تبلیغی تجربے – جلد 03 شمارہ 11
مختلف مواقع پر اپنی اصلیت پہچاننے کا ایک تجربہ
چند سال پہلے میں تبلیغی سفر کے لیے امریکہ گیا۔ یہ ایسا سفر تھا جو دوسروں کو درس دینے سے پہلے خود میرے لئے ایک بڑے سبق کا سبب بن گیا۔
امریکہ پہنچتے ہی ایک باوقار شخص مجھے لینے آیا۔ میں اس کی کار میں بیٹھ گیا۔مگر گاڑی کے آگے بڑھانے کے ساتھ ہی اس نے مجھ پر سوالات کی بوچھار کردی:
"آپ کی علمی سطح کیا ہے؟”
"آپ کے کتنے بچے ہیں؟”
"آپ اپنی باتوں پر کتنا عمل کرتے ہیں؟” وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
البتہ اس کا انداز جارحانہ تو نہیں تھا، لیکن اس کے سوالات کا انداز تفتیش جیسا لگ رہا تھا۔ دل میں تھوڑا سا رنج ہوا اور میں نے سوچا: "یہ کیسا استقبال ہے؟”
مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں کسی انٹرویو میں بیٹھا ہوں، نہ کہ ایک دوستانہ ملاقات میں۔ پھر بھی میں نے مسکرا کر اور ہلکی سی مزاح کے ساتھ اس کے سوالوں کے ایک ایک کرکے جواب دیے تاکہ ماحول خوش گوار رہے۔
کھانے کی میز پر بھی یہی سلسلہ جاری رہا۔ اس بار میں نے ہنستے ہوئے کہا: "اب باری میری ہے!”
اور میں نے ان کے اسلامی مرکز، پروگراموں، جمعہ کی نماز، اور دینی مدرسے وغیرہ کے بارے میں پوچھنا شروع کردیا۔ لیکن جب میں نے اس سے یہ پوچھا کہ وہاں مستقل عالمِ دین کیوں نہیں ہے؟ تو اس نے ایک گہری سانس لی اور کہا:
"ہم ابھی تک مناسب عالم نہیں ڈھونڈ سکے۔ اسی لئے ہر مناسبت پر ہمیں کسی نہ کسی کو بلانا پڑتاہے۔”
جب میں نے اس کی وجہ پوچھی تو وہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے لگ گیا۔ اس نے پچھلے مبلغین کے تلخ تجربات بیان کئے۔ خاص طور پر ایک نوجوان مولانا کا ذکر کیا جو بیس سال کی عمر کا تھا ، نہ اسکی شادی ہوئی تھی اور نہ اس کا کوئی بچہ تھا، اس کے باوجود، وہ بزرگ سامعین کے سامنے “بچوں کی تربیت” پر خطبہ دے رہا تھا اور سخت لہجے میں ان کی عمر بھر کی کوششوں کو سوال کے کٹہرے میں کھڑا کر رہا تھا!
جب لوگوں نے موضوع بدلنے کو کہا تو اس نے جواب دیا:
"میں نے صرف یہی موضوع تیار کیا ہے!”
ہمارے درمیان ایک عجیب خاموشی چھا گئی۔
میں نے آہستہ سے کہا:
"مسئلہ ہمیشہ موضوع نہیں ہوتا، کبھی کبھی مسئلہ اپنے موقع اور پوزیشن کا بھی ہوتا ہے۔”
اگر کوئی نوجوان طالبِ علم سامعین کی عمر، تجربے اور حالات کو دیکھے بغیر کسی مشہور خطیب کی رٹی ہوئی تقریر سنادے تو ظاہر سی بات ہے کہ لوگ ایسے مولویوں کو کیسے پسند کرسکتے ہیں؟ عوام اور علماء کے درمیان فاصلوں کا بڑھنا ایک فطری بات ہے۔ اس لئے کہ لوگ بیس سال کے نوجوان سے پچاس سال کے تجربے کی توقع نہیں رکھتے۔ وہ اخلاص پر مبنی نرم لہجہ پسند کرتےہیں، فیصلہ سنانے والا انداز نہیں۔
اسی لمحے مجھے احساس ہوگیاکہ آمد کے وقت مجھ سے کئے گئے وہ سوالات دراصل تفتیشی نہیں بلکہ اضطراب کی وجہ سے تھے — ایک چھلنی جس کے ذریعے وہ میری حقیقت اور اصلیت کو جانچنا چاہتا تھا۔
سالوں کے تلخ تجربات نے اسے محتاط بنا دیا تھا۔ وہ ڈر رہا تھا کہ کہیں پھر کوئی ایسا شخص نہ آ جائے جو سامعین کی نبض کو نہ پہچان سکے۔ وہ صرف یہ جاننا چاہتا تھا کہ آیا یہ نیا مہمان اپنے مقام اور حدود کو پہچانتا بھی ہے یا نہیں۔
اس سفر نے مجھے ایک کارآمدسبق سکھایا:
مواقع کی پہچان — یہ جاننا کہ میں کس عمر، کس تجربے اور کس مخاطب کے سامنے گفتگو کر رہا ہوں۔
اس تبلیغی تجربے سے حاصل ہونے والے اسباق:
1۔ مواقع کی پہچان اثرگذاری کی بنیاد ہے۔
جو مبلغ اپنی عمر، علمی سطح اور تجربے کے مقام کو پہچانتا ہے، اس کی بات زیادہ قابلِ قبول اور مؤثر ہوتی ہے۔
2۔ کسی کامحض انداز اپنا لینا ترقی کا سبب نہیں۔
کامیاب مبلغ وہ ہے جو خود اپنی شخصیت کے ساتھ بولے۔
بزرگوں کے انداز اور لہجے کی نقل، ان کے تجربے کے بغیر، گفتگو کو مصنوعی بنا دیتی ہے اور سامعین کا اعتماد کم کر دیتی ہے۔
3۔ اپنی حیثیت اور پوزیشن کا صحیح اندازہ لگانا ضروری ہے ۔
مبلغ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ کس مقام پر کھڑا ہے۔ ایسے موضوعات پر گفتگو کرنا، جن میں عملی تجربہ نہ ہو (جیسے غیر شادی شدہ شخص کا بچوں کی تربیت پر سخت لہجے میں گفتگو کرنا یا نوجوان کا بزرگوں کو مشورے دینا) ہرگز مناسب نہیں۔ بلکہ موقع و محل کے لحاظ سے، گفتگو نہایت احتیاط، عاجزی اور قرآن و احادیث کی روشنی میں ہونی چاہئے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

