سدا بہار قرآنی کہانیاں – جلد 03 شمارہ 25

Everlasting Tales of the Quran – Volume 03 Issue 25

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی سرخ داستان 

محراب کی خاموشی اور بہار کی بشارت

یروشلم کی گلیوں میں تیز ہوا چل رہی تھی۔ بیت المقدس کے ایک گوشے میں سفید روئی جیسے بالوں اور خمیدہ قامت والے ایک بزرگ ہاتھ اٹھائے دعا میں مشغول تھے۔ وہ اللہ کے پیغمبر حضرت زکریا علیہ السلام تھے، ایک ایسے نبی جو اپنی ضعیف اور تھکی ہوئی زندگی کے آخری ایّام میں اپنی امت کی ہدایت کی بھاری ذمہ داری کو شدت سے محسوس کر رہے تھے۔

ان کی عمر نوّے یا ایک سو بیس برس تک پہنچ چکی تھی، جبکہ ان کی زوجہ حضرت اِیشاع بھی بانجھ تھیں۔ حضرت زکریا علیہ السلام کو اپنے بعد آنے والے زمانے کی فکر کھائے جا رہی تھی۔ وہ اس دن  کو لے کر فکرمند تھے ، جس دن بنی اسرائیل کے مفسد اور دنیا پرست لوگ دینِ خدا کو اپنی خواہشات کا کھلونا بنا لینے والے ہونگے۔

اسی کشمکش اور فکرمندی کے عالم میں، عبادت گاہ کے محراب میں ان کے دل پر امید کی ایک کرن نمودار ہوئی۔ انہوں نے اپنے لرزتے ہوئے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور عرض کیا:

﴿رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا… وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَائِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا﴾

"اے میرے پروردگار! میری ہڈیاں کمزور ہو چکی ہیں اور بڑھاپے کی سفیدی نے میرے سر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے… اور مجھے اپنے بعد آنے والے رشتہ داروں کے بارے میں اندیشہ ہے، جبکہ میری بیوی بانجھ ہے، پس مجھے اپنی طرف سے ایک جانشین عطا فرما۔"

(سورۂ مریم، آیات 4-6)

ابھی حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ اچانک محراب نور سے بھر گئی۔ فرشتگانِ الٰہی زمین و آسمان کے درمیان جلوہ گر ہوئے اور ایک ملکوتی صدا گونجی:

﴿يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَىٰ لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِن قَبْلُ سَمِيًّا﴾

"اے زکریا! ہم تمہیں ایک ایسے بیٹے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا، اور اس سے پہلے ہم نے کسی کا یہ نام نہیں رکھا۔"

(سورۂ مریم، آیت 7)

حضرت زکریا علیہ السلام کا دل خوشی اور حیرت سے دھڑک اٹھا۔ وہ سوچنے لگے کہ اتنی زیادہ عمر اور بانجھ زوجہ کے باوجود انہیں بیٹا کیسے عطا ہوگا؟ انہوں نے عرض کیا کہ اس کی نشانی کیا ہوگی؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

"تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے بات نہیں کر و گے، سوائے اشارے کے۔”

یوں اللہ کے حکم سے حضرت زکریا علیہ السلام کی بانجھ زوجہ کےرحم  میں زندگی کی ایک نئی کونپل پھوٹ پڑی۔ جب بچہ پیدا ہوا تو اس کا نام یحییٰ رکھا گیا، یعنی "وہ جو زندہ کیا گیا” یا "جو زندہ رہے گا”۔ یہ نام اس سے پہلے کسی کو نہیں دیا گیا تھا۔ اس طرح یہ بچہ ایک زندہ معجزہ بن کر دنیا میں آیا۔

وہ بچہ جو کھیل کود سے بیگانہ تھا

حضرت یحییٰ علیہ السلام دنیا میں تشریف لائے۔ وہ شہر کے دوسرے بچوں جیسے نہ تھے۔ ان کی گہری اور سیاہ آنکھوں میں ایک عظیم راز پوشیدہ تھا۔ ان کا دل دنیاوی کھیل تماشوں کی طرف نہیں بلکہ حق و حقیقت کی جستجو کی طرف مائل تھا۔

ابھی وہ بچپن ہی میں تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے بارے میں یہ حکم نازل ہوا:

﴿يَا يَحْيَىٰ خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ ۖ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا﴾

"اے یحییٰ! کتابِ خدا کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو، اور ہم نے انہیں بچپن ہی میں نبوت اور حکمت عطا کر دی۔"

(سورۂ مریم، آیت 12)

حضرت یحییٰ علیہ السلام کم عمری ہی سے عبادت، زہد اور خدا شناسی کی طرف متوجہ ہو گئے۔ وہ آبادیوں سے دور ویرانوں اور پہاڑوں کا رخ کرتے۔ پہاڑوں کی خاموشی ان کی رفیق تھی اور جنگلی پودے اور درختوں کے پتے ان کی غذا۔

وہ اونٹ کے کھردرے بالوں سے بنے ہوئے سادہ لباس پہنتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور خوفِ خدا سے اس قدر گریہ کرتے کہ ان کے آنسو مسلسل بہتے رہتے اور ان کے چہرے پر دو نمایاں لکیریں بن گئی تھیں۔

روایات میں آتا ہے کہ جب حضرت زکریا علیہ السلام مسجد میں لوگوں کو جنت اور جہنم کے بارے میں وعظ کرتے تو پہلے حاضرین پر نگاہ ڈالتے۔ اگر حضرت یحییٰ علیہ السلام مجلس میں موجود ہوتے تو وہ جہنم کے عذاب کا تذکرہ نہیں کرتے تھے، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ یحییٰ کا لطیف اور خدا ترس دل عذابِ الٰہی کا ذکر سن کر شدتِ خوف سے بے قرار ہو جاتا ہے۔

اسی دوران ان کے ماموں زاد (یا خالہ زاد) بھائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی منصبِ نبوت پر فائز ہوئے۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے سب سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی تصدیق کی اور لوگوں کو ان کے ظہور کے لیے تیار کیا۔

وہ دریائے اردن کے کنارے کھڑے ہو کر لوگوں کو توبہ کی علامت کے طور پر غسل دیتے اور اعلان کرتے:

"اے لوگو! میں تمہیں پانی سے غسل دیتا ہوں، لیکن میرے بعد ایک ایسی ہستی آنے والی ہے جو تمہیں روح القدس کے ذریعے پاکیزگی عطا کرے گی۔”

اس طرح حضرت یحییٰ علیہ السلام نے لوگوں کے دلوں کو حضرت مسیح علیہ السلام کی دعوت قبول کرنے کے لیے آمادہ کیا اور نئے الٰہی پیغام کی راہ ہموار کی۔ 

منحوس رقص اور طشتِ زر کے سامنے فتویٰ

سال گزرتے گئے۔ بنی اسرائیل کے ملک پر تاریکی کے سائے گہرے ہوتے گئے۔ تختِ حکومت پر ہیرودیس نامی ایک ظالم، عیاش اور شہوت پرست حکمران قابض تھا۔ اقتدار اور خواہشاتِ نفس نے اس کی بصیرت کو اندھا کر دیا تھا۔

ایک دن وہ اپنی ہی قریبی رشتہ دار عورت ہیرودیا کے عشق میں گرفتار ہو گیا۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق وہ اس کے بھائی کی بیوی تھی اور بعض کے مطابق اس کی سوتیلی بیٹی۔ بہرحال یہ تعلق تورات کی شریعت کے مطابق صریح حرام اور سنگین گناہ تھا۔

ہیرودیس جانتا تھا کہ اگر وہ عوامی اور مذہبی تائید کے بغیر یہ قدم اٹھائے گا تو اس کی حکومت کی بنیادیں ہل جائیں گی۔ اسی لئے اس نے فیصلہ کیا کہ اس ناجائز تعلق کو شرعی جواز دلوانے کے لئے یحییٰ علیہ السلام سے فتویٰ حاصل کیا جائے۔

اس نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو دربار میں بلایا۔

بادشاہ نے نرم لہجے اور مکاری بھرے انداز میں کہا:

"اے یحییٰ! اس نکاح کو جائز قرار دے دو تاکہ لوگ بھی اسے قبول کر لیں۔”

لیکن حضرت یحییٰ علیہ السلام دنیا کے لالچ سے بالاتر اور خدا کے سچے بندے تھے۔ وہ انبیاء کی امانت کو چند دن کی دنیا کے بدلے فروخت کرنے والوں میں سے نہ تھے۔

انہوں نے بادشاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فرمایا:

"یہ عمل حرام ہے!
اللہ کی شریعت تمہاری خواہشات کے مطابق تبدیل نہیں ہو سکتی۔
جو چیز خدا نے حرام قرار دی ہے، میں اسے حلال نہیں کہہ سکتا۔”

ان کے یہ الفاظ بجلی بن کر پورے دربار پر گرے۔

ہیرودیس خاموش ہو گیا، لیکن ہیرودیا کے دل میں آگ بھڑک اٹھی۔

اس نے اسی دن فیصلہ کر لیا کہ جب تک یحییٰ زندہ ہیں، اس کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔

کچھ عرصے بعد ہیرودیس کی سالگرہ کی ایک عظیم الشان تقریب منعقد ہوئی۔

محل شراب، موسیقی، خوشبو اور عیش و عشرت سے بھرا ہوا تھا۔

درباری، سردار اور امیر لوگ جشن میں شریک تھے۔

ہیرودیا نے اپنی شیطانی سازش کو عملی جامہ پہنانے کا یہی موقع مناسب سمجھا۔

اس نے اپنی خوبصورت نوجوان بیٹی سالومہ کو تیار کیا اور اسے جشن گاہ میں بھیج دیا۔

سالومہ نے بادشاہ اور مہمانوں کے سامنے ایسا فریب انگیز اور دل فریب رقص کیا کہ ہیرودیس اپنے ہوش کھو بیٹھا۔

نشے اور شہوت کے غلبے میں اس نے سب کے سامنے اعلان کیا:

"مانگ لو جو چاہو!
میری سلطنت کا آدھا حصہ بھی مانگو گی تو دے دوں گا۔”

سالومہ نے اپنی ماں کی طرف دیکھا۔

ہیرودیا پردے کے پیچھے منتظر تھی۔

اس نے اشارہ کیا۔

لڑکی تخت کے قریب آئی، سر جھکایا اور کہا:

"مجھے نہ سلطنت چاہیے اور نہ خزانے۔

میں چاہتی ہوں کہ اسی وقت اور اسی مجلس میں
یحییٰ بن زکریا کا سر ایک سونے کے طشت میں لا کر میرے سامنے پیش کیا جائے۔"

دربار پر چھا جانے والی خاموشی

یہ مطالبہ سنتے ہی جشن گاہ پر سناٹا چھا گیا۔

چند لمحوں کے لیے ہیرودیس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

وہ جانتا تھا کہ یحییٰ علیہ السلام عوام کے محبوب ترین انسان ہیں۔

وہ جانتا تھا کہ ایک نبی کا قتل معمولی جرم نہیں۔

وہ عوامی ردِّعمل سے خوفزدہ تھا۔

لیکن غرور، شہوت اور جھوٹی بادشاہت نے اس کے ضمیر کو قید کر رکھا تھا۔

آخرکار اس نے سر جھکا دیا۔

اپنے جلادوں کی طرف اشارہ کیا اور حکم دے دیا:

"جو مانگا گیا ہے، فوراً پورا کیا جائے۔”

محراب میں شہادت اور  زمین کا  غم و غصہ

رات کے سناٹے میں سپاہی حضرت یحییٰ علیہ السلام کی عبادت گاہ کی طرف روانہ ہوئے۔

وہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ اللہ کا یہ برگزیدہ نبی نماز اور مناجات میں مشغول ہے۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام کو اپنی جان کی کوئی فکر نہ تھی۔

ان کی پوری توجہ اپنے رب کی طرف تھی۔

جلاد آگے بڑھا۔

اس نے اپنی تلوار نکالی۔

اور دنیا کے پاک ترین انسانوں میں سے ایک کا سر حالتِ عبادت میں تن سے جدا کر دیا۔

یوں حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام جامِ شہادت نوش کر گئے۔

سرِ مبارک  سونے کے طشت میں

جلادوں نے سرِ اقدس کو ایک سونے کے طشت میں رکھا اور محل کی طرف روانہ ہوئے۔

خونِ نبوت اس طشت کو سرخ کر رہا تھا۔کیونکہ حضرت یحییٰ  علیہ السلام  کی رگِ گردن  سے مسلسل  خون  جاری  تھا ۔

جب وہ طشت دربار میں لایا گیا تو ہیرودیا اور اس کی بیٹی نے اپنی کامیابی پر  بظاہرخوشی کا اظہار کیا۔ مگر  حقیقت یہ ہے کہ وہ خون کے   بہتے سر کو  دیکھ کر  خوفزدہ  ہو چکے تھے ۔ یعنی  اسی لمحے ان کی ہلاکت اور رسوائی کا آغاز ہو چکا تھا۔

کیونکہ اللہ  والوں  کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔

خون کا جوش مارنا

اسلامی روایات میں آتا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کا خون زمین پر گرنے کے بعد غیر معمولی طور پر جوش مارنے لگا۔

لوگوں نے اس پر مٹی ڈالنے کی کوشش کی۔

پتھر ڈالے۔ زمین برابر کی۔ لیکن خون پھر بھی ابھر آتا۔ گویا زمین اس پاک خون کو اپنے اندر جذب کرنے پر آمادہ نہ تھی۔

یہ منظر برسوں تک لوگوں کے لئے خوف اور عبرت کا سبب بنا رہا۔

روایات کے مطابق بالآخر ایک ظالم بخت‌النصر (یا نبوزاردان)  نامی حکمران کے ہاتھوں بنی اسرائیل کے بہت سے مجرم اور سرکش افراد قتل کئے گئے، تب جا کر وہ خون  کے جوش میں کمی آئی۔ یہ گویا ایک الٰہی اعلان تھا کہ:

خدا اپنے اولیاء کے خون کو فراموش نہیں کرتا۔

ایک عظیم شہادت کا اثر

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت صرف ایک فرد کا قتل نہ تھی۔ یہ حق اور باطل کی جنگ تھی۔ یہ شریعت اور خواہشِ نفس کے درمیان معرکہ تھا۔ یہ اس حقیقت کا اعلان تھا کہ کبھی کبھی ایک سچے انسان کا ایک جملہ پورے ظالم نظام کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔

اور یہی وجہ تھی کہ ایک نبی کو قتل کرنا پڑا۔

سوگ، طوفان اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صدائے حق

جب حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کی شہادت کی خبر پورے یروشلم میں پھیلی تو گویا شہر پر غم کی ایک سیاہ چادر تن گئی۔

یہ خبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کےلئے صرف ایک قریبی عزیز کے بچھڑ جانے کی خبر نہ تھی۔

یحییٰ علیہ السلام ان کے مددگار، تصدیق کرنے والے اور راہِ حق کے مضبوط ساتھی تھے۔

وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے علانیہ طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی گواہی دی تھی اور لوگوں کو ان کے ظہور کے لئے تیار کیا تھا۔

جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس ہولناک قتل کی خبر ملی تو ان کا دل شدید غم سے بھر گیا۔

انہوں نے اپنے حواریوں کے ساتھ کچھ عرصے کے لئے شہروں اور آبادیوں سے دور ویران مقامات کا رخ کیا۔

یہ ایک طرف سوگ اور عبادت کا زمانہ تھا اور دوسری طرف ان مؤمنین کی جانوں کی حفاظت کا مرحلہ بھی، جنہیں حکومت کے ظلم سے خطرہ لاحق تھا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام تنہائی میں اپنے رب سے مناجات کرتے، حضرت یحییٰ علیہ السلام کی مظلومیت پر گریہ کرتے اور امت کے مستقبل کےلئے دعا فرماتے رہے۔

خاموشی کے بعد گرجتی ہوئی آواز

لیکن یہ خاموشی زیادہ دیر قائم نہ رہی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ میدان میں اتر آئے۔

اب ان کی گفتگو پہلے سے زیادہ دوٹوک، زیادہ جلالی اور زیادہ انقلابی ہو چکی تھی۔

انہوں نے کھلے عام ہیرودیس کے ظلم، اس کے گناہوں اور بنی اسرائیل کے دنیا پرست علماء کی خاموشی کو موضوعِ گفتگو بنایا۔

وہ شہروں اور بازاروں میں لوگوں کو خبردار کرتے رہے: "ظلم کے سامنے خاموش رہنا بھی ظلم میں شریک ہونا ہے۔"

ان کی دعوت پہلے سے زیادہ اثر انگیز ہونے لگی۔

"اس لومڑی سے کہہ دو…”

حکمران طبقہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ تھا۔

ایک دن کچھ لوگوں نے آکر کہا: "ہیرودیس تمہیں بھی قتل کرنا چاہتا ہے، اپنی جان بچاؤ۔”

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے نہایت جرات اور استقامت کے ساتھ جواب دیا:

"جاؤ اور اس لومڑی سے کہہ دو کہ میں اپنا کام جاری رکھوں گا، یہاں تک کہ میرا مشن مکمل ہو جائے۔”

یہ الفاظ ایک پیغمبر کی بے خوفی اور حق پر ثابت قدمی کی روشن مثال بن گئے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام جانتے تھے کہ انبیاء کی راہ پھولوں کی نہیں بلکہ قربانیوں کی راہ  ہوا کرتی ہے۔

شہادت کا سرخ راستہ

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی دعوت کو مزید وسعت دی۔

انہوں نے اپنے حواریوں کو سمجھایا کہ: حق کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ یہ وہ راستہ ہے جسے انبیاء، صدیقین اور شہداء کے خون نے روشن کیا ہے۔ باطل وقتی طور پر غالب دکھائی دے سکتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے۔

کربلا کی سرزمین پر

شیعہ روایات میں نقل ہوا ہے کہ ایک سفر کے دوران حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے حواریوں کے ساتھ عراق کی سرزمین سے گزر رہے تھے۔

جب وہ ایک خشک اور سنسان مقام پر پہنچے تو اچانک رک گئے۔ ان کی نگاہیں زمین پر جم گئیں۔ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔

حواری حیران رہ گئے۔ انہوں نے پوچھا: "اے روح اللہ! آپ کیوں گریہ فرما رہے ہیں؟”

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: "یہ وہ سرزمین ہے جہاں آخری نبی ﷺ کے نواسے کو قتل کیا جائے گا۔

یہاں ان کے اہلِ بیت کو مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ زمین و آسمان ان پر گریہ کریں گے۔ اور ان کے قاتل اللہ کی لعنت کے مستحق ہوں گے۔”

یہ مقام کربلا تھا۔ وہی سرزمین جو صدیوں بعد تاریخ کی سب سے عظیم قربانی کی گواہ بننے والی تھی۔

یحییٰؑ سے حسینؑ تک

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے درمیان حیرت انگیز مشابہتیں پائی جاتی ہیں۔

اسی وجہ سے روایات میں بارہا ان دونوں مقدس ہستیوں کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے۔

امام حسین علیہ السلام خود بھی حضرت یحییٰ علیہ السلام کو یاد فرمایا کرتے تھے۔ سفرِ کربلا میں مختلف مقامات پر آپ نے ان کی مظلومیت کا تذکرہ کیا۔

پہلی مشابہت: تحریفِ دین کے خلاف قیام

حضرت یحییٰ علیہ السلام نے اس لیے جان دی کیونکہ ایک فاسق حکمران اللہ کے احکام کو اپنی خواہشات کے مطابق بدلنا چاہتا تھا۔

امام حسین علیہ السلام نے بھی اسی لیے قیام فرمایا کیونکہ یزید کھلے عام اسلام کی تعلیمات کی مخالفت کر رہا تھا۔

دونوں نے "امر بالمعروف اور نہی عن المنکر” کے فریضے کی خاطر قربانی دی۔

دوسری مشابہت: سرِ مبارک کا طشت میں پیش ہونا

روایات میں آیا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کا سر ایک سونے کے طشت میں رکھ کر فاسق لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا۔

کربلا میں بھی امام حسین علیہ السلام کا سرِ مبارک کاٹ کر ابن زیاد اور یزید کے دربار میں پیش کیا گیا۔

یہ تاریخ کا ایک دردناک اور حیران کن تقابل ہے۔

تیسری مشابہت: ہمیشہ جوش مارتا ہوا خون

حضرت یحییٰ علیہ السلام کا خون زمین پر جوش مارتا رہا۔

امام حسین علیہ السلام کا خون بھی تاریخ کے رگ و پے میں آج تک جوش مار رہا ہے۔

اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے روایت میں آیا ہے:

"إِنَّ لِقَتْلِ الْحُسَيْنِ حَرَارَةً فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَبْرُدُ أَبَدًا"

"حسینؑ کی شہادت کے سبب مؤمنوں کے دلوں میں ایک ایسی حرارت پیدا ہو گئی ہے جو کبھی سرد نہیں ہوگی۔"

اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

﴿وَسَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا﴾

"اور سلام ہو اس پر جس دن وہ پیدا ہوا، جس دن وہ وفات پائے گا، اور جس دن زندہ اٹھایا جائے گا۔"

(سورۂ مریم، 15)

حضرت یحییٰ علیہ السلام نے اپنی پوری زندگی حق، تقویٰ، زہد اور استقامت کے لیے وقف کر دی۔

انہوں نے دنیا کے سب سے طاقتور حکمران کے سامنے بھی حق بات کہنے سے گریز نہیں کیا۔

اور بالآخر اسی حق گوئی کی قیمت اپنی جان دے کر ادا کی۔ 

حضرت یحییٰؑ کی غمناک  داستان سے حاصل ہونے والے دروس

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی زندگی محض ایک تاریخی واقعہ یا ایک دردناک شہادت کی داستان نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل تربیتی، اخلاقی اور فکری مکتب ہے۔ ان کی زندگی اور شہادت انسان کو حق شناسی، استقامت، خدا خوفی اور اجتماعی ذمہ داری کا درس دیتی ہے۔

کربلا کے واقعہ سے ان کے گہرے تعلق کو سامنے رکھتے ہوئے یہ داستان آج بھی زندہ ہے اور ہر دور کے انسان کو راستہ دکھاتی ہے۔

۱۔ حق پر ڈٹے رہنا اور باطل سے  کبھی  نہ  ڈرنا    (شجاعت کا درس)

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ انسان اللہ کی رضا کو دنیاوی مفادات پر مقدم رکھے۔

وہ چاہتے تو خاموش رہ کر اپنی جان بچا سکتے تھے۔

وہ چاہتے تو بادشاہ کی خوشنودی کے لئے ایک مصلحت آمیز فتویٰ صادر کر سکتے تھے۔

وہ چاہتے تو اپنی سماجی حیثیت برقرار رکھ سکتے تھے۔

لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

انہوں نے حق کو حق کہا اور باطل کو باطل۔ چاہے اس کی قیمت جان ہی کیوں نہ ہو۔

سبق:حق گوئی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔ بعض اوقات انسان کو اپنے اصولوں، ایمان اور دینی اقدار کے تحفظ کے لئے نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ایک آزاد انسان وقتی فائدوں کے لئے اپنے عقیدے اور ضمیر کا سودا نہیں کرتا۔

۲۔ بدعت اور انحراف  کو پنپنے سے پہلے ہی روک دینا۔(فساد کی جڑ کاٹنا)

حضرت یحییٰ علیہ السلام نے صرف ایک شخص کے ذاتی گناہ پر اعتراض نہیں کیا تھا۔

ان کا اصل اعتراض اس بات پر تھا کہ حکمران طبقہ ایک حرام کام کو قانونی اور دینی رنگ دینا چاہتا تھا۔

اگر حکمران حرام کو حلال اور باطل کو حق بنا کر پیش کرنے لگیں تو پورا معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔

سبق: فکری اور اخلاقی انحرافات کے سامنے خاموشی اختیار کرنا خطرناک ہے۔خصوصاً جب کوئی اللہ کے احکام کو بدلنے یا ان کی غلط تشریح کرنے کی کوشش کرے۔معاشروں کی تباہی اکثر اسی مقام سے شروع ہوتی ہے۔

۳۔ دنیا کی بے ثباتی، بے وفائی اورپستی

اس سے زیادہ دردناک منظر کیا ہو سکتا ہے کہ زمین کے پاک ترین انسان کا سر ایک سونے کے طشت میں رکھ کر ظالموں کے سامنے پیش کیا جائے؟

یہ منظر دنیا کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ دنیا نہ انبیاء کی وفادار رہی اور نہ اولیاء کی۔

سبق: اگر کامیابی کا معیار صرف دولت، اقتدار، شہرت یا ظاہری غلبہ ہو تو پھر انبیاء کی زندگیوں کا کوئی مفہوم باقی نہیں رہتا۔

اصل کامیابی ایمان پر ثابت قدم رہنا ہے۔ ظالم اپنی سلطنتوں سمیت مٹ جاتے ہیں، لیکن حق کے علمبردار تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔

آج کتنے لوگ ہیرودیس کا نام عزت سے لیتے ہیں؟ اور کتنے لوگ حضرت یحییٰ علیہ السلام کا نام محبت اور احترام سے یاد کرتے ہیں؟

۴۔ زہد اور سادگی کی حقیقی طاقت

حضرت یحییٰ علیہ السلام نہ بادشاہ تھے، نہ ان کے پاس فوج تھی، نہ خزانے تھے اور نہ کوئی سیاسی قوت۔

وہ سادہ لباس پہنتے تھے، جنگلوں میں عبادت کرتے تھے اور دنیاوی آسائشوں سے دور رہتے تھے۔

اس کے باوجود ایک طاقتور بادشاہ ان کے ایک جملے سے خوفزدہ تھا۔

سبق: اصل طاقت دولت اور اقتدار میں نہیں۔ اصل طاقت اللہ پر توکل، پاکیزہ کردار اور روحانی استقلال میں ہے۔ جو شخص دنیا کا محتاج نہیں ہوتا، دنیا اسے خرید نہیں سکتی۔

۵۔ خونِ شہید  ہمیشہ تازہ اور اثر انداز ہوتا ہے ۔(تاریخ ،حق  کو کبھی  مٹا نہیں  سکتی )

ظالموں نے گمان کیا کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کا سر قلم کر کے ان کی آواز خاموش کر دی جائے گی۔

بعد میں یہی گمان یزید نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں بھی کیا۔ لیکن تاریخ نے ثابت کر دیا کہ شہادت اختتام نہیں بلکہ آغاز ہوتی ہے۔

سبق: ظلم وقتی طور پر کامیاب نظر آ سکتا ہے، لیکن اس کی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔ شہید کا خون نسلوں کو بیدار کرتا ہے۔

اسی لئےحضرت یحییٰؑ اور امام حسینؑ دونوں آج بھی زندہ ہیں، جبکہ ان کے قاتل نفرت اور رسوائی کی علامت بن چکے ہیں۔

۶۔ حق کے طرف داروں میں بڑی یکجہتی ہوتی ہے چاہے ان کے درمیان  تاریخ کا کتنا ہی بڑا فاصلہ ہو

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت پر غمگین ہونا اور امام حسین علیہ السلام کا بار بار ان کا ذکر کرنا اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ حق کا راستہ ایک ہی ہے۔ تمام انبیاء، اوصیاء، ائمہ اور صالحین ایک ہی مقصد کے لئے جدوجہد کرتے رہے ہیں۔

سبق: جو لوگ آج حق، عدل، اصلاح اور خدا کی بندگی کے لیے کوشش کر رہے ہیں، وہ اسی قافلے کا حصہ ہیں جس میں حضرت یحییٰؑ، حضرت عیسیٰؑ، حضرت محمد ﷺ اور امام حسینؑ شامل ہیں۔مؤمن کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ وہ ایک عظیم تاریخی سلسلے کا وارث ہوتا ہے۔

اس داستان کے معتبر مصادر

اس روایت کی علمی وثاقت اور تاریخی اعتبار کے لیے مذکورہ مطالب درج ذیل معتبر اور بنیادی مصادر سے اخذ کیے گئے ہیں:

۱۔ قرآنی مصادر (داستان کا بنیادی  ڈھانچہ ):

  • سورۂ مریم، آیات 2 تا 15: حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا، حضرت یحییٰ علیہ السلام کی معجزانہ ولادت، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کا نام رکھا جانا، اور ان کی زاہدانہ و روحانی صفات کا بیان۔
  • سورۂ آل عمران، آیات 38 تا 41: محراب میں حضرت زکریا علیہ السلام کو فرشتوں کی بشارت، اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کو «سَيِّدًا وَحَصُورًا» (سردار، پاکدامن اور خواہشاتِ نفس پر قابو رکھنے والا)  قرار دئےجانے کا ذکر۔
  • سورۂ انبیاء، آیات 89 اور 90: حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا کی قبولیت اور ان کی بانجھ زوجہ کو اولاد کے لیے آمادہ کیے جانے کا بیان۔

۲۔ شیعہ روائی اور تفسیری مصادر:

خونِ یحییٰ کا جوش مارنا، کربلا سے تقابل، اور حضرت عیسیٰؑ کا ردِّعمل)بحار الأنوار (علامہ محمد باقر مجلسی:جلد 14: باب «قصص یحییٰ بن زکریا علیہما السلام»، جلد 44: حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کے باہمی تقابل سے متعلق روایات۔

    • (کامل الزیارات (ابن قولویہ قمی: باب 26، ص 76
    • حضرت یحییٰؑ اور امام حسینؑ پر آسمان و زمین کے گریہ کرنے، نیز حضرت عیسیٰؑ کے کربلا سے گزرنے اور واقعۂ کربلا کی پیش گوئی سے متعلق روایات۔ (الأمالی -شیخ صدوق): مجلس 28- حضرت امام حسینؑ اور حضرت یحییٰؑ کے درمیان مشابہت، خصوصاً ان کے سرِ مبارک کے ظالموں کے سامنے پیش کیے جانے سے متعلق روایات۔
    • تفسیر نور الثقلین -عبد علی حویزی اور تفسیر قمی: سورۂ مریم کی آیات کے ذیل میں حضرت یحییٰؑ کے خون کے جوش مارنے اور بعد میں انتقامِ الٰہی کے واقعات کا ذکر۔

۳۔ اہلِ سنت کے تاریخی و تفسیری مصادر:

ہیرودیس کے دربار اور قتلِ یحییٰؑ کی تفصیلات- تاریخ الأمم والملوک (تاریخ طبری-  امام محمد بن جریر طبری): جلد اوّل- حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کے حالات، ہیرودیس، ہیرودیا اور درباری سازشوں کی تفصیلات۔

    • الکامل فی التاریخ، ابن اثیر: جلد اوّل- حضرت یحییٰ علیہ السلام کی سیرت اور شہادت کا تاریخی بیان۔
    • قصص الأنبیاء، ابن کثیر: حضرت یحییٰ علیہ السلام کی حق گوئی، حکمرانِ وقت کے ناجائز مطالبات کی مخالفت، اور ان کی شہادت کا تفصیلی ذکر۔

۴۔ عہدِ جدید کے مصادر:

مسیحی روایات میں حضرت عیسیٰؑ کا ردِّعمل- انجیل متی، باب 14، آیات 1 تا 13: حضرت یحییٰ (یوحنا معمدان) کے قتل کی خبر سننے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تنہائی اختیار کرنا اور بیابان کی طرف جانا۔

    • انجیل لوقا، باب 13، آیات 31 تا 32: ہیرودیس کی دھمکیوں کے جواب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تاریخی بیان، جس میں انہوں نے ہیرودیس کو «لومڑی» (Fox) قرار دیا۔
اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔