپنی مساجد، تعلیمی اداروں اور سماجی مراکز کو اس انداز سے تعمیر اور منظم کرنا چاہیے کہ وہ ہر شخص کے لئے قابلِ رسائی ہوں۔ معذور افراد کے ساتھ محض ترس اور رحم کے رویے یا انہیں معاشرتی زندگی سے الگ رکھنے کے بجائے، احترام، مساوی مواقع اور معاشرے میں ان کی حقیقی اور فعال شرکت کو فروغ دینا چاہیے۔
۵ جمادی الاولیٰ: ولادتِ حضرت زینب سلام اللہ علیہا
حضرت زینب بنتِ علی سلام اللہ علیہا، رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نواسی، ۵ جمادی الاولیٰ ۵ ہجری، تقریباً ۶۲۶ء میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں۔
آپ امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی دخترِ گرامی تھیں۔ آپ اپنی فصاحت و بلاغت، شجاعت، علم و دانش اور غیر متزلزل استقامت کے باعث، خصوصاً ۶۸۰ء میں پیش آنے والے کربلا کے دل سوز سانحے کے بعد، تاریخِ اسلام میں ایک عظیم اور ممتاز مقام کی حامل ہوئیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران میں آپ کے یومِ ولادت کو نرسوں اور بنیادی صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن زخمیوں، بیماروں اور مصیبت زدہ افراد کی تیمارداری اور دیکھ بھال کے سلسلے میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شفقت، ہمدردی اور خدمت کے مثالی کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی زندگی ان لوگوں کی اخلاقی عظمت، قوتِ کردار اور استقامت کی علامت بن چکی ہے جو شدید مشکلات اور مصائب کے باوجود انسانی عزت و کرامت کے تحفظ کے لئے ثابت قدم رہتے ہیں۔
آج کا پیغام: حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے حقیقی اور عملی پیروکار ہونے کی حیثیت سے ہمیں ان مظلوم اور مصیبت زدہ انسانوں کے دکھ درد اور مصائب کو کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جو ہمارے عہد کے ظلم و ستم اور ناانصافیوں کا شکار ہوئے ہیں۔
۵ جمادی الاولیٰ: جنگِ مؤتہ
جنگِ مؤتہ، جو رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان پیش آئی، ابتدائی مسلمانوں کے ایمان، ایثار اور قربانی کے جذبے کے ساتھ ساتھ جنگ کے دوران اخلاقی اصولوں کی پاسداری کی ایک نمایاں مثال تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلامی لشکر کو جو ہدایات عطا فرمائیں، ان میں یہ اہم اخلاقی احکام بھی شامل تھے:
خانقاہوں اور عبادت گاہوں میں رہنے والوں کو نقصان نہ پہنچاؤ۔ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو گزند نہ پہنچاؤ۔ کسی درخت کو نہ کاٹو اور کسی گھر کو تباہ نہ کرو۔
آج کے اس دور میں، جب جنگیں اور مسلح تنازعات مسلسل انسانی معاشروں کو تباہ و برباد کر رہے ہیں، جنگِ مؤتہ کا واقعہ ہمیں ذمہ دارانہ قیادت، جنگ کی انسانی قیمت اور جنگی حالات میں اخلاقی حدود کی پابندی اور ضبط و تحمل کی اہمیت پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
قرآنِ کریم حکم دیتا ہے:
وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
ترجمہ: ’’اور حد سے تجاوز نہ کرو، بے شک اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘
(قرآنِ کریم، سورۂ بقرہ، آیت ۱۹۰)
آج کا پیغام: ہمیں اپنے عہد کی ظالمانہ اور غیر منصفانہ جنگوں میں ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے بے گناہ اور مظلوم انسانوں کی آواز بننا چاہیے۔
۱۷ اکتوبر ۲۰۲۶ء: غربت کے خاتمے کا عالمی دن
یہ دن دنیا بھر کی توجہ غربت کے مختلف پہلوؤں کی طرف مبذول کراتا ہے، جن میں غیر مناسب رہائش، تعلیم اور صحت و علاج کی سہولتوں تک محدود رسائی، غیر مستحکم روزگار اور معاشرتی محرومی و تنہائی شامل ہیں۔
اسلام معاشی عدل و انصاف، معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کی حمایت اور زکوٰۃ، صدقات اور ذمہ دار سماجی اداروں کے ذریعے اجتماعی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر خصوصی زور دیتا ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق دولت کی گردش صرف معاشرے کے مال دار طبقے تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ اسی لئے اسلام نے دولت کی زیادہ منصفانہ تقسیم اور اسے چند مخصوص اور مراعات یافتہ افراد کے ہاتھوں میں مرتکز ہونے سے روکنے کے لئے مختلف اصول اور عملی نظام وضع کیے ہیں۔
قرآنِ کریم ارشاد فرماتا ہے:
كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ
ترجمہ: ’’تاکہ دولت تمہارے مال دار لوگوں ہی کے درمیان گردش کرتی نہ رہ جائے۔‘‘
(قرآنِ کریم، سورۂ حشر، آیت ۷)
آج کا پیغام: ہمیں وقتی اور محدود خیراتی امداد سے آگے بڑھ کر ایسے منصفانہ مواقع، مؤثر سماجی تحفظ کے نظام، باعزت روزگار اور عملی پالیسیوں کی حمایت کرنی چاہیے جو غریب اور محروم افراد کو مستقل اور پائیدار بنیادوں پر غربت سے نجات حاصل کرنے کے قابل بنائیں۔
۹ جمادی الاولیٰ: ملاصدرا کا یومِ ولادت
ملاصدرا، ایران کے ممتاز مسلمان فلسفی، تقریباً ۱۵۷۱ء یا ۱۵۷۲ء میں عہدِ صفویہ کے دوران شیراز میں پیدا ہوئے۔
انہوں نے اسلامی فلسفے، علمِ کلام اور تفسیرِ قرآن کا گہرا مطالعہ کیا اور میرداماد اور شیخ بہائی جیسے اپنے عہد کے جلیل القدر علماء اور دانش وروں سے علمی استفادہ کیا۔
ان کی سب سے اہم تصنیف، اسفارِ اربعہ، ایک منفرد، جامع اور تخلیقی فلسفیانہ نظام پیش کرتی ہے، جس میں مختلف فکری روایتوں، خصوصاً فلسفۂ مشّاء، فلسفۂ اشراق اور اسلامی عرفانی افکار کے اثرات نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔
وجود کی اصالت، یعنی اصالتِ وجود کے بارے میں ان کے فلسفیانہ نظریے نے بعد کے ادوار میں اسلامی فلسفے اور فکری روایت کی تشکیل اور ارتقا پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔
آج کا پیغام: ہمیں تنقیدی اور تحقیقی فکر کو فروغ دینا چاہیے، اپنے دینی اور علمی شعور کو وسعت دینی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہمارا علم و دانش، حکمت، انکساری، فروتنی اور پوری انسانیت کی اجتماعی بھلائی کے لئے وقف ہو۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

