سدا بہار قرآنی کہانیاں – جلد 03 شمارہ 31

Everlasting Tales of the Quran – Volume 03 Issue 31

ضیافت سے گمراہی تک

اس دور میں جب مکہ کی گلیوں میں توحید کی آواز نئی نئی گونج رہی تھی، عُقبہ بن ابی مُعَیط کا شمار، قریش کے مشہور دولت مندوں اور بااثر سرداروں میں  ہوتا تھا۔ وہ بڑی بڑی ضیافتیں کیا کرتا تھا اور جب بھی کسی سفر سے واپس آتا تو مکہ کے معززین اور سرداروں کی اپنے گھرمیں دعوت دیتا تھا۔

شرک پر قائم ہونے کے باوجود عُقبہ نرم مزاج شخص تھا۔ اس کی اُبیّ بن خلف کے ساتھ بہت پرانی اور گہری دوستی تھی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے رازدار تھے اور تمام معاملات میں باہم مشورہ کرتے تھے۔

ایک دن عُقبہ ایک طویل سفر سے واپس آیا۔ اپنی عادت کے مطابق اس نے ایک بڑی ضیافت کا اہتمام کیا اور مکہ کے اشراف کے ساتھ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی دعوت دی۔

جب کھانا تیار ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

میں تمہارا کھانا اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک تم اللہ کی وحدانیت اور میری رسالت کی گواہی نہ دو۔

عُقبہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا مہمان کھانا کھائے بغیر اس کے گھر سے واپس جائے۔ دوسری طرف وہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت، اخلاق اور بلند کردار سے بھی متاثر تھا۔ چنانچہ اس نے کلمۂ شہادت زبان پر جاری کیا اور کہا:

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔

اس کے بعد رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کھانے میں سے تناول فرمایا اور مجلس اختتام پذیر ہوگئی۔

پرانے دوست کا طعنہ

یہ خبر بجلی کی طرح پورے مکہ میں پھیل گئی اور اُبیّ بن خلف کے کانوں تک بھی پہنچی۔

اُبیّ شدید غصے میں عُقبہ کے پاس آیا اور نہایت تند اور برہم لہجے میں بولا:

اے عُقبہ! میں نے سنا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کے دین سے پھر گئے ہو اور اس صابئی، یعنی پیغمبر، کے پیروکار بن گئے ہو؟!”

عُقبہ نے جواب دیا:

نہیں، خدا کی قسم، ایسا ہرگز نہیں ہے! وہ میرا مہمان تھا اور مجھے شرم محسوس ہوئی کہ وہ میرے گھر سے کھانا کھائے بغیر چلا جائے۔ اس نے شرط رکھی تھی کہ اگر میں گواہی نہ دوں تو وہ کھانا نہیں کھائے گا۔ میں نے صرف مہمان کے احترام کی خاطر یہ الفاظ زبان سے ادا کئےتھے!”

لیکن اُبیّ بن خلف نے(جس کے دل میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف سخت کینہ موجود تھا)  کئی سالہ دوستی کو بہانہ بناتے ہوئے عُقبہ کے سامنے ایک انتہائی سنگین شرط رکھ دی۔

اس نے کہا:

میں اس وقت تک تم سے راضی نہیں ہونے والا، جب تک کہ تم اس کے پاس نہ جاؤ، اس کی آنکھوں میں  آنکھیں  ڈالکر  اس کے چہرے  پر تھوک نہ دو!”

حسرت کے گڑھے میں گرپڑنا

عُقبہ اب زندگی کے ایک نہایت اہم دو راہے پر کھڑا تھا:

ایک طرف وہ حقیقت تھی جسے اس کے دل نے کسی حد تک محسوس کرلیا تھا اور دوسری طرف اُبیّ بن خلف کے ساتھ اپنی دوستی کو باقی رکھنے کی خواہش تھی۔

جاہلیت کی دوستی کے وسوسے اور دوست کی ملامت کے خوف نے عُقبہ کی عقل اور ضمیر پر غلبہ پالیا۔

وہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور اس نے وہ انتہائی ناپسندیدہ حرکت اور عظیم گستاخی  کر ڈالی جو اس کے دوست کو راضی رکھنے کے لئے تھی۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متانت اور غم کے ساتھ اس کی طرف دیکھا اور اسے بتایا کہ  اب وہ ایک تلخ انجام  منتظر رہے۔

کچھ ہی عرصے بعد جنگِ بدر پیش آئی۔ عُقبہ بن ابی معیط اور اس کا دوست اُبیّ بن خلف، دونوں مسلمانوں کے خلاف مشرکین کے لشکر میں شریک ہوئے۔

عُقبہ جنگِ بدر میں گرفتار ہوا اور بعد ازاں قتل کردیا گیا، جبکہ اُبیّ بن خلف بھی کچھ عرصے کے بعد ذلت و خواری کے ساتھ دنیا سے چلا گیا۔

قیامت کے منظر میں اس واقعے کی بازگشت

قرآنِ کریم تاریخ سے پردہ اٹھاتا ہے اور قیامت کے دن ایسے گمراہ دوستوں کی حالت کا منظر پیش کرتا ہے۔

اس دن عُقبہ شدید ندامت اور حسرت کے باعث اپنے ہاتھوں کو دانتوں سے کاٹے گا اور فریاد کرے گا:

وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا ۝ يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا

 “اور اس دن کو یاد کرو جب ظالم شدید حسرت کے باعث اپنے دونوں ہاتھ دانتوں سے کاٹے گا اور کہے گا: اے کاش! میں نے رسول کا  راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری بربادی! کاش میں نے فلاں گمراہ شخص کو اپنا گہرا دوست نہ بنایا ہوتا!”

(سورۂ فرقان، آیات ۲۷ اور ۲۸)

اس واقعے کے اخلاقی اور تربیتی پیغامات

  • عُقبہ کے زوال کی بنیادی وجوہ میں سے ایک دوست کے سامنے مروّت، جھجک اور “نہیں” کہنے کی ناتوانی تھی۔

عُقبہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کی حقانیت کو کسی حد تک سمجھ چکا تھا، لیکن اپنے دوست کے سامنے سماجی حیثیت برقرار رکھنے اور خیانت یا کمزوری کا الزام لگنے سے بچنے کے لئے  اس نے ایسا کام قبول کرلیا جس سے اس کا اپنا ضمیر بھی متفق نہیں تھا۔

زندگی کی اہم ترین مہارتوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان دوستوں اور اپنے اردگرد کے لوگوں کے نفسیاتی دباؤ کے مقابلے میں جرأت، قوت اور اعتماد کے ساتھ نہیں کہنا سیکھے۔

  • لوگوں کا خوف

عُقبہ ایک سخی میزبان اور قریش کے معززین میں سے تھا، لیکن وہ اپنے قبیلے اور دوستوں کی رائے کے بارے میں شدید فکرمند رہتا تھا۔

جب اُبیّ بن خلف نے اسے یہ طعنہ دیا کہ:

کیا تم اپنے باپ دادا کے دین سے پھر گئے ہو؟

تو عُقبہ نے عقل، دلیل اور حقیقت کا سہارا لینے کے بجائے گروہ سے نکالے جانے اور معاشرتی تنہائی کے خوف کو خود پر غالب آنے دیا۔

انسان کی شناخت اور شخصیت کو دوستوں کے کسی گروہ کی تائید یا مخالفت پر منحصر نہیں ہونا چاہیے۔

حقیقت کی تلاش کا تقاضا یہ ہے کہ انسان بعض اوقات معاشرے کے غالب رجحان یا اپنے دوستوں کے سامنے کھڑے ہونے کی جرأت رکھتا ہو۔

  • بڑے زوال کا آغاز چھوٹے انحرافات سے ہوتا ہے

عُقبہ ابتدا سے مکمل طور پر بدکردار انسان نہیں تھا۔ وہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احترام بھی کرتا تھا اور آپ کو اپنے گھر دعوت بھی دیتا تھا۔

لیکن اس کی گمراہی اچانک رونما نہیں ہوئی، بلکہ مرحلہ وار بڑھی:

پہلا مرحلہ: ایک متعصب اور گمراہ شخص، یعنی اُبیّ بن خلف، کے ساتھ نہایت گہری دوستی قائم کرنا۔

دوسرا مرحلہ: غلط رویّے کے لئے  بہانے اور توجیہات پیش کرنا اور دوست کے طعنوں سے متاثر ہوجانا متنا۔

تیسرا مرحلہ: دوست کو خوش کرنے کے لئے  حق سے پیچھے ہٹنا۔

چوتھا مرحلہ: ایک عظیم گستاخی اور سنگین جرم کا ارتکاب کرنا۔

بڑے اخلاقی زوال ہمیشہ معمولی غلطیوں اور اخلاقی اصولوں سے چھوٹی چھوٹی پسپائیوں کے ذریعے شروع ہوتے ہیں۔

  • اچھی صفت کا غلط استعمال

عُقبہ میں مہمان نوازی جیسی اچھی صفت موجود تھی، لیکن وہ ادب اور مہمان داری اور اعتقادی اقدار کے تحفظ کے درمیان مناسب حد قائم نہ کرسکا۔

اس نے ایک متعصب اور ہٹ دھرم دوست کو خوش رکھنے کے لئے  اپنی اخلاقی اقدار اور شرافت کو قربان کردیا۔

سماجی آداب اور پسندیدہ صفات، جیسے تعارف، مہمان نوازی اور ہمدردی، انسان کو اپنے بنیادی اصول، حق طلبی اور انسانی کرامت پامال کرنے کی طرف نہیں لے جانی چاہییں۔

  • عارضی جذبات اور دائمی پشیمانی

قرآنِ کریم کی یہ تعبیر: "يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ”  “ظالم اپنے دونوں ہاتھ دانتوں سے کاٹے گا”

ان لوگوں کی نفسیاتی حالت کی نہایت درست تصویر پیش کرتی ہے جو اپنے فیصلوں کی بنیاد عارضی جذبات، غصے، وقتی دوستی یا تکبر پر رکھتے ہیں۔

نااہل دوستوں کی مختصر مدت کی رضامندی کے لئے  کیے گئے فیصلے طویل مدت میں گہری اور ناقابلِ تلافی حسرت کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر اس لئے  کہ بحرانی وقت میں وہی دوست اس شخص کے اعمال کی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے  تیار نہیں ہوتے۔

تفسیری مصادر

  • تفسیر المیزان، علامہ سید محمد حسین طباطبائی، سورۂ فرقان کی آیات ۲۷ تا ۲۹ کے ذیل میں، جلد ۱۵۔
  • تفسیر نمونہ، آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی اور دیگر فضلا، سورۂ فرقان کی آیات ۲۷ تا ۲۹ کے ذیل میں، جلد ۱۵۔
  • تفسیر نور الثقلین، علامہ عبد علی بن جمعہ عروسی حویزی، سورۂ فرقان کی متعلقہ آیات کے ذیل میں، جلد ۴۔
  • الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور، جلال الدین سیوطی، جو اہلِ سنت کے ممتاز علما میں سے ہیں، سورۂ فرقان کی آیات ۲۷ تا ۲۹ کے ذیل میں، جلد ۵۔
  • تفسیر القمی، علی بن ابراہیم قمی، سورۂ فرقان کے ذیل میں، جلد ۲۔

تاریخی اور سیرتِ نبوی کے مصادر

  • السیرة النبویة، سیرت ابن ہشام، عبدالملک بن ہشام، مشرکینِ مکہ کی اذیت رسانیوں اور جنگِ بدر و اُحد کے واقعات سے متعلق ابواب۔
  • تاریخ الأمم والملوک، تاریخ طبری، محمد بن جریر طبری، بعثت کے ابتدائی برسوں اور جنگِ بدر و اُحد کے واقعات، جلد ۲۔
  • بحار الأنوار، علامہ محمد باقر مجلسی، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاریخ اور قریش کے سرداروں کے ساتھ آپ کے معاملات سے متعلق ابواب، جلد ۱۹۔
اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔