موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 31
اربعین؛ شہید کے خون سے امت کی گواہی تک
زیارتِ اربعین میں “فقہِ گواہی” پر ایک نظر
مقدمہ
سید ہاشم موسوی
اربعین کو عموماً زیارت کی فضیلت، حضرت امام حسینؑ کے پہلے زائر، اور اس عظیم الشان پیدل مارچ کی شان و شوکت کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ لیکن زیارتِ اربعین کے متن میں ایسے اشارے موجود ہیں جو ایک اور گہرا افق ہمارے سامنے کھولتے ہیں، اور وہ ہے لفظ «أشهد» (میں گواہی دیتا ہوں) کا بار بار آنا۔
زائر، امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ میں صرف سلام پیش نہیں کرتا اور نہ ہی صرف اپنے غم و اندوہ کا اظہار کرتا ہے، بلکہ بارہا گواہی دیتا ہے:
«أَشْهَدُ أَنَّكَ أَمِينُ اللهِ وَابْنُ أَمِينِهِ» “میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے امین ہیں اور اس کے امین کے فرزند ہیں۔”
اور پھر عرض کرتا ہے: «وَأَشْهَدُ أَنَّ اللّٰهَ مُنْجِزٌ مَا وَعَدَكَ» “اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ سے کیا ہوا اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا۔” پھر کہتا ہے: «وَأَشْهَدُ أَنَّكَ وَفَيْتَ بِعَهْدِ اللهِ» “اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اللہ کے عہد کو پوری طرح نبھایا۔”
اور آخر میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر اعلان کرتا ہے کہ وہ امام حسینؑ کے دوستوں کا دوست اور ان کے دشمنوں کا دشمن ہے۔
یہ سب گواہیاں کیوں ہیں؟ کیا واقعۂ عاشورا امام حسینؑ اور ان کے اصحاب کے خون سے خود بخود واضح نہیں ہوگیا تھا؟
اس سوال کا جواب “حقیقت کے وقوع” اور “حقیقت کے باقی رہنے” کے درمیان فاصلے میں پوشیدہ ہے۔
عاشورا نے حقیقت کو آشکار کیا، لیکن اربعین کا دن امت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس حقیقت کو چھپنے، تحریف ہونے یا بے اثر ہوجانے نہ دے۔
عاشورا میں امام حسینؑ “شہید” ہوئے، اور اب امت کو “شاہد” بننا ہے۔
اس تحریر میں “فقہِ گواہی” سے مراد فقہ کی اصطلاحی بحثِ شہادت نہیں، بلکہ ان تمام علمی، اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داریوں کا مجموعہ ہے جو اس شخص پر عائد ہوتی ہیں جو حقیقت کو پہچان چکا ہو اور اب اسے اس حقیقت کی تحریف پر خاموش رہنے کا حق نہیں رہ جاتا ہے۔
امام کی شہادت، ذمہ داری کا اختتام نہیں تھی
کوئی بھی حقیقت صرف تاریخ میں پیش آ جانے سے ہمیشہ زندہ نہیں رہتی۔
واقعات کا انکار بھی کیا جا سکتا ہے، اور فاسق قوتیں اپنی اخلاقی شکست کو سیاسی کامیابی کے روپ میں تاریخ کے صفحات پر لکھ سکتی ہیں۔
اسی لئے امام حسین علیہ السلام کی شہادت کو ایسے گواہوں کی ضرورت تھی جو دنیا کو بتائیں:
* کس کو قتل کیا گیا؟
* کیوں قتل کیا گیا؟
* اور کس فکری و سیاسی دھارے نے اسے قتل کیا؟
قرآن کریم گواہی کو چھپانے کو صرف ایک معمولی خاموشی قرار نہیں دیتا بلکہ فرماتا ہے:
﴿وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ۚ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ﴾
“اور گواہی کو نہ چھپاؤ، اور جو اسے چھپائے گا تو یقیناً اس کا دل گناہ گار ہے۔”
(سورۂ بقرہ: 283)
اس بنا پر جو شخص حقیقت کو جانتا ہو لیکن ضرورت کے وقت اسے بیان نہ کرے، وہ صرف ایک فضیلت سے محروم نہیں ہوتا بلکہ باطل کے دوام میں بھی شریک ہو جاتا ہے۔
اگر عاشورا کو امام علیہ السلام کی ذمہ داری کی تکمیل کا نقطۂ عروج سمجھا جائے، تو اربعین کوامت کی نئی ذمہ داری کا آغاز مانا جائے۔
امام کے خون نے حقیقت کو تحریف کے ملبے سے باہر نکالا، اور اب امت کی گواہی کا فرض ہے کہ اس حقیقت کو تاریخ کے حافظے میں ہمیشہ زندہ رکھے۔
کربلا اور وہ جنگ جو جنگ کے خاتمے کے بعد شروع ہوئی
عاشورا کی شام عمر بن سعد کا لشکر یہ سمجھ رہا تھا کہ فوجی جنگ ختم ہو چکی ہے۔
لیکن اموی حکومت کے طرزِ عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ میدان کی فتح کو اس وقت تک مکمل نہیں سمجھتی تھی جب تک کہ (Narrative) لوگوں کے خیالات پر بھی قبضہ نہ کر لے۔
اسی لئے اس نے کوشش کی کہ امام حسین علیہ السلام کو رسولِ خدا ﷺ کے نواسے اور امت کے مصلح کے بجائے ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کرے جس نے مسلمانوں کے حاکم کے خلاف بغاوت کی ہو۔
اس کی واضح مثال عبید اللہ بن زیاد کی گفتگو میں ملتی ہے۔
جب اسیرانِ اہل بیتؑ کو کوفہ لایا گیا تو اس نے خود کو “حق” کا نمائندہ قرار دیا اور (نعوذ باللہ) امام حسین علیہ السلام کو “جھوٹا اور جھوٹے کا بیٹا” کہا۔
اس موقع پر حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اس جھوٹے بیانیے کو چکنا چور کرتے ہوئے فرمایا:
«إِنَّمَا يُفْتَضَحُ الْفَاسِقُ وَيَكْذِبُ الْفَاجِرُ وَهُوَ غَيْرُنَا»
“رسوا تو صرف فاسق ہوتا ہے، اور جھوٹا صرف بدکار ہوتا ہے، اور وہ ہم نہیں بلکہ کوئی اور ہے۔”
عبید اللہ بن زیاد نے یہ کوشش بھی کی کہ امام حسینؑ اور ان کے اصحاب کے قتل کو براہِ راست اللہ کی مشیت قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے فرار حاصل کرے۔ جب اس نے امام سجاد علیہ السلام کو دیکھا تو کہا:
“کیا اللہ نے علی بن الحسین کو کربلا میں قتل نہیں کیا؟”
امام سجاد علیہ السلام نے نہایت جرأت کے ساتھ جواب دیا:
«كانَ لي أَخٌ يُسَمّى عَلِيّاً قَتَلَهُ النّاسُ» “میرا ایک بھائی تھا جس کا نام بھی علی تھا، اسے لوگوں نے قتل کیا۔”
ابن زیاد نے پھر کہا: “بلکہ اللہ نے اسے قتل کیا۔” اس پر امام علیہ السلام نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی:
﴿اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا﴾
“اللہ ہی جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے۔”
(سورۂ زمر: 42)
امام علیہ السلام نے واضح فرمایا کہ روح قبض کرنا اللہ کا کام ہے، لیکن قتل اور جرم انسانوں کے اپنے اختیاری اعمال ہیں۔
اس مختصر مگر نہایت گہرے جواب نے تحریف کے ایک اور ہتھکنڈے کو بے نقاب کر دیا، یعنی مجرم انسانوں کی ذمہ داری کو “تقدیرِ الٰہی” کے پردے میں چھپا دینا۔
کاروانِ اہل بیتؑ نے اموی حکومت کو یہ اجازت نہیں دی کہ وہ اپنے سیاسی جرم کو خدا کی مشیت کا نام دے دے۔
یہ واقعات شیخ مفید، طبری اور دیگر معتبر تاریخی مصادر میں نقل ہوئے ہیں۔
وہ اسیر جو پہلے گواہ بن گئے
اہلِ بیت علیہم السلام کربلا سے کوفہ اور پھر شام تک ظاہراً قیدی تھے، لیکن حقیقت میں وہ عاشورا کے پہلے قانونی اور معتبر گواہ بن گئے۔
انہوں نے ان تمام حقائق کو لوگوں کے سامنے آشکار کیا جنہیں اموی حکومت چھپانا چاہتی تھی، مثلاً:
* امام حسینؑ کا رسولِ اکرم ﷺ سے نسبی تعلق،
* قیامِ حسینی کے حقیقی مقاصد،
* اہلِ کوفہ کی عہد شکنی،
* یزیدی حکومت کی حقیقی ماہیت،
* اور شہدائے کربلا کی مظلومیت۔
شام کے شاہی دربار میں یزید ملعون امام حسین علیہ السلام کے مبارک دندانوں پر اپنی چھڑی مار رہا تھا اور بدر میں مارے گئے اپنے مشرک آباء و اجداد کا انتقام لینے کے اشعار پڑھ رہا تھا۔
اسی وقت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کھڑی ہوئیں اور ایک ایسا خطبہ ارشاد فرمایا جس نے اموی حکومت کے تمام پروپیگنڈے کو خاک میں ملا دیا۔ آپؑ نے فرمایا:
«أَظَنَنْتَ يَا يَزِيدُ حَيْثُ أَخَذْتَ عَلَيْنَا أَقْطَارَ الْأَرْضِ… أَنَّ بِنَا عَلَى اللَّهِ هَوَانًا وَبِكَ عَلَيْهِ كَرَامَةً؟»
“اے یزید! کیا تو یہ گمان کرتا ہے کہ چونکہ تو نے ہمارے لئے زمین و آسمان کو تنگ کر دیا ہے، ہمیں قیدیوں کی طرح شہر بہ شہر پھرایا ہے، اس لئے ہم اللہ کی نگاہ میں ذلیل ہیں اور تو اس کے نزدیک معزز ہے؟”
پھر آپؑ نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو ہمیشہ کے لئے حق و باطل کے معرکے کا اعلان بن گیا:
«فَكِدْ كَيْدَكَ… فَوَاللهِ لَا تَمْحُو ذِكْرَنَا»
“جتنی تدبیریں اور سازشیں کر سکتا ہے کر لے، خدا کی قسم! تو کبھی ہمارے ذکر کو مٹا نہیں سکے گا۔”
یہ صرف ایک خطبہ نہیں تھا، بلکہ عاشورا کے خون کی گواہی تھی۔
اسی طرح امام زین العابدین علیہ السلام نے مسجدِ شام میں اپنے تعارف کے ذریعے اموی پروپیگنڈے کو شکست دےدی۔
آپؑ نے فرمایا:
«أَنَا ابْنُ مَكَّةَ وَمِنَى، أَنَا ابْنُ زَمْزَمَ وَالصَّفَا، أَنَا ابْنُ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى، أَنَا ابْنُ فَاطِمَةَ الزَّهْرَاءِ…»
“میں مکہ اور منیٰ کا فرزند ہوں، میں زمزم اور صفا کا بیٹا ہوں، میں محمد مصطفیٰ ﷺ کا فرزند ہوں، میں فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا بیٹا ہوں…”
ان چند جملوں نے ان لوگوں کی آنکھیں کھول دیں جو اموی تبلیغات کے زیر اثر اہلِ بیت کو اسلام سے بیگانہ سمجھنے لگے تھے۔ انہیں معلوم ہوا کہ یہ قیدی کوئی خارجی یا باغی نہیں، بلکہ اسلام کے بانی رسولِ اکرم ﷺ کے اہلِ بیت ہیں۔
اس طرح تحریکِ حسینی کا دوسرا مرحلہ تلوار سے نہیں بلکہ گواہی سے جاری ہوا۔
اب اس نئے انداز والے جہاد کے ہتھیار یہ تھے: خطبے، گریہ و زاری، حقائق کی وضاحتیں، اور زیارت وغیرہ۔
اگرعاشورا میں جسموں کا محاصرہ کیا گیا تھا، تو عاشورا کے بعد معنی اور حقیقت کا محاصرہ کیا گیا۔
اگر اہلِ بیت علیہم السلام اس پروپیگنڈے کے محاصرے کو نہ توڑتے تو شاید آج کربلا کو ایک الٰہی اور اصلاحی تحریک کے بجائے صرف ایک “ناکام سیاسی بغاوت” کے طور پر تاریخ میں لکھا جاتا۔
اربعین؛ ایک واقعہ کو امت کی اجتماعی یادداشت بنادینے کا نام ہے
کوئی بھی تاریخی واقعہ خواہ کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو، اگر اسے وقت کے حوالے کر دیا جائے تو آہستہ آہستہ وہ صرف تاریخ کی ایک کتاب کا صفحہ بن جاتا ہے۔
لیکن جب ایک پوری امت ہر سال شعوری طور پر اس واقعے کی طرف واپس لوٹتی ہے تو وہ واقعہ صرف تاریخ نہیں رہتا بلکہ قوم کی اجتماعی شناخت اور حافظے کا حصہ بن جاتا ہے۔ اربعین بالکل یہی کردار ادا کرتا ہے۔
اربعین یہ اجازت نہیں دیتا کہ عاشورا صرف سن 61 ہجری کی ایک المناک خبر بن کر رہ جائے۔
ہر سال اربعین اس تاریخی مقدمے کو دوبارہ کھولتا ہے، گواہوں کو طلب کرتا ہے اور نئی نسل سے سوال کرتا ہے:
“آج تمہارا حق اور ظلم کے بارے میں کیا موقف ہے؟”
صرف محبت کافی نہیں: ممکن ہے کوئی شخص اپنے گھر میں تنہائی کے اندر امام حسین علیہ السلام سے محبت کرے اور ان کی مظلومیت پر آنسو بہائے۔ یہ یقیناً ایک عظیم عبادت ہے۔ لیکن ظلم کے منظم نظام کے مقابلے میں صرف چھپی ہوئی محبت کافی نہیں ہوتی۔ کربلا کا جرم کوئی خفیہ حادثہ نہیں تھا۔
بلکہ وہ ایک ایسا سرکاری جرم تھا جس کے ساتھ حکومت کی طاقت، میڈیا اور وسیع پروپیگنڈا موجود تھا تاکہ حق کو باطل اور باطل کو حق ثابت کیا جا سکے۔
لہٰذا اس حقیقت کی حفاظت بھی صرف ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی، علنی اور عالمی ہونی چاہیے۔
اربعین؛ گواہوں کا سب سے بڑا اجتماع: اس زاویے سے دیکھا جائے تو اربعین صرف لاکھوں زائرین کی تعداد کا نام نہیں۔ بلکہ یہ گواہوں کے سب سے بڑے اجتماع کا نام ہے۔
آج کی دنیا میں جبکہ جھوٹی روایات اور میڈیا حقیقت کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں، کربلا کی طرف پیدل چلنا ایک طرح کی “جسمانی گواہی” ہے۔ زائر کا جسم خود ایک میڈیا بن جاتا ہے۔ اس کا ہر ہر قدم اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ عاشورا ختم نہیں ہوا، بلکہ اربعین حق کے محاذ پر امت کی مسلسل موجودگی کا آغاز ہے۔
“أشهد”؛ زیارتِ اربعین کو سمجھنے کی کنجی
شیخ طوسی نے صفوان جمّال کے ذریعے امام جعفر صادق علیہ السلام سے زیارتِ اربعین نقل کی ہے۔
اس زیارت کی ترتیب نہایت دقیق اور معنی خیز ہے۔
زائر پہلے امام کی شخصیت کے بارے میں گواہی دیتا ہے:
«أَشْهَدُ أَنَّكَ أَمِينُ اللهِ وَابْنُ أَمِينِهِ» “میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے امین اور اس کے امین کے فرزند ہیں۔”
پھر امام کی پوری زندگی اور شہادت کے بارے میں گواہی دیتا ہے:
«عِشْتَ سَعِيدًا وَمَضَيْتَ حَمِيدًا وَمُتَّ فَقِيدًا مَظْلُومًا شَهِيدًا» “آپ سعادت کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے، قابلِ تعریف دنیا سے رخصت ہوئے، مظلومانہ شہادت پائی، اور آپ کا فقدان ہمیشہ محسوس کیا جائے گا۔”
پھر عرض کرتا ہے: «وَأَشْهَدُ أَنَّكَ وَفَيْتَ بِعَهْدِ اللهِ وَجَاهَدْتَ فِي سَبِيلِهِ حَتّى أَتَاكَ الْيَقِينُ»
"میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اللہ کے عہد کو پورا کیا اور اس کی راہ میں اس وقت تک جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ یقین (شہادت) آپ کے پاس آگیا۔”
لیکن زیارت یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اس کے بعد زائر اپنی ذمہ داری کا اعلان کرتا ہے:
«اللّهُمَّ إِنّي أُشْهِدُكَ أَنّي وَلِيٌّ لِمَنْ وَالاهُ وَعَدُوٌّ لِمَنْ عَادَاهُ» "اے اللہ! میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ جو حسینؑ سے محبت کرے میں اس کا دوست ہوں، اور جو ان سے دشمنی کرے میں اس کا دشمن ہوں۔”
اس طرح “أشهد” صرف ایک تاریخی حقیقت کی گواہی نہیں رہتا بلکہ ایک اخلاقی، عملی اور سماجی موقف بن جاتا ہے۔
گواہ اور تماشائی ایک جیسے نہیں ہوتے
تماشائی کسی واقعے کو دیکھ سکتا ہے، اس سے متاثر بھی ہو سکتا ہے، آنسو بھی بہا سکتا ہے، لیکن پھر اپنی معمول کی زندگی کی طرف لوٹ جاتا ہے۔
اس کے برعکس گواہ اپنے دیکھنے کو ایک ذمہ داری سمجھتا ہے۔کربلا میں بھی بہت سے لوگ امام حسین علیہ السلام کی حقانیت کو جانتے تھے، ان کی شہادت پر غمگین بھی ہوئے، لیکن حق کی نصرت کے لئے کوئی قیمت ادا نہ کر سکے۔
اسی لئے قرآن کریم فرماتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ﴾
“اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور اللہ کے لئے گواہی دینے والے بنو، اگرچہ وہ گواہی تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔”
(سورۂ نساء، آیت 135)
قرآن کی نظر میں گواہی اس وقت حقیقی گواہی بنتی ہے جب انسان کا ذاتی مفاد، تعلقات، خواہشات اور اپنی عزت بھی اسے حق بیان کرنے سے نہ روک سکیں۔
اگر اہلِ کوفہ صرف تماشائی بننے کے بجائے واقعی گواہ بن جاتے تو انہیں دوسروں پر الزام لگانے سے پہلے اپنی عہد شکنی، بزدلی اور دنیا پرستی کا اعتراف کرنا پڑتا۔
اسی لئے اربعین صرف امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کا محاسبہ نہیں، بلکہ پوری امت کے ضمیر کا احتساب بھی ہے۔
زائر صرف یہ سوال نہیں کرتا: “انہوں نے حسینؑ کے ساتھ کیا کیا؟”
بلکہ اسے یہ بھی سوچنا پڑتا ہے: “اگر میں ایسی ہی صورتِ حال میں ہوتا تو حق کے ساتھ میرا رویہ کیا ہوتا؟”
زبان کی گواہی سے عملی نصرت تک
زیارتِ اربعین کا نقطۂ عروج وہ مقام ہے جہاں گواہی صرف زبان تک محدود نہیں رہتی بلکہ دل، ارادے اور عمل تک پہنچ جاتی ہے۔
زائر عرض کرتا ہے: «وَقَلْبِي لِقَلْبِكُمْ سِلْمٌ، وَأَمْرِي لِأَمْرِكُمْ مُتَّبِعٌ، وَنُصْرَتِي لَكُمْ مُعَدَّةٌ»
“میرا دل آپ کے دل کے ساتھ ہم آہنگ ہے، میرا عمل آپ کے حکم کا تابع ہے، اور میری نصرت آپ کے لئے ہمیشہ آمادہ ہے۔”
یہ چند جملے انسان کی باطنی اور ظاہری تربیت کا پورا نقشہ پیش کرتے ہیں۔ اس میں وفاداری کے تین درجے بیان کئے گئے ہیں:
1۔ دل اور فکر کی ہم آہنگی
2۔ عملی اطاعت
3۔ حق کی نصرت کے لئے ہمیشہ تیار رہنا
سب سے پہلے انسان کا دل اہلِ بیت علیہم السلام کی اقدار سے جڑنا چاہیے، اور وہی چیزیں اس کی فکر کا حصہ بنیں جو امام حسین علیہ السلام کی فکر تھیں۔
اس کے بعد اس کی زندگی کا ہر قدم اہلِ بیتؑ کی ہدایت کے مطابق ہونا چاہیے۔
اور آخر میں اسے اپنی تمام صلاحیتیں، وسائل اور امکانات حق کی مدد کے لئے آمادہ رکھنے چاہئیں۔
اس لئے کامیاب زیارت وہ نہیں جو صرف زیادہ آنسو لے آئے، بلکہ وہ ہے جو انسان کو زیادہ تیار، زیادہ ذمہ دار اور زیادہ باعمل بنا دے۔
نصرت کی تیاری آج کیسے ظاہر ہوتی ہے؟
یہ آمادگی مختلف صورتوں میں ظاہر ہو سکتی ہے، مثلاً: بھلا دی گئی کسی سچائی کو بیان کرنا، خاموشی کے حصار کو توڑ دینا، کسی بے آواز مظلوم کا دفاع کرنا، ناجائز فائدہ قبول نہ کرنا، ایسی نسل کی تربیت کرنا جو پروپیگنڈے اور حقیقت میں فرق پہچان سکے۔
ان تمام صورتوں میں ایک چیز مشترک ہے:بے حسی سے باہر نکلنا۔
جب زائر پڑھتا ہے: «نُصْرَتِي لَكُمْ مُعَدَّةٌ» “میری نصرت آپ کے لئے آمادہ ہے۔”
تو وہ اپنے آپ کو بے عملی کے محفوظ دائرے سے نکال کر معاشرے کا ایک ذمہ دار، فعال اور حق کا گواہ بنانے کا عہد کرتا ہے۔
اربعین اور آج کے انسان کی ذمہ داری
زیارتِ اربعین امام حسین علیہ السلام کے قیام کا مقصد ان الفاظ میں بیان کرتی ہے:
«وَبَذَلَ مُهْجَتَهُ فِيكَ لِيَسْتَنْقِذَ عِبَادَكَ مِنَ الْجَهَالَةِ وَحَيْرَةِ الضَّلَالَةِ»
“امام نے تیری راہ میں اپنے دل کا خون بہا دیا تاکہ تیرے بندوں کو جہالت اور گمراہی کی حیرانی سے نجات دلائیں۔”
اگر امام حسین علیہ السلام کے قیام کا مقصد لوگوں کو جہالت سے نکالنا تھا، تو اربعین منانے کا حقیقی مقصد بھی امت میں بصیرت پیدا کرنا ہونا چاہیے۔
جہالت صرف یہ نہیں کہ انسان کسی تاریخی واقعے سے ناواقف ہو۔
بسا اوقات انسان کے پاس معلومات تو بہت ہوتی ہیں، لیکن وہ مختلف بیانیوں کے درمیان حق کو پہچاننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
کبھی وہ حقیقت کو جانتا ہے، مگر تنہائی کے خوف سے اس کا اظہار نہیں کرتا۔
اور کبھی مظلوم کو دیکھتا ہے، لیکن ذاتی مفاد اسے خاموش رہنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
اربعین اسی فاصلے کو ختم کرنے آیا ہے جو جاننے اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کے درمیان پیدا ہو جاتا ہے۔
آج کے زائر کو اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے:
کیا میری موجودگی حق کو زیادہ واضح کرتی ہے؟
کیا میرے گھر والے، میرا معاشرہ اور میرے اردگرد کے لوگ میرے کردار سے مکتبِ حسینؑ کو بہتر انداز میں پہچانتے ہیں؟
کیا امام حسینؑ سے میری محبت نے مجھے حق گوئی، عدل، وفائے عہد اور مظلوم کی حمایت میں پہلے سے زیادہ مضبوط بنایا ہے؟
اگر ایسا نہیں ہے تو ممکن ہے انسان لاکھوں زائرین کے اجتماع میں شریک ہو، لیکن حقیقت میں ابھی تک تماشائی ہی ہو، گواہ نہ بنا ہو۔
اختتامی کلمات
اربعین درحقیقت امام کی شہادت اور امت کی ذمہ داری کے درمیان رابطے کا نام ہے۔
عاشورا میں امام حسین علیہ السلام نے اپنے خون سے گواہی دی کہ دینِ خدا کو ظالم حکومت کے تابع نہیں بنایا جا سکتا۔
عاشورا کے بعد اہلِ بیت علیہم السلام نے اپنے خطبات، خطابت اور مسلسل حق گوئی کے ذریعے اس خون کے پیغام کو تحریف ہونے سے بچایا۔
اور اربعین میں یہی ذمہ داری پہلی نسل کے گواہوں سے منتقل ہو کر ہر آنے والی نسل کے کندھوں پر آ جاتی ہے۔
اسی لئے زیارتِ اربعین میں «أشهد» کی بار بار تکرار کی گئی ہے۔
زائر پہلے امام کو پہچانتا ہے۔ پھر ان کی حقانیت اور دشمنوں کے باطل ہونے کی گواہی دیتا ہے۔
اس کے بعد اپنا موقف واضح کرتا ہے۔
اور آخر میں اعلان کرتا ہے کہ وہ اس راستے پر چلنے اور حق کی نصرت کے لئے ہمیشہ تیار ہے۔
اس طرح زیارت صرف ماضی کی یادگار نہیں رہتی بلکہ مستقبل کے لئے ایک عہد اور ایک ذمہ داری بن جاتی ہے۔
عاشورا میں سوال امام حسین علیہ السلام کے سامنے تھا:
“کیا آپ حق کی بقا کے لئے اپنا خون دیں گے؟”
اور اربعین میں سوال امت کے سامنے ہے:
“کیا تم اس حق کی گواہی دو گے، یا اسے خوف، مفاد اور مصلحت کے ہجوم میں چھپا دو گے؟”
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

