سدا بہار قرآنی کہانیاں – جلد 03 شمارہ 29
ارادۂ الٰہی کے دریا میں فرعون کی بے بسی
تصور کیجیے کہ آپ کو اپنے زمانے کی سب سے بڑی اور طاقتور سلطنت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے، لیکن عین اسی وقت آپ کی زبان روانی سے بولنے میں آپ کا ساتھ نہ دے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی داستان اسی مقام سے، یعنی ایک عظیم تضاد سے شروع ہوتی ہے۔
آپؑ کو دنیا کے متکبر ترین حکمران کو حق کی دعوت دینے کے لیے منتخب کیا گیا، حالانکہ زبان کی ایک سنگین دشواری آپؑ کے ساتھ تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایک نمایاں جسمانی مشکل، یعنی لکنتِ زبان، کا سامنا تھا؛ لیکن یہ لکنت کبھی بھی آپؑ کے پختہ عزم کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکی۔
دہکتا ہوا انگارہ اور زبان کی گرہ کا راز
تاریخی روایات کے مطابق، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بچپن میں ایک دن فرعون کے محل میں اس کی داڑھی کھینچ لی اور اس کے چہرے پر ہاتھ مارا۔ فرعون غصے میں بھی تھا اور مستقبل کے بارے میں خوف زدہ بھی۔ اس نے خیال کیا کہ شاید یہی بچہ وہ خطرہ ہے جو ایک دن اس کی حکومت کو تباہ کر دے گا۔ چنانچہ اس نے موسیٰؑ کی ذہانت اور خطرناک ہونے کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔
حضرت آسیہ سلام اللہ علیہا نے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ موسیٰؑ محض ایک بچہ ہیں اور اچھے برے میں تمیز کی قدرت نہیں رکھتے، ایک آزمائش کی تجویز پیش کی۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے دو برتن رکھے گئے۔ ایک میں چمکتے ہوئے یاقوت تھے اور دوسرے میں سرخ، دہکتے ہوئے انگارے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا چھوٹا سا ہاتھ پہلے یاقوتوں کی طرف بڑھا، لیکن گویا تقدیر نے آپؑ کی انگلیوں کا رخ بدل دیا۔ بچے نے دہکتے ہوئے انگارے کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور اسے اپنے منہ میں رکھ لیا۔
آگ کی شدید تپش نے آپؑ کی نازک زبان کو جلا دیا اور آپؑ کی چیخ محل کی راہ داریوں میں گونج اٹھی۔ آگ تو بجھ گئی، لیکن اس دن کے بعد الفاظ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حلق سے آسانی کے ساتھ ادا نہ ہوتے تھے۔ کلمات آپؑ کے دانتوں کے پیچھے الجھ جاتے اور آپؑ نمایاں لکنت کا شکار ہوگئے۔
فرعون کے اس محل میں، جہاں فصاحت و بلاغت کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی، یہ جسمانی نقص کسی بھی نوجوان کی پیشانی پر ’’نااہلی‘‘ کی مہر لگا سکتا تھا۔
کوہِ طور کے سائے میں خوف اور دعا کا سہارا
سال گزرتے گئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام جوان ہوگئے۔ مدین میں کئی سال ہجرت اور گلہ بانی کے بعد، واپسی کے سفر میں آپؑ نے کوہِ طور کے دامن میں تجلیِ الٰہی کی آگ دیکھی اور ایک صدا سنی، جو آپؑ کو دنیا کی عظیم ترین ذمہ داری کی طرف بلا رہی تھی:
﴿اذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ﴾
’’فرعون کی طرف جاؤ، بے شک وہ سرکشی پر اتر آیا ہے۔‘‘
(سورۂ طٰہٰ، آیت 24)
اس لمحے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذہن میں سب سے پہلے وہی پرانی مشکل آئی۔ آپؑ کو اپنے زمانے کے طاقتور ترین بادشاہ سے گفتگو کرنا تھی۔ زبان کی گرہ سے پیدا ہونے والے اندیشے نے آپؑ کے دل کو مضطرب کردیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آسمان کی طرف رخ کیا اور بھاری زبان، لیکن ایمان سے لبریز دل کے ساتھ دعا کی:
﴿رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ، وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي ، وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي ، يَفْقَهُوا قَوْلِي﴾
’’اے میرے پروردگار! میرے سینے کو کشادہ فرما، میرے کام کو میرے لیے آسان کردے، اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات اچھی طرح سمجھ سکیں۔‘‘ (سورۂ طٰہٰ، آیات 25–28)
آپؑ نے سورۂ شعراء میں بھی واضح طور پر عرض کیا:
﴿وَيَضِيقُ صَدْرِي وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِي…﴾
’’اور میرا سینہ تنگ ہونے لگتا ہے اور میری زبان روانی سے نہیں چلتی…‘‘ (سورۂ شعراء، آیت 13)
اسی بنا پر آپؑ نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ آپؑ کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام، جو زیادہ فصیح زبان رکھتے تھے، آپؑ کے ساتھ بھیجے جائیں:
﴿وَأَخِي هَارُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْءًا…﴾
’’اور میرا بھائی ہارون زبان کے اعتبار سے مجھ سے زیادہ فصیح ہے، لہٰذا اسے میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج دے…‘‘ (سورۂ قصص، آیت 34)
اللہ تعالیٰ نے کبھی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے یہ نہیں فرمایا کہ تم لکنت کی وجہ سے اس عظیم ذمہ داری کے لائق نہیں ہو۔ بلکہ اللہ نے آپؑ کے ایمان، ارادے اور درخواست کو قبول کرتے ہوئے فرمایا:
﴿قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَا مُوسَىٰ﴾
’’اے موسیٰ! تمہاری درخواست قبول کردی گئی۔‘‘ (سورۂ طٰہٰ، آیت 36)
الفاظ کے محل کے سامنے قیام اور فرعون کا تمسخر
جس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے محل میں داخل ہوئے، وہاں ہر چیز اپنی ظاہری شان و شوکت کی انتہا پر تھی۔ فرعون تکبر کے ساتھ اپنے تخت پر بیٹھا تھا اور دربار کے سخنور اس نوجوان کو حقیر ثابت کرنے کے لیے تیار تھے۔
فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رسالت کو چھوٹا دکھانے کے لیے عین آپؑ کی اسی جسمانی مشکل کو نشانہ بنایا اور تمسخر کے ساتھ کہا:
﴿أَمْ أَنَا خَيْرٌ مِّنْ هَٰذَا الَّذِي هُوَ مَهِينٌ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ﴾
’’کیا میں اس شخص سے بہتر نہیں ہوں جو بے قدر ہے اور اپنی بات بھی واضح طور پر بیان نہیں کرسکتا؟‘‘
(سورۂ زخرف، آیت 52)
لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے باطن کی حقیقت، زبان کی اس ظاہری کمزوری سے کہیں زیادہ عظیم تھی۔ فرعون اپنی زبان کی روانی پر ناز کرتا تھا، لیکن اس کا وجود حقیقت سے خالی تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں گرہ تھی، مگر آپؑ کا دل کشادہ اور وحیِ الٰہی سے متصل تھا۔
آپؑ کے کلام کی طاقت ظاہری فصاحت سے نہیں، بلکہ صداقت، اصالت اور اندرونی شجاعت سے پیدا ہوتی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسی بھاری زبان کے ساتھ ظالم سلطنت کی بنیادیں ہلا دیں۔
نتیجہ: قرآن کا ابدی معیار اور علمی دنیا میں اس کی جھلک
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی داستان ہر اس نوجوان کے لیے ایک جاوداں پیغام ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ کوئی جسمانی کمزوری اسے ترقی اور کامیابی کے راستے سے پیچھے رکھ سکتی ہے۔
قرآنِ کریم انسان کی قدر و قیمت کے ظاہری، نسلی اور جسمانی معیاروں کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔ انسان کی حقیقی عظمت اس کے جسم کے قالب میں نہیں، بلکہ تقویٰ، کوشش، پاکیزگیِ روح اور قوتِ ارادی میں ہے۔
یہ اصول سورۂ حجرات کی آیت 13 میں بیان ہوا ہے:
﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾
’’بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔‘‘
مغرب اور اسلامی تہذیب، دونوں کی علمی تاریخ ایسی باصلاحیت شخصیات سے بھری پڑی ہے جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مانند اپنی جسمانی کمزوریوں کو اپنے عزم و ارادے پر غالب ہونے نہیں دیا:
- اسٹیفن ہاکنگ: عظیم طبیعیات دان، جو اے ایل ایس کے مرض میں مبتلا تھے۔ جسمانی طور پر شدید محدودیت کے باوجود انہوں نے فلکیات کے بارے میں عظیم نظریات پیش کئے۔
- تھامس ایڈیسن: سماعت سے محروم موجد، جس نے دنیا کو روشن کیا اور اپنی اس کم سنائی دینے والی کمزوری کو ہی اپنی توجہ اور ارتکاز کا ذریعہ قرار دیا۔
- شریف مرتضیٰ علم الہدیٰ: نابینا مفکر، جنہوں نے ایک عظیم کتب خانہ چلایا اور بڑی علمی تصانیف حافظے سے املا کروائیں۔
- آیت اللہ شرف الدین: کم بینا عالم، جنہوں نے شدید جسمانی کمزوری کے باوجود علمِ کلام کے اہم شاہکار املا کروائے۔
- زمخشری: لکڑی کی ٹانگ رکھنے والے عظیم ادیب، جنہوں نے ہزاروں کلومیٹر کا سفر کیا اور مشہور تفسیر الکشّاف تحریر کی۔
آخری بات
جسمانی نقص کبھی بھی انسانی ترقی کی حتمی رکاوٹ نہیں بنتا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک پوری امت کو نجات دلانے کی ذمہ داری ایسے شخص کو عطا کی جس کی زبان میں لکنت تھی، تاکہ یہ ثابت ہوجائے کہ انسانوں کی قدر و منزلت ان کے اعضا کے بے عیب ہونے سے نہیں، بلکہ ان کی روح کی وسعت اور ان کے ایمان و ارادے کی استقامت سے متعین ہوتی ہے۔
یہ عظیم دانشور بھی اسی حقیقت کے مظہر ہیں:
’’اگر ظاہری آنکھ بند ہو تو دل اور عقل کی آنکھ کھلی رہ سکتی ہے۔‘‘
اور:
’’کمزور قدم بھی علم کی راہ میں بہت بلند منزلیں طے کرسکتے ہیں۔‘‘
قرآنی آیات کے مآخذ
- زبان کی گرہ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا: سورۂ طٰہٰ، آیات 25 تا 28
- تنگیِ سینہ اور حضرت ہارون علیہ السلام کی رفاقت کی درخواست: سورۂ شعراء، آیات 12 اور 13
- حضرت ہارون علیہ السلام کی زیادہ فصاحت کا بیان: سورۂ قصص، آیت 34
- حضرت موسیٰ علیہ السلام کی درخواست پر اللہ تعالیٰ کا مثبت جواب: سورۂ طٰہٰ، آیت 36
- فرعون کی جانب سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان کا تمسخر: سورۂ زخرف، آیت 52
- انسان کی قدر وعظمت کا بنیادی معیار: سورۂ حجرات، آیت 13
روائی اور تفسیری مآخذ
بچپن میں دہکتے ہوئے انگارے کا واقعہ
- تفسیر قمی: علی بن ابراہیم قمی، قدیم شیعہ علماء میں سے، سورۂ طٰہٰ کی متعلقہ آیات کے ذیل میں۔
- مجمع البیان فی تفسیر القرآن: علامہ طبرسی، جلد 7، سورۂ طٰہٰ کی متعلقہ آیات کے ذیل میں۔
- تفسیر نمونہ: آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی، جلد 13، سورۂ طٰہٰ کی آیات کے ذیل میں۔
- بحار الانوار: علامہ مجلسی، جلد 13، ابوابِ قصص الانبیاء، بابِ قصۂ موسیٰ علیہ السلام۔
علمی شخصیات سے متعلق مآخذ
- My Brief History: اسٹیفن ہاکنگ کی خودنوشت، Bantam Books۔
- Travelling to Infinity: My Life with Stephen: جین ہاکنگ، 2007۔
- Edison: A Life of Invention: پال اسرائیل، John Wiley، 1998۔
- Edison: ایڈمنڈ مورس، 2019۔
- الرجال، المعروف رجالِ شیخ طوسی: شیخ طوسی، جو شریف مرتضیٰ کے ممتاز شاگردوں میں سے تھے۔
- سِیَر أعلام النبلاء: شمس الدین ذہبی، جلد 17۔
- روضات الجنات فی أحوال العلماء والسادات۔
- حیات آیۃ اللہ شرف الدین / شرف الدین: استاد محمد رضا حکیمی۔
- المراجعات اور النص والاجتہاد کے مقدمات۔
- وفیات الأعیان: ابن خلکان، جلد 4۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

