فقہ اسلامی کا تعارف – جلد 03 شمارہ 29
نظامِ مرجعیت اور نظریۂ ولایتِ فقیہ
مرجعیت کے ادارے کا فلسفۂ وجود
شیعہ عقائد اور فقہِ سیاسی کی رو سے انسانی معاشرہ کبھی بھی دینی رہنمائی اور سماجی نظم و نسق کے معاملے میں اپنے حال پر نہیں چھوڑا گیا۔ بارہویں امام، حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبتِ کبریٰ کے آغاز کے بعد، مرجعیت کا ادارہ معصومؑ کی عمومی نیابت اور ہدایت کے تسلسل کے طور پر وجود میں آیا تاکہ ہر دور میں پیدا ہونے والے نئے مسائل اور بدلتے ہوئے حالات، جیسے قانونی، طبی، معاشی اور دیگر سماجی شعبوں میں، اسلامی رہنمائی فراہم کر سکے۔
اس ادارے کی نظریاتی بنیادیں دو اہم اصولوں پر قائم ہیں:
الف) عقلی بنیاد
عقل کا مسلمہ اصول "جاہل کا عالم کی طرف رجوع کرنا" اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ جو افراد دینی علوم میں مہارت نہیں رکھتے، وہ اپنے شرعی فرائض کو سمجھنے کے لیے اسلامی علوم کے ماہرین سے رجوع کریں۔
ب) روائی بنیاد
امام عصر علیہ السلام کا مشہور توقیعِ شریف مرجعیت کی روائی بنیاد کو واضح کرتا ہے:
«وَأَمَّا الْحَوَادِثُ الْوَاقِعَةُ فَارْجِعُوا فِيهَا إِلَى رُوَاةِ أَحَادِيثِنَا، فَإِنَّهُمْ حُجَّتِي عَلَيْكُمْ وَأَنَا حُجَّةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ.»
"اور جہاں تک نئے پیش آنے والے معاملات کا تعلق ہے، ان میں ہمارے احادیث کے راویوں کی طرف رجوع کرو، کیونکہ وہ تم پر میری حجت ہیں اور میں ان پر اللہ کی حجت ہوں۔"
یہ روایت غیبت کے دور میں فقہاء کو دینی احکام کی تشخیص اور ان کی توضیح کا مرجع قرار دیتی ہے۔
مرجعیت کے ادارے کی ساخت اور اس کے فرائض
مکلف اور مرجعِ تقلید کے درمیان تعلق صرف ایک علمی یا قانونی تعلق نہیں، بلکہ ایک روحانی اور تربیتی رشتہ ہے، جس کا مقصد مؤمن کی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق منظم کرنا ہے۔
اس تعلق کے دو بنیادی فقہی آثار ہیں:
1۔ مُعَذِّریّت: اگر کوئی مکلف اپنے مرجع کے فتویٰ پر عمل کرے، تو اگرچہ بعد میں وہ فتویٰ واقع کے خلاف ثابت ہو جائے، پھر بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حضور معذور شمار ہوگا۔(یعنی وہ بر الذمہ قرار پائے گا )
2۔ مُنَجِّزیّت: اگر فتویٰ حقیقتِ شرعی کے مطابق ہو، تو اس پر عمل کرنا مکلف کے لئے قطعی شرعی ذمہ داری بن جاتا ہے۔
تاریخِ تشیع میں مرجعیت کا ادارہ ہمیشہ حکومتوں سے آزاد رہا ہے۔ اس آزادی کو خمس اور دیگر شرعی وجوہات جیسے فقہی و مالی نظام نے محفوظ رکھا، جن کی تفصیلی وضاحت بزرگ فقہاء، خصوصاً شیخ مرتضیٰ انصاریؒ نے اپنی فقہی تصانیف میں کی ہے۔
نظریۂ ولایتِ فقیہ اور مرجعیت سے اس کا امتیاز
ولایتِ فقیہ فقہ اور علمِ کلام کا وہ نظریہ ہے جو غیبتِ امامؑ کے زمانے میں اسلامی معاشرے کے نظم و نسق کی وضاحت کرتا ہے۔
اس نظریے کی دو بنیادی تعبیرات پیش کی گئی ہیں:
1۔ ولایت در امورِ حسبیہ (محدود نظریہ)
اس تعبیر کے مطابق فقیہ کے اختیارات صرف ان ضروری امور تک محدود ہیں جنہیں معطل نہیں کیا جا سکتا، مثلاً:
- نابالغوں اور محجور افراد کی سرپرستی
- اوقاف کی نگرانی
- بعض عمومی اجتماعی مصالح
2۔ ولایتِ عامہ یا ولایتِ مطلقہ (وسیع نظریہ)
اس نظریے کے مطابق عادل، جامع الشرائط اور مدبر فقیہ کو اسلامی معاشرے کے نظم و نسق میں وہ حکومتی اختیارات حاصل ہوتے ہیں جو امامِ معصومؑ کو حاصل ہوتے ہیں۔
البتہ یہاں "مطلقہ" سے مراد غیر محدود یا آمرانہ اقتدار نہیں، بلکہ عوامی مصلحت کے دائرے میں وسیع اختیارات ہیں۔
مرجعیت اور ولایتِ فقیہ کا بنیادی فرق
| مرجعِ تقلید (افتاء کا منصب) | ولیِّ فقیہ (حکومت کا منصب) |
| شرعی احکام کی توضیح اور فتویٰ دینا | اسلامی معاشرے کا نظم و نسق چلانا |
| متعدد مراجع ہو سکتے ہیں | ایک وقت میں صرف ایک ہوسکتاہے |
| فتویٰ صرف اپنے مقلدین کے لئے حجت ہے | حکومتی حکم پورے معاشرے پر نافذ ہوتا ہے |
مرجعیت اور ولایتِ فقیہ کو استبدادی تھیوکریسی ہونے کا شبہ اور اس کا جواب
قرونِ وسطیٰ کی کلیسائی حکومت کے برعکس، شیعہ مرجعیت اور ولایتِ فقیہ کا نظام اپنی بنیاد ہی میں استبداد کے خلاف ہے۔
اس کی چند بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
1۔ علمی تنقید کی گنجائش اور عدمِ عصمت
فقیہ کا فتویٰ معصوم نہیں ہوتا اور اس میں خطا کا امکان موجود رہتا ہے۔
اسی لیے شیعہ علمی مراکز ہمیشہ آزاد علمی بحث، استدلال اور تنقید کے مراکز رہے ہیں۔
2۔ اخلاقی انحراف کی صورت میں خود بخود مشروعیت کا خاتمہ
اگر کوئی فقیہ ظلم، فسق یا نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے لگے تو وہ عدالت کی شرط کھو دیتا ہے۔
اس صورت میں کسی رسمی معزولی کے بغیر ہی اس کی شرعی مشروعیت ختم ہو جاتی ہے۔
3۔ حکومت سے مالی استقلال
مرجعیت کا مالی انحصار عوام کی رضاکارانہ شرعی ادائیگیوں، جیسے خمس اور دیگر وجوہات، پر ہوتا ہے۔
یہ نظام دینی ادارے کو حکومت کے بجائے عوام سے وابستہ رکھتا ہے اور اقتدار کے ارتکاز کو محدود کرتا ہے۔
الٰہی مشروعیت اور عوامی مقبولیت کا باہمی تعلق
شیعہ فقہِ سیاسی میں فقیہ کی شرعی صلاحیت اور عوامی قبولیت دونوں کو اہمیت دی گئی ہے۔
الف) حکومت مسلط کرنے کا اختیار نہیں
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی سیرت، خصوصاً خطبۂ شقشقیہ، سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کا قیام عوام کی بیعت اور حمایت سے وابستہ ہے۔
لہٰذا کوئی فقیہ ایسی قوم پر حکومت مسلط نہیں کر سکتا جو اسے قبول کرنے پر آمادہ نہ ہو۔
ب) عوام کی ذمہ داری ساقط نہیں ہوتی
اگر ایک جامع الشرائط فقیہ موجود ہو تو عوام پر اس کی مدد اور حمایت کی اخلاقی اور دینی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
اسی حقیقت کو حدیث میں یوں بیان کیا گیا ہے:
«مَثَلُ الْإِمَامِ مَثَلُ الْكَعْبَةِ، إِذْ تُؤْتَى وَلَا تَأْتِي.»
"امام کی مثال کعبہ کی مانند ہے؛ لوگ کعبہ کی طرف جاتے ہیں، کعبہ لوگوں کی طرف نہیں آتا۔"
(بحار الأنوار، ج 36، ص 353)
اسی طرح قرآنِ کریم ارشاد فرماتا ہے:
﴿لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ﴾
"تاکہ لوگ انصاف کو قائم کریں۔"
(سورۂ حدید، آیت 25)
یہ آیت بھی معاشرے میں عدل کے قیام کے لیے عوام کے فعال کردار پر زور دیتی ہے۔
خلاصہ
شیعہ نظامِ مرجعیت اور ولایتِ فقیہ ایک متحرک، عقل پر مبنی اور سخت اخلاقی اصولوں کا پابند نظام ہے۔
اس کی نمایاں خصوصیات یہ ہیں:
- حکمران کے اختیارات کو اخلاقی شرائط کے ذریعے محدود کرتا ہے۔
- علمی تنقید اور اجتہادی بحث کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھتا ہے۔
- حکومت کے عملی قیام کو عوامی قبولیت اور رضامندی سے مشروط قرار دیتا ہے۔
اسی بنا پر یہ نظام استبدادی مذہبی حکومتوں سے واضح طور پر ممتاز ہے۔
ساتھ ہی یہ عوام کو بھی عدل و انصاف کے قیام میں شریک اور ذمہ دار قرار دیتا ہے، اور یوں حاکم اور معاشرے کے درمیان باہمی تعاون، جواب دہی اور مشترکہ ذمہ داری کا ایک متوازن نمونہ پیش کرتا ہے۔
اختتامی نوٹ
مرجعیت اور ولایتِ فقیہ سے متعلق مباحث نہایت وسیع اور تخصصی نوعیت کے حامل ہیں۔
یہ تحریر صرف ابتدائی تعارف اور اجمالی خاکہ پیش کرتی ہے۔
اس موضوع کی گہری اور جامع سمجھ حاصل کرنے کے لیے فقہ، اصولِ فقہ اور علمِ کلام کی مستند کتابوں کا مطالعہ ناگزیر ہے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

