موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 42
حضرت زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا: عاطفت و احساس، عقلانیت اور ایمان کا اعلیٰ امتزاج
سید ہاشم موسوی
مقدمہ
اسلام کی عظیم المرتبت خاتون، حضرت زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا کے یومِ ولادت کے قریب آنے کے ساتھ ہمیں یہ موقع میسر آتا ہے کہ ہم اس بلند پایہ شخصیت کی سیرت اور کردار کا زیادہ گہرائی اور جامع نقطۂ نظر سے مطالعہ کریں۔ آپ کی مبارک ولادت جہاں بیتِ وحی اور خاندانِ علوی کی مسرتوں کی یاد تازہ کرتی ہے، وہیں ہمیں ایک ایسی عظیم شخصیت کی ازسرِنو معرفت کی دعوت بھی دیتی ہے جس کی زندگی کے مختلف پہلو اعلیٰ انسانی اور الٰہی فضائل کے آئینہ دار ہیں۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا نام واقعۂ عاشورا، اسیری کے مصائب اور تحریکِ حسینی کے پیغام کو عام کرنے کے عظیم کردار سے اٹوٹ طور پر وابستہ ہے۔ تاہم اس گہرے تعلق کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کی شخصیت کے بارے میں ہماری شناخت صرف اسی تاریخی دور تک محدود ہو جائے۔ آپ واقعۂ کربلا سے پہلے بھی ایک عالمہ، صاحبِ فضیلت اور خاندانِ نبوت کی آغوش میں تربیت پانے والی عظیم خاتون تھیں۔ کربلا آپ کی عظمت کا نقطۂ آغاز نہیں تھا، بلکہ وہ عظیم میدان تھا جہاں آپ کے علم و معرفت، کردار اور ان صلاحیتوں کا بھرپور اظہار ہوا جو اس سے بہت پہلے آپ کی شخصیت میں پروان چڑھ چکی تھیں۔
یک رُخی نقطۂ نظر سے باہر نکل کر آپ کی حقیقی علمی و فکری شخصیت کو پہچاننے کی ضرورت
بہت سی دینی تقاریر اور تشریحات میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شخصیت کو زیادہ تر واقعاتِ عاشورا، کربلا میں آپ کی موجودگی اور اسیرانِ اہلِ بیت کی سرپرستی تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ اگرچہ کربلا آپ کی شخصیت کی عظمت و جلال کا سب سے نمایاں مظہر تھا، لیکن ایسی عظیم شخصیت کے تمام پہلوؤں کو صرف ایک خاص تاریخی مرحلے تک، خواہ وہ عاشورا جیسا عظیم واقعہ ہی کیوں نہ ہو، محدود کر دینا نہ جامع نقطۂ نظر ہے اور نہ آپ کے شایانِ شان۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو ’’کربلا کی عظیم ہیرو‘‘ کے طور پر پہچانے جانے سے پہلے ہی ایک صاحبِ علم و دانش خاتون، ’’بغیر کسی معلم کے علم رکھنے والی عالمہ‘‘ (عالمةٌ غیرُ مُعلَّمة)، قرآن کی مفسرہ اور اپنے دور میں اسلامی معارف کی معلمہ ہونے کا مقام حاصل تھا۔
آپ مدینہ اور کوفہ میں خواتین کو تفسیرِ قرآن اور اسلامی علوم کی تعلیم دیا کرتی تھیں اور علم و معرفت کے ایک معتبر مرجع کی حیثیت رکھتی تھیں۔
آپ کی شخصیت کے اس بنیادی پہلو کی طرف توجہ تاریخ کے مطالعے اور تجزیے کے ایک اہم اصول کو اجاگر کرتی ہے:
’’عظیم شخصیات کو صرف بحرانی حالات میں ان کے کردار کی بنیاد پر نہیں پہچاننا چاہیے، کیونکہ مشکل ترین لمحات میں ان کی شجاعت اور عملی جدوجہد دراصل ان اقدار، علم و معرفت اور صلاحیتوں پر استوار ہوتی ہے جو بحران سے پہلے کے برسوں میں ان کی شخصیت کا حصہ بن چکی ہوتی ہیں۔‘‘
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی زندگی میں جذبات، عقلانیت اور ایمان کے امتزاج کے مظاہر
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شخصیت کا ایک نہایت سبق آموز پہلو گہرے انسانی جذبات، عقلانیت اور ایمان کا باہمی امتزاج ہے۔
حضرت زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا کی ذات میں خاندان سے محبت، عزیزوں کی جدائی کا غم اور انسانوں کی تکالیف کے لئے گہری حساسیت، اپنے فرض کی پہچان اور راہِ حق میں ثابت قدمی کے ساتھ ہم آہنگ تھی۔
آپ ماں اور بہن کے جذبات اور ان سے وابستہ محبت و شفقت کی قدر کرتی تھیں، لیکن کبھی یہ اجازت نہیں دیتی تھیں کہ غم و اندوہ بے صبری، شرعی حدود سے تجاوز یا ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کمزوری کا سبب بن جائے۔
آپ کی یہ سیرت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد سے مکمل ہم آہنگی رکھتی ہے جو آپ نے اپنے فرزند حضرت ابراہیم کی وفات پر فرمایا تھا:
«إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا»
’’بے شک آنکھ اشک بار ہوتی ہے اور دل غمگین ہو جاتا ہے، لیکن ہم اپنی زبان سے صرف وہی بات کہتے ہیں جو ہمارے پروردگار کی رضا کے مطابق ہو۔‘‘(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، حدیث ۱۳۰۳)
احساسات اور ذمہ داری کے اسی باہمی تعلق کی روشنی میں ہم دشمن کے مقابلے میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ایمانی عقلانیت کے مختلف مظاہر کا جائزہ لے سکتے ہیں اور اس اہم سوال کا جواب تلاش کر سکتے ہیں:
انسان کس طرح مہربان اور گہرے جذبات کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ سوچ سمجھ کر، متوازن اور ذمہ دارانہ انداز میں عمل کر سکتا ہے؟
دشمن کے مقابلے میں عقلانیت اور ایمان کا اظہار
جب ابنِ زیاد نے غرور اور طنز کے انداز میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا سے پوچھا: ’’تم نے اپنے بھائی کے ساتھ خدا کے سلوک کو کیسا پایا؟‘‘ تو آپ کی توحیدی عقلانیت اور گہرے ایمان کا اظہار ایک ایسے تاریخی جواب کی صورت میں ہوا جو ہمیشہ کے لئے جاوداں ہو گیا:
«ما رَأَیْتُ إِلاَّ جَمیلاً»
’’میں نے خوب صورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔‘‘ (ابنطیفور، بلاغات النساء،«کلام زینب بنت علی»).
یہ مختصر مگر نہایت معنی خیز جواب ایمانی عقلانیت کی معراج کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا نقطۂ نظر ہے جو پورے واقعے کو حکمتِ الٰہی، راہِ حق میں جدوجہد اور اللہ کی راہ میں شہادت کے تناظر میں دیکھتا ہے اور عزیزوں کی شہادت سے پیدا ہونے والے شدید غم و اندوہ کو رضائے الٰہی کے تحت منظم اور بامقصد بنا دیتا ہے۔
یہ جواب محض کسی لمحے کا جذباتی ردِعمل نہیں تھا، بلکہ اس کے پیچھے علم و معرفت کی ایک مضبوط بنیاد موجود تھی۔
تیسری صدی ہجری کے مصنف ابنِ طیفور نے اپنی کتاب «بلاغات النساء» میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے اس خطاب کو نقل کیا ہے جو آپ نے یزید کے دربار میں دیا تھا۔
آپ نے اسیری کے شدید دباؤ اور نہایت دشوار حالات کے باوجود قرآنِ کریم سے استدلال کرتے ہوئے اس باطل تصور کو چیلنج کیا کہ ظاہری اقتدار اور طاقت کا حصول، خدا کے نزدیک عزت و منزلت کی علامت ہے۔ اسی طرح آپ نے خاندانِ نبوت کی خواتین کے ساتھ حکمرانوں کے سلوک کو عدل و انصاف کے معیار پر پرکھتے ہوئے اس پر اعتراض کیا۔
اس طرح دشمن کے سامنے آپ کی غیر متزلزل استقامت ایک پختہ فکری تربیت، گہرے دینی شعور اور حالات کا درست تجزیہ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت سے جنم لیتی تھی۔
یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا جیسی عظیم خاتون کو اپنے لئے نمونۂ عمل بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم آپ کے مصائب کے ساتھ ساتھ آپ کے سوچنے، حالات کو سمجھنے، فیصلے کرنے اور ردِعمل ظاہر کرنے کے انداز پر بھی توجہ دیں۔
ہر تاریخی روایت کا مطالعہ کرتے وقت محض مصائب کی تفصیل بیان کرنے سے آگے بڑھ کر ہمیں یہ سوالات اٹھانے چاہییں:
آپ نے حالات کو کس انداز سے سمجھا؟ آپ نے کن اقدار کی حفاظت کی؟ اور اپنے علم و معرفت کو حق کے دفاع اور دوسروں کی حمایت میں کس طرح استعمال کیا؟
یہ سوالات ہمیں محض واقعات کے بیان سے ان کی اخلاقی اور تربیتی بنیادوں کی طرف لے جاتے ہیں اور عاطفت، عقل اور ایمان کے باہمی تعلق کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
عاطفت: احساسِ ذمہ داری کا سرچشمہ، اور عقل: عمل کی رہنما
اس تربیتی اصول کو واضح کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ان تین بنیادی عناصر، یعنی عاطفت، عقل اور ایمان کے باہمی تعلق کو سمجھا جائے۔
قرآنی نقطۂ نظر سے انسانی جذبات اور عقل ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں۔
محبت انسان کو دوسروں کے دکھ درد کے بارے میں حساس بناتی ہے۔ عقل اسے یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ اس دکھ کا مناسب جواب دینے کا درست راستہ کیا ہے، جبکہ ایمان اس عمل کے اخلاقی معیار اور اس کی آخری منزل کو واضح کرتا ہے۔
عاطفت کہتی ہے: ’’دوسروں کے دکھ درد سے بے نیاز نہ رہو۔‘‘
عقل سوال کرتی ہے: ’’کون سا اقدام زیادہ مفید اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے؟‘‘
اور ایمان یاد دلاتا ہے کہ دوسروں کی مدد کرنے یا اپنے عزیزوں کا دفاع کرنے کے دوران کسی دوسرے انسان کا حق پامال نہیں ہونا چاہیے۔
قرآنِ کریم پرہیزگاروں کی ایک اہم صفت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
«وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ»
’’اور وہ لوگ جو اپنے غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں۔‘‘
(سورۂ آلِ عمران، آیت ۱۳۴)
غصے پر قابو پانے کی فضیلت اسی وقت معنی رکھتی ہے جب انسان کے اندر غصہ موجود ہو۔
اس لئے اخلاقی فضیلت کا مطلب انسانی جذبات کو ختم کر دینا نہیں، بلکہ انہیں درست سمت میں منظم اور استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں عقل کی تعریف یوں کی گئی ہے:
«مَا عُبِدَ بِهِ الرَّحْمَنُ وَاكْتُسِبَ بِهِ الْجِنَانُ»
’’عقل وہ ہے جس کے ذریعے خدائے رحمان کی عبادت کی جاتی ہے اور جنت حاصل کی جاتی ہے۔‘‘( کلینی، الکافی، ج ۱، کتاب العقل والجهل، حدیث ۳، ص ۱۱)
اس معیار کے مطابق عقلانیت اخلاقی زندگی کی خدمت میں قرار پاتی ہے۔
ایسی سوچ یا حساب کتاب جو انسان کو بے رحمی، محض ذاتی مفاد پرستی یا ظلم کو جائز قرار دینے کی طرف لے جائے، عقل کے اس حقیقی مفہوم سے دور ہے۔
آنسو اور استقامت: ایک ہی شخصیت کے دو مظاہر
یہ تربیتی اصول حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور ابنِ زیاد کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تاریخی روایت میں نہایت واضح طور پر نظر آتا ہے۔
اس روایت میں آپ کے مضبوط اور پُروقار جواب کے ساتھ یہ بات بھی محفوظ ہے کہ اپنے عزیزوں کی شہادت کا ذکر آنے پر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے اور آپ نے اپنے غم و اندوہ کا اظہار کیا۔
ان دونوں کیفیتوں کا ایک ہی وقت میں موجود ہونا ایک نہایت اہم تربیتی حقیقت کو آشکار کرتا ہے:
ایک صاحبِ ایمان انسان گہرے غم اور شدید صدمے میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنے وقار، عزتِ نفس اور درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو برقرار رکھ سکتا ہے۔
ہمیں حضرت زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا کی ایسی تصویر پیش نہیں کرنی چاہیے جس سے یہ تاثر پیدا ہو کہ آپ کی عظمت اس بات میں تھی کہ آپ کو کوئی درد محسوس نہیں ہوتا تھا یا آپ کی آنکھوں سے آنسو نہیں بہتے تھے۔
صبر کی حقیقی قدر و منزلت اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب تکلیف اور رنج واقعی موجود ہوں۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا اپنے عزیزوں سے بے پناہ محبت کرتی تھیں اور یہی محبت آپ کے غم کی گہرائی کو واضح کرتی ہے۔ تاہم اس شدید غم کے باوجود آپ نے اپنے تمام فیصلوں اور طرزِ عمل کو غم و اندوہ کے تابع نہیں ہونے دیا۔
خاندانی محبت اور انسانی جان کے تحفظ کی ذمہ داری
احساسات اور ذمہ داری کے درمیان یہی گہرا تعلق اس واقعے میں بھی نمایاں ہوتا ہے جب حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے ابنِ زیاد کے دربار میں امام سجاد علیہ السلام کی جان کا دفاع کیا۔
کتاب «الإرشاد» کی روایت کے مطابق، جب ابنِ زیاد نے امام سجاد علیہ السلام کے قتل کا حکم دیا تو حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اس سے فرمایا:
«فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَاقْتُلْنِي مَعَهُ»
’’اگر تم انہیں قتل کرنا چاہتے ہو تو مجھے بھی ان کے ساتھ قتل کر دو۔‘‘
(شیخ مفید، الإرشاد، ج ۲، گزارش ورود خاندان امام حسین(ع) به مجلس ابنزیاد، ص ۱۱۵ـ۱۱۷)
روایت کے مطابق اس کے بعد ابنِ زیاد اپنے حکم پر عمل درآمد سے باز آ گیا۔
اس منظر میں خاندانی محبت محض ایک جذباتی کیفیت نہیں رہی، بلکہ انسانی جان کے تحفظ کے لئے ایک عملی اقدام میں تبدیل ہو گئی۔
تربیتی نقطۂ نظر سے اس کردار کو محبت اور ذمہ داری کے حسین امتزاج کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
ایک ایسی خاتون، جو خود اپنے عزیزوں کی شہادت کے غم سے نڈھال تھی، خطرے کے انتہائی نازک لمحے میں ایک دوسرے انسان کی جان بچانے کے لئے کھڑی ہو گئی۔ اور یہ وہ عظیم ہستی تھیں جو شیعہ عقیدے کے مطابق امام اور سلسلۂ ہدایت کی محافظ اور تسلسل برقرار رکھنے والی تھیں۔
اس واقعے کا بنیادی سبق یہ ہے کہ محبت اسی وقت زیادہ بامعنی اور نتیجہ خیز ہوتی ہے جب وہ درست عملی اقدام کا ذریعہ بنے۔
کسی مصیبت زدہ بچے، تنہائی کا شکار بزرگ یا ظلم سہنے والے انسان کے ساتھ ہمدردی اگر حالات کی صحیح شناخت اور حکمت و تدبیر کے ساتھ ہو تو انسانی جان کے تحفظ، امن و سلامتی کی فراہمی اور زندگی میں امید کی بحالی کا سبب بن سکتی ہے۔
ذاتی غم سے عدل و انصاف کے مطالبے تک
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی سیرت میں عاطفت کا کردار صرف انسانی جان کے تحفظ تک محدود نہیں، بلکہ یہ احساس عدل و انصاف کے مطالبے کی صورت بھی اختیار کرتا ہے۔
یزید کے دربار میں آپ سے منسوب خطبے میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے اعتراض کو عدل و انصاف کے معیار پر استوار کرتے ہوئے یہ سوال کیا:
«أَمِنَ الْعَدْلِ يَا ابْنَ الطُّلَقَاءِ»
’’اے آزاد کردہ لوگوں کے بیٹے! کیا یہ انصاف ہے؟‘‘ (ابنطیفور، بلاغات النساء، «کلام زینب بنت علی»).
اس کے بعد آپ نے خاندانِ رسول کی خواتین کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی اور غیر منصفانہ سلوک پر شدید اعتراض کیا۔
اس مقام پر ذاتی غم و تکلیف ایک مضبوط اخلاقی استدلال کے ساتھ جڑ جاتی ہے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے خاندان کے مصائب کو ظلم اور انسانی عزت و کرامت سے متعلق ایک وسیع تر اجتماعی مسئلے سے مربوط کر دیا۔
آپ کا یہ طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ انسانی جذبات سماجی شعور اور آگاہی کا سرچشمہ بھی بن سکتے ہیں۔ انسان کا اپنا درد اسے دوسروں کے دکھ سمجھنے اور عدل و انصاف کا مطالبہ کرنے کی طرف لے جا سکتا ہے۔
ایمان اور انصاف کے اسی امتزاج کی روشنی میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے مشہور فرمان ’’میں نے خوب صورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا‘‘ کی بھی درست تشریح کی جا سکتی ہے۔
شہداء کی وفاداری، ایثار اور قربانی کی خوب صورتی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کے قاتلوں کے جرائم بھی خوب صورت تھے۔
ایمان انسان کو یہ صلاحیت عطا کرتا ہے کہ وہ ایک عظیم المیے کے درمیان بھی حق پر ثابت قدمی کی خوب صورتی کو دیکھ سکے اور ساتھ ہی ظلم و ستم کی بھرپور مذمت کرے۔
یہ اہم فرق حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی سیرت کا ان قرآنی نمونوں سے تقابل کرنے کا راستہ ہموار کرتا ہے جن میں محبت، توکل اور حکمت و تدبیر ایک دوسرے کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔
قرآنی نمونے: توکل اور حکمت و تدبیر کے ساتھ محبت
عاطفت، حکمت و تدبیر اور ایمان کا یہ باہمی امتزاج صرف حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی سیرت تک محدود نہیں، بلکہ قرآنِ کریم میں بھی اس کی نہایت روشن مثالیں موجود ہیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ اپنے بچے سے بے پناہ مادری محبت رکھتی تھیں اور اس کی سلامتی کے بارے میں سخت فکر مند تھیں۔ اس کے باوجود انہوں نے الٰہی الہام کی پیروی کرتے ہوئے اپنے بچے کو دریائے نیل کے سپرد کر دیا۔
قرآنِ کریم ان کی قلبی کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے:
«وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَىٰ فَارِغًا ۖ إِنْ کَادَتْ لَتُبْدِی بِهِ لَوْلَا أَنْ رَبَطْنَا عَلَىٰ قَلْبِهَا…»
’’اور موسیٰ کی ماں کا دل ہر چیز سے خالی ہو گیا، اور اگر ہم نے ان کے دل کو مضبوط نہ کیا ہوتا تو قریب تھا کہ وہ اس راز کو ظاہر کر دیتیں۔‘‘
(سورۂ قصص، آیت ۱۰)
لیکن اللہ تعالیٰ کے وعدے پر ان کا بھروسا اس بات کا سبب نہیں بنا کہ وہ اپنے بچے کی خبرگیری اور اس کی حفاظت کی کوشش ترک کر دیتیں۔
انہوں نے اپنی بیٹی سے کہا کہ وہ بچے کا پیچھا کرے اور اس کے حالات پر نظر رکھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن بھی مناسب فاصلے سے بچے کی نگرانی کرتی رہیں اور پھر انہوں نے ایسا راستہ تجویز کیا جس کے ذریعے بچہ دوبارہ اپنی ماں کی آغوش میں واپس آ گیا۔(سورۂ قصص، آیات ۱۱ تا ۱۳)
اس قرآنی واقعے میں اللہ پر توکل اور عملی جدوجہد ایک دوسرے کے ساتھ نظر آتے ہیں۔
مادری محبت، اپنے جذبات پر قابو، ہوشیارانہ نگرانی اور مسئلے کا مناسب حل تلاش کرنے کی کوشش، یہ سب مل کر بچے کی نجات کا ذریعہ بنتے ہیں۔
یہ ایک ایسا مثالی نمونہ ہے جس میں عاطفت انسان کو حرکت اور کوشش پر آمادہ کرتی ہے، جبکہ عقل و تدبیر اس کی کوشش کو درست سمت عطا کرتی ہے۔
یہی نمونہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے واقعے میں بھی نمایاں نظر آتا ہے۔
آپ اپنے محبوب فرزند حضرت یوسف علیہ السلام کی جدائی میں شدید غمگین تھے، لیکن آپ نے امید اور عملی جدوجہد کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
ایک طرف آپ نے فرمایا:
«إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ»
’’میں اپنے غم اور پریشانی کی فریاد صرف اللہ ہی سے کرتا ہوں۔‘‘
دوسری طرف آپ نے اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت یوسف اور ان کے بھائی کی تلاش کریں اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ (سورۂ یوسف، آیات ۸۶ تا ۸۷)
اس طرح حضرت یعقوب علیہ السلام کا غم، توکل، امید اور مسلسل کوشش کے ساتھ ہم آہنگ تھا۔
یہ ایک ایسا تربیتی نمونہ ہے جسے ہم آج کی زندگی کے مختلف مسائل اور مشکلات پر بھی منطبق کر سکتے ہیں۔
آج کی خواتین کی زندگی میں عاطفت اور عقلانیت کس طرح ایک دوسرے کو تقویت دے سکتی ہیں؟
ان تاریخی اور قرآنی مثالوں کے جائزے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج کی زندگی میں اس تربیتی نمونے کی عملی اہمیت کیا ہے؟
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا کردار آج کی خواتین کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے دل اور فکر، دونوں کی بیک وقت تربیت اور نشوونما کریں۔
اگرچہ اس توازن کی ضرورت صرف خواتین تک محدود نہیں، بلکہ مردوں کو بھی اپنی زندگی میں اس کی یکساں ضرورت ہے۔
خاندانی زندگی، تعلیم و تربیت، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور سماجی سرگرمیوں میں محبت اسی وقت زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے جب اس کے ساتھ حقوق کی صحیح شناخت، اقدامات کے نتائج کا جائزہ اور شعوری و ذمہ دارانہ فیصلہ سازی شامل ہو۔
اولاد کی تربیت میں اس امتزاج کا مطلب یہ ہے کہ ہم بچے کے احساسات کو توجہ سے سنیں اور سمجھیں، لیکن ساتھ ہی درست رویے کی حدود بھی واضح کریں۔
مثال کے طور پر، ایک ماں اپنے غصے میں مبتلا بچے سے کہہ سکتی ہے:
’’میں سمجھتی ہوں کہ تم ناراض اور پریشان ہو، لیکن کسی دوسرے کو نقصان پہنچانا درست نہیں۔ آؤ، ہم مل کر کوئی بہتر راستہ تلاش کرتے ہیں۔‘‘
اس طرزِ عمل سے ایک طرف بچے کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کے جذبات کو سمجھا جا رہا ہے اور دوسری طرف وہ اپنے رویے کی ذمہ داری قبول کرنا سیکھتا ہے۔
خاندانی اختلافات میں دوسروں کے احساسات کو توجہ سے سننا، گفتگو کے لئے مناسب وقت کا انتخاب کرنا اور جلد بازی میں فیصلے کرنے سے گریز کرنا بھی اسی توازن کے مظاہر ہیں۔
محبت کا یہ مطلب نہیں ہونا چاہیے کہ انسان اپنی یا دوسروں کی توہین اور بدسلوکی کو نظر انداز کرتا رہے۔ اسی طرح اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا بھی دوسرے کی توہین یا تحقیر کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
بعض اوقات ذمہ دارانہ مہربانی کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ تعلقات میں واضح حدود متعین کی جائیں اور کسی باشعور اور صاحبِ علم فرد سے رہنمائی حاصل کی جائے۔
سماجی میدان میں بھی ہمدردی اسی وقت زیادہ ثمرآور ہوتی ہے جب مدد حاصل کرنے والے شخص کی حقیقی ضرورت کو سمجھا جائے اور اس کی عزتِ نفس اور انسانی وقار کو محفوظ رکھا جائے۔
اسی طرح سوشل میڈیا پر کسی دردناک واقعے یا تکلیف دہ خبر سے متاثر ہونے کے بعد ضروری ہے کہ خبر کی صحت کی تحقیق کی جائے اور متعلقہ افراد کی عزت و آبرو کا بھی خیال رکھا جائے۔
ہر مخلصانہ احساس اس بات کا جواز نہیں بن سکتا کہ انسان بغیر سوچے سمجھے کوئی بھی جلد بازانہ قدم اٹھا لے۔
اس توازن کی عملی مشق کے لئے ہم اہم فیصلے کرنے سے پہلے خود سے چند سوالات کر سکتے ہیں:
- اس وقت میرے احساسات اور جذبات کیا ہیں؟
- کون سی اہم معلومات ابھی میرے علم میں نہیں ہیں؟
- اس معاملے میں میرا حق کیا ہے اور میری ذمہ داری کیا بنتی ہے؟
- کون سا اقدام زیادہ انسانی، زیادہ منصفانہ اور بہتر نتائج کا حامل ہو سکتا ہے؟
اس طرح فیصلہ کرنے سے پہلے مختصر غور و فکر کرنا انسانی جذبات کو شعوری اور ذمہ دارانہ انتخاب کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔
جب دل اور عقل ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں
گزشتہ مثالوں سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ عاطفت، عقل اور ایمان کی باہمی جدائی کس قسم کے منفی نتائج پیدا کر سکتی ہے۔
اگر جذبات کے ساتھ سوچ سمجھ اور درست تجزیہ شامل نہ ہو تو انسان اپنے عزیزوں کی غیر مشروط حمایت، اولاد کی تربیت میں بے جا نرمی، نقصان دہ غصے یا جلد بازی میں کسی پر اعتماد کرنے جیسے رویوں کا شکار ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف ایسی عقلانی سوچ جو انسانی ہمدردی اور احساسات سے خالی ہو جائے، انسانوں کے دکھ درد کو نظر انداز کر سکتی ہے اور انسانی تعلقات کو محض نفع و نقصان کے حساب کتاب تک محدود کر سکتی ہے۔
اسی طرح اگر ایمان صرف زبان اور دعوے تک محدود رہے اور محبت، عدل و انصاف اور احساسِ ذمہ داری کی صورت میں عملی زندگی میں ظاہر نہ ہو تو وہ اپنی اخلاقی اور تربیتی تاثیر کھو دیتا ہے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ اور بہن، اور حضرت یعقوب علیہ السلام، ہر ایک نے مختلف حالات اور مواقع پر یہ حقیقت واضح کی کہ انسانی جذبات اسی وقت تعمیری اور نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں جب ان کے ساتھ توکل، صحیح تشخیص اور عملی اقدام شامل ہوں۔
ان عظیم شخصیات کی سیرت اور کردار کی دائمی اہمیت بھی اسی جامعیت میں پوشیدہ ہے۔
ایک بامقصد اور اثرآفرین زندگی کی تعمیر کے لئے انسان کو ایک ایسے حساس دل کی ضرورت ہے جو دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کر سکے، ایسی رہنما عقل کی ضرورت ہے جو اسے درست راستہ دکھائے، اور ایسے ایمان کی ضرورت ہے جو اس کے فیصلوں اور انتخاب کو صحیح سمت عطا کرے۔
اسی بنیاد پر حضرت زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا کے یومِ ولادت کی حقیقی یاد اور اس کی برکتیں اسی وقت ہماری زندگیوں میں ظاہر ہوں گی جب ہم اپنی محبت کو زیادہ ذمہ دارانہ، اپنے فیصلوں کو زیادہ سنجیدہ اور سوچا سمجھا، اور اپنے ایمان کو اپنے عملی کردار میں زیادہ نمایاں بنانے کی کوشش کریں گے۔
اس عظیم خاتون کی سیرت سے، جنہوں نے شدید غم و اندوہ کے درمیان اپنے وقار کو محفوظ رکھا اور دوسروں کی جان، عزت اور حرمت کے دفاع کے لئے ثابت قدم رہیں، ہم یہ سبق حاصل کر سکتے ہیں کہ:
عاطفت اور استقامت ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں، بلکہ جب یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں تو انسانی زندگی میں گہرے، مثبت اور دیرپا اثرات پیدا کرنے کا سرچشمہ بن سکتی ہیں۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

