فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 09

Fatwa Panel of the Week - Volume 03 Issue 09
Last Updated: فروری 26, 2026By Categories: فتویٰ پینل0 Comments on فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 090 min readViews: 30

مراجعِ عظامِ تقلید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای، آیت اللہ العظمیٰ سیستانی اور آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی (دام عزّہم العالی) کے فتوؤں کے مطابق۔

ضروری وضاحت: یہاں پر لکھے ہوئے فتوے،  ان تین معزز مراجع کے درمیان مشترک فتوے ہیں۔ اور جس مسئلے میں کسی مرجع کا فتویٰ باقی مراجع سے مختلف ہو، تو  اسے اس مرجع کے نام کے ساتھ  الگ لکھا گیا ہے۔

روزے کے  احکام

روزے کی  نيّت کب اور کیسی ہو ؟

  1. چونکہ روزے کا آغاز طلوعِ فجر سے ہوتا ہے، اس للئے نیت بھی اسی وقت سے  ہونی چاہیئے، بلکہ بہتر یہ ہے کہ طلوعِ فجر سے پہلے روزے کی نیت کر لی جائے۔
    آیت اللہ سیستانی: ماہِ رمضان کے روزے کی نیت کا آخری وقت، متوجہ شخص کے لئے  اذانِ صبح تک ہے۔ یعنی — بنا بر احتیاطِ واجب — صبح کے وقت اس کا امساک (کھانے پینے سے رکنا)  نیتِ روزہ کے ساتھ ہونا چاہلئے ، اگرچہ دل ہی میں کیوں نہ ہو۔
  2. انسان ماہِ رمضان کی ہر رات اگلے دن کے روزے کی نیت کر سکتا ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ پہلی رات پورے مہینے کے روزوں کی نیت کر لے اور ہر رات اپنی نیت کی تجدید بھی کرے۔
  3. ماہِ رمضان میں رمضان کے روزے کے علاوہ کسی اور روزے کی نیت نہیں کی جا سکتی، سوائے مسافر کے، جو رمضان کا روزہ نہیں رکھ سکتا لیکن اس نے سفر میں مستحب روزہ رکھنے کی نذر مانی ہو۔ ایسی صورت میں اس کا نذری روزہ رمضان میں صحیح ہے۔
  4. اگر کوئی شخص رمضان کی رات میں عمداً طلوعِ فجر تک نیت نہ کرے، تو اگرچہ دن میں نیت کر لے، اس کا روزہ صحیح نہیں ہوگا۔ البتہ اسے مغرب تک تمام مبطلاتِ روزہ سے پرہیز کرنا ہوگا اور بعد میں اس دن کی قضا ادا کرے۔
  5. اگر کوئی شخص بھول یا لاعلمی کی وجہ سے نیت نہ کرے اور دن میں متوجہ ہو جائےتو:
    • اگر وہ کوئی ایسا کام کر چکا ہو جو روزہ باطل کرتا ہے تو نیت نہیں کر سکتا، چاہے دوپہر سے پہلے متوجہ ہو یا بعد میں۔
    • اگر اس نے کوئی مبطل انجام نہ دیا ہو اور دوپہر کے بعد متوجہ ہو تو اس کی نیت صحیح نہیں ہوگی، لیکن دونوں صورتوں میں اسے مغرب تک مبطلات سے بچنا ہوگا۔
    • اگر دوپہر سے پہلے متوجہ ہو تو بنا بر احتیاطِ واجب، اس دن کے روزے نیت کرے اور بعد میں اس دن کی قضا بھی کرے۔

آیت اللہ سیستانی: اگر کسی کو معلوم نہ ہو یا بھول جائے کہ رمضان ہے اور دوپہر سے پہلے متوجہ ہوتو:

  • اگر مبطل انجام دے چکا ہو تو روزہ باطل ہے، مگر مغرب تک پرہیز کرے اور بعد میں قضا کرے۔
  • اگر دوپہر کے بعد متوجہ ہو اور مبطل انجام نہ دیا ہو تو بنا بر احتیاطِ واجب رجاءً نیت کرے اور بعد میں قضا بھی کرے۔
  • اگر دوپہر سے پہلے متوجہ ہو اور مبطل انجام نہ دیا ہو تو نیت کرے، روزہ صحیح ہے۔

آیت اللہ مکارم شیرازی: اگر کوئی شخص بھول یا لاعلمی کی وجہ سے نیت نہ کرے اور روزہ نہ رکھے، اور دوپہر کے بعد یا دوپہر سے پہلے (جب کہ افطار کر چکا ہو) متوجہ ہو، تو احترامِ رمضان میں مغرب تک مبطلات ترک کرے اور بعد میں اس دن کی قضا کرے۔

"مبطلاتِ روزہ کے احکام”

قطعی مبطلات (احتیاط کی شرط کے بغیر)

  1. کھانا پینا
  2. ہمبستری
  3. استمناء (جان بوجھ کر منی خارج کرنا)
  4. اذانِ صبح تک جنابت، حیض یا نفاس کی حالت میں باقی رہنا
  5. مائع سے امالہ (انیما)
  6. جان بوجھ کر قے کرنا

مبطلات بنابر احتیاطِ واجب

  1. اللہ، رسول یا ائمہؑ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا
  2. گاڑھی گرد حلق تک پہنچانا
  3. پورا سر پانی میں ڈبونا

آیت اللہ سیستانی: آٹھ چیزیں روزہ باطل کرتی ہیں۔ پورا سر پانی میں ڈبونا مشہور قول کے مطابق مبطل ہے، لیکن بعید نہیں کہ روزہ باطل نہ ہو، اگرچہ سخت مکروہ ہے۔ احتیاط بہتر ہے۔

آیت اللہ مکارم شیرازی: بنا بر احتیاط نو چیزیں روزہ باطل کرتی ہیں: …

کھانے پینے کا حکم (عمداً یا سہواً)

  1. اگر روزہ دار جان بوجھ کر کچھ کھائے یا پیئے، خواہ معمولی غذا ہو یا غیر خوراکی چیز (جیسے کاغذ یا کپڑا)، اور مقدار کم ہو یا زیادہ، تو روزہ باطل ہے۔
  2. اگر بھول کر کھائے یا پیئے تو روزہ باطل نہیں ہوتا، خواہ واجب روزہ ہو یا مستحب۔

منہ اور حلق تک مواد پہنچنے اور نگلنے سے متعلق مسائل

  1. اگر کھاتے وقت معلوم ہو کہ صبح ہو گئی ہے تو لقمہ باہر نکال دے۔ اگر جان بوجھ کر نگل لے تو روزہ باطل ہوجاتا ہے۔
    آیت اللہ سیستانی و مکارم شیرازی: اورکفارہ بھی واجب ہوگا۔
  2. دانتوں میں پھنسا ہوا کھانا جان بوجھ کر نگلنے سے روزہ باطل ہے، لیکن اگر لاعلمی یا غیر ارادی سے ایسا ہو تو باطل نہیں۔
  3. سر یا سینے کا بلغم نگلنے سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔
    آیت اللہ سیستانی: اگر منہ تک پہنچ بھی جائے اور نگل لے تو بھی روزہ باطل نہیں، اگرچہ مستحب احتیاط یہ کہ اسے نہ نگلے۔
  4. منہ سے خون آنے سے روزہ باطل نہیں ہوتا، مگر اسے حلق تک پہنچنے سے روکنا واجب ہے۔

دوا، انجکشن اور غذائی متبادل

انجکشن اور ڈرپ

احتیاطِ واجب یہ ہے کہ روزہ دار تقویتی انجکشن، رگوں میں چھوڑے جانے والے انجکشن اور ہر قسم کی ڈرپ سے پرہیز کرے۔ البتہ غیر تقویتی عضلاتی انجکشن (جیسے اینٹی بایوٹک، درد کش یا بے ہوشی کا انجکشن) اور زخم پر لگائی جانے والی دوا  لگانےمیں کوئی حرج نہیں۔

آیت اللہ سیستانی: انجکشن اور ڈرپ روزہ باطل نہیں کرتے،  چاہے وہ تقویتی یا گلوکوز ڈرپ  ہی کیوں نہ ہوں، لیکن بہتر ہے کہ غذا کے  بدلے میں دیئے جانے والے انجکشن سے پرہیز کیا جائے۔

دخانیات، منشیات اورمختلف قسم کی گولیوں کا  استعمال

  1. احتیاطِ واجب ہے کہ روزہ دار تمباکو اور دیگر نشہ آور اشیاء کے دھوئیں سے اور ناک یا زبان کے نیچے جذب ہونے والی منشیات سے پرہیز کرے۔
  2. بیماری کے علاج کے للئے گولی کھانا جائز ہے، لیکن ایسا کرنے سے  روزہ باطل ہوگا اور اس کی قضا لازم ہوگی۔

جسمانی ضعف اور  کمزوری کاعذر

صرف کمزوری کی وجہ سے روزہ توڑا نہیں کیا جا سکتا،  البتہ اگر روزہ دار کے لئے کمزوری، ناقابلِ برداشت ہو تو پھر وہ روزہ توڑ سکتا ہے اور بعد میں قضا کرے۔

آیت اللہ سیستانی: کمزوری بذاتِ خود  روزہ توڑنے کی وجہ نہیں  بن سکتی، خواہ  وہ کمزوری شدید ہی کیوں نہ ہو، مگر یہ وہ برداشت کے قابل نہ رہ جائے۔ ایسی صورت میں بنا بر احتیاطِ واجب صرف ضرورت کے مطابق کھا پی سکتا ہے، پھر باقی دن  روزے کی حالت میں رہے،  ماہ رمضان کےبعد  اس کی  قضا  بھی بجا لائے تا ہم اس روز کا کفارہ واجب نہیں ہوگا۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔