فقہ اسلامی کا تعارف – جلد 03 شمارہ 28

Exploring Islamic Jurisprudence - Volume 03 Issue 28

 اجتہاد اور تقلید

مقصد:

ہر مؤمن مسلمان کو یہ جاننا چاہیے کہ اپنے دینی فرائض کو صحیح طور پر انجام دینے کے لئے  اسے کیوں "اجتہاد” یا "تقلید” کی ضرورت ہے؛ مرجعِ تقلید کو کیسے پہچانے اور اس کا انتخاب کیسے کرے؛ کن حالات میں مرجعِ تقلید کو تبدیل کرنا جائز یا ضروری ہوتا ہے؛ اور اگر مرجعِ تقلید کا انتقال ہو جائے تو مکلّف کی شرعی ذمہ داری کیا ہے۔

بنیادی اصطلاحات: اس متن میں،”سنِ تکلیف” سے مراد وہ عمر ہے جب انسان شرعاً واجبات کی ادائیگی اور محرمات سے اجتناب کا ذمہ دار ہو جاتا ہے۔

"اجتہاد”سے مراد معتبر دینی منابع سے شرعی احکام اخذ کرنے کی علمی و تخصصی صلاحیت ہے۔

"مجتہد جامع الشرائط” وہ فقیہ ہے جو علمی مہارت کے ساتھ ساتھ عدالت، تقویٰ، استنباط کی صلاحیت اور زمانے کے مسائل سے آگاہی جیسی شرائط بھی رکھتا ہو۔

"تقلید” سے مراد دین کے فروعی احکام میں کسی مجتہد جامع الشرائط کے فتوے کے مطابق عمل کرنا ہے۔

بنیادی مسئلہ کیا ہے؟

ہر مسلمان جب سنِ تکلیف کو پہنچتا ہے تو اپنی عبادات اور روزمرہ زندگی کے بہت سے معاملات کے بارے میں شرعاً ذمہ دار ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اسے معلوم ہونا چاہیے کہ نماز، روزہ، معاملات، طہارت و نجاست اور دیگر شرعی احکام کس طرح انجام دیے جائیں۔

اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے تین راستے ہیں:

1۔ خود اجتہاد کے درجے تک پہنچ جائے۔ یا  2۔  تمام مسائل میں احتیاط پر عمل کرے۔ یا پھر3۔ کسی مجتہد جامع الشرائط کی تقلید کرے۔

چونکہ اجتہاد برسوں کی تخصصی تعلیم کا تقاضا کرتا ہے، اور احتیاط کی راہ  پر چلنا،عام لوگوں کے لئے  نہایت دشوار بلکہ بعض اوقات عملی طور پر ناممکن ہوتا ہے، اس لئے  اکثر لوگوں کے لئے  عقلی اور معمول کا راستہ یہی ہے کہ کسی اہل، مرجع کی تقلید کریں۔

 کس طرح تقلید ایک عقلی طرزِ عمل ہے؟

شیعہ فقہ میں تقلید کا مطلب اندھی تقلید نہیں، بلکہ اس واضح عقلی اصول پر عمل کرنا ہے کہ **غیر ماہر، ماہر کی طرف رجوع کرتا ہے۔جس طرح بیماری کے علاج کے لئے  ڈاکٹر اور عمارت کی تعمیر کے لئے  انجینئر سے رجوع کیا جاتا ہے، اسی طرح دین کے تخصصی احکام کو سمجھنے کے لئے  ایسے فقیہ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے جس نے اپنی پوری زندگی قرآن، سنت اور اصولِ استنباط کے فہم میں صرف کی ہو۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ تقلید عقل کو معطل کرنا نہیں بلکہ عقل کے فیصلے پر عمل کرنا ہے۔ البتہ یہ اصول صرف "فروعِ دین” میں جاری ہوتا ہے۔ "اصولِ دین” مثلاً توحید، نبوت اور معاد میں ہر شخص پر لازم ہے کہ تحقیق اور فہم کے ذریعے خود یقین حاصل کرے، لیکن عملی احکام کی تفصیلات میں ماہر کی طرف رجوع کرنا ایک فطری اور ناقابلِ انکار طریقہ ہے۔

تقلیدکامعاشرتی اور اخلاقی زندگی میں کیا کردار ہے؟

اب جبکہ یہ واضح ہو گیا کہ تقلید شرعی ذمہ داری کو پہچاننے کا ایک عقلی ذریعہ ہے، یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس کا اجتماعی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے۔ اگر ہر شخص بغیر مناسب علمی اہلیت کے اپنی ذاتی رائے کی بنیاد پر شرعی احکام بیان کرنے لگے تو دینی معاشرہ انتشار کا شکار ہو جائے گا، جبکہ مجتہد جامع الشرائط کی طرف رجوع دینی فہم کو علمی اور قابلِ اعتماد بنیاد فراہم کرتا ہے۔

نظم اور وحدتِ عمل: مرجعیت کی طرف رجوع دینی رویّوں کو انتشار اور شخصی پسند و ناپسند سے محفوظ رکھتا ہے۔

نئے مسائل کا علمی حل: زندہ اور زمانے کے حالات سے باخبر فقیہ دینی منابع اور اصولِ استنباط کی روشنی میں نئے مسائل کا حل پیش کر سکتا ہے۔

علمی تواضع کی تربیت: تقلید انسان کو یاد دلاتی ہے کہ تخصصی معاملات میں اہلِ تخصص سے رجوع کرنا چاہیے۔

مرجعِ تقلید کا انتخاب کیسے کیا جاتا ہے؟

جب تقلید کی ضرورت ثابت ہو جائے تو اگلا سوال یہ ہے کہ کس کی تقلید کی جائے؟ شیعہ فقہ کے مطابق مرجعِ تقلید کا "مجتہد جامع الشرائط” ہونا ضروری ہے؛ یعنی وہ علمی اعتبار سے استنباطِ احکام کی صلاحیت رکھتا ہو اور اخلاقی و عملی اعتبار سے بھی قابلِ اعتماد ہو۔ اس مرحلے میں دو بنیادی معیار ہیں: "اعلمیت” اور "عدالت”۔

الف) اعلمیت: احکام کے استنباط میں علمی برتری

اعلم وہ فقیہ ہے جو فقہی منابع کو سمجھنے، دلائل کا تجزیہ کرنے، موضوعات کی درست تشخیص کرنے اور نئے پیش آنے والے مسائل کے حل میں دوسرے مجتہدین سے زیادہ علمی صلاحیت رکھتا ہو۔ اعلم کا انتخاب اسی طرح ہے جیسے کسی حساس بیماری کے علاج کے لئے  زیادہ ماہر ڈاکٹر کا انتخاب کیا جاتا ہے؛ کیونکہ جتنا معاملہ اہم ہو، اتنا ہی زیادہ ماہر شخص کا انتخاب بھی ضروری ہوتا ہے۔

ب) عدالت: اخلاقی اور عملی اعتماد

عدالت سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے دینی اور اخلاقی کردار میں ایسا قابلِ اعتماد ہو کہ بڑے گناہوں سے پرہیز کرے اور چھوٹے گناہوں پر اصرار نہ کرے۔ لہٰذا مرجعِ تقلید صرف فقہ کا عالم ہی نہیں ہونا چاہیے بلکہ عملی زندگی میں بھی تقویٰ، امانت داری اور خواہشاتِ نفس سے اجتناب کا نمونہ ہونا چاہیے۔

مرجعِ اعلم کی شناخت کے طریقے

ایک عام مکلّف کے لئے  ضروری نہیں کہ وہ فقہ اور اصول کی تمام تخصصی کتابوں کا خود مطالعہ کرے۔ اعلم کی شناخت کے لئے  درج ذیل عقلی اور شرعی طریقے معتبر ہیں:

۱۔ اہلِ تشخیص کا ذاتی اطمینان:
یہ طریقہ صرف ان افراد کے لئے  ہے جو مجتہدین کی علمی صلاحیت کا خود جائزہ لینے کی اہلیت رکھتے ہوں۔

۲۔ اہلِ خبرہ کی گواہی:
اگر ماہر، عادل اور مجتہدین کی علمی صلاحیت سے واقف اہلِ خبرہ کسی فقیہ کی اعلمیت کی تصدیق کریں، اور اس کے خلاف کوئی معتبر شہادت موجود نہ ہو، تو یہ مکلّف کے لئے  اطمینان کا باعث بنتی ہے۔

۳۔ ایسی علمی شہرت جو اطمینان پیدا کرے:
بعض اوقات اہلِ علم کے درمیان کسی مجتہد کی علمی شہرت اس قدر مستحکم ہوتی ہے کہ اس سے عرفی اطمینان حاصل ہو جاتا ہے۔

اگر متعدد مراجع علمی لحاظ سے برابر ہوں

اگر اہلِ خبرہ یہ تشخیص دیں کہ چند مراجع علمی اعتبار سے ایک ہی درجے پر ہیں، تو مکلّف ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں زیادہ احتیاط، زیادہ تقویٰ یا فتاویٰ تک آسان رسائی جیسی خصوصیات بہتر انتخاب میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

مرجع کی عدالت کی شناخت

عدالت کو پہچاننے کا عام طریقہ کسی شخص کے حسنِ ظاہر کا مشاہدہ یا اس پر اطمینان حاصل کرنا ہے؛ یعنی اس کا عمومی طرزِ عمل اس بات کی گواہی دے کہ وہ تقویٰ، نیکی اور گناہوں سے اجتناب کرنے والا شخص ہے۔ کسی مرجع سے علمی، سماجی یا سیاسی اختلاف، بذاتِ خود اس کی عدالت کے ختم ہونے کی دلیل نہیں بنتا۔

تعلیمی نکتہ

کسی ایسے مجتہد کی ابتدائی تقلید جس کا انتقال ہو چکا ہو، جائز نہیں۔ یعنی جو شخص پہلی مرتبہ مرجعِ تقلید کا انتخاب کرنا چاہتا ہے، اسے کسی زندہ جامع الشرائط مجتہد کی تقلید کرنی چاہیے۔ اس حکم کی حکمت یہ ہے کہ زندہ مرجع نئے مسائل اور معاشرے کی نئی ضروریات کے بارے میں رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص کسی مرجع کی زندگی ہی میں اس کی تقلید کرتا تھا اور بعد میں اس مرجع کا انتقال ہو جائے، تو پھر بقا بر تقلیدِ میت کا مسئلہ پیش آتا ہے، جس کی وضاحت آگے کی جائے گی۔

مرجعِ تقلید کے انتقال کے بعد مکلّف کی ذمہ داری

اگر کسی شخص کے مرجعِ تقلید کا انتقال ہو جائے، تو بنیادی اصول یہ ہے کہ مکلّف اپنی شرعی ذمہ داری کو غیر واضح نہ چھوڑے۔ شیعہ فقہ کے مطابق کسی وفات یافتہ مجتہد کی ابتدائی تقلید جائز نہیں، لیکن جو شخص مرجع کی زندگی میں اس کی تقلید کرتا تھا، وہ بہت سے موارد میں ایک زندہ جامع الشرائط مرجع کی اجازت اور اس کے فتوے کے مطابق اپنے سابق مرجع کی تقلید پر باقی رہ سکتا ہے۔

لہٰذا ایسے شخص کا عملی فریضہ یہ ہے کہ اپنے مرجع کے انتقال کے بعد کسی زندہ جامع الشرائط مرجع سے رجوع کرے اور بقا بر تقلیدِ میت کے بارے میں اس کا فتویٰ معلوم کرے۔

  • اگر زندہ مرجع بقا کو جائز قرار دے تو مکلّف ان مسائل میں جن میں پہلے سے اپنے مرحوم مرجع کی تقلید کرتا تھا، اسی پر باقی رہ سکتا ہے، البتہ اس کی حدود اور شرائط زندہ مرجع کے فتوے کے مطابق ہوں گی۔
  • اگر زندہ مرجع بقا کو لازم یا بہتر قرار دے تو مکلّف کو اسی رائے کے مطابق عمل کرنا چاہیے، خصوصاً اگر مرحوم مرجع اعلم رہا ہو۔
  • اگر بقا جائز نہ ہو یا اس کی شرائط موجود نہ ہوں تو مکلّف کو زندہ اعلم مرجع کی تقلید اختیار کرنی ہوگی اور آئندہ اعمال اسی کے فتوے کے مطابق انجام دینے ہوں گے۔

اس وضاحت کے بعد ایک اور فطری سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان دوسرے حالات میں بھی اپنا مرجعِ تقلید تبدیل کر سکتا ہے؟ اس کا جواب عدول کی بحث میں بیان ہوتا ہے۔

مرجعِ تقلید کی تبدیلی (عدول) کا حکم

عدول سے مراد ایک مرجعِ تقلید کو چھوڑ کر دوسرے مرجع کی تقلید اختیار کرنا ہے۔ یہ کام ہمیشہ آزادانہ یا محض ذاتی پسند کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لئے  شرعی اور عقلی جواز ضروری ہے۔

اس کی اہم صورتیں درج ذیل ہیں:

  • عدول واجب: اگر مکلّف کے لئے  ثابت ہو جائے کہ کوئی دوسرا مرجع اس کے موجودہ مرجع سے زیادہ اعلم ہے، تو اس پر لازم ہے کہ وہ اعلم مرجع کی طرف رجوع کرے۔
  • عدول ناجائز: صرف اس لئے  مرجع تبدیل کرنا کہ دوسرے مرجع کا فتویٰ آسان ہے یا ذاتی پسند کی بنا پر، جبکہ اس کے لئے  کوئی معتبر شرعی دلیل موجود نہ ہو، جائز نہیں۔
  • عدول کا طریقہ: عدول کے لئے  کسی خاص رسم یا تشریفات کی ضرورت نہیں۔ جب مکلّف پر شرعی طور پر واضح ہو جائے کہ اسے مرجع تبدیل کرنا چاہیے، تو اسی وقت سے وہ نئے مرجع کے فتاویٰ کے مطابق عمل کرنا شروع کر دے۔

احتیاطِ واجب کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مرجعِ تقلید کسی مسئلے میں قطعی فتویٰ نہیں دیتا بلکہ احتیاطِ واجب کا حکم بیان کرتا ہے۔

احتیاطِ واجب کا مطلب یہ ہے کہ مکلّف کے پاس دو راستے ہیں:

  1. یا تو خود اسی احتیاط پر عمل کرے۔
  2. یا صرف اسی مسئلے میں ایسے دوسرے مرجع کے فتوے کی طرف رجوع کرے جو علمی لحاظ سے اس کے اپنے مرجع کے بعد درجے میں ہو۔

گزشتہ اعمال کا کیا حکم ہے؟

ممکن ہے کسی شخص نے کچھ عرصہ بغیر تقلید کے اعمال انجام دیے ہوں، یا بعد میں اسے معلوم ہو کہ ابتدا ہی سے اس کی تقلید صحیح نہیں تھی۔ ایسی صورت میں اس کے سابقہ اعمال کا جائزہ فقہی معیار کے مطابق لیا جائے گا۔

اگر اس کے سابقہ اعمال صحیح مرجع کے فتوے کے مطابق یا اس کی حقیقی شرعی ذمہ داری کے مطابق انجام پائے ہوں، تو وہ صحیح شمار ہوں گے اور نہ ان کی قضا لازم ہوگی اور نہ انہیں دوبارہ انجام دینے کی ضرورت ہوگی۔

لیکن اگر یہ واضح ہو جائے کہ اس کے اعمال شرعی وظیفے کے مطابق نہیں تھے، تو اسے اپنے موجودہ مرجعِ تقلید کے فتوے کی روشنی میں یہ معلوم کرنا ہوگا کہ ان اعمال کے بارے میں اس کی شرعی ذمہ داری کیا ہے۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

آپ بھی پسند کر سکتے ہیں