دلچسپ اورپر کشش واقعہ – جلد 03 شمارہ 20
وہ بندھن جو آسمان میں طے پایا؛ امام علیؑ اور حضرت فاطمہ زہراؑ کی شادی
اُس رات مدینہ کے چراغ ایک نرم اور پُرسکون روشنی سے جگمگا رہے تھے۔ گلیاں خاموش تھیں، مگر ایک چھوٹے سے گھر میں ایسا لگتا تھا جیسےسارے آسمان خوشی اور مسرت سے بھر گئے ہوں۔
امام علیؑ خاموشی سے رسولِ خدا حضرت محمد ﷺ کے قریب بیٹھے تھے۔ اُن کے دل میں ایک بات تھی، مگر اک بے مثال حیا نےاُن کی زبان کو روک رکھا تھا۔ اس دنیا میں اُن کے پاس زیادہ کچھ نہ تھا؛ ایک تلوار جنگ کے لیے، ایک زرہ حفاظت کے لیے، اور ایسا ایمان جو اُن کے پورے وجود کو روشن کئے ہوئے تھا۔ لیکن اُن کے دل میں دنیا کے تمام خزانوں سے زیادہ قیمتی ایک آرزو تھی: حضرت فاطمہ زہراؑ، رسولِ خدا ﷺ کی محسب سے عزیزبیٹی، سے نکاح کی خواہش۔
اُن سے پہلے بھی بہت سے مالدار اور بااثر لوگ حضرت فاطمہؑ کا رشتہ لے کر رسولِ خدا ﷺ کے پاس آئے تھے؛ ایسے لوگ جن کے پاس دولت، مقام اور طاقت تھی۔ مگر رسولِ خدا ﷺ ہر بار نہایت نرمی سے انکار فرما دیتے، کیونکہ آپ ﷺ اللہ کے حکم کے منتظر تھے۔
آخرکار امام علیؑ نے ہمت کی اور عرض کیا:
"یا رسول اللہ، میں فاطمہؑ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔”
رسولِ خدا ﷺ نے محبت اور شفقت بھری نگاہ سے علیؑ کی طرف دیکھا۔ علیؑ کے پیچھے نہ کوئی محل تھا، نہ دولت، نہ دنیاوی اقتدار۔ مگر رسولِ خدا ﷺ وہ چیز دیکھ رہے تھے جو دوسرے نہیں دیکھ سکتے تھے: سچائی، پاکیزگی، قربانی، اور ایمان سے بھرا ہوا دل۔
رسولِ خدا ﷺ مسکرائے اور فرمایا:
“اے علی! تمہارے آنے سے پہلے جبرئیل آسمان سے نازل ہوئے اور اللہ کا پیغام لائے کہ فاطمہؑ کا نکاح تمہارے ساتھ کیا جائے۔”
اُس لمحے زمین ایک ایسے بندھن کی گواہ بنی جس کی مثال کبھی نہ دیکھی گئی تھی۔ یہ شادی دولت، ظاہری خوبصورتی یا سماجی حیثیت پر قائم نہیں تھی؛ بلکہ تقویٰ، محبتِ الٰہی، اور مشترکہ قربانی پر استوار تھی۔
امام علیؑ نے شادی کے اخراجات کے لیے اپنی زرہ فروخت کردی۔ اس کی قیمت سے صرف چند سادہ چیزیں خریدی گئیں: کھجور کے ریشوں کا بستر، پانی کا مشکیزہ، ہاتھ سے چلنے والی چکی، اور چند سادہ گھریلو سامان۔ مگر رسولِ خدا ﷺ نے انہی معمولی چیزوں کو دیکھا اور اُس گھر کے لیے دعا اور برکت طلب فرمائی۔
اور وہ گھر واقعی کس قدر بابرکت ثابت ہوا…
اسی چھوٹے سے گھر سے امام حسنؑ اور امام حسینؑ جیسے جنت کے جوانوں کے سردار دنیا میں آئے۔
اسی گھر سے صبر، عبادت، شجاعت، محبت اور ایسا نور بلند ہوا جو قیامت تک نسلوں کی رہنمائی کرتا رہے گا۔
یہ مبارک شادی ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی محبت کا معیار فضول نمود و نمائش یا پرتعیش تقریبات نہیں ہوتیں؛ بلکہ مشکل وقت میں وفاداری، سختیوں میں مہربانی، اور اللہ کی طرف سفر میں ایک دوسرے کا سہارا بننا ہی اصل محبت ہے۔
کبھی کبھی سب سے عظیم گھر وہ نہیں ہوتے جو سب سے زیادہ مالدار ہوں؛ بلکہ وہ ہوتے ہیں جہاں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے، دل سچے ہوتے ہیں، اور لوگ اس فانی دنیا سے بڑھ کر کسی اعلیٰ مقصد کے لیے قربانی دیتے ہیں۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

