حدیثِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 20
جو کچھ ہم سنتے ہیں، اسی سے ہم متاثر ہوتے ہیں
اس حدیث پر غور کرنے کی مناسبت:
مقدمہ
۲۹ ذوالقعدہ کو ہم امام محمد بن علی الجواد علیہ السلام کی شہادت کی یاد مناتے ہیں۔
اس مناسبت سے ہم امامؑ کے ایک نہایت گہرے فرمان پر غور کرتے ہیں، جو اس بات کی اہمیت واضح کرتا ہے کہ انسان کن آوازوں، خیالات اور پیغامات کو توجہ سے سنتا ہے — خصوصاً ایسے دور میں جب میڈیا، موسیقی، انفلوئنسرز اور سوشل میڈیا کا نہ ختم ہونے والا مواد انسان کے دل و دماغ کو گھیرے ہوئے ہے۔آپ علیہ السلام نے فرمایا :
حضرت امام محمد تقی علیہ السلام نے فرمایا:
« مَنْ أصْغى إلى ناطِقٍ فَقَدْ عَبَدَهُ، فَإنْ كانَ النّاطِقُ عَنِ اللّهِ فَقَدْ عَبَدَ اللّهَ، وَ إنْ كانَ النّاطِقُ يَنْطِقُ عَنْ لِسانِ إبليس فَقَدْ عَبَدَ إبليسَ »
"جو شخص کسی بولنے والے کی بات غور سے سنتا ہے، گویا اس کی عبادت کرتا ہے۔ اگر وہ اللہ کی طرف سے بولتا ہو تو اس نے اللہ کی عبادت کی، اور اگر وہ شیطان کی زبان سے بولتا ہو تو اس نے شیطان کی عبادت کی۔"
(الکافی، ج 6، ص 434)۔
نوجوانوں کے لیے اس حدیث کے تربیتی پیغامات
1۔ ہر آواز توجہ کے قابل نہیں
آن لائن دنیا میں ہر آواز قابلِ پیروی نہیں ہوتی، اور بہت سی آوازیں انسان کو صحیح راستے سے دور لے جاتی ہیں۔
عملی چیلنج: اس ہفتے ایک ایسا سوشل میڈیا اکاؤنٹ اَن فالو کریں جو آپ کے ایمان یا ذہنی سکون پر منفی اثر ڈالتا ہے۔
2۔ جو کچھ آپ سنتے ہیں، اسی سے آپ کی شخصیت بنتی ہے
موسیقی، پوڈکاسٹس اور اثر انداز ہونے والی شخصیات آہستہ آہستہ آپ کی سوچ اور رویّے کو تشکیل دیتی ہیں۔
عملی چیلنج: ایک دن غور سے دیکھیں کہ آپ سب سے زیادہ کس قسم کا مواد سنتے یا دیکھتے ہیں۔
3۔ مشہور ہونا، سچ ہونے کی دلیل نہیں
کسی چیز کا وائرل یا مقبول ہونا ضروری نہیں کہ وہ صحیح یا اخلاقی بھی ہو۔
عملی چیلنج :کسی مواد کو قبول یا شیئر کرنے سے پہلے دیکھیں کہ آیا وہ اسلامی اقدار سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔
4۔ اپنے ذہن کو منفی اثرات سے محفوظ رکھیں
منفی مواد کے مسلسل اثرات آہستہ آہستہ دل اور فکر کو کمزور کر دیتے ہیں۔
عملی چیلنج: روزانہ 15 منٹ منفی مواد کے بجائے مفید اسلامی یا تعلیمی مواد سنیں یا دیکھیں۔
5۔ اچھے رول ماڈلز کا انتخاب بہت اہم ہے
اچھے نمونے انسان کو ایمان، اخلاق، محنت اور سچائی کی طرف بلاتے ہیں۔
عملی چیلنج: کسی ایک الہام بخش شخصیت کا انتخاب کریں اور دیکھیں کہ آپ اس سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔
6۔ پوشیدہ اثرات بہت اہم ہوتے ہیں
موسیقی اور پوڈکاسٹس کے اثرات اکثر فوری اور ظاہر نہیں ہوتے، بلکہ خاموش، غیر محسوس اور تدریجی ہوتے ہیں۔
اسی لیے ان اثرات کے بارے میں محتاط رہنا ضروری ہے۔
عملی چیلنج: اس ہفتے اپنی پسندیدہ موسیقی کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ اس کے بول اور دھن آپ کی سوچ، احساسات اور رویّے پر کیا اثر ڈال رہے ہیں۔
والدین کے لیے اس حدیث کے تربیتی پیغامات
1۔ بچوں پر اثر انداز ہونے والے ذرائع پر توجہ دیں
آج کل بچے اکثر گھر کی گفتگو سے زیادہ میڈیا اور انفلوئنسرز سے متاثر ہوتے ہیں۔
عملی چیلنج: اس ہفتے اپنے بچوں سے بات کریں کہ وہ کن لوگوں یا چینلز کو فالو کرتے ہیں۔
2۔ گھر میں ایک قابلِ اعتماد آواز بنیں
بچے اُن والدین کی بات زیادہ سنتے ہیں جو احترام، سکون اور حکمت کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں۔
عملی چیلنج: اپنے بچے کے ساتھ سکون سے اور بغیر کسی توجہ بٹانے والی چیز کے گفتگو کریں۔
3۔ اپنے بچوں کوتنقیدی سوچ سے آشنا کر یں
بچوں کو سکھائیں کہ ہر مقبول یا پرکشش پیغام درست نہیں ہوتا۔
عملی چیلنج: اپنے بچے کے ساتھ کسی آن لائن ٹرینڈ یا وائرل مواد کا تجزیہ کریں۔
4۔ گھر میں صحت مند میڈیا والا ماحول بنائیں
گھر میں مفید مواد، مثبت گفتگو اور روحانی میڈیا ذرائع موجود ہونے چاہئیں۔
عملی چیلنج: گھر یا گاڑی میں ایسے مواد سنیں جو آپ کو اللہ کے قریب کرے۔
5۔ آپ کا کردار بھی ایک “آواز” ہے
بچے صرف باتیں نہیں سنتے، بلکہ آپ کے رویّے سے بھی سیکھتے ہیں۔
عملی چیلنج: اس ہفتے اپنے کسی ایسے رویّے کا جائزہ لیں جو غیر مستقیم طور پر بچوں کو کچھ سکھا رہا ہے۔
ائمہ، علماء اور اساتذہ کے لیے اس حدیث کے تربیتی پیغامات
1۔ اسلامی نقطۂ نظر سے میڈیا لٹریسی سکھائیں
لوگوں کو سیکھنے کی ضرورت ہے کہ آج کے پیچیدہ میڈیا ماحول کا صحیح سامنا کیسے کیا جائے۔
عملی چیلنج: اپنی تقریر یا درس کا ایک حصہ میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے مخصوص کریں۔
2۔ آوازوں کے ایمان پر اثرات یاد دلائیں
غلط آوازوں کے مسلسل اثرات انسان کی دینی شناخت کو آہستہ آہستہ کمزور کر سکتے ہیں۔
عملی چیلنج: میڈیا کے منفی اثر کی کوئی حقیقی مثال بیان کریں۔
3۔ ذمہ داری کے ساتھ گفتگو کریں
آپ کی باتیں سامعین کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔
عملی چیلنج: تقریر سے پہلے یہ طے کریں کہ آپ سامعین کے ذہن میں کون سا بنیادی پیغام چھوڑنا چاہتے ہیں۔
4۔ مفید ذرائع متعارف کروائیں
لوگوں کو علماء، معتبر اسلامی ذرائع اور مفید آڈیو مواد کی طرف رہنمائی کریں۔
عملی چیلنج: اپنے سامعین کو ایک معتبر اسلامی ذریعہ یا عالم سے متعارف کروائیں۔
5۔ نوجوانوں کو ڈیجیٹل نظم وضبط کی دیں
بہت سے نوجوان بے حد میڈیا استعمال اور مسلسل توجہ بٹنے کے مسئلے کا شکار ہیں۔
عملی چیلنج: سامعین کو ترغیب دیں کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے روزانہ کی حد مقرر کریں۔
6۔ صحیح آوازوں کے انتخاب کے معیار سکھائیں
لوگوں کو ایسے معیار دیں جن سے وہ صحیح آوازوں کا انتخاب کرسکیں:
ایمان، اخلاق، حکمت اور ذہنی سکون۔
عملی چیلنج: سامعین سے کہیں کہ وہ اپنے کسی ایک میڈیا ذریعے کا جائزہ لیں۔
7۔ تباہ کن باتوں کی نشانیاں واضح کریں
لوگوں کی مدد کریں کہ وہ ایسی آوازوں کو پہچان سکیں جو بے حیائی، مایوسی، مادّہ پرستی یا دین سے دوری کی دعوت دیتی ہیں۔
عملی چیلنج: اگلی نشست میں کسی نقصان دہ میڈیا مثال کا تجزیہ کریں۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

