فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 20
قضا نمازیں
مراجعِ عظامِ تقلید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای، آیت اللہ العظمیٰ سیستانی اور آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی (دام عزّہم العالی) کے فتوؤں کے مطابق۔
نوٹ: اس پینل میں مسائل کا ذکر (بلا اختلاف یا حوالہ کےساتھ )
جومسائل بغیر کسی مخالف رائے یا خاص حوالہ کے ذکر کئے گئے ہیں، وہ تینوں بزرگ مراجع کے مشترک فتاوی ہیں۔ اور جہاں کسی ایک مرجع کا فتویٰ دوسرے دو سے مختلف ہو، وہاں اسی نمبر کے تحت اس مرجع کےنام کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔
نمازِ قضا کے عمومی احکام
1۔ اگر کوئی شخص روزانہ کی واجب نماز کو اس کے مقررہ وقت میں جان بوجھ کر، بھول کر، یا شرعی حکم سے ناواقفیت کی وجہ سے ادا نہ کرے، یا وقت گزرنے کے بعد اسے معلوم ہو کہ اس کی نماز باطل تھی، تو اس پر اس نماز کی قضا واجب ہے۔
2۔ اگر غیر یومیّہ واجب نماز، جیسے نماز آیات، اپنے وقت میں ادا نہ کی جائے، تو اس کی قضا واجب ہوگی۔
3۔ نماز کی قضا اسی وقت واجب ہوتی ہے جب مکلف کو یقین ہو کہ نماز ترک ہوگئی تھی یا باطل تھی۔ لیکن اگر صرف شک یا گمان ہو تو قضا واجب نہیں۔
4۔ اگر کوئی شخص نماز کے پورے وقت میں بے ہوش رہا ہو، تو اس پر نماز کی قضا واجب نہیں؛ مگر یہ کہ بے ہوشی اس نے خود اختیاری طور پر پیدا کی ہو۔ ایسی صورت میں احتیاطِ واجب کی بنا پر قضا ادا کرے۔
آیت اللہ سید علی سیستانی : اگر کوئی شخص نماز کے پورے وقت میں سویا رہا یا نشہ کی وجہ سے نماز نہ پڑھ سکا، تو اس پر اس نماز کی قضا واجب ہے۔
5۔ جو غیر مسلم اسلام قبول کرے، اس پر اسلام سے پہلے کی نمازوں کی قضا واجب نہیں۔ لیکن جو مرتد ہو کر دوبارہ توبہ کرے اور اسلام کی طرف واپس آئے، اس پر زمانۂ ارتداد کی نمازوں کی قضا واجب ہے۔
6۔ وہ نمازیں جن کے پورے وقت میں عورت حالتِ حیض یا نفاس میں رہی ہو، ان کی قضا واجب نہیں۔
وہ امور جن سے نمازِ قضا واجب ہوتی ہے
1۔ اگر کوئی شخص موضوع یا شرعی حکم سے ناواقف ہونے کی وجہ سے حدث سے طہارت کے بغیر نماز پڑھے — مثلاً اسے معلوم نہ ہو کہ وہ جنب ہوگیا ہے اور اس نے غسل نہ کیا ہو، یا اس نے باطل وضو یا غسل کے ساتھ نماز پڑھی ہو — تو اس پر ان نمازوں کی قضا واجب ہے۔
نمازِ قضا ادا کرنے کا طریقہ
1۔ نمازِ قضا اسی صورت میں پڑھی جائے گی جس صورت میں نماز فوت ہونے کے وقت مکلف کی ذمہ داری تھی۔
- اگر چار رکعت والی نماز حالتِ حضر میں فوت ہوئی ہو، تو اس کی قضا بھی چار رکعت ہوگی، اگرچہ قضا کے وقت انسان سفر میں ہو۔
- اور اگر نماز سفر میں فوت ہوئی ہو اور اس وقت وظیفہ قصر نماز کا تھا، تو اس کی قضا بھی قصر پڑھی جائے گی، اگرچہ قضا کے وقت انسان وطن میں ہو۔
2۔ نمازِ قضا دن یا رات کے کسی بھی وقت پڑھی جاسکتی ہے، اور ضروری نہیں کہ ہر نماز کی قضا اسی کے مخصوص وقت میں پڑھی جائے۔ مثلاً نمازِ فجر کی قضا صرف صبح کے وقت پڑھنا ضروری نہیں۔
3۔ نمازِ قضا کے قصر یا کامل ہونے کا معیار نماز کے آخری وقت کی حالت ہے۔
- اگر نماز کے آخری وقت میں انسان مسافر تھا، تو قضا قصر ہوگی، چاہے اول وقت وطن میں تھا۔
- اور اگر آخری وقت میں مسافر نہ تھا، تو قضا پوری پڑھی جائے گی، چاہے اول وقت سفر میں تھا۔
4۔ نمازِ قضا میں ترتیب واجب نہیں، سوائے ایک دن کی نمازِ ظہر و عصر اور نمازِ مغرب و عشاء کے درمیان۔
نمازِ قضا کی تعداد اور وقت سے متعلق احکام
1۔ جس شخص کے ذمہ نمازِ قضا ہو، اس پر فوراً قضا پڑھنا واجب نہیں؛ لیکن اس میں سستی اور غفلت نہیں کرنی چاہیے۔
آیت اللہ سید علی سیستانی : لیکن اگر کسی عذر کی وجہ سے انسان مطمئن نہ ہو کہ بعد میں قضا ادا کرسکے گا — مثلاً بیمار ہو اور موت کا خوف ہو — تو اسے فوراً نمازِ قضا ادا کرنی چاہیے۔
2۔ اگر کسی شخص کو اپنی فوت شدہ نمازوں کی صحیح تعداد معلوم نہ ہو، تو جتنی تعداد کا یقین ہو، اتنی قضا پڑھ لینا کافی ہے۔
نمازِ قضا، ادا اور مستحبات کا باہمی تعلق
1۔ جس شخص کے ذمہ نمازِ قضا ہو، وہ نمازِ ادا بھی پڑھ سکتا ہے؛ لیکن احتیاطِ واجب یہ ہے کہ اگر صرف ایک نمازِ قضا ہو، تو پہلے وہی ادا کرے، خصوصاً اگر اسی دن کی ہو۔
آیت اللہ سید علی سیستانی : اگر کسی شخص کے ذمے پچھلے دنوں کی قضا نمازیں ہوں، اور اسی دن کی بھی ایک یا زیادہ نمازیں قضا ہوگئی ہوں، تو اگر تمام قضا نمازیں پڑھنے کا وقت نہ ہو، یا وہ سب کو ایک ہی دن میں نہ پڑھنا چاہتا ہو، تو مستحب ہے کہ پہلے اسی دن کی قضا نماز ادا کرے، پھر نمازِ ادا پڑھے۔
2۔ جس شخص کے ذمہ نمازِ قضا ہو، وہ نوافل اور دوسری مستحب نمازیں بھی پڑھ سکتا ہے۔
3۔ روزانہ کے نوافل کی قضا پڑھنا مستحب ہے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

