تبلیغی تجربے – جلد 03 شمارہ 21
عالمِ غربت میں غیبی رزق
یہ میری یورپ ہجرت کے ابتدائی دنوں کی بات ہے؛ وہ زمانہ جب زندگی کا پہیہ بڑی مشکل سے چل رہا تھا اورسر پر معاشی دباؤ كا سایہ ہر لمحے منڈلا رہا تھا۔ میں اپنے رشتہ داروں کے گھر رہتا تھا، لیکن تنگدستی کے باوجود خودداری اس بات کی اجازت نہیں دیتی تھی کہ کسی سے مالی مدد مانگوں۔ میں نے اپنی تمام تر کوشش روزگار کی تلاش میں لگا رکھی تھی؛ مگر دعائے کمیل میں شریک میرے دوستوں کے لیے یہ بات ناقابلِ یقین تھی کہ ایک عالمِ دین بھی ایسے مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ شاید ہم کسی خاص اور پوشیدہ مالی وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ایک خزاں کے دن، میں مختلف اداروں میں اپنی سی وی جمع کرانے کے لیے شہر کے مرکز کی طرف نکلا۔ اس دن حالات اس قدر سخت تھے کہ میری جیب میں ایک یورو بھی نہ تھا۔ اسی دوران میرے اپنے وطن کے ایک دوست نے انتہائی پریشانی کے عالم میں فون کیا اور اصرار کیا کہ آج ہی مجھ سے ملاقات کرے؛ گویا اس کی زندگی کا کوئی مسئلہ ایسا تھا جو صرف بالمشافہ ملاقات سے ہی حل ہو سکتا تھا۔
دوپہر کے وقت، جب میں سی وی تقسیم کر کے فارغ ہوا اور اپنے دوست سے ملنے جا رہا تھا، تو ایک منظر نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ ایک بوڑھا شخص اپنے اپارٹمنٹ کے سامنے پرانا سامان فٹ پاتھ کے کنارے رکھ رہا تھا تاکہ اگر راہگیر کسی چیز کے محتاج ہوں تو اٹھا لیں، ورنہ بعد میں انہیں کچرے کے مقام پر منتقل کر دیا جائے۔
ان اشیاء کے درمیان کتابوں کی ایک قطار ایسی تھی جس نے مجھے مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچ لیا۔ وہیں ایک چھوٹا سا اسٹول پڑا تھا؛ میں اس پر بیٹھ گیا اور کتابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔ گھر کے مالک نے میری دلچسپی دیکھی تو مسکرا کر بولا:
"اگر تم چاہو تو یہ سب تمہارا ہے!”
ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے کہ ایک راہگیر وہاں رکا۔ اسے گمان ہوا کہ میں کتابیں فروخت کر رہا ہوں، اس لیے اس نے ایک نفیس کئی جلدوں پر مشتمل ناول کی قیمت پوچھی۔ حالانکہ کتابیں میری نہیں تھیں، مگر میں نے اچانک کہہ دیا:
"آپ کتنی قیمت دے سکتے ہیں؟”
کچھ دیر گفتگو اور سودے بازی کے بعد اس نے اس ناول کے عوض 80 یورو ادا کر دیے۔
جب بوڑھا شخص دوبارہ نیچے آیا اور مزید سامان لایا تو میں نے سارا واقعہ اسے بتایا اور رقم اس کی طرف بڑھائی۔ مگر وہ زور سے ہنسا اور بولا:
"میں یہ سب تمہیں دے چکا تھا، اس لیے یہ رقم بھی تمہاری ہے!”
میں نے بہت اصرار کیا مگر اس نے لینے سے انکار کر دیا۔ آخرکار میں ان 80 یوروز کے ساتھ، جو گویا کسی معجزے کی طرح میرے ہاتھوں میں آ گرے تھے، اپنے دوست سے ملنے روانہ ہوا۔
جب میں اپنے دوست سے ملا تو اس کے چہرے پر پریشانی واضح تھی۔ معلوم ہوا کہ اس نے گزارہ کرنے کے لیے ایک دوسرے طالبِ علم سے 40 یورو قرض لیے تھے، اور اب واپسی کا وقت آ چکا تھا جبکہ اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ اسی وجہ سے ان دونوں کے تعلقات میں تلخی پیدا ہو گئی تھی۔
میں نے فوراً وہ 80 یورو اس کے سامنے رکھ دیے۔ وہ حیرت زدہ رہ گیا اور صرف اپنے ضرورت کے مطابق 40 یورو اٹھائے۔ میں نے جتنا بھی اصرار کیا کہ باقی رقم بھی رکھ لے، اس نے قبول نہ کی۔
اس دن میں نے ایک عظیم سبق سیکھا:
اللہ تعالیٰ کبھی اُس بندے کو، جو اُس پر بھروسہ کرتا ہے، اُس شخص کے سامنے شرمندہ نہیں ہونے دیتا جس سے وہ مدد کی امید رکھتا ہو۔ میرا رزق فٹ پاتھ کے کنارے پڑی کتابوں کے ذریعے آیا تاکہ میں دو مؤمن بھائیوں کی عزتِ نفس بچانے کا ذریعہ بن سکوں۔
اس رات، باقی بچ جانے والے 40 یوروز سے میں اپنی اہلیہ اور چھوٹے بچے کو آئس کریم کھلانے لے گیا۔ اُس آئس کریم کا ذائقہ میری زندگی کا سب سے لذیذ ذائقہ تھا؛ کیونکہ اُس میں توکل اور برکت کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔
اس تجربے کے چند اسباق
- تنگی اور مشکلات میں اللہ پر توکل انسان کو سکون عطا کرتا ہے اور بعض اوقات زندگی میں ایسے دروازے کھول دیتا ہے جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔
- عزتِ نفس اور خودداری کو سخت حالات میں بھی برقرار رکھنا ایک بڑی انسانی فضیلت ہے، خاص طور پر جب اس کے ساتھ کوشش اور امید بھی شامل ہو۔
- سخاوت اور فیاضی، جیسا کہ اس بوڑھے شخص کے عمل میں نظر آیا، دوسروں کے لیے خیر و برکت کا سبب بن سکتی ہے۔
- چھوٹی چھوٹی نعمتوں پر شکر ادا کرنا اور زندگی کے سادہ لمحوں میں برکت کو محسوس کرنا انسان کی سوچ کو گہرا اور دل کو مزید مطمئن بنا دیتا ہے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

