موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 09
ثابت قدمی کی حکمتِ عملی؛ شعبِ ابی طالب بحران میں حضرت خدیجہؑ کا کردار ایک تجزیہ
سید ہاشم موسوی
مقدمہ: شعبِ ابی طالب کی ہنگامہ خیزی میں پرسکون کیفیت۔
اسلام کے ابتدائی دور کی تاریخ میں اکثر توجہ دعوت کے کھلے مناظر اور علانیہ مقابلوں پر رہتی ہے، مگر پسِ منظر میں ایسے پوشیدہ انتظامات اورپوشیدہ قربانیاں بھی رہی ہیں ،جن پر تحریکِ اسلامی کی بقا کا دارو مدار رہا ہے۔ ان میں سے ایک نمایاں ترین کردار حضرت خدیجہؑ کا ہے، خاص طور پر بعثت کے ابتدائی سالوں میں—وہ دور جب مسلمانوں کا مستقبل ،ایک باریک دھاگے سے بندھا ہوا تھا اور باطل قوتوں نے "اقتصادی دہشت گردی” کو ہتھیار بنا کر ایمان والوں کی ہمت توڑنے اور رسولِ اکرم ﷺ کی دعوت کی شمع کو بجھانے کے لئے “شعبِ ابی طالب” کے گرد پابندیوں کی غیر مرئی دیوار کھڑی کر دی تھی۔
اس زمانے میں مکہ کا ماحول گھٹن اور منظم دباؤ سے بھرپور تھا، اور اس کا نقطۂ عروج شعبِ ابی طالب کے محاصرے میں ظاہر ہوا، جہاں نوپیدا مسلم معاشرہ ، روزمرہ کی ابتدائی ضروریات زندگی سے محروم کردیا گیا تھا۔ ایسے میں ایک خاتون کا نام ہے، جو نہ صرف زوجۂ رسول کے طور پر بلکہ ثابت قدمی کی حکمت ساز (Strategist) کے طور پر چمکتا ہے: حضرت خدیجہ کبریٰؑ۔ جی ہاں ، وہ آپ ہی تھیں ، جنہوں نے اپنا سارا مال ، اسلام کی شان و شوکت کے لئے قربان کردیا ، تاکہ توحید کا پودا قحط کے طوفان میں خشک نہ ہو۔ اس طرح وہ جو کبھی حجاز کی تجارت میں روح رواں تھیں، بحران کے وقت رسولِ خدا ﷺ کے سکون کا سہارا اور مسلمانوں کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن گئیں۔
یہ مضمون تحلیلی نگاہ سے حضرت خدیجہؑ کے بے بدل کردار کو واضح کرنے کی ایک کوشش ہے ، جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ کس طرح ان کی ایمانی اور حکیمانہ مدیریت، نے سخت ترین حالات میں تحریکِ توحید کی بقا کی پشت پناہی کی ہے۔
دولت کے استعمال میں تبدیلی: تجارتی سرمایہ کاری سے دفاعی بجٹ کے طور پر
حضرت خدیجہؑ (سلامُ اللہِ علیہا) کے کردار کا ایک پہلو، شعبِ ابی طالب کے بحران میں "دولت کے استعمال میں تبدیلی”کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ یعنی بی بی خدیجہ (سلامُ اللہِ علیہا) نے اپنےتجارتی سرمایہ کو کلمۂتوحید کی بقا کے دفاعی بجٹ میں تبدیل کر دینا۔ ایسے حالات میں جب قریش نے ایک باقاعدہ تحریری معاہدے کے ذریعے بنی ہاشم اور مسلمانوں کے ساتھ ہر قسم کی خرید و فروخت اور معاشی معاملات پر پابندی لگا دی تھی، ان حالات میں، ذاتی مال و دولت محض آسائش یا تجارت کی ترقی کا ذریعہ نہیں رہے تھے، بلکہ مقاومت کے للئے ایک نہایت ضروری اور حیاتی سہارا بن گئے تھے۔
1۔ دولت جمع کرنے کے بجائے ایک اہم مقصد کے لئے اسے تقسیم کردینا۔
بعثت سے قبل حضرت خدیجہؑ مکہ کی ممتاز معاشی شخصیت تھیں؛ ایک ذہین تاجرہ ،جن کے قافلے شام اور یمن تک جاتے تھے۔ تاریخی مصادر جیسے "طبقات ابن سعد” اور "سیرت ابن ہشام” ان کی وسیع معاشی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ مگر رسولِ اکرم ﷺ پر ایمان لانے کے بعد ان کی زندگی میں دولت کی فلسفیانہ حیثیت بدل گئی، اور انہوں نے ایک نہایت قیمتی اقدام میں اپنی تمام دولت اور املاک کا اختیار رسولِ خدا ﷺ کے سپرد کر دیا۔ وہ اپنے چچا زاد ورقہ بن نوفل سے کہتی ہیں کہ: محمد ﷺ کومیرا پیغام پہنچادو کہ میرا تمام سرمایہ، میری ت ساری پراپرٹی اور جو کچھ میرے نام پر ہے—سب کچھ میں نے ان کے نام کردیا ہے ؛ اب میں اور میرا سب کچھ محمد ﷺ کے اختیار میں ہے۔ (مجلسی، ج ۴۰: ۱۴)
یہ تبدیلی محض ایک جذباتی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ آغازِ بعثت میں دعوتِ اسلامی کی مالی پشت پناہی اور پھر محاصرے کے دوران مسلمانوں کی اجتماعی ضرورتوں کے پیش نظر ایک شعوری حکمت تھی۔ اسی لاجواب انفاق اور بے مثال کردار کی وجہ سے رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
"ما نَفَعَنی مالٌ قَطُّ ما نَفَعَنی مالُ خَدیجَة"
"مجھے کبھی کسی مال نے اتنا فائدہ نہیں دیا جتنا خدیجہ کے مال نے دیا۔” (صدوق، امالی، ص ۴۶۸)
یہ جملہ اس بات کو واضح کرتاہے کہ حضرت خدیجہؑ کی دولت صرف ذاتی سہولت کے لئے نہیں تھی، بلکہ ایک الٰہی منصوبے کی خدمت میں لگ گئی تھی —خصوصاً شعبِ ابی طالب کے محاصرے میں جہاں، مالی پشت پناہی کی شدید ضرورت تھی۔
اس حقیقت کا تقریبا ہر مورخ نے اعتراف کیا ہے، من جملہ "تفسیر عیاشی” کے۔ چنانچہ اس میں منقول ہے کہ "حضرت خدیجہؑ نے اپنا تمام مال رسولِ خدا ﷺ کے اختیار میں دےدیا تھا اور محاصرے کے دوران وہ سب خرچ بھی ہو گیا۔ (محمد بن مسعود،عیاشی، ج ۲، ص ۲۷۹)
2۔ مکمل پابندیوں کے زمانے میں بنیادی ضروریات کی فراہمی
قریش کا پابندیوں پر مبنی معاہدہ محض دھمکی نہیں تھا؛ بلکہ وہ ایک تحریری دستاویز تھی جو کعبہ کی دیوار پر لٹکائی گئی تھی اور سارے قبائل نے عہد کر رکھاتھا کہ بنی ہاشم اور مسلمانوں کے ساتھ خرید و فروخت نہیں کریں گے، نہ انہیں کچھ بیچیں گے اورنہ ان سے کچھ خریدیں گے، حتیٰ کہ سماجی اور خاندانی روابط بھی منقطع کر دیں گے۔
ان حالات میں مسلمانوں کی مکہ کی منڈی تک رسائی تقریباً ناممکن ہو گئی تھی۔ تاریخی رپورٹس (مثلاً تاریخ طبری اور ابن اثیر کی “الکامل”) میں قحط اور خوراک کی قلت کا ذکر ہے، یہاں تک کہ بھوک سے بچوں کے رونے کی آواز شعب کے باہر تک سنی جاتی تھی۔
اس وقت حضرت خدیجہؑ کی حکمتِ عملی کئی مرحلوں پر مشتمل تھی:
الف) دوسروں کے ذریعے خریداری کرنا:
بعض منصف یا ہمدرد رشتہ دار—جیسے حکیم بن حزام (حضرت خدیجہؑ کے چچا زاد)—خفیہ یا نیم علانیہ طور پر سامان خرید کر شعب تک پہنچاتے تھے۔ ابن اسحاق اور ابن ہشام کے مطابق: سامان بڑی مشکل سے شعب تک پہنچتا تھا اور حضرت ابوطالبؑ و حضرت خدیجہؑ بہت زیادہ قیمت ادا کر کے واسطوں سے سامان خریدتے تھے تاکہ بنی ہاشم بھوک سے بچ جائیں۔ (ابن ہشام، ج ۱، ص ۳۵۰-۳۶۰)
ب) مہنگی قیمتیں ادا کرکے خریدنا:
قریش نے جان بوجھ کر قیمتیں کئی گنا بڑھائیں تاکہ دباؤ دوگنا ہو۔ ایسے میں صرف وہی لوگ بنیادی ضرورتیں پوری کر سکتے تھے جن کے پاس مضبوط مالی سہارا ہو۔ حضرت خدیجہؑ نے اپنی دولت خرچ کر کے اس مصنوعی دباؤ کو بے اثر کیا اور قحط کی وجہ سے مسلمانوں کی ہمت کوٹوٹنے نہیں دیا۔ (مجلسی، بحار الانوار، ج ۱۹، ص ۱۶)
ج) اجناس کے مصرف میں ترجیح بندی:
تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ محدود وسائل کو اس طرح منظم کیا جاتا تھا کہ بچوں اور بزرگوں کی بنیادی ضرورتیں پہلے پوری ہوں—یہ بحران میں منظم مدیریت کی علامت ہے۔ بےتحاشا اجناس کا مصرف نہیں ہونے دینا۔
شہید مطہری کے مطابق، حضرت خدیجہؑ کی دولت محض تبلیغی آلہ نہیں بلکہ محاصرے کے دور میں مسلمانوں کی جان بچانے کے للئے “سدِ رمق” بنی؛ اگر یہ مالی پشت پناہی نہ ہوتی تو قریش کا دباؤ نوپیدا مسلم معاشرے کو جسمانی و معاشی طور پر توڑ کے رکھدیتا۔ (سیرۂ نبوی، ص ۲۴۸)
خلاصہ: شعبِ ابی طالب میں حضرت خدیجہؑ کی دولت “اقتصادی سرمایہ” سے بڑھ کر “سرمایۂ بقا” بن گئی—ایسی ایمانی “مزاحمتی معیشت” جس نے تحریک توحید کو ٹوٹنے نہیں دیا۔
صبر و تحمل کو برقرار رکھنا اور حوصلوں کو پست نہ ہونے دینا :
بحران میں صرف خوراک کی کمی کامسئلہ نہیں ہوتا؛ بلکہ اصل خطرہ داخلی طور پر امید کا ٹوٹ جانا اور ذہنی فرسائش کا ہوتا ہے۔ شعب کے محاصرے میں حضرت خدیجہؑ کا کردار صرف اقتصادی نہیں تھا؛ بلکہ وہ توحیدوالوں کے صبر و استقامت کی بنیادی ستون بنی ہوئی تھیں۔ حضرت خدیجہؑ کی بے پناہ ایثار ، صبر و تحمل کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں۔ ان میں سے چند نمونے پیش خدمت ہیں :
1۔ اپنے قائدِ امت کےسکون و اطمئنان کا سبب بننا؛ رسولِ اکرم ﷺ کی عاطفی پشت پناہی کرنا:
بحران میں قائد کا ذہنی پطور پر ثابت قدم رہنا، پورے نظام کے ثبات کے لئے بے حد ضروری ہے۔ چنانچہ روایات میں آیا ہے کہ رسولِ خدا ﷺ نے حضرت خدیجہؑ کی حمایت کو یوں یاد فرمایا:
"آمَنَتْ بی إذ کَفَرَ بی الناس، و صَدَّقَتْنی إذ کَذَّبَنی الناس، و واسَتْنی بمالِها إذ حَرَمَنی الناس”
"جناب خدیجہ ، مجھ پر اس وقت ایمان لے آئیں ، جبکہ لوگ کفر میں ڈوبے ہوئے تھے؛ آپ نے اس وقت میری تصدیق کی، جبکہ لوگ مجھے جھٹلانے پہ تلے ہوئے تھے ؛ اوراس وقت اپنے مال کے ذریعے میری مدد کی، جبکہ لوگوں نےمجھے ہر چیز سے محروم کررکھا تھا۔”
(طبری، الریاض النضرة، ج ۱، ص ۱۰۹)
یہ اعلان محض مالی مدد پر مبنی نہیں ہے- بلکہ یہ روحانی، ایمانی اور نفسیاتی سمیت مکمل سہارا ہ بننے کا اقرارہے۔ اب خواہ ، وحی کے ابتدائی دنوں میں سہارے کی بات ہو، یا پھر شعب ابیطالب کے سخت مصیبت کے سالوں میں آپ کی مسلسل حمایت کی بات ہو۔ چنانچہ بلاذری کے مطابق، جب مشرکین کی جانب سے جھٹلائے جانے کی وجہ سے رسولِ خدا ﷺ کے چہرے پر غم و اندوہ کے آثار نمودار ہوتے تو اس وقت، صرف بی بی خدیجہؑ ہی تھیں ، جو سرکار کی تسکین کے اسباب مہیا فرماتی تھیں۔ تاکہ حضور اکرم بھر پوراطمینان کے ساتھ اپنا مشن جاری رکھ سکیں۔
(بلاذری، انساب الاشراف، ج ۱، ص ۴۰۷)
2۔شعب میں پھنسے مسلم خاندانوں کے لئے عملی نمونہ:
جیسا کہ بتایا گیا، شعب ابیطالب میں خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر تھے۔ ان حالات میں حضرت خدیجہؑ نے باقی غریب و نادار خواتین کی طرح ہر مشکل کو برداشت کیا یہاں تک کہ بھوک و پیاس کا سامنا بھی کیا ۔جبکہ آپ مالدار ہونے کی حیثیت سے اگر چاہتیں تو اپنے لئے الگ انتظام کر لیتیں اور فاقے پہ فاقے نہ کرتیں۔آپ کی اس قربانی میں —یہ پیغام تھا کہ:
- بحرانی حالات میں توحید کے طرفداروں کے درمیان امیر وغریب کا فرق ختم ہو جاتا ہے ۔
- مقاومت کسی خاص طبقے سے مختص نہیں ہے۔
- ایمان کی خاطر اختیار کردہ رنج والم، کرامت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
3۔ مشکلات کے وقت،ضبط و تحمل، ایک سماجی سرمایہ بن جاتاہے۔
شعب میں تین چیزیں ضبط و تحمل کی بنیاد بنیں:
- وعدۂ الٰہی پر امید
- اندرونی ہمبستگی
- انتشار اور دراڑ سے بچاؤ
حضرت خدیجہؑ ہر سطح پر مؤثر تھیں؛ اسی للئے ان کی وفات والا سال “عام الحزن” کہلایا—یہ صرف ایک زوجہ کی وفات نہیں، بلکہ تحریک کے سہارے کی بڑی کڑی کا ٹوٹ جانا تھا۔
آخری بات: ہمیشہ باقی رہنے والی میراث؛ شعبِ ابی طالب سے آج تک
بطحاء کی ملکہ،حضرت خدیجہؑ نے تاریخ کو یہ جاویدانہ سبق دیا کہ جب دولت ،الہی قدر وں سے جڑ جائے تو وہ “نرم طاقت (Soft Power)” بن کر سخت ترین پابندیوں کو بھی بے اثر کر دیتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی دولت کو ایمان، استقامت اور اجتماعی بقا سے جوڑ کر ایسا کردکھایا۔ آج بھی ان کا نمونہ ہمیں سکھاتا ہے کہ عقلانی پائیداری کے ساتھ اقتصادی ایثار ،سماجی و سیاسی بندگلیوں سے نکلنے کا راستہ ہے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

