تبلیغی تجربے – جلد 03 شمارہ 10

Religious Outreach Experiences - Volume 03 Issue 10
Last Updated: اپریل 3, 2026By Categories: تبلیغی تجربے0 Comments on تبلیغی تجربے – جلد 03 شمارہ 100 min readViews: 67

کڑوا تھپڑ اور مسجد کی آغوش

میں دس یا گیارہ برس کا تھا — وہ عمر جب انسان چھوٹوں اور بڑوں کی دنیا کے درمیان ایک نازک  موڑ پر کھڑا ہوتا ہے۔ دل چاہتا تھا کہ ابھی کھیلوں کی دنیا میں ہی رہوں، مگر ساتھ ہی یہ خواہش بھی تھی کہ بڑے لوگ مجھے سنجیدہ لیں۔ اُس زمانے میں مسجد میرے لئے  صرف بلند میناروں والی ایک عمارت نہیں تھی، بلکہ ایک پناہ گاہ تھی۔ میں بچپن سے گلاب کی خوشبو اور تکبیر کی آواز کے ساتھ مانوس تھا۔ فرض نمازیں پڑھتا تھا، مگر “مستحبات” کی دنیا میرے لئے  ایک ان دیکھی سرزمین تھی — جس میں داخل ہونے سے بزرگ، شاید اس ڈر سے روکتے تھے کہ کہیں میں تھک نہ جاؤں اور اصل راستے سے دور نہ ہو جاؤں۔

والد کے انتقال نے مجھے وقت سے پہلے ہی بڑوں کی دنیا میں دھکیل دیا تھا۔ میرے بڑے بھائی، جو اب والد کی جگہ کھڑے تھے، ایک دن مجھے “توضیح المسائل” کی کتاب دیتے ہوئے بولے:
“اب تم بڑے ہو گئے ہو،  اپنے فرائض کو ٹھیک طرح  سمجھنے کی ضرورت ہے۔”

یہ جملہ میرے دل میں ہلچل مچا گیا۔ یوں لگا جیسے کسی نے میرے سینے پر تمغہ سجا دیا ہو۔ میں جو کہانیوں کی کتابوں کا شوقین تھا، اب شوق سے رسالے کے موٹے صفحات پلٹتا تھا تاکہ جان سکوں کہ خدا کے سامنے “مرد ہونا” کن کن فرائض  کا  متقاضی ہے۔

جب میں نوافل کے باب تک پہنچا تو آنکھیں چمک اٹھیں۔ میں نے اپنے قریبی دوست — جو میری طرح یتیمی کا دکھ چکھ چکا تھا — کے ساتھ طے کیا کہ ہم بھی مسجد کی پہلی صف کے مردوں کی طرح جماعت سے پہلے نفل نماز پڑھیں گے۔ مگر ایک بڑی مشکل تھی: وقت کم اور رکعتیں زیادہ! ہماری بچکانہ تدبیر یہ بنی کہ رفتار تیز کر دی جائے۔ ہم اتنی تیزی سے نماز پڑھتے جیسے دوڑ  لگانےکے میدان میں ہوں، نہ کہ محرابِ عبادت میں۔

ایک دن انہی تیز رفتار نمازوں کے دوران اچانک دنیا گھوم گئی۔ پہلی صف میں بیٹھنے والے ایک بزرگ، جو ہمیشہ ہمیں غصے سے دیکھ کر پیچھے بھیج دیتے تھے، اپنا صبر کھو بیٹھے۔ وہ آگے بڑھے اور میرے دوست کی پشت پر زور سے تھپڑ مارا۔ اُن کی آواز شبستان میں گونج اٹھی:
"شرم نہیں آتی؟  نماز کا مذاق بنا رکھا ہے! کہاں ہیں تمہارے باپ جو تمہیں  صحیح سمجھاسکیں؟”

 ان بزرگ کا آخری جملہ  تو زخموں پر نمک  چھڑکنے جیسا تھا۔ دکھی اور  لرزتی آواز میں  میں نےکہا:
"میرے بابا جنت میں ہیں…”

اُس لمحے یتیمی کا بوجھ پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوا۔ بزرگ یہ سن کر خاموش ہو گئے اور پیچھے ہٹ گئے، مگر تیر کمان سے نکل چکا تھا۔

مسجد کے  امام ، جو یہ منظر دیکھ رہے تھے، اپنی ہمیشہ والی نرم مسکراہٹ کے ساتھ آگے بڑھے۔ مجھے اپنی آغوش میں لیا، تسلی دی، اور پھر سنجیدہ چہرے کے ساتھ اُس بزرگ سے بات کرنے گئے۔ دور سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ ہم چھوٹوں کی طرفدار ی کرنےجا رہے ہیں۔ مگر اُس  وقت ، ان بزرگ کےسخت رویے کا اثر اتنا گہرا تھا کہ میرا دوست کئی مہینوں تک مسجد نہ آیا۔ وہ کہتا تھا:
"مسجد ہماری جگہ نہیں ہے۔”

نماز کی صف میں اُس کی خالی جگہ میرے دل کو چیرتی تھی۔ ڈر تھا کہ ہمارا وہ معصوم جوش کہیں ہمیشہ کے لئے  دفن نہ ہو جائے۔ آخرکار میرے بھائی کی کوشش اور اُس کے گھر والوں سے بات چیت کے بعد وہ دوبارہ مسجد آنے لگا۔ مگر وہ واقعہ ہمیشہ کے لئے  میرے دل پر ایک  نقش  چھوڑگیا —البتہ میں یہ  جان گیاکہ دین داری کا راستہ کتنا نازک ہے، اور ایک غیر ضروری سختی کس طرح دلوں کو  توڑ سکتی ہے۔

اس تبلیغی تجربے سے حاصل ہونے والے تین اسباق

  1. شخصیت کے احترام کی اہمیت (دیکھے جانے کی ضرورت):
    بچے اور نوجوان سنجیدہ لئے جانے اور اپنی ش پہچان بنانے کے لئے  بے تاب رہتے ہیں۔ یہ جملہ کہ"اب تم بڑے ہو گئے ہو " دینی  کاموں میں دلچسپی کا   ایک مضبوط محرک  اور سبب بن سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے ساتھ ساتھ درست رہنمائی اور حکیمانہ تربیت بھی ہو۔
  2. مذہبی مقامات پر سخت رویے کا خطرہ:
    مسجد میں بچوں کے ساتھ سختی اور بدخلقی نہ صرف انہیں عبادت سے دور کرتی ہے بلکہ ان کے ذہن میں دین کی ایک غیر محفوظ اور ڈراؤنی تصویر بنا دیتی ہے، جو ممکن ہے کہ جوانی تک بھی درست نہ ہو سکے۔
  3. روحانیت کی قیادت کا مرکزی کردار (شفیقانہ اور جذب کرنے والا کردار):
    نسلوں کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات (مثلاً مسجد کےبوڑھے منتظمین اور پُرجوش نوجوانوں کے درمیان) مسجد کے  امام  کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ جب وہ ایک مہربان سرپرست کے طور پر سامنے آتا ہے تو وہ نوجوانوں کو بکھرنے سے بچا سکتا ہے اور ان کے اندر روحانی فضا سے تعلق کا احساس دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔
اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔