اداریہ – جلد 03 شمارہ 09
عدل کی جڑیں، ایمان کی رہنمائی: آنے والے ہفتے کا جائزہ
مقدمہ
محترم علمائے کرام، دانشور حضرات اور اساتذۂ کرام! آنے والا ہفتہ ہمیں یہ سنہرا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی مقدس تاریخ کو عالمی اخلاقی چیلنجوں کے ساتھ جوڑ سکیں، اور عدل و انصاف کی عالمی پکار کےپیش نظر، اپنے مخاطبین کو “اُمّ المؤمنین” کی بے مثال قربانی پر غور کرنے کی دعوت دے سکیں تاکہ ہر کوئی مشکلات میں بھی ایک اصولی زندگی اختیار کرسکے۔
10/رمضان: حضرت خدیجہ بنت خویلدؑ کا یومِ وفات:
حضرت خدیجہؑ، رسولِ اسلام ﷺ کی زوجۂ محترمہ، اسلام قبول کرنے والی اولین ہستیوں میں سے تھیں اور نوپیدا الٰہی مشن کی سب سے بڑی پشت پناہ سمجھی جاتی تھیں۔ ان کی وفات حضرت ابوطالبؑ کی وفات کے ساتھ “عامُ الحُزن” (غم کا سال) کا سبب بنی، کیونکہ وہ رسولِ خدا ﷺ کے لئے معنوی اور مالی دونوں اعتبار سے سب سے بڑی مددگار تھیں۔
آج کے زمانے میں جب خواتین کے سماجی ارتقاء اور قیادت میں کردار پرگفتگو ہوتی ہے، توحضرت خدیجہؑ کا نام ایک مکمل نمونہ بن کر ابھرتا ہے: اس لئے کہ وہ ایک باشعور، صاحبِ تدبیر اور کامیاب تاجر خاتون رہی ہیں، جنہوں نے اپنی دولت کو سماجی انصاف کے لئے وقف کر دیا تھا۔ اسلام ان کی قربانی کو محض ایک ذاتی عمل کے طور پر نہیں بلکہ دین کی بقا کے ستون کے طور پر دیکھتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ اس بات کی یوں تائید فرماتا ہے:
"وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَى”
"اور (خدا نے) جب تمہیں محتاج پایا، پھر بے نیاز کر دیا۔” (سورۂ ضحیٰ، آیت ۸)
بعض بزرگ مفسرین مثلاً آیت اللہ مکارم شیرازی کے مطابق، رسولِ اکرم ﷺ کے لئے یہ “بے نیازی” حضرت خدیجہؑ کی وفاداری اور آپکی عطاکردہ دولت کے ذریعے فراہم ہوئی۔
آج کا پیغام: آج کے مسلمان حضرت خدیجہؑ کی میراث کو اس طرح زندہ کریں کہ خواتین کو فعال طور پر بااختیار بنائیں، علمی و قیادی کرداروں میں ان کی حمایت کریں، اور انہیں اپنی معاشرت کا مضبوط ستون بنائیں۔
1/مارچ: “زیرو ڈسکرمنیشن” (امتیازی سلوک کے خاتمے) کا دن:
یہ دن اقوامِ متحدہ نے مقرر کیا ہے تاکہ رکن ممالک میں قانون کے سامنے برابری کو فروغ دیا جائے، اور نسلی ، جنسی، قومی تعصبات کی بنیاد پر امتیاز ی سلوک سے جڑی منظم ناانصافیوں کو اجاگر کیا جائے، جو انسان کو باعزت اور مکمل زندگی سے محروم کرتی ہیں۔
یہ موقع ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اسلام نے ۱۴۰۰ سال پہلےہی قبیلہ پرستی اور نسل پرستی کے خاتمے میں پیش قدمی کی۔ اورہر طرح نا عادلانہ امتیاز ی سلوک کو دل کی بیماری بتایا۔ جو حقیقت میں عقیدۂ توحید کے خلاف ہے ۔ چنانچہ قرآن واضح طور پرفرماتا ہے:
"يَا أَيُّهَا النَّاسُ Cنے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں بانٹ دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔” (سورۂ حجرات، آیت ۱۳)
آج کا پیغام: ہمیں نعروں سے آگے بڑھنا ہوگا اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہماری مساجد اور مراکز واقعی جامع اور سب کے للئے کھلے ہوں؛ کوئی بھی شخص اپنے پس منظر یا حالت کی وجہ سے خود کو دعوتِ الٰہی سننے کے حق سے محروم محسوس نہ کرے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

