فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 25
نمازِ جماعت- چوتھا حصہ
مراجعِ عظامِ تقلید شهید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای، آیت اللہ العظمیٰ سیستانی اور آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی (دام عزّہم العالی) کے فتوؤں کے مطابق۔
نوٹ: اس پینل میں مسائل کا ذکر (بلا اختلاف یا حوالہ کےساتھ )
جومسائل بغیر کسی مخالف رائے یا خاص حوالہ کے ذکر کئے گئے ہیں، وہ تینوں بزرگ مراجع کے مشترک فتاوی ہیں۔ اور جہاں کسی ایک مرجع کا فتویٰ دوسرے دو سے مختلف ہو، وہاں اسی نمبر کے تحت اس مرجع کےنام کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔
جماعت کی مختلف رکعتوں میں اقتدا کے احکام
الف) امام کی پہلی یا دوسری رکعت میں اقتدا کرنا
1۔اگر مقتدی امام جماعت کی پہلی یا دوسری رکعت میں اقتدا کرے تو اس سے سورۂ حمد اور سورہ کی قرائت ساقط ہو جاتی ہے۔
2۔اگر امام قیام کی حالت میں ہو اور مقتدی کو معلوم نہ ہو کہ امام کس رکعت میں ہے، تو وہ اقتدا کر سکتا ہے اور قربت کی نیت سے سورۂ حمد اور سورہ پڑھے۔ اس صورت میں نماز جماعت صحیح ہے، اگرچہ بعد میں معلوم ہو کہ امام پہلی یا دوسری رکعت میں تھا۔
آیت اللہ سیستانی: اگر امام کھڑا ہو اور مقتدی کو معلوم نہ ہو کہ وہ کس رکعت میں ہے، تو وہ اقتدا کر سکتا ہے اور احتیاطِ واجب کی بنا پر سورۂ حمد اور سورہ پڑھے، لیکن انہیں صرف قربت کی نیت سے پڑھے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی: اگر امام کھڑا ہو اور مقتدی کو معلوم نہ ہو کہ وہ کس رکعت میں ہے، تو وہ اقتدا کر سکتا ہے اور قربت کی نیت سے حمد و سورہ پڑھے۔ اس کی نماز صحیح ہے، چاہے بعد میں معلوم ہو کہ امام تیسری یا چوتھی رکعت میں تھا یا پہلی یا دوسری رکعت میں، بشرطیکہ نماز ظہر یا عصر ہو، کیونکہ ان نمازوں میں امام حمد و سورہ آہستہ پڑھتا ہے۔
3۔اگر مقتدی یہ گمان کرے کہ امام پہلی یا دوسری رکعت میں ہے اور اسی وجہ سے حمد و سورہ نہ پڑھے، پھر رکوع میں معلوم ہو کہ امام تیسری یا چوتھی رکعت میں تھا، تو اس کی نماز صحیح ہے۔
لیکن اگر رکوع سے پہلے متوجہ ہو جائے تو:
- حمد اور سورہ پڑھے۔
- اگر دونوں پڑھنے کا وقت نہ ہو تو صرف حمد پڑھے اور رکوع میں امام سے مل جائے۔
آیت اللہ سیستانی: اگر مکمل حمد پڑھنے کا وقت بھی نہ ہو تو حمد کو چھوڑ کر امام کے ساتھ رکوع میں جا سکتا ہے، لیکن احتیاطِ مستحب یہ ہے کہ نیتِ فرادا کر کے نماز مکمل کرے۔
4۔اگر نماز کے آغاز میں یا حمد و سورہ کے دوران اقتدا کرے اور رکوع میں جانے سے پہلے امام رکوع سے اٹھ جائے، تو اس کی جماعت صحیح ہے۔ وہ رکوع انجام دے اور نماز امام کے ساتھ جاری رکھے۔
ب) امام کے رکوع میں اقتداکرنا
1۔ اگر مقتدی امام کے رکوع میں اقتدا کرے تو اس کی چار صورتیں ہیں:
(الف) رکوع کو پا لے
اگر امام کے اٹھنے سے پہلے مقتدی حدِّ رکوع تک پہنچ جائے تو جماعت صحیح ہے اور وہ رکعت اس کے لیے شمار ہوگی، اگرچہ امام کا ذکرِ رکوع ختم ہو چکا ہو۔
(ب) رکوع کو نہ پا سکے
اگر مقتدی اس وقت حدِّ رکوع تک پہنچے جب امام اٹھ رہا ہو یا سیدھا کھڑا ہو چکا ہو تو جماعت منعقد نہیں ہوگی اور اس کی نماز فرادا صحیح ہوگی۔
آیت اللہ مکارم شیرازی: اگر مقتدی امام کے رکوع کو نہ پا سکے تو نماز فرادا مکمل کرے اور احتیاطِ واجب کی بنا پر نماز دوبارہ بھی پڑھے۔ اسی طرح اگر شک کرے کہ رکوع پایا یا نہیں۔
(ج) رکوع پانے میں شک
اگر مقتدی رکوع کی مقدار جھک جائے لیکن شک کرے کہ امام کا رکوع پایا یا نہیں، تو اس کی نماز فرادا صحیح ہے اور وہ رکعت اس کی پہلی رکعت شمار ہوگی۔
(د) امام پہلے سر اٹھا لے
اگر مقتدی کے حدِّ رکوع تک پہنچنے سے پہلے امام رکوع سے سر اٹھا لے تو مقتدی نیتِ فرادا کر سکتا ہے۔
ج) امام کی دوسری رکعت میں اقتداکرنا
اقتدا کرنے کے احکام نماز کی رکعتوں کے اعتبار سے مختلف ہیں:
1۔ اگر امام کی نماز دو رکعتی ہو
- مستحب ہے کہ مقتدی امام کے ساتھ قنوت پڑھے۔
- امام کے تشہد کے وقت مقتدی چاہے تو کھڑا ہو کر اپنی نماز فرادا جاری رکھے۔
- یا نیم خیز حالت میں بیٹھا رہے یہاں تک کہ امام سلام دے، پھر کھڑا ہو۔
2۔ اگر امام کی نماز تین رکعتی ہو
- مستحب ہے کہ قنوت اور تشہد امام کے ساتھ پڑھے۔
- احتیاطِ واجب کی بنا پر تشہد کے وقت نیم خیز بیٹھے۔
- تشہد کے بعد امام کے ساتھ کھڑا ہو کر حمد و سورہ پڑھے۔
اگر سورہ پڑھنے کا وقت نہ ہو تو:
- صرف حمد پڑھے۔
- رکوع میں امام سے مل جائے۔
- دو سجدوں کے بعد اپنی دوسری رکعت کا تشہد پڑھے۔
اگر مقتدی کی نماز بھی تین رکعتی ہو تو:
- امام کے سلام کے وقت کھڑا ہو کر نماز جاری رکھ سکتا ہے۔
- یا نیم خیز رہے اور امام کے سلام کے بعد اگلی رکعت کے لیے کھڑا ہو۔
3۔ اگر امام کی نماز چار رکعتی ہو
- پہلی رکعت میں مذکورہ بالا حکم کے مطابق عمل کرے۔
- اپنی دوسری رکعت (جو امام کی تیسری رکعت ہے) میں دو سجدوں کے بعد واجب مقدار میں تشہد پڑھے۔
- پھر اپنی تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو۔
اگر تین مرتبہ تسبیحات پڑھنے کا وقت نہ ہو تو:
- ایک مرتبہ تسبیحات پڑھے۔
- پھر رکوع میں امام سے مل جائے۔
د) امام کی تیسری یا چوتھی رکعت میں اقتداکرنا
1۔اگر مقتدی امام کی تیسری یا چوتھی رکعت میں شامل ہو تو اسے حمد اور سورہ پڑھنا ہوگا۔
اگر سورہ پڑھنے کا وقت نہ ہو تو:
- صرف حمد پڑھے۔
- اور رکوع میں امام سے مل جائے۔
2۔اگر یقین ہو کہ سورہ پڑھنے سے امام کے رکوع تک نہیں پہنچ سکے گا تو سورہ نہیں پڑھنا چاہیے۔
اگر سورہ پڑھے اور رکوع نہ پا سکے تو نماز فرادا ہو جائے گی۔
3۔اگر یقین ہو کہ حمد پڑھنے سے بھی رکوع نہیں پا سکے گا تو احتیاطِ واجب کی بنا پر انتظار کرے یہاں تک کہ امام رکوع میں جائے، پھر اقتدا کرے۔
آخری تشہد میں جماعت کا ثواب حاصل کرنا
1۔اگر مقتدی اس وقت پہنچے جب امام آخری تشہد میں ہو تو جماعت کا ثواب حاصل کرنے کے لئے:
- نیتِ جماعت کرے۔
- تکبیرۃ الاحرام کہے۔
- امام کے ساتھ بیٹھ کر تشہد پڑھے۔
- سلام نہ پڑھے۔
آیت اللہ سیستانی: احتیاطِ واجب کی بنا پر سلام نہ پڑھے اور امام کے سلام کا انتظار کرے۔
- امام کے سلام کے بعد کھڑا ہو جائے اور اپنی نماز ابتدا سے شروع کرے۔
آیت اللہ سیستانی: دوبارہ نیت یا تکبیر کہے بغیر حمد و سورہ پڑھے اور اسے اپنی پہلی رکعت شمار کرے۔
یہ حکم صرف نماز جماعت کے آخری تشہد کے ساتھ مخصوص ہے، تین اور چار رکعتی نمازوں کے درمیانی تشہد پر لاگو نہیں ہوتا۔
جماعت سے فرادا کی نیت کرلینا
1۔مقتدی نماز جماعت کے دوران کسی بھی وقت نیتِ فرادا کر سکتا ہے اور نماز تنہا مکمل کر سکتا ہے، اگرچہ ابتدا ہی سے اس کا ارادہ ہو، لیکن مستحب احتیاط یہ ہے کہ ابتدا سے ایسا ارادہ نہ رکھے۔
آیت اللہ سیستانی: اگر مقتدی بغیر عذر کے درمیانِ نماز فرادا کی نیت کرے تو جماعت کی صحت محلِ اشکال ہے، لیکن نماز صحیح ہے، مگر یہ کہ اس نے فرادا نماز کے احکام کی رعایت نہ کی ہو، جس صورت میں احتیاطِ واجب کی بنا پر نماز دوبارہ پڑھے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی: بغیر عذر کے جماعت سے الگ ہو کر نیتِ فرادا کرنا جائز نہیں، خواہ ابتدا سے اس کا ارادہ ہو یا نماز کے دوران۔
2۔اگر امام کی قرائت مکمل ہونے کے بعد نیتِ فرادا کرے تو اسے حمد و سورہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔
البتہ:
- اگر امام کی حمد مکمل ہونے کے بعد عدول کرے تو حمد دوبارہ نہیں پڑھے گا۔
- اگر حمد یا سورہ کے دوران عدول کرے تو احتیاطِ واجب کی بنا پر ابتدا سے حمد و سورہ قربتِ مطلقہ کی نیت سے پڑھے۔
آیت اللہ سیستانی: اگر عذر کی وجہ سے امام کی حمد و سورہ مکمل ہونے کے بعد فرادا کی نیت کرے تو حمد و سورہ پڑھنا ضروری نہیں۔ لیکن اگر بغیر عذر کے یا حمد و سورہ مکمل ہونے سے پہلے فرادا کی نیت کرے تو احتیاطاً مکمل حمد و سورہ پڑھے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی: اگر کسی عذر کی وجہ سے امام کی حمد و سورہ مکمل ہونے کے بعد فرادا ہو جائے تو حمد و سورہ پڑھنے کی ضرورت نہیں، لیکن اگر مکمل ہونے سے پہلے فرادا ہو تو جتنا حصہ امام نے نہیں پڑھا وہ خود پڑھے۔
3۔اگر نماز جماعت میں نیتِ فرادا کر لے تو احتیاطِ واجب کی بنا پر دوبارہ جماعت کی نیت نہیں کر سکتا۔
اسی طرح اگر تردد میں پڑ جائے کہ فرادا ہو یا نہ ہو، تو احتیاطِ واجب کی بنا پر نماز فرادا مکمل کرے۔
آیت اللہ سیستانی: اگر دورانِ جماعت نیتِ فرادا کر لے تو دوبارہ جماعت کی نیت نہیں کر سکتا۔ اسی طرح احتیاطِ واجب کی بنا پر اگر فرادا ہونے یا نہ ہونے میں تردد کرے اور بعد میں جماعت جاری رکھنے کا فیصلہ کرے، تب بھی جماعت کی نیت دوبارہ نہیں کر سکتا۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

