موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 37

Topic of the Week - Volume 03 Issue 37
Last Updated: ستمبر 10, 2026By Categories: موضوعِ ہفتہ0 Comments on موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 370 min readViews: 5

جب واپسی کا موقع ختم ہو جاتا ہے؛

حضرت صالحؑ کی قوم کے انجام اور عذابِ الٰہی کی حکمت کاایک جائزہ

سید  ہاشم  موسوی

مقدمہ

بعض تقاویم اور دینی تحریروں میں 28 ربیع الاول کو قومِ حضرت صالحؑ پر عذاب نازل ہونے کا دن قرار دیا گیا ہے، اگرچہ قرآنِ کریم میں اس دن کی قطعی تعیین موجود نہیں اور اسے یقینی طور پر کسی معتبر تاریخی یا روائی ماخذ سے منسوب کرنے کے لئے  مزید واضح سند درکار ہے۔ تاہم یہ مناسبت ہمیں ایک قیمتی موقع فراہم کرتی ہے کہ قرآنِ کریم کے عبرت انگیز ترین واقعات میں سے ایک کا ازسرِنو مطالعہ کریں۔

اس داستان کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ ماضی میں ایک قوم عذابِ الٰہی کا شکار ہوئی، بلکہ قرآن اس واقعے کے ذریعے طاقت اور ذمہ داری، نعمت اور ناشکری، فرد کے گناہ اور اجتماعی رضامندی، توبہ کے مواقع اور مہلت کے اختتام کے درمیان تعلق کے بارے میں ایک دائمی قانون بیان کرتا ہے۔ قومِ ثمود کوئی پسماندہ اور کمزور قوم نہ تھی۔ وہ ایک خوش حال تہذیب، حیرت انگیز تعمیراتی مہارت اور وسیع مادی امکانات کی حامل تھی۔ لیکن جب مادی طاقت کے ساتھ اخلاقی فساد اور حق کے مقابلے میں ہٹ دھرمی جمع ہو گئی تو ان کا مضبوط اور شاندار تمدن بھی انہیں زوال اور تباہی سے نہ بچا سکا۔

قومِ ثمود؛ مضبوط تہذیب، کمزور بنیادیں

قومِ ثمود، قومِ عاد کے بعد، ’’حِجر‘‘ نامی علاقے میں آباد تھی۔ قرآنِ کریم پہاڑوں کو تراش کر مضبوط مکانات تعمیر کرنے میں ان کی مہارت کا ذکر کرتا ہے:

«وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِهِينَ»

’’اور تم بڑی مہارت کے ساتھ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو۔‘‘
(سورۂ شعراء: 149)

وہ سرسبز باغات، چشموں، کھیتوں اور آباد نخلستانوں سے بہرہ مند تھے۔ لیکن یہ نعمتیں ان کے لئے  شکر اور بندگی کا ذریعہ بننے کے بجائے بہت سے لوگوں میں احساسِ بے نیازی، برتری پسندی اور سرکشی پیدا کرنے لگیں۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت صالحؑ کو، جو انہی میں سے تھے، ان کی ہدایت کے لئے  نبی بنا کر بھیجا۔ حضرت صالحؑ کی دعوت توحید سے شروع ہوئی، لیکن وہ صرف انفرادی عبادت تک محدود نہ تھی۔ آپؑ نے انہیں یاد دلایا کہ اللہ ہی نے انہیں زمین سے پیدا کیا اور اس کی آبادکاری کی ذمہ داری انہیں عطا کی ہے:

«هُوَ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا فَاسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ»

’’وہی ہے جس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور تمہیں اس کی آبادکاری پر مامور کیا؛ پس اس سے مغفرت طلب کرو، پھر اسی کی طرف لوٹ آؤ۔‘‘
(سورۂ ہود: 61)

لہٰذا زمین اور اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانا، ایمان، عدل، دوسروں کے حقوق کی رعایت اور فساد سے اجتناب کے ساتھ ہونا چاہیے۔

حضرت صالحؑ کی رسالت کی صداقت ثابت کرنے کے لئے  ایک اونٹنی کو ’’اللہ کی نشانی‘‘ کے طور پر قوم کے سامنے پیش کیا گیا۔ حضرت صالحؑ نے انہیں خبردار کیا کہ اس جانور کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچائیں اور پانی میں اس کے مقررہ حق کا احترام کریں:

«هَٰذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً ۖ فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللَّهِ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ»

’’یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لئے  ایک نشانی ہے، پس اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں چرتی پھرے، اور اسے کسی برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگانا، ورنہ تمہیں دردناک عذاب آ لے گا۔‘‘
(سورۂ اعراف: 73)

سورۂ شعراء میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ پانی اونٹنی اور قوم کے درمیان تقسیم تھا اور ہر ایک کے لئے  ایک مخصوص دن مقرر تھا۔
(سورۂ شعراء: 155) یہ حکم صرف ایک معجزانہ پہلو نہیں رکھتا تھا، بلکہ ان کی حرص اور زیادتی کو قابو میں رکھنے کا ایک امتحان بھی تھا۔

 سوال یہ تھا کہ کیا وہ اللہ کے حکم کے سامنے اپنے بعض مفادات سے دست بردار ہونے اور کسی دوسری مخلوق کے حق کو تسلیم کرنے کے لئے  تیار ہیں؟

ان کا عملی جواب منفی تھا۔

فساد کرنے والوں کے ایک گروہ نے اونٹنی کی کونچیں کاٹیں اور اسے ہلاک کر دیا۔ قرآنِ کریم سورۂ شمس میں اس عملِ مستقیم کو قوم کے بدبخت ترین شخص سے منسوب کرتا ہے:

«إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا»

’’جب ان میں سب سے زیادہ بدبخت شخص اٹھ کھڑا ہوا۔‘‘

لیکن قرآن ذمہ داری کو پوری قوم کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرماتا ہے:

«فَعَقَرُوهَا»

’’پس انہوں نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔‘‘

یعنی اگرچہ براہِ راست اقدام ایک یا چند افراد نے کیا، لیکن دوسرے لوگ یا تو اس جرم میں شریک تھے یا اس پر راضی تھے۔

امیرالمؤمنین حضرت علیؑ اسی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قومِ ثمود کی اونٹنی کو ایک شخص نے قتل کیا تھا، لیکن چونکہ پوری قوم اس کے عمل سے راضی تھی، اس لئے  عذاب سب کو اپنی لپیٹ میں لے گیا۔

یہ بیان ’’اجتماعی ذمہ داری‘‘ کے ایک نہایت اہم اصول کو واضح کرتا ہے: کبھی خاموشی، حمایت یا اجتماعی رضامندی ایک فرد کے جرم کو پورے معاشرے کا گناہ بنا دیتی ہے۔

اس واقعے کے بعد حضرت صالحؑ نے انہیں تین دن کی مہلت دی:

«تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ذَٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ»

’’اپنے گھروں میں تین دن اور فائدہ اٹھا لو؛ یہ ایسا وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہو گا۔‘‘
(سورۂ ہود: 65)

لیکن انہوں نے توبہ کرنے کے بجائے ایک قدم اور آگے بڑھایا۔ ان میں سے ایک گروہ نے منصوبہ بنایا کہ رات کے وقت حضرت صالحؑ اور آپؑ کے اہلِ خانہ کو قتل کر دے۔ (سورۂ نمل: 48–50)

آخرکار حضرت صالحؑ اور اہلِ ایمان نجات پا گئے اور سرکش لوگ عذاب میں گرفتار ہوئے۔

قرآنِ کریم اس عذاب کے لئے  مختلف تعبیرات استعمال کرتا ہے، جیسے ’’صیحہ‘‘، ’’رجفہ‘‘، ’’صاعقہ‘‘، ’’طاغیہ‘‘ اور ’’دمدمہ‘‘۔ ان تعبیرات کو ایک ہی ہولناک واقعے کے مختلف پہلو قرار دیا جا سکتا ہے: ایک جان لیوا چیخ، زمین کا شدید لرزنا، بجلی یا صاعقہ اور ایک ہمہ گیر تباہی۔

وہ اپنے مضبوط مکانات میں زمین پر ایسے پڑے رہ گئے گویا اس سرزمین میں کبھی آباد ہی نہ تھے۔

عذابِ الٰہی کی حکمت

عذابِ الٰہی کو انسانوں کے جذباتی غصے اور انتقامی رویّوں پر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کی اذیت سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، اور اس کی سزا کسی ضرورت، کینے یا نفسیاتی عقدے سے پیدا نہیں ہوتی۔

گزشتہ امتوں پر نازل ہونے والے فیصلہ کن عذاب، دراصل عدلِ الٰہی کے نفاذ اور ان شعوری انتخابوں کے طبعی اور معنوی نتائج کا ظہور تھے جن پر لوگ اتمامِ حجت کے بعد بھی مسلسل قائم رہے۔

قرآنِ کریم واضح طور پر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو رسول بھیجنے اور حجت تمام کرنے سے پہلے عذاب نہیں دیتا:

«وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا»

’’اور ہم اس وقت تک عذاب دینے والے نہیں جب تک کسی رسول کو نہ بھیج دیں۔‘‘
(سورۂ اسراء: 15)

اسی طرح اللہ تعالیٰ کسی بستی کو اس حالت میں ہلاک نہیں کرتا جب اس کے لوگ اصلاح کرنے والے ہوں:

«وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ»

’’اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم کے ساتھ ہلاک کر دے جبکہ ان کے رہنے والے اصلاح کرنے والے ہوں۔‘‘
(سورۂ ہود: 117)

اس بنیاد پر عذابِ الٰہی کی چند اہم حکمتیں ہیں:

اوّل: ایسے ظلم اور فساد کے مقابلے میں عدل کا نفاذ جو اصلاح کی راہیں بند کر چکا ہو۔

دوم: ایسے مؤمنوں اور مظلوموں کو نجات دینا جن کی زندگی ایک فاسد نظام کے پنجوں میں گرفتار ہو چکی ہو۔

سوم: یہ حقیقت آشکار کرنا کہ طاقت، دولت، ٹیکنالوجی اور ظاہری استحکام ایسے معاشرے کو نہیں بچا سکتے جو اندر سے تباہ ہو چکا ہو۔

چہارم: ایک تاریخی واقعے کو آئندہ نسلوں کے لئے  دائمی تنبیہ اور عبرت میں تبدیل کرنا۔

کیا عذاب انسان سے ہدایت کا موقع چھین لیتا ہے؟

اللہ تعالیٰ کا آخری عذاب کسی قوم کے ساتھ اس کے برتاؤ کا نقطۂ آغاز نہیں ہوتا، بلکہ دعوت، استدلال، معجزات، تنبیہات اور متعدد مہلتوں کے ایک طویل سلسلے کا آخری مرحلہ ہوتا ہے۔

قومِ ثمود نے برسوں حضرت صالحؑ کی باتیں سنیں، اللہ کی نشانیاں دیکھیں، اور یہاں تک کہ اونٹنی کو قتل کرنے کے بعد بھی انہیں مزید تین دن کی مہلت دی گئی۔

لہٰذا ان سے ہدایت کا موقع چھینا نہیں گیا تھا، بلکہ انہوں نے جان بوجھ کر پے در پے ملنے والے مواقع ضائع کیے۔

البتہ جب تک عذاب قطعی طور پر نازل نہ ہو جائے اور اس کا آخری مرحلہ نہ آ پہنچے، توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔

اس کی روشن ترین مثال حضرت یونسؑ کی قوم ہے۔ جب انہوں نے عذاب کی نشانیاں دیکھیں تو بروقت متنبہ ہو گئے، ایمان لے آئے اور اپنی روش بدل دی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب ہٹا لیا:

«لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ»

’’جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیاوی زندگی میں ان سے رسوا کن عذاب دور کر دیا اور ایک مدت تک انہیں فائدہ اٹھانے کا موقع دیا۔‘‘
(سورۂ یونس: 98)

اس کے برعکس، جب موت اور تباہی یقینی طور پر سامنے آ جائے تو اضطراری ایمان حقیقی اور آزادانہ انتخاب نہیں رہتا۔

جیسے فرعون نے ڈوبتے وقت ایمان کا اظہار کیا، لیکن اس مرحلے پر اس کا اقرارِ ایمان کسی آزادانہ معرفت اور شعوری فیصلے کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ ناگزیر انجام کے سامنے بے بسی کی حالت میں کیا گیا اعتراف تھا۔

گزشتہ اقوام کے عذاب یکساں کیوں نہیں تھے؟

تاریخ میں عذابِ الٰہی کی مختلف شکلیں محض اتفاق یا بے حساب طاقت کے استعمال کا نتیجہ نہیں تھیں۔

قرآنی اصولوں کی روشنی میں ہر قوم کا عذاب اس کے جرائم کی نوعیت، جغرافیائی ماحول، سماجی ساخت اور خصوصاً اس غرور اور سرمایۂ تفاخر کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا تھا جس پر وہ نازاں تھی۔

قرآنِ کریم اس سنتِ الٰہی کو نہایت جامع انداز میں یوں بیان فرماتا ہے:

«فَكُلًّا أَخَذْنَا بِذَنبِهِ ۖ فَمِنْهُم مَّنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا وَمِنْهُم مَّنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ وَمِنْهُم مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْأَرْضَ وَمِنْهُم مَّنْ أَغْرَقْنَا ۚ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ»

’’پس ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ کی وجہ سے پکڑا؛ ان میں سے بعض پر ہم نے پتھروں کی بارش برسا دی، بعض کو ہولناک چیخ نے آ لیا، بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور بعض کو غرق کر دیا۔ اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا، بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے تھے۔‘‘
(سورۂ عنکبوت: 40)

جرم اور عذاب کے درمیان مناسبت کے قرآنی شواہد

قرآنی شواہد کا جائزہ لینے سے ’’جرم‘‘ اور ’’عذاب‘‘ کے درمیان پائی جانے والی مناسبت اور ہم آہنگ حکمت مزید واضح ہو جاتی ہے:

قومِ نوحؑ — طوفان میں غرق ہونا

قومِ نوحؑ نے اپنے پیغمبر کی مسلسل تحقیر اور تمسخر کیا، کفر پر اصرار کیا اور بالآخر ایک ایسا فاسد معاشرہ تشکیل دیا جو واپسی اور اصلاح کے راستے سے بہت دور جا چکا تھا۔ (سورۂ ہود: 38)

ان پر عذاب ایک ہمہ گیر طوفان اور موسلادھار بارش کی صورت میں نازل ہوا۔ یوں پانی، جو زندگی کا بنیادی سرچشمہ ہے، اس قوم کے لئے  فنا کا وسیلہ بن گیا جس نے اپنی معنوی زندگی کے تمام مواقع ضائع کر دیے تھے۔ (سورۂ شعراء: 119–120)

قومِ عاد — شدید اور تباہ کن ہوا

قومِ عاد اپنے بلند و توانا جسموں، جسمانی قوت اور مضبوط عمارتوں پر فخر کرتی تھی اور کہتی تھی:

«مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً»

’’ہم سے بڑھ کر طاقت ور کون ہے؟‘‘
(سورۂ فصلت: 15)

اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف، بے وزن اور بظاہر کمزور عنصر یعنی ہوا ہی کو ان کے لئے  عذاب کا ذریعہ بنا دیا۔ وہ ہوا انتہائی شدید، سرد اور تباہ کن بن گئی اور سات راتوں اور آٹھ دنوں تک ان پر مسلط رہی، یہاں تک کہ ان کے بلند و تنومند جسم بوسیدہ کھجور کے تنوں کی طرح زمین پر پڑے رہ گئے۔
(سورۂ حاقہ: 6–7)

قومِ ثمود — پہاڑوں کے اندر صیحہ اور زلزلہ

قومِ ثمود ماہر فن کار اور معمار تھی۔ وہ سخت پہاڑی چٹانوں کو تراش کر محفوظ اور مضبوط گھر بناتی تھی۔
(سورۂ شعراء: 149)

ان کے سنگی اور مستحکم ٹھکانے انہیں ایک جھوٹا احساسِ تحفظ اور غرور عطا کرتے تھے۔ لیکن ان کا عذاب محض کوئی ایسا بیرونی حملہ نہ تھا جو عمارتوں کو گراتا؛ بلکہ ایک ہولناک صوتی اور ارتعاشی ضرب، یعنی صیحہ اور صاعقہ، ان کے وجود کے اندر تک پہنچ گئی اور وہ اپنے انہی بظاہر ناقابلِ تسخیر گھروں میں تباہ ہو گئے۔(سورۂ حجر: 80–83، سورۂ فصلت: 17، سورۂ اعراف: 78)

قومِ لوط  –  بستیوں کا الٹ دیا جانا اور پتھروں کی بارش

قومِ لوط کا طرزِ عمل فطرت سے شدید انحراف اور نظامِ آفرینش کو الٹ دینے کے مترادف تھا۔ اسی مناسبت سے ان کی بستیوں کو الٹ دیا گیا اور پھر ان پر نشان زدہ پکی مٹی کے پتھروں کی بارش برسائی گئی:

«فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنضُودٍ»

’’پھر جب ہمارا حکم آ پہنچا تو ہم نے اس بستی کے اوپر کے حصے کو نیچے کر دیا اور ان پر تہ بہ تہ پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے۔‘‘
(سورۂ ہود: 82)

فرعون اور فرعونی — دریائے نیل میں غرق ہونا

فرعون مصر کے ان دریاؤں پر فخر کیا کرتا تھا جو اس کے زیرِ اقتدار بہتے تھے۔ وہ کہتا تھا:

«أَلَيْسَ لِي مُلْكُ مِصْرَ وَهَٰذِهِ الْأَنْهَارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي»

’’کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں، اور کیا یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں؟‘‘
(سورۂ زخرف: 51)

بالآخر وہی پانی جو اس کی سیاسی اور اقتصادی قوت اور غرور کا سرچشمہ تھا، خود اس اور اس کے لشکر کی قبر بن گیا؛ تاکہ یہ حقیقت آشکار ہو جائے کہ ایک ظالم جس چیز کو اپنی طاقت کا سرچشمہ سمجھتا ہے، وہی اس کی ہلاکت کا وسیلہ بھی بن سکتی ہے۔ (سورۂ بقرہ: 50)

یہ دقیق مناسبت اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ سنتِ الٰہی کے مطابق کبھی وہی چیز جس پر انسان سب سے زیادہ بھروسا اور فخر کرتا ہے، اس کی کامل بے بسی اور تباہی کے ظہور کا میدان بن جاتی ہے۔

عذابِ الٰہی اور موجودہ دور کے قدرتی حوادث میں فرق

اس کے باوجود قرآن و روایات کی منطق ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ عصرِ حاضر میں پیش آنے والے ہر قدرتی حادثے، بیماری، سیلاب، زلزلے یا اجتماعی مصیبت کو فوراً ’’عذابِ الٰہی‘‘ قرار دے دیں۔

گزشتہ اقوام پر نازل ہونے والے عذاب کے حقیقی سبب کی قطعی شناخت صرف وحی اور انبیائے الٰہی کی خبروں کے ذریعے ممکن تھی۔

دوسری طرف، آج پیش آنے والے حوادث کے ایسے متعدد اسباب ہو سکتے ہیں جن کا تعلق براہِ راست عذاب سے نہ ہو۔ قرآنِ کریم بھی بعض دوسرے اسباب کی طرف اشارہ کرتا ہے، مثلاً:

اللہ کی جانب سے انسان کی تربیت اور رشد کے لئے  آزمائش۔ (سورۂ بقرہ: 155)

غلط راستے سے واپسی کے لئے  تنبیہ اور بیداری۔ (سورۂ روم: 41)

انسانی اعمال کے فطری نتائج، جیسے بدانتظامی، ماحول کی تباہی اور انسانی غفلت؛ یا خود زمین اور کائنات کے طبیعی قوانین۔

لہٰذا اسلامی اخلاقی اور فقہی اصولوں کی روشنی میں مصیبت میں گرفتار انسانوں کے بارے میں قطعی فیصلہ کرنا اور بلا کسی شرعی علم اور دلیل کے انہیں ’’عذاب زدہ‘‘ قرار دینا، ایک ناروا تحقیر، اللہ تعالیٰ کی طرف بلا دلیل نسبت اور بذاتِ خود ایک قسم کا ظلم اور بڑا گناہ شمار ہو سکتا ہے۔

امیرالمؤمنین حضرت علیؑ بھی متنبہ کرتے ہیں کہ دوسروں کی مصیبتوں کو اپنی برتری ثابت کرنے یا جلد بازانہ فیصلے کرنے کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔

الٰہی تنبیہات کے مقابلے میں اقوام کے ردِعمل کے نمونے

قرآنِ کریم گزشتہ معاشروں کے رویّوں اور نفسیات کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ بتاتا ہے کہ انبیاء کی تنبیہات اور تکوینی انتباہات کے مقابلے میں مختلف اقوام نے مختلف ردِعمل اختیار کیے۔

یہ فرق اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ انسان الٰہی بیدارباشوں کا کس طرح جواب دیتا ہے، اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ اس کی روح حق سے کتنی ہم آہنگ ہے اور اس میں تکبر غالب ہے یا تواضع۔

پیغمبروں کا مذاق اڑایا جانا اورانہیں حقیرسمجھنا

بعض اقوام نے ابتدا ہی میں انبیاء کی تنبیہات کو بے اہمیت سمجھا اور رسولوں کا مذاق اڑایا۔ قرآن اسے سرکش امتوں میں ایک دیرینہ روش قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے:

«يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ ۚ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ»

’’افسوس ان بندوں پر! ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا مگر یہ کہ وہ اس کا مذاق اڑاتے رہے۔‘‘
(سورۂ یٰس: 30)

قومِ نوح اور قومِ لوط اس رویّے کی نمایاں مثالیں ہیں، جنہوں نے پیغمبروں کی تنبیہات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے انہیں مذاق کا موضوع بنا لیا۔

ناگوار حادثات اور انبیاء کو مصیبت کا ذمہ دار ٹھہرانا

بعض گروہ اپنے اعمال کا جائزہ لینے کے بجائے انبیاء اور اصلاح کرنے والوں ہی کو بدبختی، قحط اور مصائب کا سبب قرار دیتے تھے۔

فرعونیوں نے حضرت موسیٰؑ کے ساتھ یہی رویّہ اختیار کیا۔ جب انہیں خوش حالی اور فراوانی نصیب ہوتی تو اسے اپنا حق سمجھتے، لیکن جب کوئی مصیبت آتی تو کہتے کہ یہ موسیٰؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست کا نتیجہ ہے:

«وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا بِمُوسَىٰ وَمَنْ مَعَهُ»

’’اور اگر انہیں کوئی برائی یا مصیبت پہنچتی تو موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو بدشگون ٹھہراتے۔‘‘
(سورۂ اعراف: 131)

عارضی ایمان اور بار بار عہد شکنی

بعض قومیں بلا کی نشانیاں دیکھ کر وقتی طور پر دعا اور تضرع کرتی تھیں، ایمان اور اصلاح کا وعدہ کرتی تھیں، لیکن جیسے ہی بلا ٹل جاتی، فوراً اپنے سابقہ طرزِ عمل کی طرف پلٹ جاتیں۔

فرعونیوں پر جب یکے بعد دیگرے طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون کی صورت میں بلائیں آئیں تو انہوں نے حضرت موسیٰؑ سے بار بار درخواست کی کہ اللہ سے دعا کریں تاکہ یہ عذاب دور ہو جائے؛ اور وہ ایمان لانے کا وعدہ بھی کرتے تھے۔ لیکن قرآن فرماتا ہے:

«فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ إِلَىٰ أَجَلٍ هُمْ بَالِغُوهُ إِذَا هُمْ يَنْكُثُونَ»

’’پھر جب ہم نے ایک مقرر مدت تک کے لئے  ان سے عذاب ہٹا دیا تو وہ فوراً اپنا عہد توڑ دیتے تھے۔‘‘
(سورۂ اعراف: 135)

سچی خود احتسابی اور اجتماعی توبہ — قومِ یونسؑ

گزشتہ اقوام میں قومِ یونسؑ ایک روشن اور ممتاز استثنا تھی۔

جب انہوں نے عذاب کی نشانیاں دیکھیں تو تکبر اور ضد کے بجائے اپنی غلطی کا اعتراف کیا، تضرع و زاری کی، اپنے برے اعمال کی ذمہ داری قبول کی اور حقیقی توبہ کی۔

قرآنِ کریم اس بے مثال واقعے کو یوں بیان کرتا ہے:

«فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا»

’’پھر کیوں کوئی ایسی بستی نہ ہوئی کہ وہ ایمان لاتی اور اس کا ایمان اسے فائدہ دیتا، سوائے قومِ یونس کے؟ جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیاوی زندگی میں ان سے رسوا کن عذاب دور کر دیا۔‘‘
(سورۂ یونس: 98)

یہ مختلف ردِعمل ثابت کرتے ہیں کہ سخت حوادث اور مصائب بذاتِ خود ہدایت اور بیداری کی مکمل علت نہیں ہوتے، بلکہ وہ صرف ایک ’’موقع‘‘ اور ’’بیدار کرنے والا جھٹکا‘‘ فراہم کرتے ہیں۔ ان کا نتیجہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ انسان کی روحانی اور اخلاقی بنیادیں کیسی ہیں۔

متکبر اور ضدی دل کے لئے  مصیبت کبھی مزید سنگ دلی، دشمنی اور حق سے فرار کا ذریعہ بن جاتی ہے:

«ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِنْ بَعْدِ ذَٰلِكَ»

’’پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے۔‘‘
(سورۂ بقرہ: 74)

لیکن انصاف پسند اور بیدار روح کے لئے  یہی بلا تضرع، سچی خود احتسابی اور جھوٹے غرور کے ٹوٹنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔(سورۂ انعام: 42)

لہٰذا تلخ حوادث اور تنبیہات کو رشد اور نجات کے موقع میں تبدیل کرنے والی اصل چیز یہ ہے کہ انسان دیانت داری سے اپنے اعمال کا جائزہ لے، گزشتہ غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرے، دل سے توبہ کرے اور حالات کی اصلاح کے لئے  عملی قدم اٹھائے۔

یہی وہ عمل تھا جس نے قومِ یونسؑ کو یقینی تباہی کے دہانے سے نکال کر نجات اور فلاح کی طرف پہنچایا۔

قرآن نے ان واقعات کو کیوں بیان کیا ہے؟

قرآنِ کریم روایتی معنی میں محض تاریخ کی کتاب نہیں ہے۔ اسی لئے  وہ ہر واقعے کے تمام نام، تاریخیں اور جغرافیائی تفصیلات بیان نہیں کرتا۔

اس کا بنیادی مقصد انسان کی ہدایت ہے:

«لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِأُولِي الْأَلْبَابِ»

’’یقیناً ان کے واقعات میں اہلِ عقل کے لئے  عبرت ہے۔‘‘
(سورۂ یوسف: 111)

ہر داستان کی تفصیل بھی متعلقہ سورت کے بنیادی پیغام کے مطابق بیان ہوتی ہے۔

سورۂ اعراف میں حضرت صالحؑ، اشرافیہ اور مستضعفین کے درمیان تقابل نمایاں کیا گیا ہے؛ سورۂ ہود میں زمین کی آبادکاری کے ساتھ توبہ کی دعوت پر زور دیا گیا ہے؛ سورۂ نمل میں فساد پھیلانے والے گروہوں کی سازش سامنے آتی ہے؛ سورۂ شمس میں گناہ پر اجتماعی رضامندی کا کردار نمایاں ہوتا ہے؛ اور سورۂ قمر میں آیاتِ الٰہی کی تکذیب کو مرکزِ توجہ بنایا گیا ہے۔

لہٰذا قرآنی داستانوں کی تکرار محض الفاظ اور واقعات کی تکرار نہیں، بلکہ ہر مرتبہ وہ ہدایت، زوال اور معاشروں کے عروج و سقوط کے قوانین کا ایک نیا پہلو ہمارے سامنے پیش کرتی ہے۔

بعد کی امتوں کے لئے  عبرتیں

قومِ ثمود کا واقعہ مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کے لئے  چند مشترک اور دائمی پیغامات رکھتا ہے۔

کوئی بھی تہذیب صرف دولت، ٹیکنالوجی اور مضبوط عمارتوں کی بنیاد پر محفوظ نہیں رہ سکتی۔ زمین کی آبادکاری اگر انسان کی اندرونی اور اخلاقی آبادکاری کے ساتھ نہ ہو تو پائیدار امن پیدا نہیں ہوتا۔

اسی طرح معاشرہ بااثر اور طاقت ور طبقوں کے کھلے فساد کے سامنے خود کو غیر جانب دار قرار نہیں دے سکتا؛ کیونکہ عمومی خاموشی اور رضامندی کبھی ایک محدود گروہ کے جرم کو پورے معاشرے کے مشترکہ انجام میں تبدیل کر سکتی ہے۔

یہ داستان ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ قدرتی وسائل طاقت وروں کی مطلق ملکیت نہیں ہیں۔ پانی، زمین اور دوسری نعمتوں سے فائدہ اٹھانا عدل اور دوسروں کے حقوق کی رعایت کے ساتھ ہونا چاہیے۔

دوسری جانب، خطرے کی نشانیاں ہمیشہ کسی غیر معمولی یا خارق العادت حادثے کی شکل میں ظاہر نہیں ہوتیں۔ کبھی معاشرے میں فساد کا پھیلاؤ، طبقاتی خلیج میں اضافہ، کمزوروں پر ظلم اور عوامی اعتماد کا خاتمہ وہ خطرے کی گھنٹیاں ہوتی ہیں جنہیں اس سے پہلے سن لینا چاہیے کہ حالات ناقابلِ واپسی مرحلے تک پہنچ جائیں۔

قومِ حضرت صالحؑ کی داستان کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سزا دینے سے پہلے مہلت اور موقع دیتا ہے، لیکن یہ مواقع ہمیشہ باقی نہیں رہتے۔

ایک دانش مند معاشرہ خطرے کی نشانیوں کا انکار نہیں کرتا، خیر خواہ اور صالح ناقدین کو دشمن نہیں سمجھتا اور توبہ و اصلاح کو تباہی کے آخری لمحے تک مؤخر نہیں کرتا۔

قومِ یونسؑ نے ثابت کر دیا کہ حتیٰ کہ عذاب کا سایہ بھی نجات کی صبح میں تبدیل ہو سکتا ہے، بشرطیکہ کوئی معاشرہ بہت دیر ہو جانے سے پہلے حقیقت کو قبول کرے اور اپنا راستہ بدل لے۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔