اداریہ – جلد 03 شمارہ 37

Editorial - volume 03 Issue 37
Last Updated: ستمبر 10, 2026By Categories: اداریہ0 Comments on اداریہ – جلد 03 شمارہ 370 min readViews: 5

جب ہفتہ آئینہ بن جائے: رحمت، تعلیم اور عدل کی محتاج دنیا کے لئے چند  اسباق

تمہید

ایک نیا ہفتہ صرف نئی تاریخیں ہی اپنے ساتھ نہیں لاتا، بلکہ ہمیں نئے مواقع بھی فراہم کرتا ہے کہ ہم ایمانِ خدا کی روشنی میں دنیا اور اپنے حالات کا ازسرِنو جائزہ لیں۔ اس ہفتے جن واقعات اور مناسبتوں کو یاد کیا جاتا ہے—حضرت صالحؑ کی قوم کے انجام سے لے کر تعلیم کے تحفظ، خودکشی کی روک تھام اور جمہوریت تک—وہ مسلمانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ اسلام کے ابدی اصولوں کو عصرِ حاضر کے اخلاقی چیلنجوں سے جوڑ کر دیکھیں۔

9 ستمبر: تعلیم کو مختلف حملوں سے محفوظ رکھنے کا عالمی دن

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 9 ستمبر کو ’’تعلیم کو حملوں سے محفوظ رکھنے کا عالمی دن‘‘ قرار دیا ہے۔ اس دن کا مقصد ایک مرتبہ پھر تعلیم کے حق اور محفوظ تعلیمی ماحول کی ضرورت پر زور دینا ہے، خصوصاً مسلح تنازعات اور انسانی ہنگامی حالات کے دوران۔

اقوامِ متحدہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تعلیم کا تحفظ صرف اسکولوں اور تعلیمی عمارتوں کی حفاظت تک محدود نہیں، بلکہ اس میں بچوں، اساتذہ اور معاشروں کے مستقبل کا تحفظ بھی شامل ہے۔ تاہم اس سلسلے میں ایک اہم سوال ان دوہرے معیارات سے متعلق ہے جو بعض اوقات اختیار کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، میناب میں ایک اسکول حملے کا نشانہ بنتا ہے اور بڑی تعداد میں طلبہ جاں بحق ہو جاتے ہیں، لیکن بین الاقوامی اداروں کی جانب سے کوئی مؤثر اور اس سانحے کے شایانِ شان احتجاجی ردِعمل دیکھنے میں نہیں آتا۔

آج کا پیغام:

الٰہی اقدار سے سرشار تعلیم، انسانی زندگی کی مقدس ترین اور سب سے قیمتی کاوشوں میں سے ایک ہے۔ تعلیم کا احترام کیا جانا چاہیے، اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے اور اس کی حفاظت کی جانی چاہیے۔ 

28  ربیع الاول: قومِ حضرت صالحؑ پر عذاب

قومِ ثمود اس علاقے میں آباد تھی جسے ’’الحِجر‘‘ کہا جاتا تھا، اور حضرت صالحؑ کو ان کی ہدایت کے لئے  مبعوث کیا گیا تھا۔ آپؑ نے انہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور فساد و ظلم سے دور رہنے کی دعوت دی۔ لیکن جب انہوں نے آپؑ کی دعوت کو مسترد کر دیا اور اللہ کی نشانی، یعنی ناقۂ صالح (مادہ اونٹنی)، پر دست درازی کی تو وہ عذابِ الٰہی میں گرفتار ہو گئے، جبکہ حضرت صالحؑ اور آپؑ کے ساتھ ایمان لانے والے لوگ نجات پا گئے۔

آج کا پیغام:

طاقت اور خوش حالی کو حقانیت اور درست کردار کی علامت نہ سمجھیں۔ معاشرے اس وقت تک  تباہی سے محفوظ رہتے ہیں جب  تک ان کے افراد ظلم اور احکامِ الٰہی کی نافرمانی کے کے خلاف کھڑے  رہتے ہیں،  اور اگر ظلم  اور معاشرے میں پنپنے والی برائیوں کو دیکھ کر بھی خاموش رہ جاتے ہیں تو وہی برائیاں اجتماعی تباہی کا سبب بن جاتی ہیں۔ 

10 ستمبر: خودکشی کی روک تھام کا عالمی دن

خودکشی کی روک تھام کا عالمی دن ہر سال 10 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا، خودکشی اور ذہنی مسائل سے وابستہ سماجی بدنامی اور منفی رویّوں کو کم کرنا، اور اس حقیقت کی بنیاد پر عملی اقدامات کی ترغیب دینا ہے کہ خودکشی سے بچاؤ ممکن ہے۔

سال 2026 کی مہم بھی ’’خودکشی کے بارے میں بیانیے کو تبدیل کرنا‘‘ کے عنوان سے جاری ہے، جس میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ خودکشی کی روک تھام اور ذہنی صحت کو عوامی پالیسیوں اور سماجی اقدامات میں ترجیح دی جائے۔

خودکشی کے مسئلے کے بارے میں اسلام کا نقطۂ نظر محض اس کے ظاہری نتیجے یا علامات سے مقابلہ کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اسلام ان بنیادی اسباب اور عوامل پر بھی توجہ دیتا ہے جو انسان کو اس انتہائی قدم تک پہنچا سکتے ہیں۔

اسلام انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ پر ایمان کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے ذریعے اسے زندگی کی مشکلات اور آزمائشوں کے مقابلے میں صبر، استقامت اور قوتِ برداشت عطا کرتا ہے۔ اسلام انسانوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ زندگی کی سختیوں کو ٹوٹ جانے، مایوس ہونے اور بکھر جانے کا سبب نہ سمجھیں، بلکہ انہیں مزید مضبوط بننے اور مستقبل سے امید وابستہ رکھنے کے مواقع کے طور پر دیکھیں۔

قرآنِ کریم اس حقیقت کو نہایت خوب صورتی سے بیان کرتا ہے:

إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا

’’بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘
(سورۂ شرح، آیت 6)

آج کا پیغام:

اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے ایمان کو مضبوط بنائیں، تاکہ جسمانی اور ذہنی طور پر زیادہ صحت مند اور مضبوط زندگی گزار سکیں۔ 

15 ستمبر: جمہوریت کا عالمی دن

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 15 ستمبر کو ’’جمہوریت کا عالمی دن‘‘ قرار دیا ہے۔

آج کی دنیا کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جمہوریت جیسے تصورات بعض اوقات طاقت ور قوتوں کے ہاتھوں ایسے ذرائع میں تبدیل ہو جاتے ہیں جن کے ذریعے وہ اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرتے اور مختلف معاشروں کو اپنے مفادات کے لئے  استعمال کرتے ہیں۔

اسلام اجتماعی اور سماجی امور کے مرکز میں نہایت مضبوط اخلاقی اصول رکھتا ہے، جن میں عدل، جواب دہی، مشاورت اور استبداد کی نفی شامل ہیں۔

قرآنِ کریم ان اہلِ ایمان کی تعریف کرتا ہے جو اپنے معاملات باہمی مشورے سے انجام دیتے ہیں:

وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ

’’اور وہ لوگ جو اپنے پروردگار کی دعوت قبول کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، ان کے معاملات آپس کے مشورے سے انجام پاتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘
(سورۂ شوریٰ، آیت 38)

آج کا پیغام:

اپنے خاندانوں، مدارس، اسکولوں، مساجد اور معاشروں میں شورا اور باہمی مشاورت کی ثقافت کو فروغ دیں، اور اجتماعی شرکت کو عدل، حق، سچائی اور احساسِ ذمہ داری کے اصولوں کے تحت آگے بڑھنے دیں۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔