فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 22

Fatwa Panel of the Week - Volume 03 Issue 22
Last Updated: مئی 28, 2026By Categories: فتویٰ پینل0 Comments on فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 220 min readViews: 9

نمازِ جماعت

مراجعِ عظامِ تقلید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای، آیت اللہ العظمیٰ سیستانی اور آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی (دام عزّہم العالی) کے فتوؤں کے مطابق۔

نوٹ: اس پینل میں مسائل کا ذکر (بلا اختلاف یا حوالہ کےساتھ )
جومسائل بغیر کسی مخالف رائے یا خاص حوالہ کے ذکر کئے گئے ہیں، وہ تینوں بزرگ مراجع کے مشترک فتاوی ہیں۔ اور جہاں کسی ایک مرجع کا فتویٰ دوسرے دو سے مختلف ہو، وہاں اسی نمبر کے تحت  اس  مرجع کےنام کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔

نمازِ جماعت کا استحباب اور اس کی اہمیت

روزانہ کی واجب نمازوں کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا مستحب ہے، اور یہ استحباب خصوصاً نمازِ فجر، مغرب اور عشاء میں زیادہ تاکید کے ساتھ بیان ہوا ہے۔

نمازِ جماعت میں شرکت تمام مؤمنین کے لیے مستحب ہے؛ البتہ مسجد کے پڑوسیوں اور ان افراد کے لیے جو مسجد کی اذان سنتے ہیں، اس کی زیادہ سفارش کی گئی ہے۔

اگر کسی شخص نے اپنی نماز فرادیٰ پڑھ لی ہو اور اس کے بعد نمازِ جماعت قائم ہو جائے، تو مستحب ہے کہ وہ نماز کو دوبارہ جماعت کے ساتھ ادا کرے۔ اور اگر بعد میں معلوم ہو کہ پہلی نماز باطل تھی، تو یہی جماعت والی نماز کافی ہوگی۔

اگر کوئی شخص تین یا چار رکعتی نماز پڑھ رہا ہو اور اسی دوران نمازِ جماعت شروع ہو جائے، اور اسے یقین نہ ہو کہ اپنی نماز مکمل کرنے کے بعد جماعت مل سکے گی یا نہیں، تو اگر وہ ابھی تیسری رکعت کے رکوع میں نہ گیا ہو، مستحب ہے کہ اپنی نماز کو دو رکعتی مستحب نماز کی نیت سے ختم کرے اور جماعت میں شامل ہو جائے۔

5۔  اگر والد یا والدہ اپنے بچے سے کہیں کہ وہ نماز جماعت کے ساتھ پڑھے، اور جماعت چھوڑنے سے انہیں اذیت پہنچتی ہو، تو احتیاط یہ ہے کہ بچہ نمازِ جماعت میں شرکت کرے۔

آیت اللہ سیستانی: اگر والد یا والدہ اپنی اولاد کو حکم دیں کہ نماز جماعت کے ساتھ پڑھے، تو احتیاطِ مستحب یہ ہے کہ جماعت میں شرکت کرے۔
البتہ اگر والدین کا حکم شفقت اور خیرخواہی کی بنا پر ہو، اور ان کی مخالفت انہیں اذیت پہنچائے، تو اولاد کے لیے مخالفت کرنا حرام ہے۔

6۔  جو شخص نماز میں وسوسے کا شکار ہو، اس پر نمازِ جماعت واجب نہیں؛ مگر یہ کہ اس کا وسوسہ اس حد تک پہنچ جائے کہ نماز توڑنے یا اذکار کو بہت زیادہ دہرانے کا سبب بنے، جس سے موالات ختم ہو جائے اور نماز باطل ہو جائے۔

آیت اللہ سیستانی: اگر کسی شخص کا نماز میں وسوسہ اس حد تک ہو کہ اس کی نماز باطل ہو جاتی ہو، اور صرف جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی صورت میں وہ وسوسے سے نجات پاتا ہو، تو اس پر واجب ہے کہ نماز جماعت کے ساتھ پڑھے۔

وہ نمازیں جو جماعت کے ساتھ پڑھی جا سکتی ہیں

تمام یومیہ واجب نمازیں جماعت کے ساتھ پڑھی جا سکتی ہیں۔
اگر امام جماعت یومیہ نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو، تو مقتدی اسی نماز یا دوسری یومیہ نماز کی نیت سے اس کی اقتدا کر سکتا ہے۔

اگر امام جماعت ادا نماز پڑھ رہا ہو، تو مقتدی اپنی قضا نمازِ یومیہ بھی اس کی اقتدا میں جماعت کے ساتھ پڑھ سکتا ہے۔

اگر امام جماعت قضا نمازِ یومیہ پڑھ رہا ہو، تو اس کی اقتدا میں ادا یا قضا نماز پڑھنا صحیح ہے۔
لیکن اگر امام احتیاطی قضا نماز پڑھ رہا ہو — یعنی اس نماز کا قضا ہونا یقینی نہ ہو — تو اس کی اقتدا جائز نہیں، چاہے نماز اپنے لیے ہو یا کسی اور کی طرف سے۔

جو شخص احتیاط (احتیاطِ واجب یا مستحب) کی بنا پر یومیہ نماز دوبارہ پڑھ رہا ہو، وہ ایسے شخص کی اقتدا کر سکتا ہے جو واجب ادا یا قضا نماز پڑھ رہا ہو۔

اگر امام جماعت یا مقتدی کی نماز قصر ہو، تب بھی نمازِ جماعت صحیح ہے اور جماعت کا ثواب حاصل ہوگا۔

نمازِ جمعہ کو جماعت کے ساتھ ہی ادا کرنا ضروری ہے، اور اسے فرادیٰ پڑھنا صحیح نہیں۔

اقتدا کے احکام اور جماعت کی بعض خاص شرائط

اگر امام جماعت احتیاط کی بنا پر اپنی نماز دوبارہ پڑھ رہا ہو، تو مقتدی صرف اسی صورت میں اس کی اقتدا کر سکتا ہے جب وہ خود بھی اسی نماز کو احتیاط کی وجہ سے دوبارہ پڑھنا چاہتا ہو، اور دونوں کی احتیاط کی علت ایک ہی ہو۔

یومیہ نمازوں میں ایک مرتبہ امامت کا اعادہ جائز ہے، بشرطیکہ دوسری جماعت کے مقتدی پہلی جماعت کے مقتدیوں سے مختلف ہوں۔

آیت اللہ سیستانی: اگر امام یا مقتدی ایسی نماز کو جو جماعت کے ساتھ پڑھ چکا ہو، اسے دوبارہ جماعت کے ساتھ پڑھنا چاہے، تو اگرچہ اس کے استحباب ثابت نہیں، لیکن رجاءً (ثواب کی امید سے) پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔

آیت اللہ مکارم شیرازی:جائز ہے کہ امامِ جماعت ایک مرتبہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے بعد اُسے دوسری جماعت کے ساتھ دوبارہ ادا کرے، لیکن دو مرتبہ سے زیادہ اشکال رکھتا ہے۔ لہٰذا ایک امامِ جماعت دو مختلف مساجد میں جماعت قائم کر سکتا ہے اور نماز کو دوبارہ پڑھ سکتا ہے۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔