موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 28

Topic of the Week - Volume 03 Issue 28
Last Updated: جولائی 10, 2026By Categories: موضوعِ ہفتہ0 Comments on موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 280 min readViews: 3

امام زین العابدین علیہ السلام کی سیاسی و عبادی سیرت میں حکیمانہ مقاومت

سید  ہاشم  موسوی

مقدمہ

اگر واقعۂ عاشورا کو "تحریکِ مقاومت" قرار دیا جائے، تو بلاشبہ امام زین العابدین حضرت علی بن الحسین علیہ السلام کو "استمرارِ مقاومت کے معمار" کہنا چاہیے۔

امام حسین علیہ السلام کی تحریک آپ کی شہادت پر ختم نہیں ہوئی، بلکہ اس کا ایک نیا مرحلہ امام سجاد علیہ السلام کی امامت کے ساتھ شروع ہوا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جس میں میدانِ جنگ کربلا کا صحرا نہیں، بلکہ افکارِ عامہ، معاشرتی ثقافت اور امتِ اسلامی کا اجتماعی ضمیر تھا۔

ائمۂ ہدیٰ علیہم السلام کے درمیان امام سجاد علیہ السلام کی شخصیت اور جدوجہد کا جامع تعارف پیش کرنا ایک پیچیدہ علمی موضوع ہے۔ تاریخی مصادر کا گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ کی سیرت کو صحیح طور پر سمجھنے میں ہمیشہ دو بڑی رکاوٹیں موجود رہی ہیں۔

۱۔ واقعۂ عاشورا کے عظیم اثر کے زیرِ سایہ آ جانا

سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی بے مثال، خونچکاں اور تاریخ ساز قربانی اس قدر عظیم تھی کہ ایک طویل عرصے تک اس تحریک کا تسلسل، جو امام سجاد علیہ السلام کی ذات کے ذریعے جاری رہا، لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رہا۔ اسی وجہ سے آپ کی زندگی اور کردار کے بہت سے پہلو اس طرح نمایاں نہ ہو سکے جس کے وہ مستحق تھے۔

۲۔ بنو امیہ کا آہنی جبر اور سماجی انجینئرنگ

واقعۂ کربلا کے بعد اموی خلافت ایک مکمل آمرانہ اور پولیس ریاست میں تبدیل ہو چکی تھی۔ خصوصاً یزید، عبدالملک بن مروان اور ان کے سفاک گورنر حجاج بن یوسف ثقفی کے دور میں امام سجاد علیہ السلام کی سماجی، معاشی اور حتیٰ کہ عبادی سرگرمیوں تک پر سخت نگرانی رکھی جاتی تھی۔

حکومتی جاسوس امام علیہ السلام کے گھر آنے جانے والوں تک کا ریکارڈ رکھتے تھے۔

یہاں تک کہ (اختیار معرفة الرجال) یعنی رجالِ کشی میں نقل ہوا ہے کہ بعض اوقات امام علیہ السلام کے مخلص اور علانیہ پیروکاروں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی۔ خود امام علیہ السلام سے منقول ہے:

«ما بِمَكَّةَ وَالمَدِينَةِ عِشْرُونَ رَجُلًا يُحِبُّنَا

"مکہ اور مدینہ میں بیس ایسے افراد بھی نہیں ہیں جو ہم سے محبت رکھتے ہوں۔"

ان دونوں عوامل کے نتیجے میں ایک طویل عرصے تک امام سجاد علیہ السلام کی جو تصویر معاشرے میں پیش کی جاتی رہی، وہ زیادہ تر گریہ و زاری اور گوشہ نشینی تک محدود رہی۔

لیکن تاریخی حقیقت، جو امام علیہ السلام کے طرزِ عمل کے گہرے تجزیے سے سامنے آتی ہے، اس یک رخی تصور سے بہت مختلف ہے۔

امام علیہ السلام کی غیر معمولی بصیرت، دوراندیشی، حکمت اور اپنے زمانے کے حالات کی دقیق شناخت نے "مقاومت کے ایک منفرد اسلوب" کو جنم دیا۔

یہ ایسا نمونہ تھا جس نے نہ صرف تشیع کو یقینی تباہی سے محفوظ رکھا بلکہ غاصب اموی خلافت کی مذہبی و سیاسی مشروعیت کی بنیادیں بھی ہلا دیں۔

پہلا حصہ: اسیری کے دوران ، ظالموں کے ظلم  کو بے نقاب کرنے کی مہم (دشمن کےنرغے میں رہتے ہوئے جدوجہد)

امام سجاد علیہ السلام کے مقاومتی نمونے کا ایک نہایت درخشاں پہلو یہ تھا کہ آپ نے اسیری جیسے شدید بحران کو دشمن کی رسوائی کے ایک عظیم موقع میں تبدیل کر دیا۔

جب آپ کو ایک جنگی قیدی کی حیثیت سے، اور حکومت کی طرف سے "دین سے پھر جانے والے خارجی" کے جھوٹے الزام کے ساتھ کوفہ اور شام لے جایا جا رہا تھا، اسی وقت سے امام علیہ السلام نے جہادِ تبیین کا آغاز کر دیا۔

۱۔ کوفہ میں عبید اللہ بن زیاد کے سامنے

کوفہ کے دارالامارہ میں عبید اللہ بن زیاد نے خاندانِ رسالت کی تحقیر کے لیے غرور سے کہا:

"الحمد للہ الذی فضحکم وقتلکم"

"تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تمہیں رسوا کیا اور قتل کر دیا۔”

امام سجاد علیہ السلام نے زنجیروں میں جکڑے ہونے کے باوجود علوی عظمت اور استقامت کے ساتھ جواب دیا:

«إنَّما يَفْتَضِحُ الفاسِقُ وَيَكْذِبُ الفاجِرُ وَهُوَ غَيْرُنا

"رسوا تو فاسق ہوتا ہے، اور جھوٹا فاجر ہوتا ہے، اور وہ ہم نہیں بلکہ کوئی اور ہے۔"

یہ مختصر مگر فیصلہ کن جواب ابن زیاد کی نام نہاد دینی حیثیت پر اسی کے محل میں ایک کاری ضرب تھا۔

جب ابن زیاد غصے سے آگ بگولا ہو گیا اور امام علیہ السلام کے قتل کا حکم دیا، تو امام نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو مکتبِ اہلِ بیت کی مزاحمت کا دائمی منشور بن گیا:

«أَبِالْقَتْلِ تُهَدِّدُنِي؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْقَتْلَ لَنَا عَادَةٌ وَكَرَامَتَنَا الشَّهَادَةُ؟»

"کیا تم مجھے قتل کی دھمکی دیتے ہو؟ کیا تم نہیں جانتے کہ قتل ہو جانا ہماری عادت ہے اور شہادت ہماری عزت و کرامت ہے؟"

2۔ خطبۂ شام کا طوفان: خلافت کے سرکاری منبر پر فتح

امام سجاد علیہ السلام کی اس حکیمانہ اور جرات مندانہ مزاحمت کا نقطۂ عروج جامع مسجد دمشق میں ظاہر ہوا۔

یزید نے ایک خطیب کو حکم دیا تھا کہ وہ منبر پر چڑھ کر امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کو برا بھلا کہے اور بنو امیہ کی مدح و ستائش کرے۔

اسی دوران امام سجاد علیہ السلام نے خطیب کی تقریر کے درمیان بلند آواز میں فرمایا:

«وَيْلَكَ أَيُّهَا الْخَاطِبُ! اشْتَرَيْتَ مَرْضَاةَ الْمَخْلُوقِ بِسَخَطِ الْخَالِقِ، فَتَبَوَّأْتَ مَقْعَدَكَ مِنَ النَّارِ

"اے خطیب! تجھ پر افسوس! تو نے مخلوق کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خالق کی ناراضی مول لے لی، لہٰذا تو نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا ہے۔"

اس کے بعد امام علیہ السلام نے یزید سے درخواست کی کہ انہیں بھی منبر پر جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ ایسی باتیں بیان کریں جن میں اللہ کی رضا ہو اور سننے والوں کے لیے اجر و ثواب ہو۔

یزید نے ابتدا میں سخت مخالفت کی اور کہا:

"اگر یہ نوجوان منبر پر چڑھ گیا تو اس وقت تک نیچے نہیں اترے گا جب تک مجھے اور میرے خاندان کو رسوا نہ کر دے۔”

لیکن عوام کے مسلسل اصرار نے یزید کو مجبور کر دیا کہ وہ اجازت دے دے۔

امام سجاد علیہ السلام منبر پر تشریف لے گئے اور ایسا تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جس نے شام کے پورے سیاسی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔

اس خطبے میں آپ نے ایک طرف بنو امیہ کا حقیقی چہرہ بے نقاب کیا اور دوسری طرف خاندانِ رسالت کی حقیقی حیثیت کو واضح فرمایا۔

حقیقی اسلام کا تعارف

امام علیہ السلام نے فرمایا:

«أَنَا ابْنُ مَكَّةَ وَمِنًى، أَنَا ابْنُ زَمْزَمَ وَالصَّفَا، أَنَا ابْنُ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى

"میں مکہ اور منیٰ کا فرزند ہوں۔ میں زمزم اور صفا کا فرزند ہوں۔ میں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرزند ہوں۔"

یہ الفاظ ایسے شہر میں ادا کیے جا رہے تھے جہاں برسوں سے حضرت علی علیہ السلام کی دشمنی لوگوں کے دلوں میں بٹھائی گئی تھی۔

ہر جملہ بنو امیہ کی کئی دہائیوں پر محیط جھوٹی تبلیغات کا ایک پردہ چاک کر رہا تھا۔

شام کے وہ لوگ، جو یہ سمجھتے تھے کہ یہ قیدی چند باغی اور دین سے خارج لوگ ہیں، اچانک جان گئے کہ ان کے سامنے کھڑا شخص رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا براہِ راست نواسہ ہے۔

مظلومیت کو حماسی منطق کے ساتھ پیش کرنا

امام علیہ السلام نے فرمایا:

«أَنَا ابْنُ الْمَقْتُولِ ظُلْماً، أَنَا ابْنُ الْمَجْزُورِ الرَّأْسِ مِنَ الْقَفَا

"میں اس مظلوم مقتول کا فرزند ہوں، میں اس شخصیت کا فرزند ہوں جس کا سر پشتِ گردن سے کاٹا گیا۔"

مورخین لکھتے ہیں کہ اس خطبے کا اثر اس قدر شدید تھا کہ پوری مسجد میں رونے اور آہ و زاری کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔

یزید کو بغاوت کا خوف پیدا ہوا، اس لیے اس نے مؤذن کو حکم دیا کہ فوراً اذان دے تاکہ امام کی گفتگو منقطع ہو جائے۔

لیکن امام سجاد علیہ السلام نے اذان کے جملوں کو بھی یزید کے خلاف حجت بنا دیا۔

جب مؤذن نے کہا:

"أشهد أن محمداً رسول الله"

تو امام علیہ السلام نے یزید کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:

"اے یزید! یہ محمد، جن کا ابھی نام لیا گیا، کیا وہ میرے جد ہیں یا تمہارے؟ اگر تم کہو کہ وہ تمہارے جد ہیں تو جھوٹ بولتے ہو، اور اگر مانتے ہو کہ وہ میرے جد ہیں، تو پھر تم نے ان کے اہلِ بیت کو کیوں قتل کیا؟"

یہ مختصر مگر فیصلہ کن جملے یزید کی حکومت کی پوری مذہبی حیثیت کو چیلنج کرنے کے لیے کافی تھے اور انہوں نے بنو امیہ کو یہ موقع نہ دیا کہ وہ واقعۂ عاشورا کو اپنی مرضی کے مطابق تاریخ میں ثبت کر سکیں۔

اسلامی تاریخ کے بعض محققین کے بقول:

"کربلا کو حسین بن علی علیہما السلام نے برپا کیا، اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور امام سجاد علیہ السلام نے اسے ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔"

دوسرا حصہ: مقاومت کے ایک نئے اسلوب کی تشکیل؛ (عقلانیت اور معنویت کا حسین امتزاج)

مدینہ واپسی کے بعد معاشرتی حالات انتہائی نازک ہو چکے تھے۔

جذباتی اور غیر منظم تحریکیں، جیسے واقعۂ حرہ اور قیامِ توابین، اس بات کی نشاندہی کر رہی تھیں کہ امت فکری انتشار اور شدید اخلاقی زوال کا شکار ہو چکی ہے۔

ایسے حالات میں امام سجاد علیہ السلام نے یہ محسوس کیا کہ براہِ راست مسلح جدوجہد کا نتیجہ شیعوں کے باقی ماندہ وجود کی مکمل تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

لہٰذا آپ نے مقاومت کا ایک نیا اسلوب اختیار کیا، جس کی بنیاد دو ستونوں پر تھی:

  • دعا و مناجات
  • یادِ کربلا کو زندہ رکھنا

۱۔ صحیفۂ سجادیہ: انحطاط کے دور میں دعا کا ہتھیار

عبدالملک بن مروان کا زمانہ مادہ پرستی، سیاسی جبر اور دینی عقائد میں تحریف کا دور تھا۔

بنو امیہ اپنی حکومت کو جائز ثابت کرنے کے لیے عقیدۂ جبر کو فروغ دے رہے تھے تاکہ لوگ یہ سمجھنے لگیں کہ اموی حکومت اللہ کی مشیت ہے۔

امام سجاد علیہ السلام نے دعا اور مناجات کی صورت میں توحید، سیاست، اخلاق اور معاشرت کے گہرے معارف کو اس انداز سے پیش کیا کہ وہ بعد میں (صحیفۂ سجادیہ – زبورِ آلِ محمد) کے نام سے معروف ہوئے۔

امام سجاد علیہ السلام کی سیرت میں دعا صرف روحانی خلوت یا صوفیانہ عبادت نہیں تھی، بلکہ یہ مزاحمت کا ایک ناقابلِ تسخیر مورچہ تھی جسے اموی حکومت نہ سنسر کر سکتی تھی اور نہ ہی اس کا راستہ روک سکتی تھی۔

۲۔ آنسوؤں کی حکمت اور یادِ کربلا کا پرچم

امام علیہ السلام کی حکیمانہ مزاحمت کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ آپ نے جذبات کو شعور کی خدمت میں استعمال کیا۔

آپ نے بیس سال سے زیادہ عرصہ واقعۂ کربلا کو آنسوؤں کے ذریعے زندہ رکھا۔

یہ گریہ محض ذاتی غم کا اظہار نہیں تھا بلکہ ایک زندہ، متحرک اور مؤثر ابلاغی ذریعہ تھا جس کے ذریعے عاشورا کا پیغام نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔

ابنِ شہرآشوب نے مناقب میں نقل کیا ہے کہ جب بھی امام علیہ السلام کے سامنے پانی یا کھانا لایا جاتا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے اور آپ فرماتے:

«كَيْفَ آكُلُ وَقَدْ قُتِلَ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ جَائِعاً؟ كَيْفَ أَشْرَبُ وَقَدْ قُتِلَ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ عَطْشَاناً؟»

"میں کیسے کھانا کھاؤں جبکہ رسولِ خدا کا فرزند بھوکا شہید کیا گیا؟ میں کیسے پانی پیوں جبکہ رسولِ خدا کا فرزند پیاسا شہید کیا گیا؟"

یہ حکیمانہ روش امتِ مسلمہ کے سوئے ہوئے ضمیر کو مسلسل جھنجھوڑتی رہی اور اس نے بنو امیہ کے جرم کو کبھی فراموش یا معمول کا واقعہ بننے نہ دیا۔

امام سجاد علیہ السلام کے ہر آنسو میں دراصل وقت کے خلیفہ کی مشروعیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان پوشیدہ تھا۔

تیسرا حصہ: خطرات کو مواقع میں بدلنے کی حکمتِ عملی

امام سجاد علیہ السلام کی مزاحمت کا سہ جہتی تجزیہ

امام سجاد علیہ السلام نے اپنے منفرد اسلوبِ مقاومت کے ذریعے ان تین بنیادی خطرات کو، جو اسلامِ خالص کی بقا کے لیے سنگین چیلنج بن چکے تھے، تاریخی مواقع میں تبدیل کر دیا۔

۱۔ دین کی تبلیغ پر پابندی کو مخفی تربیتی نظام میں تبدیل کرنا

خطرہ: اموی حکومت نے اہلِ بیت علیہم السلام کے لیے درس و تدریس، حدیث و تفسیر اور علمی مجالس کے تمام راستے تقریباً بند کر دیے تھے، تاکہ معاشرہ دینی جہالت میں مبتلا رہے۔

امام کی حکمتِ عملی: امام سجاد علیہ السلام نے ایک طرف تو گہرے دینی معارف کو دعاؤں اور مناجات کے قالب میں محفوظ کر دیا، اور دوسری طرف ایک نہایت حکیمانہ تربیتی نظام قائم کیا۔

آپ بڑی تعداد میں غلام اور کنیزیں خریدتے تھے، انہیں اپنے گھر میں رکھتے، اخلاق، فقہ، عقائد اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی تربیت دیتے، پھر اللہ کی رضا کے لیے انہیں آزاد کر دیتے۔

یہ آزاد شدہ افراد اسلامی دنیا کے مختلف علاقوں میں پھیل جاتے اور خاموشی کے ساتھ اہلِ بیت علیہم السلام کے افکار و معارف کو لوگوں تک پہنچاتے۔

اس طرح امام نے ایک ایسا پوشیدہ تبلیغی اور تربیتی نیٹ ورک تشکیل دیا جسے حکومت نہ روک سکتی تھی اور نہ اس کی نگرانی کر سکتی تھی۔

۲۔ اہلِ بیت کی شناخت کو مسخ کرنے کی سازش کو دشمن کے مرکز میں حقیقت کے ظہور میں بدل دینا

خطرہ: بنو امیہ نے تقریباً چالیس برس تک شام میں منظم سرکاری پروپیگنڈا کیا تھا۔

لوگوں کے ذہنوں میں حضرت علی علیہ السلام اور آلِ علی کو دین سے خارج، باغی اور حکومت کے دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔

امام کی حکمتِ عملی: امام سجاد علیہ السلام نے خود یزید کے دربار اور اس کے سرکاری منبر کو حق کی تبلیغ کا ذریعہ بنا دیا۔

خطبۂ شام نے یہ ثابت کر دیا کہ حقیقی مقاومت کبھی بند گلی میں نہیں پہنچتی۔

امام علیہ السلام نے اہلِ بیت علیہم السلام کے فضائل، جیسے:

  • علم
  • حلم
  • شجاعت
  • سخاوت

کو نہایت فصاحت کے ساتھ بیان کیا۔

چند ہی لمحوں میں اموی حکومت کی برسوں کی ذہن سازی ٹوٹ گئی اور شام کے لوگوں کے دلوں میں ندامت، بیداری اور حق شناسی کی ایک نئی لہر پیدا ہو گئی۔

۳۔ عاشورا کو ایک تاریخی واقعے سے دائمی تہذیب میں تبدیل کرنا

خطرہ: بنو امیہ چاہتے تھے کہ کربلا کو ایک معمولی سیاسی بغاوت کے طور پر پیش کیا جائے، تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ لوگ اسے بھول جائیں اور امام حسین علیہ السلام کی قربانی تاریخ کے صفحات میں دفن ہو جائے۔

امام کی حکمتِ عملی: امام سجاد علیہ السلام نے یادِ کربلا کو ایک مستقل تعلیمی، اخلاقی اور روحانی تحریک میں تبدیل کر دیا۔

آپ کے آنسو صرف غم کا اظہار نہیں تھے بلکہ ایک دائمی پیغام تھے۔

ہر مرتبہ جب آپ پانی یا کھانا دیکھتے، کربلا کی یاد تازہ کرتے اور لوگوں کو اس عظیم ظلم کی طرف متوجہ کرتے۔

اس حکمتِ عملی نے واقعۂ عاشورا کو صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ظلم کے خلاف ہمیشہ زندہ رہنے والی تحریک بنا دیا۔

نتیجہ: امام سجاد علیہ السلام کی زندگی سے ملنے والا تاریخی  پیغام

امام سجاد علیہ السلام کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مقاومت ہمیشہ تلوار کے ذریعے نہیں ہوتی۔

کبھی ایک خطبہ، ایک دعا، ایک آنسو، ایک شاگرد کی تربیت یا ایک درست فکری حکمتِ عملی بھی ایسی مزاحمت بن جاتی ہے جو نسلوں کی تقدیر بدل دیتی ہے۔

امام سجاد علیہ السلام نے ثابت کیا کہ:

  • اسیری کو دعوت و تبلیغ کا منبر بنایا جا سکتا ہے۔
  • دعا کو سیاسی اور فکری بیداری کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔
  • گریہ کو ظلم کے خلاف ایک زندہ میڈیا میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
  • اور سخت ترین آمریت کے دور میں بھی حکمت، صبر اور بصیرت کے ذریعے حق کی آواز کو زندہ رکھا جا سکتا ہے۔

اسی لیے امام سجاد علیہ السلام کی سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حکیمانہ مقاومت صرف دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا نام نہیں، بلکہ ہر زمانے کے حالات کو پہچان کر ایسے ذرائع اختیار کرنے کا نام ہے جو حق کو زندہ رکھیں، باطل کو بے نقاب کریں، اور آنے والی نسلوں تک حقیقت کو صحیح صورت میں منتقل کریں۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔