سدا بہار قرآنی کہانیاں – جلد 03 شمارہ 27

Everlasting Tales of the Quran – Volume 03 Issue 27

آسمانوں کی بلندی پر ایک عارف: بلعم باعورا

انبیا کی تاریخ میں حق و باطل کے مقابلے کی بہت سی حیرت انگیز داستانیں ملتی ہیں، لیکن آج کی داستان کا کردار ایک الگ نوعیت کا ہے۔ اس بار گفتگو حضرت موسیٰؑ کے فرعون یا قارون سے مقابلے کی نہیں، بلکہ ایک ایسے بڑے عالم سے ٹکراؤ کی ہے جو توحید کے محاذ کے اندر سے حجتِ خدا کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا اور انجام کار جہنم کی پستی میں جا گرا۔

آسمانوں کی بلندی پر ایک عارف

اس زمانے میں جب حضرت موسیٰؑ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے چنگل سے نجات دلائی اور سرزمینِ موعود، یعنی شام و کنعان، کی طرف روانہ ہوئے، ایک علاقے میں جسے “شام” یا “بلقاء” کہا جاتا تھا، بلعم بن باعورا نامی ایک عالم رہتا تھا۔

بلعم کوئی عام مصلح یا زاہد نہ تھا۔ وہ گزشتہ انبیا کے علوم کا وارث تھا۔ تفاسیر میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی کتاب اور آیات عطا فرمائی تھیں۔ وہ باطنی صفا اور قربِ الٰہی کے ایسے مقام تک پہنچ چکا تھا کہ جب آسمان کی طرف رخ کر کے دعا کرتا تو اس کی دعا فوراً قبول ہوجاتی۔ عوام اسے اپنی پناہ گاہ سمجھتے تھے اور بہت سے شاگرد اس کے درس میں بیٹھتے تھے تاکہ اسرارِ الٰہی سیکھیں۔ یہاں تک کہ اسے اللہ کے “اسمِ اعظم” کے ایک حصے کا علم بھی حاصل تھا؛ ایسی طاقت جو تاریخ کا رخ بدل سکتی تھی۔

بادشاہ کا وسوسہ اور قدموں کی لغزش

بلعم کا بڑا امتحان اس وقت شروع ہوا جب فرعون، حضرت موسیٰؑ اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرنے کی کوشش میں ان کی تلاش کر رہا تھا۔ راستے میں اس کا گزر بلعم کے پاس ہوا۔ فرعون نے قیمتی تحائف اور بہت سا مال دے کر اس سے مدد طلب کی اور کہا: خدا سے دعا کرو کہ موسیٰ اور ان کے ساتھی ہمارے قبضے میں آ جائیں۔

بلعم اپنی گدھی پر سوار ہوا تاکہ وہ بھی موسیٰؑ کی تلاش میں نکلے، مگر اس کی سواری نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ بلعم نے اس جانور کو مارنا شروع کیا۔ اللہ تعالیٰ نے گدھی کی زبان کھول دی، تو وہ بول اٹھی: افسوس ہے تم پر! مجھے کیوں مارتے ہو؟ کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ چلوں تاکہ تم خدا کے نبی اور ایمان والوں پر بددعا کرو؟

یہ سن کر بلعم نے اس جانور کو اتنا مارا کہ وہ مر گیا، اور اسی مقام پر اسمِ اعظم اس کی زبان سے اٹھا لیا گیا۔

اللہ تعالیٰ سورۂ اعراف کی آیات 175 اور 176 میں اس کے سقوط اور روحانی مسخ کو نہایت ہولناک مثال کے ساتھ بیان فرماتا ہے:

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ
اور انہیں اس شخص کا حال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیات عطا کی تھیں، مگر وہ ان سے نکل گیا، تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں شامل ہو گیا۔(سورہ  اعراف، آیت 175)

اللہ تعالیٰ صاف بیان فرماتا ہے کہ اسے علم کے ذریعے بلندی اور عظمت پانے کا امکان دیا گیا تھا، مگر اس نے زمین سے چمٹ جانے کا راستہ اختیار کیا: 

وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ
اور اگر ہم چاہتے تو ان آیات کے ذریعے اس کا مقام بلند کر دیتے، لیکن وہ زمین کی پستیوں سے چمٹ گیا اور اپنی خواہشِ نفس کی پیروی کی۔ پس اس کی مثال کتے جیسی ہے کہ اگر تم اس پر حملہ کرو تو بھی زبان نکال کر ہانپتا ہے، اور اگر اسے چھوڑ دو تو بھی زبان نکال کر ہانپتا ہے۔

(سورہ  اعراف، آیت 176)

کتے کے ہانپنے کی مثال کیوں؟

تفسیر نمونہ اور المیزان میں بیان ہوا ہے کہ یہ آیت دنیا پرست علماء کی نہایت دقیق نفسیاتی تحلیل پیش کرتی ہے۔ کتے کی ایک خاص جسمانی کیفیت یہ ہے کہ وہ کبھی کبھی اس وقت بھی زبان نکال کر تیز تیز سانس لیتا ہے جب نہ وہ پیاسا ہوتا ہے، نہ اس پر کوئی بوجھ ہوتا ہے اور نہ وہ دھوپ میں ہوتا ہے۔

یہاں مشابہت “نہ بجھنے والی پیاس” میں ہے۔ بلعم باعورا دنیا پرستی کے ایسے مقام تک پہنچ چکا تھا کہ حق کتنا ہی روشن کیوں نہ ہو، اس پر اثر نہیں کرتا تھا۔ وہ مطلق طمع کا شکار ہو چکا تھا۔ چاہے اسے نصیحت کی جاتی یا اسے چھوڑ دیا جاتا، وہ اس کتے کی مانند تھا جو اس بیماری میں گرفتار ہو کر دنیا کے لیے ہانپتا رہتا ہے۔ اس کا علم اس کے لیے سکون کا سبب نہ بنا، بلکہ اسے مزید پیاسا اور حریص بنا گیا۔

اپنی خیانت کے آخری مرحلے میں بلعم نے بادشاہ سے کہا: “اب جبکہ میری دعا بے اثر ہو گئی ہے، موسیٰ کے لشکر کو کمزور کرنے کا راستہ یہ ہے کہ خوبصورت عورتوں کو فروخت کے سامان کے ساتھ ان کے لشکر میں بھیج دو تاکہ وہ بنی اسرائیل کے مردوں کو زنا اور فساد میں مبتلا کریں۔ اگر ان میں سے ایک شخص بھی زنا کرے گا تو خدا کا عذاب ان پر نازل ہو جائے گا۔”

یہ ناپاک چال کارگر ہوئی۔ فساد حضرت موسیٰؑ کے لشکر کے ایک حصے میں داخل ہوا اور طاعون نے بنی اسرائیل کے ہزاروں افراد کی جان لے لی۔ لیکن خود بلعم ذلت و خواری کے ساتھ، پریشان روح اور دنیا کی ابدی پیاس کے ساتھ کفر کی آغوش میں مر گیا۔

معاشرے کے سقوط میں خاص شخصیتوں کا کردار اور عاشورا سے اس کا تعلق

بلعم باعورا کی داستان “خواص کے انحراف” کا مکمل آئینہ ہے۔ خواص وہ لوگ ہیں جو علم، مذہبی حیثیت یا بزرگوں سے نسبت رکھنے کی وجہ سے معاشرے کو سمت دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اگر یہی لوگ زمین سے چمٹ جائیں، حق کو چھپائیں یا ضرورت کے وقت کمزوری دکھائیں، تو معاشرے کی سب سے بڑی سرخ لکیر ٹوٹ جاتی ہے۔

کربلا کا سانحہ ایک ایسے معاشرے کا تلخ انجام تھا جس کے خواص پانچ مختلف سطحوں پر انحراف اور غلط محاسبات کا شکار ہوئے اور معاشرے کو سقوط کی طرف لے گئے:

۱۔ قاضی شریح؛ ظلم کو مذہبی جواز دینے کی علامت
کوفہ کا وہ مذہبی قاضی جو ابن زیاد کے درہموں سے خریدا گیا اور مذہبی فتویٰ دے کر امام حسینؑ کے خون کو حلال قرار دیا۔

۲۔ عمر بن سعد؛ طمع اور باطل سے کھلی سوداگری کی علامت
وہ شخص جو امامؑ کے مقام کو جانتا تھا، مگر “حکومتِ ری” اور “امامؑ کے خون” کے درمیان پہلے کو ترجیح دی۔ وہ بالکل بلعم کی طرح دنیاوی آرزوؤں کے لیے اپنی آخرت بیچ بیٹھا۔

۳۔ عبداللہ بن عمر؛ عافیت طلبی اور مصلحت آمیز خاموشی کی علامت
ایک زاہد شخص جس نے تلوار تو نہ اٹھائی، مگر اپنی خاموشی اور امام حسینؑ کی بیعت نہ کرنے کے ذریعے معاشرے اور عوام کو تردید، شک اور کمزوری میں مبتلا کر دیا۔

۴۔ شمر بن ذی الجوشن؛ سابقہ نیکی سے سقوط کی علامت
صفین کا سابق مجاہد، جس کے دل کو حسد اور کینہ نے مسخ کر دیا اور وہ امام حسینؑ کا براہِ راست قاتل بن گیا۔

۵۔ سلیمان بن صرد خزاعی؛ نیک  مگربے بصیرتی اور دیر کر دینے کی علامت
وہ کوفہ کے شیعوں کا رہنما تھا، لیکن اس کی بڑی کمزوری “وقت کو نہ پہچاننا اور بصیرت کی کمی” تھی۔ جب مسلم بن عقیلؑ کوفہ میں تنہا رہ گئے اور امام حسینؑ کربلا میں محصور تھے، وہ حرکت میں نہ آیا اور دیر کر دی۔ عاشورا کے بعد “قیامِ توابین” کی صورت میں اس کی تحریک اگرچہ اس کی شہادت پر ختم ہوئی، مگر اب وہ امامؑ کا کٹا ہوا سر آپؑ کے بدن سے واپس نہیں جوڑ سکتی تھی۔

روزمرہ زندگی کے لیے بلعم باعورا کے اسباق

بلعم باعورا کا واقعہ صرف سیاسی یا مذہبی خواص کے لیے ایک تاریخی المیہ نہیں، بلکہ ہر انسان کی اخلاقی اور نفسیاتی تربیت کے لیے ایک رہنما داستان ہے۔ اس واقعے میں تین روحانی وائرس پوشیدہ ہیں جو دین داری اور کامیابی کے عروج پر بھی انسان کی زندگی کو تباہ کر سکتے ہیں۔

۱۔ عُجب کا خطرہ؛ خود پسندی اور عبادت کا غرور

جب بلعم نے دیکھا کہ اس کی دعا قبول ہوتی ہے اور لوگ اس کے گرد جمع ہوتے ہیں، تو وہ عُجب میں مبتلا ہو گیا۔ اس نے سمجھا کہ وہ ایک ناقابلِ شکست مقام تک پہنچ چکا ہے۔

عملی سبق:
روزمرہ زندگی میں جب بھی انسان یہ محسوس کرے کہ وہ دوسروں سے زیادہ پاک، زیادہ عالم، زیادہ باایمان یا زیادہ کامیاب ہے، وہ دراصل سقوط کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھ چکا ہے۔ علمی یا مذہبی غرور دل کا سب سے بڑا پردہ ہے اور انسان کو اپنی خامیوں سے اندھا کر دیتا ہے۔ کسی کو بھی اپنی موجودہ حیثیت پر مغرور نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ نیک عاقبت ایک مسلسل سفر ہے، کوئی مستقل حاصل شدہ مقام نہیں۔

۲۔ حسد؛ روزمرہ فتنوں کی آگ بھڑکانے والا عنصر

بلعم کے حضرت موسیٰؑ کے مقابل کھڑے ہونے کی ایک بڑی وجہ حضرت موسیٰؑ کے تکوینی مقام اور رسالت سے پوشیدہ حسد تھی۔ وہ یہ برداشت نہ کر سکا کہ کوئی دوسرا امت کی قیادت کرے۔

عملی سبق:
حسد روزمرہ زندگی میں ہمارے خاندانی تعلقات، کام کے ماحول اور تعلیمی فضا کو تباہ کر دیتا ہے۔ حسد انسان کی نفسیاتی توانائی کو اپنی ترقی پر خرچ کرنے کے بجائے دوسروں کے زوال کی خواہش میں ضائع کر دیتا ہے۔ بلعم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حسد ایک مستجاب الدعوۃ عارف کو بھی مجرم بنا سکتا ہے۔

۳۔ پوشیدہ دنیا پرستی اور “بس اس بار” کا مرض

بلعم نے اپنے سقوط کا آغاز ایک چھوٹے سے جواز سے کیا: “بادشاہ کے تحائف لے لیتا ہوں، ایک مختصر سی بددعا کر دیتا ہوں، پھر دوبارہ توبہ کر کے عبادت میں مشغول ہو جاؤں گا!” مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ باطل کی حدود میں داخل ہونے کے بعد باہر نکلنا آسان نہیں ہوتا۔

عملی سبق:
ہماری زندگی کی بڑی اخلاقی لغزشیں، جیسے حق الناس، رشوت، جھوٹ، امانت میں خیانت یا دوسروں کے حقوق پامال کرنا، کبھی اچانک ایک بڑے اور علنی فیصلے سے شروع نہیں ہوتیں؛ بلکہ ہمیشہ “بس اس بار” اور “یہ تو مصلحت ہے” جیسے جملوں سے آغاز پاتی ہیں۔ دنیا پرستی کا مطلب لازماً محلوں میں رہنا نہیں، بلکہ روزمرہ فیصلوں میں چھوٹے اور فوری مادی فائدے کو اخلاقی اور وجدانی اصولوں پر ترجیح دینا ہے۔

اختتامی کلام

بلعم باعورا ہمیں سکھاتا ہے کہ “حق کو جاننا” اور “حق پر قائم رہنا” دو الگ چیزیں ہیں۔ وہ حق کو جانتا تھا، مگر اس کے ساتھ کھڑا نہ ہوا۔

اس کے انجام سے محفوظ رہنے کے لیے انسان جس مقامِ علم، تخصص یا روحانیت پر بھی ہو، اسے سب سے بڑھ کر دو پروں کی ضرورت ہے:
خدا اور مخلوق کے سامنے تواضع، تاکہ عُجب سے بچ سکے؛
اور نفسانی خواہشات کی مسلسل نگرانی، تاکہ اس نہ بجھنے والی پیاس میں مبتلا نہ ہو جسے قرآن نے ہانپنے سے تشبیہ دی ہے۔

 منابع اور حوالہ جات :

  • قرآن کریم، سورۂ اعراف، آیات 175 اور 176۔
  • تفسیر المیزان، علامہ طباطبائی، جلد 8، ذیل آیتِ تمثیل اور “انسلاخ” کی تشریح۔
  • تفسیر نمونہ، آیت اللہ مکارم شیرازی، جلد 7، دنیا پرست نخبگان کی سیر نہ ہونے والی طمع کا تجزیہ۔
  • بحار الانوار، علامہ مجلسی، جلد 13، باب قصصِ بلعم؛ جلد 44 اور 45، باب تاریخِ کربلا، قاضی شریح، عمر سعد اور سلیمان بن صرد کی قیادت میں قیامِ توابین۔
  • تاریخ الامم والملوک، تاریخ طبری، محمد بن جریر طبری، جلد 5، سنہ 60 اور 61 ہجری کے واقعات، کوفہ کے شیعوں کی سرگرمیاں اور سلیمان بن صرد خزاعی کے خطوط۔
  • الفتوح، ابن اعثم کوفی، جلد 5، کوفہ کے خواص کے مواقف اور مسلم بن عقیلؑ کی مدد نہ کرنے میں سلیمان بن صرد کی مصلحت اندیشی۔
  • رجال الطوسی، شیخ طوسی، اصحابِ امام حسینؑ اور عبداللہ بن عمر کے طبقات و احوال کا جائزہ۔
اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔