اداریہ – جلد 03 شمارہ 35

Editorial - volume 03 Issue 35
Last Updated: اگست 27, 2026By Categories: اداریہ0 Comments on اداریہ – جلد 03 شمارہ 350 min readViews: 8

جب کیلنڈر قطب نما بن جائے

تمہید

کیلنڈر (تقویم )محض گزرتے ہوئے دنوں کا اندراج نہیں ہے۔ ایک مؤمن انسان کے لیے کیلنڈر ایک قطب نما بن سکتی ہے؛ ایسا قطب نما جو یادوں کو ذمہ داری سے، علم کو خدمت سے، عبادت کو اخلاقی کردار سے، اور تاریخ کے اسباق کو آج کے اخلاقی فیصلوں سے جوڑ دے۔

آنے والا ہفتہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم طب و علم، رحمتِ نبوی اور اخلاقی کردار، روحانی قیادت، استبداد کے خطرات، معاشرے کی تعمیر، جرأت مندانہ خدمت اور معاشی زندگی میں عدل و انصاف جیسے موضوعات پر غور کریں۔

27 اگست: محمد بن زکریا رازی کی یاد؛ قومی یومِ دواسازی

محمد بن زکریا رازی اسلامی سنہری دور کے بااثر ترین طبیبوں اور سائنس دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ نویں صدی عیسوی میں شہرِ رے میں پیدا ہوئے اور طب، علمِ ادویات اور طبی مشاہدات کے میدان میں اہم خدمات انجام دیں۔ ان کی تصانیف نے صدیوں تک اسلامی دنیا اور یورپ میں طبی تعلیم پر گہرا اثر ڈالا۔

آج کے اس دور میں، جب طب اور سائنس تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، اسلام انسان کو ایسے مفید علم کے حصول کی ترغیب دیتا ہے جو انسانوں کی جان اور صحت کی حفاظت کا ذریعہ بنے۔ سائنسی علم کی حقیقی قدر اُس وقت بڑھ جاتی ہے جب وہ انسانیت کی خدمت اور انسانی صحت کے تحفظ کے لیے استعمال ہو۔

آج کا پیغام:

علم حاصل کریں، انسانی جان اور زندگی کی حفاظت کریں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ضمیر، شفقت اور دینداری بھی موجود ہو۔

17 ربیع الاول: ولادتِ رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ اور امام جعفر صادقؑ؛ یومِ اخلاق و شفقت

تاریخی روایت کے مطابق 17 ربیع الاول رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ، اللہ کے آخری رسول، کی ولادت کا دن ہے؛ وہ عظیم پیغمبر جن کی رسالت نے انسان کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔

اسی دن ہمارےچھٹے امام،  امام جعفر صادقؑ، کی ولادت بھی منائی جاتی ہے۔ آپ ایک عظیم عالم اور معلم تھے اور آپ کی علمی و فکری میراث نے اسلامی اور انسانی علوم و معارف پر گہرا اثر ڈالا۔

قرآنِ کریم رسولِ اکرم ﷺ کی رسالت کو سراپا رحمت قرار دیتا ہے:

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ

’’اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے سراپا رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘
(قرآن، 21:107)

اسی طرح امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے:

كُونُوا دُعَاةً لِلنَّاسِ بِغَيْرِ أَلْسِنَتِكُمْ

’’لوگوں کو اپنی زبانوں کے بغیر [اپنے کردار اور عمل سے] دعوت دو۔‘‘

یعنی مؤمن کا طرزِ عمل اور کردار خود ایمان اور حق کی طرف دعوت بن جانا چاہیے۔

ایک ایسے دور میں جب معاشرے میں تقسیم، دشمنی اور اخلاقی الجھنیں بڑھ رہی ہیں، رسولِ اکرم ﷺ کی رحمت اور امام صادقؑ کی جانب سے حسنِ کردار پر تاکید ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اسلام صرف ہماری گفتگو ہی میں نہیں بلکہ ہمارے کردار اور عمل میں بھی نمایاں ہونا چاہیے۔

آج کا پیغام:

اپنے کردار کو رحمت، صداقت، کرامت اور انسانیت سے محبت کا زندہ نمونہ بنائیں۔

13 ربیع الاول: آیت اللہ العظمیٰ سید رضا بہاء الدینی کی رحلت

آیت اللہ العظمیٰ سید رضا بہاء الدینی عصرِ حاضر کے ممتاز شیعہ علماء اور روحانی اساتذہ میں شمار ہوتے تھے۔ آپ اپنی گہری روحانیت، اخلاقی نظم و ضبط اور دینی علم کے ساتھ ساتھ خودسازی اور تزکیۂ نفس پر خصوصی تاکید کے باعث نہایت محترم مقام رکھتے تھے۔

آپ کی زندگی اسلامی علمی روایت کے ایک اہم اصول کی عکاسی کرتی ہے: علم کو تقویٰ اور خدا آگاہی کے ساتھ جوڑنا۔ اس نقطۂ نظر میں علم حاصل کرنا صرف معلومات جمع کرنا نہیں، بلکہ انسان کی روحانی پاکیزگی اور کمال کا ذریعہ بھی ہے۔

قرآنِ کریم فرماتا ہے:

إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ

’’اللہ کے بندوں میں سے حقیقتاً اس سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔‘‘
(قرآن، 35:28)

آج کا پیغام:

صرف علم حاصل کرنے پر اکتفا نہ کریں؛ کوشش کریں کہ علم کے ذریعے زیادہ صاحبِ بصیرت، زیادہ متواضع اور اللہ کے زیادہ قریب ہو جائیں۔

14 ربیع الاول: یزید بن معاویہ کی ہلاکت، 64 ہجری

یزید بن معاویہ بن ابوسفیان (26–64 ہجری) اموی حکومت کا دوسرا حکمران تھا۔ اس کے دورِ حکومت میں امام حسینؑ اور آپ کے اصحاب کو کربلا میں ان افواج کے ہاتھوں شہید کیا گیا جو اس کی حکومت کے ماتحت کام کر رہی تھیں۔

اپنے والد معاویہ کی وفات کے بعد یزید نے تقریباً تین سال اور آٹھ ماہ حکومت کی۔ اس مختصر دورِ حکومت میں تین بڑے المناک واقعات پیش آئے:

61 ہجری میں سانحۂ کربلا پیش آیا۔
63 ہجری میں اس کی افواج نے مدینہ پر حملہ کیا، جس میں ہزاروں افراد، جن میں رسولِ اکرم ﷺ کے بعض اصحاب اور حفاظِ قرآن بھی شامل تھے، قتل ہوئے۔ یہ واقعہ تاریخ میں واقعۂ حرّہ کے نام سے مشہور ہے۔

64 ہجری میں اس کی افواج نے مخالفین کو کچلنے کے لیے مکہ پر حملہ کیا اور محاصرے کے دوران خانۂ کعبہ کو آگ اور جنگی آلات سے نشانہ بنایا۔

تاریخی روایات میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ یزید کھلے عام شراب نوشی کرتا تھا اور ایسے اعمال انجام دیتا تھا جو اسلامی تعلیمات کے خلاف تھے۔ اسی وجہ سے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد، خصوصاً شیعہ مسلمانوں کے نزدیک، یزید ایک نہایت مذموم اور قابلِ نفرت شخصیت کی حیثیت رکھتا ہے۔

آج کا پیغام:

اپنے زمانے کے یزیدوں کو پہچانیں اور ان سے اپنی براءت اور لاتعلقی کا اظہار کریں۔

15 ربیع الاول: رسولِ اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کے ہاتھوں مسجدِ قبا کی تعمیر، پہلی ہجری

ہجرت کے بعد رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب نے مدینہ کے قریب مسجدِ قبا تعمیر کی۔ یہ مسجد اُس مسجد کے طور پر پہچانی جاتی ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی۔ یہ ایک نئے اسلامی معاشرے کے آغاز کی علامت بھی تھی؛ ایسا معاشرہ جو عبادت، باہمی اتحاد اور مشترکہ ذمہ داری پر قائم تھا۔

قرآنِ کریم اُس مسجد کی تعریف کرتا ہے جو خدا ترسی اور تقویٰ کی بنیاد پر قائم کی گئی ہو:

لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ

’’یقیناً وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقویٰ پر رکھی گئی، زیادہ حق رکھتی ہے کہ آپ اس میں قیام کریں۔‘‘
(قرآن، 9:108)

آج کا پیغام:

اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو مسجد سے مانوس کریں اور مسجد کو اپنی زندگی کا مستقل ساتھی بنائیں۔

15 ربیع الاول: حضرت حمزہ بن عبدالمطلبؑ کو ایک اہم منصب پر فائز کیا گیا ۔

حضرت حمزہ بن عبدالمطلب، رسولِ اکرم ﷺ کے محبوب چچا، نے ہجرت کے بعد نو تشکیل شدہ مسلم معاشرے کی ابتدائی دفاعی مہمات میں سے ایک کی قیادت کی۔

یہ مشن اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ ابتدائی مسلم معاشرہ، جو اس وقت سنگین بیرونی خطرات کا سامنا کر رہا تھا، بیداری، تنظیم اور دفاع کا محتاج تھا۔

بعد کے ادوار میں حضرت حمزہؑ اپنی شجاعت، ثابت قدمی اور قربانی کے سبب مشہور ہوئے اور اسلامی تاریخ و حافظے میں ایثار اور فداکاری کی ایک دائمی علامت بن گئے۔

آج کا پیغام:

حق کے دفاع میں بہادر بنیں، لیکن کبھی بھی طاقت، غصے یا تصادم کو عدل و انصاف سے دور  ہونے کا سبب بننے نہ دیں۔

1 ستمبر: ایران میں اسلامی بینکاری کا دن

اسلامی بینکاری کا تصور اس کوشش سے پیدا ہوا کہ مالی سرگرمیوں کو اسلامی اخلاقی اصولوں کے مطابق منظم کیا جائے؛ خصوصاً سود کی حرمت، جائز تجارت، مشترکہ ذمہ داری اور معاشی انصاف کے اصولوں کو ملحوظ رکھا جائے۔

جدید دور میں اسلامی مالیات نے مختلف طریقے اور مالی ڈھانچے تشکیل دیے ہیں جن کا مقصد مالی سرگرمیوں کو حقیقی اقتصادی معاملات اور اخلاقی جواب دہی سے زیادہ قریب کرنا ہے۔

قرآنِ کریم جائز تجارت اور سودی استحصال کے درمیان واضح فرق بیان کرتا ہے:

وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا

’’اور اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔‘‘
(قرآن، 2:275)

آج کا پیغام:

دولت کو ایک امانت سمجھیں، اپنے مالی معاملات دیانت داری کے ساتھ انجام دیں، اور معاشرے کی خوش حالی اور ترقی کے لیے کوشش کریں، مگر دوسروں کا استحصال کیے بغیر۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔