اداریہ – جلد 03 شمارہ 38
جب ہفتے کی تاریخی مناسبتیں ہمارے زمانے کی ضروریات سے جڑتی ہیں
تمہید
آنے والا ہفتہ چار ایسی مناسبتوں کو ایک ساتھ ہمارے سامنے لاتا ہے جو بظاہر ایک دوسرے سے مختلف نظر آ سکتی ہیں: ایک امام کی ولادت، خاندانِ اہلِ بیتؑ کی ایک جلیل القدر خاتون کی وفات، اہلِ بیتؑ کے ایک ممتاز اور عالم بزرگ کی ولادت، اور عالمی یومِ امن۔ تاہم، جب ہم ان مناسبتوں کو ایک ساتھ دیکھتے ہیں تو یہ سب ہمیں ایک بنیادی سوال پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہیں: ایمان، علم، اخلاقی جرأت اور امن کے لئے عزم آج کی دنیا میں ہماری زندگی کے انداز کو کس طرح تشکیل دے سکتے ہیں؟
بدھ، 4 ربیع الثانی: حضرتسید عبدالعظیم حسنیؒ کی ولادت :
سید عبدالعظیم حسنیؒ سن 173 ہجری قمری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ ایک معزز عالم، عبادت گزار شخصیت اور اہلِ بیتؑ کی احادیث کے معتبر راوی تھے۔ بعد میں آپ نے شہرِ ری میں سکونت اختیار کی۔
آپ سن 252 ہجری قمری / 866 عیسوی میں وفات پا گئے اور وہیں دفن ہوئے۔ آپ کا مزار آج بھی اہم اور معروف زیارتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔
آج کی دنیا میں، جہاں ہمیں غلط معلومات، فوری اور غیر ذمہ دارانہ آراء، اور مختلف معیار کے دینی مواد کا سامنا ہے، سید عبدالعظیم حسنیؒ کی زندگی اور شخصیت ہمیں تحقیق شدہ اور معتبر علم، علمی تواضع، اور قابلِ اعتماد اساتذہ و رہنماؤں سے استفادہ کرنے کی اہمیت یاد دلاتی ہے۔
آج کا پیغام:
ایمان کو محض بغیر سمجھے بوجھے وراثت میں حاصل نہ کریں؛ بلکہ صحیح، مستند اور مضبوط علم کی تلاش کریں، اور خود بھی دوسروں کے لئے ایک قابلِ اعتماد رہنما بننے کی کوشش کریں۔
اتوار، 8 ربیع الثانی: امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت :
امام حسن عسکری علیہ السلام شیعوں کے گیارہویں امام اور امام علی ہادی علیہ السلام کے فرزند تھے۔ آپ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سامرّاء میں عباسی حکومت کی سخت نگرانی میں گزارا اور سن 260 ہجری قمری / 874 عیسوی میں دنیا سے رخصت ہوئے۔
ایک ایسے دور میں جب سیاسی دباؤ، فکری انتشار، سماجی پابندیاں اور شخصی آزادیوں پر قدغنیں موجود تھیں، امام حسن عسکری علیہ السلام نے شعوری ایمان، اخلاقی طرزِ عمل اور ذمہ دارانہ سماجی تعلقات پر خاص زور دیا۔
آپؑ کے مشہور ارشادات میں سے ایک یہ ہے:
كَفَاكَ أَدَبًا تَجَنُّبُكَ مَا تَكْرَهُ مِنْ غَيْرِكَ
"تمہارے حسنِ اخلاق کے لئے یہی کافی ہے کہ تم دوسروں کے ساتھ وہ کام کرنے سے اجتناب کرو جسے تم یہ پسند نہیں کرتے کہ دوسرے تمہارے ساتھ انجام دیں۔” (بحار الأنوار، ج 78، ص 377)
آج کا پیغام:
ہماری عبادت اور دینداری ہمیں سوچنے والا، اخلاقی اعتبار سے ذمہ دار اور فکری طور پر بیدار انسان بنائے؛ ایسا نہ ہو کہ دین صرف چند عادات اور مذہبی رسوم و مناسک تک محدود ہو کر رہ جائے۔
پیر، 21 ستمبر: عالمی یومِ امن:
اقوامِ متحدہ کا عالمی یومِ امن ہر سال 21 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔سن 2026 کا موضوع ہے:
“Invest in Peace: For Everyone, Everywhere, Every Day”
یعنی: ’’امن و سلامتی کے ساتھ سرمایہ کاری کریں: ہر ایک کے لئے ، ہر جگہ، ہر روز۔‘‘
یہ پیغام اس حقیقت پر زور دیتا ہے کہ امن صرف حکومتوں اور سفارت کاروں کے ذریعے قائم نہیں ہوتا، بلکہ عام لوگ بھی اپنے کلاس رومز، محلّوں اور معاشروں میں امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اسلامی نقطۂ نظر سے امن محض جنگ کے نہ ہونے کا نام نہیں، بلکہ اس کا گہرا تعلق عدل، انسانی کرامت، مصالحت اور اختلافات کے ذمہ دارانہ انتظام سے ہے۔
قرآنِ کریم اصلاح اور مصالحت کو اہلِ ایمان کی سماجی ذمہ داریوں کے مرکز میں قرار دیتا ہے:
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
’’مومنین تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘
( سورۂ حجرات، آیت 10)
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ امن کو محض ایک نعرے یا سالانہ تقریب تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ امن کو ہمارے گھروں، خاندانوں، مدارس، مساجد، کام کی جگہوں اور آن لائن فضا میں عملی صورت اختیار کرنی چاہیے؛ اور یہ عدل، ضبطِ نفس، مکالمے، معافی اور مصالحت کے ذریعے ممکن ہے۔
آج کا پیغام:
ہر روز امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں؛ اور اس کا آغاز اپنے بولنے کے انداز، اختلاف کرنے کے طریقے، معاف کرنے کی صلاحیت اور اپنے اردگرد کے لوگوں کے ساتھ برتاؤ سے کریں۔
منگل، 10 ربیع الثانی:حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی وفات :
حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا، امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی دختر اور امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی بہن تھیں۔
آپ نے خراسان کی جانب سفر کیا، لیکن ساوہ پہنچنے پر بیمار ہو گئیں۔ اس کے بعد آپ کو قم لے جایا گیا، جہاں آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام عبادت، دعا اور مناجات میں گزارے۔
آپ سن 201 ہجری قمری میں قم میں وفات پا گئیں اور وہیں سپردِ خاک ہوئیں۔
حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی میراث علم، عبادت، استقامت اور شہرِ قم کی روحانی و علمی ترقی کے ساتھ گہری وابستگی رکھتی ہے۔ صدیوں کے دوران آپ کے روضۂ مبارک کے گرد شہرِ قم اسلامی تعلیم اور دینی علوم کے اہم ترین مراکز میں سے ایک بن گیا۔
شیعہ مصادر میں منقول روایات بھی آپ کی بلند روحانی عظمت اور مقام و مرتبے پر خصوصی تأکید کرتی ہیں۔
آج کا پیغام:
علم، عبادت اور اخلاقی کرامت کو ایک دوسرے کے ساتھ قدر کی نگاہ سے دیکھیں، اور روحانی اور فکری طور پر صحت مند معاشروں کی تعمیر میں خواتین کے بنیادی اور مؤثر کردار کو تسلیم کریں۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

