سدا بہار قرآنی کہانیاں – جلد 03 شمارہ 37
قومِ ثمود کا انجام: ایک معاشرے کے زوال کی داستان
شمارہ 111 میں، حضرت صالحؑ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹے جانے کی مناسبت سے ہم نے حضرت صالحؑ اور قومِ ثمود کی داستان بیان کی تھی۔ اس مرتبہ، اس قوم پر عذاب کے نزول کی مناسبت سے، جو اس جرم کے ارتکاب کے تقریباً پانچ ہفتے بعد پیش آیا، ہم اس واقعے کو ایک سماجی اور معاشرتی زاولئے سے دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ آخر وہ کون سے عوامل تھے، جن کے سبب، اتنی عظیم تہذیب ، زوال سے دوچار ہوگئ۔
ایک ایسے شہر میں جہاں گھر مٹی پر نہیں بلکہ پہاڑوں کی سخت چٹانوں کے اندر تراشے جاتے تھے، لوگوں کو گمان تھا کہ انہیں شکست دینا ممکن نہیں۔ ثمود کی تہذیب اپنی انجینئرنگ اور تعمیراتی عظمت کے عروج پر تھی؛ بلند عمارتیں، سرسبز باغات، بہتے چشمے اور ایسی قناتیں جو پہاڑوں کے اندر زندگی کی رگوں کی طرح رواں تھیں۔
لیکن اس چمکتی ہوئی ظاہری عظمت کے نیچے ایک دوسرا شہر بھی موجود تھا؛ ایک ایسا شہر جو ظاہری قوانین کے بجائے پوشیدہ طاقت کے خطوط پر چلایا جا رہا تھا۔
قومِ ثمود کی تباہی کی داستان، کسی ہولناک صاعقے کی داستان بننے سے پہلے، ایک معاشرے کے اپنی اجتماعی ارادے کو اس وقت کےسب سے زیادہ دنیا پرست ’’ نو امیروں”کے حوالے کر دینے کی کہانی ہے؛ ایسے نو بااثر، صاحبِ ثروت اور طاقت ور افراد، جو خود تلوار اٹھائے بغیر اور شہر کے منبر پر خطاب کیئے بغیر لوگوں کے ذہنوں اور طرزِ عمل کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیتےتھے۔
جب بھی حضرت صالحؑ، جو ایک خیر خواہ اور دور اندیش رہنما تھے، لوگوں کو پانی کی منصفانہ تقسیم، کمزوروں کے ساتھ مہربانی اور اسراف ترک کرنے کی دعوت دیتے، یہ نو افراد سرگرم ہو جاتے۔
وہ لوگوں کے درمیان افواہیں پھیلاتے:
’’صالح تمہاری آسائش چھیننا چاہتا ہے!‘‘
’’وہ ہماری ترقی اور تہذیب کو پیچھے لے جانا چاہتا ہے!‘‘
انہوں نے الزام تراشی، منفی پروپیگنڈے اور حقیقت کو الٹ کر پیش کرنے کے ذریعے ایسا ماحول بنا دیا کہ عام لوگ اپنے خیر خواہ نبی ہی کو رکاوٹ اور بدشگون سمجھنے لگے۔
پانی؛ شہر کا سب سے بڑا امتحان
اس معاشرے کا سب سے بڑا امتحان پانی تھا۔ صحرا میں پانی زندگی کی شہ رگ تھا، لیکن ا شہر کے امیروں نے ق نہروں اور آبی وسائل کو اپنے ذاتی باغات اور مفادات کے لئے تقریباً مخصوص کر رکھا تھا۔
جب حضرت صالحؑ نے پانی کی منصفانہ تقسیم کا ایسا نظام پیش کیا جس میں معاشرے کے سب سے کمزور افراد، بلکہ جانوروں تک کے حق کو تسلیم کیا گیا، تو پسِ پردہ طاقت رکھنے والے طبقے نے اس مساوات کو اپنے اثر و رسوخ کے لئے خطرہ سمجھا۔
وہ پوشیدہ افراد خود سامنے نہیں آئے۔ انہوں نے ایک کم ظرف مگر شہرت اور مقام کے بھوکےشخص ت کو آگے کردیا؛ ایک ایسا آدمی جو جارح مزاج تھا اور معاشرے کے بڑے لوگوں کی تعریف و توجہ کا بھوکا تھا۔
جھوٹے وعدوں اور مصنوعی تعریفوں کے ذریعے اسے اس بات پر ابھارا گیا کہ پانی کی منصفانہ تقسیم کی سب سے بڑی علامت اور انکے راستےمیں کھڑی سب سے بڑی رکاوٹ، ناقۂ صالح ہے، جس کو راستے سے ہٹا دینا ضروری ہے۔ اور اس بدبخت شخص نے اپنے آقاؤں کے کہنے پر وہ عظیم جرم کا ارتکاب کیا اور اس طرح حضرت صالحؑ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی گئیں۔
لیکن اصل المیہ صرف یہ قتل نہیں تھا، بلکہ لوگوں کی خاموشی تھی۔ اسی شہر کے وہ لوگ جو بڑے بڑے پہاڑ تراشتے اور عظیم تعمیرات بناتے تھے، کھڑے دیکھتے رہے۔ انہوں نے جرم کو نظر انداز کر دیا، کیونکہ انہیں یہ باور کرا دیا گیا تھا کہ ان کی ظاہری خوش حالی انہی نو پوشیدہ طاقتوں کی اطاعت سے وابستہ ہے۔ اپنی خاموشی کے ذریعے انہوں نے گویا جرم میں شرکت کی دستاویز پر دستخط کر دلئے ۔
پہاڑوں کے اندر تراشے گئے سنگی گھر اور مضبوط چھتیں ایسے معاشرے کو نہیں بچا سکیں جو اندر سے کھوکھلا ہو چکا تھا۔
جب زوال کی آواز بلند ہوئی تو وہ سخت چٹانیں بھی ان لوگوں کی پناہ نہ بن سکیں جنہوں نے اپنی فکر اور فیصلہ سازی کا اختیار بدکردار اور پوشیدہ طاقتوں کے حوالے کر دیا تھا۔
صاعقے کی ہولناک آواز اس داستان کا صرف اختتام نہیں تھی؛ بلکہ وہ پردہ ہٹنے کا لمحہ تھا جس نے ایک ایسی تہذیب کی حقیقت ظاہر کر دی جو ظلم، اجارہ داری اور اجتماعی بے حسی پر قائم تھی۔
جب مدائنِ صالح کی سنگی دیواریں لرز اٹھیں اور وہ نو پوشیدہ سائے ان لوگوں کے ساتھ ہلاک ہوئے جو ان کے فریب میں آ گئے تھے، تو اس سرزمین پر ایک تلخ غروب چھا گیا۔
اس عظیم انجینئرنگ اور تمدنی شان و شوکت میں سے آخرکار صرف ایک بھاری خاموشی اور خاموش سنگی آثار باقی رہ گئے۔
حضرت صالحؑ ایک بلند مقام پر کھڑے اس شہر کے کھنڈرات کو دیکھ رہے تھے جو کبھی فخر سے آسمان کو للکارتا تھا۔
آپؑ نے خالی گھروں اور بکھری چٹانوں کی طرف رخ کیا اور گہرے افسوس کے ساتھ فرمایا:
’’اے میری قوم! میں نے اپنے پروردگار کا پیغام تمہیں پہنچایا اور تمہاری خیر خواہی کی… لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے تھے۔‘‘
اس داستان کا سب سے بڑا سبق
معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری اور فاسد رہنماؤں کی پیروی کے بہانے عوام کو ذمہ داری سے بری نہ سمجھنا، قرآن اور شیعہ تعلیمات کے نہایت اہم اصولوں میں سے ہے۔
قرآن عام لوگوں کو ہمیشہ بے قصور اور مظلوم قرار نہیں دیتا، بلکہ بعض حالات میں انہیں جرم میں براہِ راست شریک قرار دیتا ہے۔
1۔ قلبی رضامندی؛ گناہ میں شرکت کے مترادف ہے
روایات میں آیا ہے:
’’جو شخص کسی عمل پر راضی ہو، وہ اس عمل کے کرنے والے کی مانند ہے۔‘‘
قومِ ثمود کے واقعے میں اونٹنی کا براہِ راست قاتل ایک شخص تھا، اور اصل محرک وہ نو افراد تھے؛ لیکن قرآن قتل کے فعل کو پوری قوم کی طرف منسوب کرتا ہے:
«فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُوا نَادِمِينَ»
’’پس انہوں نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں، پھر پشیمان ہوئے۔‘‘
یعنی قرآن نے فعل کو جمع کے صیغے میں بیان کیا: ’’انہوں نے اسے قتل کیا۔‘‘
امیرالمؤمنین حضرت علیؑ بھی فرماتے ہیں:
’’قومِ ثمود کی اونٹنی کو ایک شخص نے قتل کیا، لیکن چونکہ سب لوگ اس عمل پر راضی تھے، اس لئے اللہ نے سب کو عذاب میں شریک کر دیا۔‘‘
2۔ اندھی تقلید کا عذر قابلِ قبول نہیں
قرآن قیامت کے ایسے مناظر بیان کرتا ہے جہاں پیروکار اپنی گمراہی کی ذمہ داری فاسد رہنماؤں پر ڈالنے کی کوشش کریں گے، لیکن جواب واضح ہوگا: انسان کی عقل اور ارادے کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔ فاسد لوگوں کی پیروی بھی بالآخر ایک شخصی اور شعوری انتخاب ہوتاہے۔
3۔ ’’استخفاف‘‘؛ کا مطلب ، فکروشعور کو ہلکا کر دینا ہے
قرآن فرعون کے بارے میں فرماتا ہے کہ اس نے اپنی قوم کو ذہنی طور پر ہلکا اور بے وزن کر دیا، پھر وہ اس کی اطاعت کرنے لگے۔
یہی اصول قومِ ثمود پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
فاسد رہنما صرف اسی وقت کامیاب ہوتے ہیں جب لوگ فکرو شعور سے کام لئے بغیر خود اپنے اندر گمراہی قبول کرنے کی زمین ہموار کر چکے ہوں۔
4۔ ظلم کے سامنے خاموشی؛ ایک مستقل جرم ہے
امام صادقؑ فرماتے ہیں:
’’ظلم کرنے والا، اس کی مدد کرنے والا اور اس ظلم پر راضی رہنے والا، تینوں شریک ہیں۔‘‘
قومِ ثمود کے لوگوں کو اس لئے عذاب کا سامنا کرنا پڑا کہ:
- انہوں نے ان نو مفسد افراد کے مقابلے میں قیام نہیں کیا؛
- قلیل مدتی آسائش کو عدل پر ترجیح دی؛
- معاشرے کی طاقت ایک فاسد اقلیت کے حوالے کر دی۔
اختتامی کلمات
قومِ ثمود کا انجام تاریخ کے لئے ایک دائمی سبق ہے:
- عظیم ترین انجینئرنگ اور مضبوط ترین عمارتیں بھی اگر ظلم اور اجارہ داری پر قائم ہوں تو تنکے سے زیادہ کمزور ثابت ہو سکتی ہیں۔
- تہذیبیں محض وسائل سے نہیں، اخلاق سے زندہ رہتی ہیں۔
- قومِ ثمود اس لئے تباہ نہیں ہوئی کہ وہ پہاڑ تراشنا نہیں جانتی تھی؛ وہ اس لئے زوال کا شکار ہوئی کہ اس نے آزادانہ سوچنے کی قوت کھو دی تھی۔
- تاریخ کے آخری فیصلے میں جرم کرنے والے اور وہ لوگ جو خاموشی اور رضامندی کے ساتھ جرم کو دیکھتے رہتے ہیں، ایک ہی صف میں کھڑے ہو سکتے ہیں۔
سورج ایک ایسی سرزمین پر طلوع ہوا جہاں اب کوئی آواز باقی نہ تھی۔
وہ سرزمین اس حقیقت کی گواہ بن گئی کہ اگر کسی معاشرے سے عدل، اخلاق اور اجتماعی بصیرت رخصت ہو جائے تو سخت ترین چٹانیں بھی اسے زوال سے نہیں بچا سکتیں۔
داستان اور تجزلئے کے قرآنی منابع
- ’’تِسْعَةُ رَهْطٍ‘‘ — نو مفسد افراد/گروہوں اور ان کی پوشیدہ سازش کا واقعہ: سورۂ نمل، آیات 45 تا 53
قرآن شہر میں نو مفسد افراد یا گروہوں کی موجودگی کو صراحت سے بیان کرتا ہے:
«وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ»
’’اور شہر میں نو افراد کا ایک گروہ تھا جو زمین میں فساد کرتا تھا۔‘‘
اسی مقام پر حضرت صالحؑ اور ان کے اہلِ خانہ کو رات کے وقت قتل کرنے کی خفیہ سازش کا بھی ذکر ہے:
«تَقَاسَمُوا بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ»
’’انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر باہم عہد کیا کہ ہم رات کے وقت صالح اور ان کے گھر والوں پر حملہ کریں گے۔‘‘
ان آیات میں قتل کی سازش اور اس کے بعد حقیقت چھپانے کے منصوبے کا بھی ذکر موجود ہے۔
- آبی وسائل اور ناقہ کا امتحان: سورۂ شعراء، آیات 153 تا 156
پانی کی تقسیم کے بارے میں فرمایا گیا:
«لَهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ»
’’اس کے لئے پانی پینے کا ایک دن ہے اور تمہارے لئے بھی ایک مقرر دن۔‘‘
یہ حکم معاشرے کے ایک حساس مسئلے، یعنی حیاتیاتی وسائل پر اجارہ داری، کو چیلنج کرتا تھا۔
سورۂ قمر، آیات 27 و 28
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ»
’’اور انہیں بتا دو کہ پانی ان کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے۔‘‘
- پہاڑ تراشنے کی ٹیکنالوجی اور جھوٹا احساسِ تحفظ: سورۂ حجر، آیات 73 تا 79
قومِ ثمود کے بارے میں فرمایا گیا:
«وَكَانُوا يَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا آمِنِينَ»
’’وہ پہاڑوں کو تراش کر امن و اطمینان کے ساتھ گھر بناتے تھے۔‘‘
یہ ان کے تعمیراتی کمال اور مادی تحفظ کے احساس کو ظاہر کرتا ہے۔
سورۂ شعراء، آیات 146 تا 149
ان آیات میں ثمود کی مادی خوش حالی، باغات، چشموں اور پہاڑوں میں تراشے گئے گھروں کا ذکر کیا گیا ہے۔
- ایک فرد کے جرم کو پوری قوم سے منسوب کرنا: سورۂ شعراء، آیت 157
قرآن فرماتا ہے:
«فَعَقَرُوهَا»
’’پس انہوں نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔‘‘
یہاں فعل جمع کے صیغے میں پوری قوم کی طرف منسوب ہوا ہے، جسے مفسرین اجتماعی رضامندی اور شرکت کے مفہوم سے جوڑتے ہیں۔
حدیثی اور روائی منابع
- اجتماعی عذاب اور عوام کی ذمہ داری — نہج البلاغہ، خطبہ 201:
متن: «إِنَّمَا عَقَرَ نَاقَةَ ثَمُودَ رَجُلٌ وَاحِدٌ فَعَمَّهُمُ اللَّهُ بِالْعَذَابِ لَمَّا عَمُّوهُ بِالرِّضَا…»
مفہوم: قومِ ثمود کی اونٹنی کو ایک شخص نے قتل کیا، لیکن چونکہ پوری قوم اس عمل پر راضی تھی، اس لئے عذاب سب کو اپنی لپیٹ میں لے گیا۔
منبع: نہج البلاغہ، سید رضی، خطبہ 201؛ نیز بحار الأنوار، ج 21، ص 86۔
- قدار بن سالف اور مفسد اشرافیہ کی تحریک: بعض روایات میں امام علیؑ اور امام صادقؑ نے قدار بن سالف کو ’’أشقى الأوّلين‘‘ یعنی گزشتہ اقوام کے بدبخت ترین افراد میں سے قرار دیا ہے، اور یہ بیان ہوا ہے کہ اسے قوم کے بااثر لوگوں نے مادی وعدوں کے ذریعے اس جرم پر آمادہ کیا۔
منابع: تفسیر العیاشی، ج 2، ص 283؛ کمال الدین و تمام النعمة، شیخ صدوق، ج 1، ص 136۔
- ظلم میں قلبی رضامندی اور خاموشی کی شرکت
روایت: «الْعَامِلُ بِالظُّلْمِ وَالْمُعِينُ لَهُ وَالرَّاضِي بِهِ شُرَكَاءٌ ثَلَاثَةٌ»
’’ظلم کرنے والا، ظلم میں اس کی مدد کرنے والا اور اس ظلم پر راضی رہنے والا، تینوں شریک ہیں۔‘‘
منابع: الکافی، ثقة الاسلام کلینی، ج 2، ص 333؛ وسائل الشیعة، شیخ حر عاملی، ج 16، ص 137۔
- نو مفسد افراد کے نام اور تفصیلات: بعض تفسیری روایات میں ان نو افراد کے نام اور خصوصیات بھی بیان ہوئی ہیں اور انہیں قومِ ثمود کے بااثر اشراف اور قبائلی سرداروں میں شمار کیا گیا ہے۔
منابع: تفسیر القمی، علی بن ابراہیم قمی، ج 2، ص 123؛ بحار الأنوار، علامہ مجلسی، ج 11، ص 381۔
تفسیری، سماجی اور نفسیاتی تجزیاتی منابع
- المیزان فی تفسیر القرآن — علامہ طباطبائی: ج 3، سورۂ اعراف کی متعلقہ آیات کے ذیل میں؛ اور ج 15، سورۂ نمل کی آیات کے ذیل میں۔ ان مقامات پر ’’رہط‘‘ کے مفہوم، اشرافیہ کی جانب سے عوامی ذہن سازی اور فاسد بااثر طبقات کے ذریعے معاشرے کی فکری سمت بدلنے کے پہلوؤں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔
- تفسیر نمونہ — آیت اللہ مکارم شیرازی و دیگر محققین: ج 15، سورۂ نمل، آیات 45 تا 53 کے ذیل میں۔
ان آیات کی تفسیر میں پوشیدہ سازشوں، فساد پر مبنی گروہی اتحاد، شخصیت کشی، پروپیگنڈے اور عوامی افکار کو منحرف کرنے جیسے پہلوؤں پر بحث کی گئی ہے۔
- قرآنی قصص کی سماجیات اور تاریخی سنتیں: کتاب: سنتهای تاریخ در قرآن — شہید آیت اللہ سید محمد باقر صدر
اس کتاب میں شہید صدر نے قرآن کی روشنی میں تاریخی سنتوں، مادی اور تکنیکی ترقی رکھنے والی تہذیبوں کے زوال، اور معاشروں کی بے عملی و انفعال کے کردار پر تفصیلی بحث کی ہے؛ جسے قومِ ثمود جیسے واقعات کے فہم میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

