سدا بہار قرآنی کہانیاں – جلد 03 شمارہ 42
سرزمینِ مقدس کی سرگزشت: ہجرتِ خلیل سے معراجِ حبیب تک (۲)
حضرت داؤد علیہ السلام کی فلاخن سے سلطنتِ سلیمانی کی عظمت تک
تاریکی کی واپسی اور جالوت کے ظلم و ستم کا سنگین سایہ
بنی اسرائیل کو سرزمینِ مقدس میں داخل ہوئے کئی برس گزر چکے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ نئی نسلیں غرور، گمراہی اور باہمی اختلافات کا شکار ہونے لگیں۔ اس کمزوری اور انتشار نے ظالم اور طاقت ور قوموں کے حملوں کی راہ ہموار کر دی۔ انہوں نے بنی اسرائیل کے شہروں پر حملے کیے، تابوتِ عہد، یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کی یادگار مقدس صندوق، کو چھین لیا اور لوگوں کو ان کے گھروں اور آبائی علاقوں سے بے دخل کر دیا۔
اسی دوران جالوت نامی ایک ظالم اور طاقت ور سپہ سالار، جو عمالقہ اور جبارین کے سرداروں میں شمار ہوتا تھا، سرزمینِ مقدس کے وسیع علاقوں پر قابض ہو گیا۔
بنی اسرائیل، جو سخت ذلت و رسوائی کا شکار ہو چکے تھے، اپنے زمانے کے پیغمبر حضرت اشموئیل علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:
’’ہمارے لئے ایک فرمانروا مقرر کر دیجیے تاکہ ہم اس کے پرچم تلے اللہ کی راہ میں جنگ کریں۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے طالوت کو، جو ایک صاحبِ علم، طاقت ور مگر کم مال و دولت رکھنے والے شخص تھے، ان کا فرمانروا اور سپہ سالار مقرر فرمایا۔
جب طالوت کا لشکر جالوت کی عظیم فوج کا مقابلہ کرنے کے لئے روانہ ہوا تو الٰہی آزمائشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ان امتحانات کے نتیجے میں بہت سے سپاہی پیچھے رہ گئے اور صرف ایک مختصر جماعت ثابت قدم رہی۔
جب دونوں لشکر فلسطین کے میدانوں میں ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہوئے تو جالوت کی عظیم فوج کی ہیبت نے طالوت کے سپاہیوں کے دلوں میں خوف پیدا کر دیا۔
قرآنِ کریم اس واقعے کو یوں بیان کرتا ہے:
فَلَمَّا جَاوَزَهُ هُوَ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ قَالُوا لَا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ ۚ قَالَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو اللَّهِ كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ
’’پھر جب طالوت اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے لوگ اس نہر سے گزر گئے تو انہوں نے کہا: آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ لیکن جن لوگوں کو یقین تھا کہ انہیں اللہ سے ملاقات کرنی ہے، انہوں نے کہا: کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آ چکی ہیں، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘(سورۂ بقرہ، آیت ۲۴۹)
وہ چھوٹا سا پتھر جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا
جالوت کا لشکر آہنی زرہوں اور خوف ناک شان و شوکت کے ساتھ اہلِ ایمان کے مقابلے میں صف آرا تھا۔
جالوت، جو بھاری زرہ پہنے ہوئے تھا اور اپنی طاقت پر مغرور تھا، میدان میں اترا اور مقابلے کے لئے کسی بہادر کو للکارا۔ اس کی ہیبت سے دلوں پر خوف طاری ہو گیا اور کوئی بھی آگے بڑھنے کی جرئت نہ کر سکا۔
اس نازک موقع پر اہلِ ایمان نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کے لئے ہاتھ بلند کیے:
وَلَمَّا بَرَزُوا لِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ قَالُوا رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
’’اور جب وہ جالوت اور اس کے لشکروں کے مقابلے میں نکلے تو انہوں نے دعا کی: اے ہمارے پروردگار! ہم پر صبر کی فراوانی نازل فرما، ہمارے قدموں کو ثابت رکھ اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔‘‘(سورۂ بقرہ، آیت ۲۵۰)
اسی دوران حضرت داؤد علیہ السلام، جو لاوی بن یعقوب کی نسل سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان چرواہے تھے، ایک سادہ سی فلاخن اور چند پتھر لے کر میدان میں اتر آئے۔
جالوت نے اس بے زرہ نوجوان کو دیکھا تو اس کا مذاق اڑانے لگا۔
لیکن حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنے مضبوط ایمان کے ساتھ ایک پتھر فلاخن میں رکھا، اسے گھمایا اور پوری قوت سے جالوت کی طرف پھینک دیا۔
پتھر سیدھا جالوت کی پیشانی پر جا لگا، اس کی بھاری زرہ کو چیرتا ہوا اسے زمین پر گرا گیا۔
جالوت کے گرتے ہی اس کا عظیم لشکر منتشر ہو گیا اور سرزمینِ مقدس پر ظالموں کی حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا۔
قرآنِ کریم فرماتا ہے:
فَهَزَمُوهُم بِإِذْنِ اللَّهِ وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ وَآتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُ مِمَّا يَشَاءُ…
’’پس انہوں نے اللہ کے حکم سے دشمنوں کو شکست دے دی، اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا، اور اللہ نے انہیں سلطنت اور حکمت عطا فرمائی اور اپنے علم میں سے جو چاہا انہیں سکھایا۔ ‘‘ (سورۂ بقرہ، آیت ۲۵۱)
زبور کا عہد اور حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھ پہاڑوں کی ہم نوائی
حضرت داؤد علیہ السلام کی شہرت اور عظمت بڑھنے کے بعد آپ بادشاہ بنے اور بیت المقدس کو اپنی الٰہی حکومت کا مرکز قرار دیا۔
حضرت داؤد علیہ السلام نہ صرف ایک عادل اور انصاف پسند فرمانروا تھے بلکہ ایک ایسے عظیم پیغمبر بھی تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے نہایت دل نشین اور ملکوتی آواز عطا فرمائی تھی۔
جب آپ بیت المقدس کی پہاڑیوں اور چٹانوں کے درمیان زبور کی تلاوت کرتے تو فطرت بھی آپ کے ساتھ ہم آواز ہو جاتی، اور لوہا آپ کے ہاتھوں میں نرم ہو جاتا تھا۔
قرآنِ کریم ارشاد فرماتا ہے:
وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا ۖ يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ ۖ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ
’’اور یقیناً ہم نے اپنی جانب سے داؤد کو خاص فضل عطا فرمایا، اور حکم دیا: اے پہاڑو! ان کے ساتھ مل کر اللہ کی تسبیح کرو، اور اے پرندو! تم بھی ان کے ہم نوا ہو جاؤ۔ اور ہم نے ان کے لئے لوہے کو نرم کر دیا۔ ‘‘ (سورۂ سبأ، آیت ۱۰)
حضرت داؤد علیہ السلام کے دورِ حکومت میں سرزمینِ مقدس نے امن و سلامتی، توحید اور حقیقی عدل و انصاف کی برکتوں کا مشاہدہ کیا۔
اس دور میں ایک ایسی عظیم الشان سلطنت کی بنیادیں استوار ہوئیں جس نے بعد میں انسانی تاریخ کی ایک نہایت شاندار اور غیر معمولی حکومت کے قیام کی راہ ہموار کی۔
سلطنتِ سلیمانی کی عظمت کا عروج: پہاڑی پر ایک عظیم عبادت گاہ
حضرت داؤد علیہ السلام کے بعد آپ کے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام تختِ سلطنت پر جلوہ افروز ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو پرندوں کی زبان سمجھنے کی صلاحیت عطا فرمائی، ہواؤں کو آپ کے تابع کر دیا اور جنات کو آپ کے حکم کا فرمانبردار بنا دیا۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس کو ایک ایسی وسیع اور بین الاقوامی توحیدی سلطنت کا مرکز بنا دیا جس کی حدود مختلف علاقوں اور قوموں تک پھیلی ہوئی تھیں۔
آپ کے حکم سے بیت المقدس میں عظیم عبادت گاہیں، محرابیں اور حیرت انگیز عمارتیں تعمیر کی گئیں۔
ہوا، شیشہ اور پگھلی ہوئی دھاتیں اس سرزمین کی تعمیر و ترقی اور آبادکاری کے لئے استعمال ہونے لگیں۔
قرآنِ کریم ارشاد فرماتا ہے:
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ * وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ
’’پس ہم نے ہوا کو ان کے تابع کر دیا، جو ان کے حکم سے جہاں وہ چاہتے، نرمی اور آسانی کے ساتھ چلتی تھی۔ اور شیاطین میں سے ہر قسم کے معماروں اور غوطہ خوروں کو بھی ان کے تابع کر دیا۔ ‘‘ (سورۂ ص، آیات ۳۶ اور ۳۷)
قرآنِ کریم ایک اور مقام پر فرماتا ہے:
يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِن مَّحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَّاسِيَاتٍ…
’’وہ جنات ان کے لئے ان کی خواہش کے مطابق محرابیں، مجسمے، حوضوں جیسے بڑے بڑے برتن اور اپنی جگہ قائم رہنے والی بھاری دیگیں بناتے تھے۔ ‘‘ (سورۂ سبأ، آیت ۱۳)
حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں سرزمینِ مقدس توحید، روحانیت اور انسانی تاریخ کی ایک نہایت حیرت انگیز تہذیب و تمدن کا مرکز بن گئی۔یہ ایک ایسی سرزمین تھی جس پر عدلِ الٰہی کا سایہ تھا اور جس کی برکتیں دنیا کے مختلف گوشوں تک پہنچ رہی تھیں۔
عظمت کا زوال اور ایک جاوداں ورثہ
حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے ساتھ ظاہری معجزات اور سلطنتِ سلیمانی کی بے مثال شان و شوکت کا دور اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔
لیکن اس عظیم عہد نے تاریخ میں ایمان، توکل اور الٰہی اقدار کی ایک ایسی یادگار چھوڑی جو آنے والی نسلوں کے لئے ہمیشہ باعثِ عبرت اور سرچشمۂ ہدایت رہے گی۔
یہ اس حقیقت کی علامت تھی کہ اگر سرزمینِ مقدس کے باشندے ایمان اور عدل و انصاف کے راستے پر ثابت قدم رہیں تو جالوت جیسی بڑی بڑی ظالم اور جابر طاقتیں بھی ان کے سامنے سرنگوں ہو سکتی ہیں اور ان کے لئے آسمانی رحمتوں اور برکتوں کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
اخلاقی اور تربیتی تعلیمات
۱۔ ایمان کے مقابلے میں مادی ساز و سامان کی بے بسی: فلاخن کا سبق
بغیر زرہ پہنے ہوئے حضرت داؤد علیہ السلام کا پوری طرح مسلح جالوت کے مقابلے میں کھڑا ہونا ہمیں یہ عظیم حقیقت یاد دلاتا ہے کہ زندگی کے بڑے چیلنجوں اور مشکلات کے سامنے ظاہری طاقت اور ساز و سامان سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے۔
ایک چھوٹا سا پتھر بھی، اگر مضبوط ایمان اور درست ہدف کے ساتھ استعمال کیا جائے، تو بڑے سے بڑے قلعے اور طاقت ور ترین ظالم کو شکست دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
۲۔ عظیم مقاصد کے حصول کے لئے آزمائش اور کردار کی پختگی
طالوت کے لشکر کو نہر کے پانی کے ذریعے جس آزمائش سے گزارا گیا، وہ نفس پر قابو پانے، ضبطِ نفس اور روحانی نظم و ضبط کا ایک اہم سبق ہے۔
بڑی کامیابیاں ان لوگوں کے حصے میں آتی ہیں جو اپنی عارضی خواہشات اور فوری لذتوں پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہی وہ افراد ہیں جن کے بارے میں قرآنِ کریم نے فرمایا:
كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ
’’کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آ چکی ہیں۔‘‘
یہ قرآنی تعلیم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کامیابی کا انحصار ہمیشہ تعداد اور ظاہری طاقت پر نہیں ہوتا، بلکہ ایمان، صبر، نظم و ضبط اور ثابت قدمی بھی کامیابی کے بنیادی عوامل ہیں۔
۳۔ روحانیت اور تہذیبی اقتدار کا باہمی تعلق: سلطنتِ سلیمانی کا سبق
حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ طاقت، دولت اور علم و دانش اگر صالح اور خدا پرست بندوں کے ہاتھوں میں ہوں تو وہ نہ صرف توحید اور روحانیت کے منافی نہیں ہوتے، بلکہ ایک خوش حال، عادلانہ اور الٰہی اقدار پر مبنی تہذیب و تمدن کی تعمیر کے مؤثر وسائل بن سکتے ہیں۔
اس عظیم سلطنت کا بنیادی سبق یہ ہے کہ مادی ترقی اور روحانی عظمت ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ جب طاقت اور وسائل کو عدل و انصاف اور رضائے الٰہی کے تابع کر دیا جائے تو یہی وسائل انسانی معاشرے کی حقیقی ترقی، خوش حالی اور فلاح و بہبود کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
مصادر و مآخذ
قرآنی آیات:
- سورۂ بقرہ، آیات ۲۴۶ تا ۲۵۱
- سورۂ سبأ، آیات ۱۰ تا ۱۳
- سورۂ ص، آیات ۳۰ تا ۴۰
حدیثی اور تاریخی مصادر:
- تفسیر المیزان: سورۂ بقرہ کی آیات ۲۴۶ تا ۲۵۱ اور سورۂ سبأ کی آیات ۱۰ تا ۱۳ کی تفسیر۔
- بحار الأنوار، علامہ مجلسی: جلد ۱۴، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کے واقعات اور بیت المقدس کی تعمیر سے متعلق ابواب۔
- تاریخ الطبری: جلد اول، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کی بادشاہت اور بیت المقدس کی عبادت گاہوں اور محرابوں کی تعمیر سے متعلق تاریخی روایات۔
- قصص الأنبیاء، ابنِ کثیر: حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کے حالاتِ زندگی سے متعلق حصہ۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

