موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 10
شبِ قدر؛ وقت کے نظم و تقدیر کی انجینئرنگ کا نمونہ
مقدمہ
سید ہاشم موسوی
جدید دنیا میں وقت کے نظم (Time Management) کو اکثر اس طرح سمجھا جاتا ہے کہ "کم وقت میں زیادہ کام کرنا”۔ یہ ایک خطی اور مقداری نظریہ ہے ،جو انسان کو گھڑی کی ٹک ٹک کا قیدی بنا ئے ہوئےہے۔ اس نظریہ کے مطابق وقت ایک ایسا سرمایہ ہے جو نہ واپس آسکتاہے اور نہ محفوظ کیا جا سکتاہے۔
لیکن ایک بنیادی سوال باقی رہتا ہے: جب تمام انسان، انبیاء سے لے کر عام لوگوں تک، دن اور رات کے چوبیس گھنٹوں میں برابر ہیں تو زندگی کے نتائج اتنے مختلف کیوں ہیں؟ کیوں بعض لوگ مختصر عمر میں گہرا انقلاب برپا کر دیتے ہیں، اور بعض طویل دہائیوں میں بھی کچھ حاصل نہیں کر پاتے؟
قرآنِ کریم اس سوال کا ایسا جواب دیتا ہے جو وقت کی مادی اور ریاضیاتی مساوات کو بدل دیتا ہے۔ وحی کی ثقافت میں وقت صرف ایک عددی مقدار نہیں، بلکہ ایک ظرف ہے جس کی قدر و قیمت اس کے مظروف پر موقوف ہے۔
اسلام ہمیں "برکت” کا تصور دیتا ہے۔ اس کے مطابق وقت کی قیمت اس کی لمبائی سے نہیں، بلکہ اس کی گہرائی اور اثر سے ہوتی ہے۔
اس کیفیت پر مبنی نظر کا عروج "شبِ قدر” میں ظاہر ہوتا ہے۔ شبِ قدر صرف ایک عبادتی مناسبت نہیں، بلکہ انسانی تاریخ میں ایک "چھلانگ کا دروازہ” اور توحیدی منطق میں وقت کے نظم کا ایک مدرسہ ہے۔ یہ رات ہمیں دکھاتی ہے کہ ایک محدود وقت ہزار مہینوں سے بہتر ہو سکتا ہے۔
وحی کے افق میں وقت کا نظم؛ مقدار سے کیفیت تک
اللہ تعالیٰ سورۂ قدر میں فرماتا ہے:
"لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ" شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
ہزار مہینے یعنی تقریباً 80 سال – ایک مکمل انسانی عمر۔
یہ آیت وقت کی فشردگی اور اس کے اسٹریٹجک نظم کا گہرا قرآنی تصور پیش کرتی ہے: وقت کی قدر اس کی طوالت میں نہیں بلکہ اس کی تاثیر میں ہے۔ ایک رات کی کیفیت پوری عمر کی مقدار سے بڑھ سکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآنی نظر اور جدید ثقافتی نظر میں فرق ظاہر ہوتا ہے۔ الٰہی منطق میں وقت compress ہو سکتا ہے۔ ایک لمحۂ بیداری اور حضورِ قلب، دہائیوں کی غفلت سے زیادہ قیمتی ہو سکتا ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
« تَفَكُّرُ ساعَةٍ خَيرٌ مِن عِبادَةِ سَنَةٍ؛ "تفکر کی ایک گھڑی ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے۔” (بحار الانوار، ج 22، ص 327)
جب انسان توجہ، توبہ، خالص نیت اور حضورِ قلب کے مدار میں داخل ہوتا ہے تو اس کی روحانی تبدیلی تدریجی نہیں بلکہ تیزی کے ساتھ ہو جاتی ہے۔ اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ شبِ قدر ایک روحانی رفتار بڑھانے والا موقع ہے جو اعمال کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
امام محمد باقر علیہ السلام سے پوچھا گیا: «لَيلَةُ القَدْرِ خَيرٌ مِن ألفِ شَهْرٍ» أيُّ شيءٍ عَنى بِها ؟ شب قدر، ہزار مہینوں سے بہتر ہے، سے کیا مراد ہے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا :
العَمَلُ الصالِحُ فيها مِن الصلاةِ و الزكاةِ و أنواعِ الخَيرِ ، خَيرٌ مِن العَملِ في ألفِ شَهرٍ ليسَ فيها لَيلةُ القَدرِ؛ " شبِ قدر میں نماز، زکوٰۃ اور نیک اعمال، ہزار ایسے مہینوں سے بہتر ہیں جن میں شبِ قدر نہ ہو”۔
(ثواب الاعمال، ص 92)۔ قرآن فرماتا ہے: "مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ” (سورۂنحل: 96)
جو تمہارے پاس ہے وہ فنا ہو جائے گا، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔ یعنی جو وقت غفلت میں گزرے وہ ختم ہو جاتا ہے۔ جو وقت خدا سے جڑ جائے وہ ابدی ریکارڈ میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: «نَفَسُ الْمَرْءِ خُطَاهُ إِلَى أَجَلِهِ؛ "انسان کا ہر سانس اس کے اجل کی طرف ایک قدم ہے۔” لیکن یہی سانس اگر الٰہی نیت کے ساتھ ہو تو ابدی سرمایہ بن جاتا ہے۔ شبِ قدر اسی تبدیلی کی مشق ہے۔
شبِ قدر کی قدسیت کے اسباب:
آگے چل کر ہم “وقت کے سمٹ جانے (فشردگیِ زمان) اور شبِ قدر کے مقدّس بننے” کے مستند شواہد اور دلائل کو چند زاویوں سے پیش کریں گے:
1۔ نزولِ قرآن؛ خاک کا افلاک سے متصل ہو نا ۔
اس رات کی غیر معمولی عظمت ایک عظیم واقعے کی وجہ سے ہے، یعنی اللہ کے مطلق کلام (قرآن) کا نزول۔ جیسا کہ سورۂ قدر کی پہلی آیت میں بیان ہوا ہے: "إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ" یعنی ہم نے یقیناً قرآن کو شبِ قدر میں نازل کیا۔ جب ابدیت—یعنی قرآنِ کریم—ایک خاص وقت کے ظرف، یعنی شبِ قدر، میں نازل ہوتا ہے تو وہ وقت بھی ابدی رنگ اختیار کر لیتا ہے، اور اسے عام اوقات سے بڑھ کر ایک خاص قدر و قیمت مل جاتی ہے۔ یوں یہ رات “وحی کے اتصال کا میدان” بن جاتی ہے۔ نتیجتاً اس رات میں مبدأِ ہستی سے ایک لمحے کا حقیقی رابطہ، غفلت میں گزری ہوئی طویل عمر سے بھی زیادہ قیمتی اور باارزش ہو جاتا ہے۔ اسی لیے سورۂ دخان میں اسے "لیلۃٍ مبارکۃ” کہا گیا ہے۔« إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ؛
یعنی ہم نے یقیناً قرآن کو ایک مبارک رات میں نازل کیا۔
2۔ ملائکہ اور روح کا زمین پر اترآنا ؛ دو جہانوں کا آپس میں متصل ہونا۔
جیسا کہ سورۂ قدر میں آیا ہے : "تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا…”
اس رات زمین، عالمِ ملکوت کی میزبان بنتی ہے۔ ملائکہ کا نزول مادی اور غیبی جہان کے فاصلے کو کم کر دیتا ہے۔ اس فضا میں روحانی سفر تیزی سے طے ہو جاتا ہے۔”روح” اور فرشتوں کی موجودگی زمین کے ماحول کو روحانی توانائی سے بھر دیتی ہے۔ ایسے حالات میں طویل روحانی سفر طے کرنا تدریجی نہیں بلکہ تیزی سے طے ہو جاتا ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ شبِ قدر روح کا ایک “محرک انجن” ہے، جو ایک سال بلکہ پوری عمر کی پسماندگی کو چند گھنٹوں میں پورا کر دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
3۔ مقدرات کی دقیق منصوبہ بندی ۔
یہ رات سالانہ تقدیر کی منصوبہ بندی کی رات ہے۔ جیسے چند گھنٹوں کی ایک اہم میٹنگ پورے سال کی حکمتِ عملی طے کر دیتی ہے، اسی طرح شبِ قدر انسانی سال کا روحانی فیصلہ کن لمحہ ہے۔ چنانچہ سورۂ دخان کی چوتھی آیت میں ارشاد ہوا: "فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ" یعنی اس رات میں ہرفیصلہ حکمت پر مبنی ہو گا ۔
4۔ فجر تک سراسرسلامتی کی رات۔
انتظامی نقطۂ نظر سے “امنیت” کارکردگی کی پہلی شرط ہے۔ جیسا کہ سورۂ قدر کی آخری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْر” یہ رات طلوعِ فجر تک سلامتی کی ہے۔ یہاں “سلام” کا مطلب آفات، شیطانی وسوسوں اور ہر قسم کی ناملایمات سے حفاظت ہے۔ یعنی یہ رات روحانی امن اور ہر شر سے امان کی رات ہے۔ اس رات گویا ایک “روحانی قرنطینہ” قائم ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسی فضا پیدا کر دیتا ہے جس میں شیطانی شور کم سے کم ہو جاتا ہے، تاکہ انسان مکمل سکون کے ساتھ اپنے نفس اور اپنے رب کے ساتھ صلح کر کے اپنی شناخت کی ازسرِنو تعمیر کر سکے۔ یہ سلامتی فجر تک جاری رہتی ہے اور توبہ (یعنی اپنی اصل حالت کی طرف واپسی) کے لیے ایک بے مثال موقع فراہم کرتی ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ اس رات فرشتے ہر اس مؤمن کو سلام کرتے ہیں جو عبادت میں مشغول ہو۔ فرشتوں کا یہ سلام مؤمن کے دل میں نور پیدا کرتا ہے اور اطاعت کا شوق دوگنا کر دیتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعے میں آتا ہے کہ چند فرشتے ان کے پاس آئے، انہیں بیٹے کی بشارت دی اور ان پر سلام کیا (سورۂ ہود، آیت 69)۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرشتوں کے اس سلام سے جو لذت ملی وہ پوری دنیا سے بڑھ کر تھی۔ اب سوچنا چاہیے کہ جب شبِ قدر میں فرشتے جوق در جوق نازل ہوتے ہیں اور مؤمنوں پر سلام کرتے ہیں تو اس میں کتنی لذت، لطف اور برکت ہوگی۔ اسی طرح جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود کی آگ میں ڈالا گیا تو فرشتے آئے اور ان پر سلام کیا، اور آگ ان کے لیے گلزار بن گئی۔ تو کیا ممکن نہیں کہ شبِ قدر میں مؤمنوں پر فرشتوں کے سلام کی برکت سے دوزخ کی آگ بھی ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جائے؟
5۔ عادلانہ رحمت جاری ہے جبکہ وقت کی گلی بند نہیں۔
اگر ترقی صرف مقدار پر منحصر ہوتی، مثلاً لمبی عمر پر، تو جن لوگوں کی عمر مختصر رہی ان کے حق میں الٰہی عدالت پر سوال اٹھتا۔ لیکن شبِ قدر عادلانہ رحمت کا مظہر ہے۔ یعنی اگر گہری روحانی ترقی صرف کئی دہائیوں کی طویل عبادتوں سے ممکن ہوتی تو بہت سے لوگ—خصوصاً وہ جن کی عمر کم ہو، حالات سخت ہوں یا مواقع محدود ہوں—عملی طور پر پیچھے رہ جاتے۔ لیکن قرآن شبِ قدر کے ذریعے رحمت کا ایک قانون مقرر کرتا ہے: تلافی اور جهش کا راستہ سب کے لیے کھلا ہے، چاہے انہوں نے دیر سے آغاز کیا ہو۔ یہ قانون ہر نسل اور ہر فرد کو، حتیٰ کہ ان لوگوں کو بھی جنہوں نے اپنی عمر کا بڑا حصہ ضائع کر دیا ہو، یہ موقع دیتا ہے کہ ایک “کوانٹم جهش” کے ذریعے خود کو آگے بڑھنے والوں کی صف میں شامل کر لیں۔ شبِ قدر میں “دیر سے پہنچنا” معنی نہیں رکھتا، کیونکہ سو سال کا راستہ ایک رات میں طے کیا جا سکتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "مَن أحیا لیلة القدر غُفِرَ له ما تقدّم من ذنبه” جو شخص شبِ قدر کو زندہ رکھے (عبادت میں گزارے)، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ یعنی ایک رات میں پوری زندگی کی پاکیزگی ممکن ہو جاتی ہے۔
6 ۔ وقت کی برکت کا دارومدار ،۔ مزاحم رابطوں کو منقطع کرنا ہے۔
شبِ قدر میں سفارش کی گئی ہے کہ ہم خلوت اختیار کریں، کم بولیں، قرآن سر پر رکھیں، دعا کریں اور پوری توجہ کے ساتھ عبادت کریں۔ یہ سب صرف عبادات نہیں ہیں بلکہ یہ توجہ اور یکسوئی کی مشق ہیں۔ آج کے دور میں، جب معلومات کے طوفان اور مسلسل نوٹیفیکیشنز نے ہمارے ذہن کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے، شبِ قدر “توجہ کو واپس حاصل کرنے” کی عملی تربیت ہے۔
مخلوق سے وقتی طور پر رابطہ کم کر کے (اعتکاف اور خلوت کے ذریعے) اور حق سے جڑ کر انسان اپنی روحانی صلاحیت کو بلند ترین سطح تک پہنچا سکتا ہے۔ تب ہمیں سمجھ میں آتا ہے کہ خدا سے جڑا ہوا وقت باقی رہتا ہے، اور مادّیات میں ڈوبا ہوا وقت فنا ہو جاتا ہے، جیسا کہ قرآن فرماتا ہے:
"مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ” جو تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی ہے۔ (النحل: 96)
نتیجہ
شبِ قدر ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان کیلنڈر کی ریاضیات کا اسیر نہیں۔ اگر ہم صحیح لمحے میں، صحیح حالت یعنی توبہ اور اخلاص کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو ہماری تاثیر ہزار گنا بڑھ سکتی ہے۔ یہ زندگی کے اہم لمحات کو سنبھالنے کا فن ہے۔
شبِ قدر وقت کا دل ہے۔ اگر اس دل کی دھڑکن درست ہو جائے تو پوری زندگی کی سمت درست ہو سکتی ہے۔
امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
« و لو لا ما يُضاعِفُ اللّه لِلمؤمنينَ ما بَلَغوا و لكنَّ اللّه عَزَّ و جلَّ يُضاعِفُ لَهُمُ الحَسَناتِ ؛
"اگر اللہ مؤمنین کے اعمال کو کئی گنا نہ بڑھاتا تو وہ کمال تک نہ پہنچتے، لیکن اللہ ان کی نیکیوں کو بڑھا دیتا ہے۔”
آخر میں یہی کہ: زندگی کو سالوں کی تعداد سے نہیں، لمحوں کی گہرائی سے ناپو۔
شاید کامیاب لوگ وہی ہیں جنہوں نے عام لمحوں کو اپنی ذاتی شبِ قدر بنا لیاہے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

