سدا بہار قرآنی کہانیاں – جلد 03 شمارہ 33

Everlasting Tales of the Quran – Volume 03 Issue 33

ہجرت: صحرا کے دل سے طلوع

کئی برسوں سے مکہ کی گلی کوچوں میں توحید کی صدا گونج رہی تھی۔ قریش نے ہر وہ حربہ آزمایا جو ان کے بس میں تھا؛ لالچ دینے سے لے کر اذیت و شکنجہ، شعبِ ابی طالب میں محاصرہ اور پابندیاں، حتیٰ کہ دھمکیوں تک۔ لیکن اسلام کا سورج غروب نہ ہوا۔

ان شدید دباؤ اور مشکلات کے دنوں میں کبھی کبھی اہلِ ایمان بے اختیار پوچھ اٹھتے تھے:

…مَتَىٰ نَصْرُ اللَّهِ…

’’اللہ کی مدد کب آئے گی؟‘‘
(سورۂ بقرہ، آیت 214)

پیغمبر اکرم ﷺ کے دو عظیم حامی، حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا اور حضرت ابوطالب علیہ السلام، دنیا سے رخصت ہوئے تو شہر پر گویا تاریکی چھا گئی۔

قریش کے سردار دارالندوہ میں جمع ہوئے تاکہ اس مرتبہ ہمیشہ کے لئے  اس معاملے کو ختم کر دیں۔ فیصلہ کیا گیا کہ تمام قبائل سے چالیس شمشیر زن نوجوان منتخب کیے جائیں جو بیک وقت پیغمبر ﷺ کے گھر پر حملہ کریں۔

لیکن اللہ کی تدبیر، کینہ پرور نگاہوں سے کہیں زیادہ بیدار تھی۔ جبرئیل امین نازل ہوئے اور ایک آیت کے ذریعے ان کی خفیہ سازش سے پردہ اٹھا دیا:

وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ ۚ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ

’’اور یاد کرو جب کافر تمہارے خلاف سازشیں کر رہے تھے تاکہ تمہیں قید کر دیں، یا قتل کر دیں، یا شہر سے نکال دیں۔ وہ اپنی تدبیر کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا، اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔‘‘
(سورۂ انفال، آیت 30)

حکمِ الٰہی صادر ہوا: پیغمبر اکرم ﷺ کو رات کے وقت مکہ چھوڑ کر یثرب کی طرف روانہ ہونا تھا۔ لیکن آپ ﷺ کا بستر خالی نہیں رہنا چاہیے تھا، تاکہ دشمنوں کو ہجرت کا اندازہ نہ ہو۔

خدا کے ساتھ معاملے کی رات

رسول خدا ﷺ نے اس رات کا راز اُس 23 سالہ نوجوان کو بتایا جو بچپن ہی سے آپ ﷺ کی آغوشِ تربیت میں پروان چڑھا تھا: حضرت علی علیہ السلام۔

حضرت علی علیہ السلام نے یہ نہیں پوچھا کہ میرا کیا ہوگا، بلکہ صرف ایک سوال کیا:

’’یا رسول اللہ! کیا میرے آپ کے بستر پر سونے سے آپ کی جان محفوظ رہے گی؟‘‘

جب رسول خدا ﷺ نے اثبات میں جواب دیا تو حضرت علی علیہ السلام مسکرائے، پیغمبر ﷺ کی سبز چادر اپنے اوپر اوڑھی اور بے خوف ہو کر اس بستر پر لیٹ گئے جو ظاہراً موت کا بستر تھا۔

رات آگئی۔ چالیس برہنہ شمشیریں گھر کے گرد حلقہ بنائے کھڑی تھیں۔

رسول خدا ﷺ سورۂ یٰسین کی معجزاتی آیت کی تلاوت کرتے ہوئے دشمنوں کے محاصرے کے درمیان سے گزر گئے:

وَجَعَلْنَا مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ

’’اور ہم نے ان کے آگے ایک دیوار کھڑی کردی اور ان کے پیچھے بھی ایک دیوار، پھر ہم نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا، پس وہ دیکھ نہیں سکتے۔‘‘
(سورۂ یٰسین، آیت 9)

عالمِ ملکوت میں ایک انسان کی یہ عظیم قربانی، جس نے اپنی جان کو رسول خدا ﷺ کی جان کے لئے  ڈھال بنا دیا تھا، فرشتوں کو بھی حیرت میں ڈال رہی تھی۔

اسی موقع پر یہ  آیت قلبِ پیغمبر ﷺ پر نازل ہوئی:

وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ

’’اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کی خوشنودی کے بدلے اپنی جان بیچ دیتا ہے، اور اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔‘‘
(سورۂ بقرہ، آیت 207)

سحر کا وقت اور عظیم ہجرت

صبحِ صادق کے وقت حملہ آور ننگی تلواریں لئے  گھر میں گھس آئے۔

لیکن جب انہوں نے بستر سے چادر ہٹائی تو پیغمبر اکرم ﷺ کے بجائے حضرت علی علیہ السلام پوری صلابت کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔

حملہ آور غصے اور حیرت میں ڈوب گئے۔ رسول خدا ﷺ اس وقت ان سے کئی فرسنگ دور جا چکے تھے۔

دوسری طرف، مکہ کے باہر رسول خدا ﷺ حضرت ابوبکر کے ہمراہ غارِ ثور میں پناہ لئے  ہوئے تھے۔

قریش کے ماہر کھوجی غار کے دہانے تک پہنچ گئے، لیکن غار کے دہانے پر بنے ہوئے مکڑی کے جالوں نے انہیں مایوس کر دیا۔

ان اضطراب آمیز لمحات میں سکونِ الٰہی نازل ہوا:

إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا…

’’اگر تم اس کی مدد نہ کرو تو یقیناً اللہ نے اس کی مدد کی تھی، جب کافروں نے اسے نکال دیا تھا، جب وہ دو میں سے دوسرا تھا؛ جب وہ دونوں غار میں تھے اور وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا: غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘
(سورۂ توبہ، آیت 40)

یوں قریش کی ساری تدبیر ناکام ہوگئی، رسول خدا ﷺ خطرے سے نکل آئے اور تاریخِ اسلام کی عظیم ہجرت کا آغاز ہوا۔

مقامِ جحفہ میں فتح کی نوید

صحرا کا بے رحم سورج ریت کے ٹیلوں پر آگ برسا رہا تھا۔

قافلہ سفر کرتے ہوئے جحفہ کے مقام پر پہنچا؛ وہ جگہ جہاں مکہ اور مدینہ کے راستے ایک دوسرے سے جدا ہوتے تھے۔

رسول خدا ﷺ ایک لمحے کے لئے  رک گئے۔ جنوب کی طرف رخ کیا اور غم بھری نگاہوں سے اپنے وطن مکہ کو دیکھا۔

مکہ، خانۂ خدا کا شہر؛ تلخ و شیریں یادوں کا شہر۔

اسی لمحے نسیمِ وحی چلی اور پروردگار کی ندا نے قلبِ پیغمبر ﷺ کو امید اور اطمینان سے لبریز کر دیا:

إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرادُّكَ إِلىٰ مَعادٍ…

’’یقیناً وہ ذات جس نے قرآن کو آپ پر فرض کیا ہے، آپ کو آپ کی جائے بازگشت [مکہ] کی طرف واپس لوٹائے گی۔‘‘
(سورۂ قصص، آیت 85)

یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم بشارت تھی: آج کی ہجرت، کل کی فتح اور سربلند واپسی کا آغاز ہے۔

مدینہ کی دہلیز پر: پہلی مسجد کا قیام

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس سفر میں حضرت ابوبکر کے علاوہ بعض دوسرے افراد بھی سفر کے کچھ حصوں میں رسول خدا ﷺ کے ہمراہ رہے یا بعد میں قافلے سے آملے۔

ان میں سے ایک عامر بن فہیرہ تھے، جو حضرت ابوبکر کے آزاد کردہ غلام تھے اور ابتدا ہی سے رسول خدا ﷺ اور حضرت ابوبکر کے ساتھ تھے۔ ان کی ذمہ داری غارِ ثور کے اطراف بھیڑیں چرانا تھی تاکہ قدموں کے نشانات مٹ جائیں اور قافلے کے لئے  دودھ بھی فراہم ہو۔ ہجرت کے راستے میں بھی وہ قافلے کے ہمراہ رہے۔

ایک اور شخص عبداللہ بن اُریقط تھا، جو ایک تجربہ کار راہنما تھا۔ رسول خدا ﷺ نے اس کی امانت داری اور راستوں سے واقفیت کی بنا پر اسے اجرت پر مقرر کیا تھا۔

اس نے غارِ ثور سے مدینہ کے قریب تک قافلے کی ایسی غیر معروف ساحلی راہوں سے رہنمائی کی جو عام طور پر استعمال نہیں ہوتی تھیں۔

کئی دنوں کے دشوار سفر اور صحرا کی سختیوں کے بعد قافلہ مدینہ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع قبا نامی بستی پہنچا۔

لوگ بے تابی سے استقبال کے لئے  آگے بڑھے۔

لیکن رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ آپ اس وقت تک مدینہ کے مرکز میں داخل نہیں ہوں گے جب تک آپ کے بھائی حضرت علی علیہ السلام آپ سے آ نہ ملیں۔

حضرت علی علیہ السلام کو مکہ میں لوگوں کی امانتیں واپس کرنے اور اہلِ بیت کی خواتین کو ساتھ لانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

قبا میں چند دن قیام کے دوران مہاجرین اور انصار کے تعاون سے اسلام کے پہلے باقاعدہ مرکز کی بنیاد رکھی گئی۔

ایک سادہ مگر ایمان سے لبریز مسجد تعمیر ہوئی، جس کی عظمت کو قرآن کریم نے اس طرح ہمیشہ کے لئے  جاوداں کر دیا:

…لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ ۚ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا ۚ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ

’’وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقویٰ پر رکھی گئی، زیادہ حق رکھتی ہے کہ آپ اس میں [نماز کے لئے ] قیام کریں۔ اس میں ایسے مرد ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘
(سورۂ توبہ، آیت 108)

یثرب میں سورج کا طلوع

حضرت علی علیہ السلام جب فواطم کے ہمراہ قبا پہنچ گئے تو رسول خدا ﷺ اپنی سواری پر سوار ہو کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔

یثرب کا پورا شہر جوش و مسرت سے لبریز تھا۔

نخلستان گویا ایک آواز ہو کر شکر و سپاس کے ترانے گا رہے تھے۔

رسول اللہ ﷺ کی آمد کے ساتھ انسانی تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا:

اسلامی معاشرے کی تشکیل اور ایمان کے ایک نئے عہد کا آغاز۔

داستان کے تعلیمی اور تربیتی نکات کا تجزیہ

  • توکل کے ساتھ تدبیر اور دقیق منصوبہ بندی

پیغمبر اکرم ﷺ اگرچہ وحی اور غیبی امداد پر بھروسا رکھتے تھے، لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ نے تمام عقلی اور حکمتِ عملی کے وسائل سے بھرپور استفادہ کیا۔

دشمنوں کی توجہ ہٹانے کے لئے  اپنے بستر پر جانشین مقرر کرنا، مدینہ کی طرف براہِ راست شمالی راستے کے بجائے غیر متوقع طور پر جنوب کی سمت غارِ ثور کا راستہ اختیار کرنا اور حکمت کے ساتھ چھپنا، یہ تمام اقدامات اس بات کی تعلیم دیتے ہیں کہ:

  • ایمان اور توکل کبھی بھی تدبیر اور عقلانیت کی نفی نہیں کرتے۔
  • دینی تربیت میں ایثار اور مقصد محوری کا مقام

حضرت علی علیہ السلام کی قربانی نے یہ ثابت کیا کہ بحرانی لمحات میں حقیقی مؤمن کی نمایاں ترین صفت یہ ہے کہ وہ اپنے مقصد کو اپنی جان پر ترجیح دیتا ہے۔

حضرت علی علیہ السلام نے یہ نہیں پوچھا:

’’کیا میں زندہ رہوں گا؟‘‘

بلکہ یہ پوچھا:

’’کیا آپ کی جان محفوظ رہے گی؟‘‘

یہ سوال اللہ کی راہ میں ذمہ داری، ایثار اور اپنی ذات کو فراموش کر دینے کی بلند ترین سطح کو ظاہر کرتا ہے۔

  • غیبی مدد کے نزول کی شرط: پہلے انسان کا قدم اٹھانا

غیبی امداد اور الٰہی معجزات اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب انسان اپنی تمام قدرت، تدبیر اور صلاحیتوں کو استعمال کرکے توکل کے ساتھ پہلا قدم اٹھاتا ہے۔

کسی کوشش اور اقدام کے بغیر صرف ماورائی مدد کا انتظار کرنا، قرآن کی منطق اور سنّتِ الٰہی سے مطابقت نہیں رکھتا۔

لیلۃ المبیت اور بنی اسرائیل کے واقعے میں ایک اہم فرق یہی ہے۔

لیلۃ المبیت میں رسول خدا ﷺ اور حضرت علی علیہ السلام نے انتہائی خطرے کے باوجود بلند ترین درجے کی جدوجہد، ذمہ داری اور خطرہ مول لینے کا مظاہرہ کیا، اور اس کے بعد نصرتِ الٰہی نازل ہوئی۔

جبکہ بنی اسرائیل یہ چاہتے تھے کہ وہ خود کسی قسم کی جدوجہد کیے بغیر اللہ تعالیٰ ان کے دشمنوں کو نابود کر دے؛ اسی بنا پر انہیں ملامت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ سرگردانی میں مبتلا ہوئے۔

  • سخت ترین حالات میں ذہنی سکون اور ثابت قدمی

غارِ ثور کے دہانے پر:

لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا

’’غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘

اور حملہ آوروں کے درمیان سے گزرتے ہوئے سورۂ یٰسین کی آیت 9 کی تلاوت، بحران کے دوران ذہنی سکون برقرار رکھنے کا ایک عظیم درس ہے۔

لامحدود قدرتِ الٰہی سے وابستگی انسان کو یہ قوت دیتی ہے کہ وہ سخت ترین محاصروں اور مشکلات میں بھی ناامیدی اور اضطراب کا شکار نہ ہو۔

  • پیچیدہ سازشوں کا سادہ الٰہی امداد سے ناکام ہونا

دارالندوہ میں چالیس قبائل کی شرکت سے تیار کی جانے والی پیچیدہ سازش، جس کی تمام تفصیلات پہلے سے طے کی گئی تھیں، ایک نوجوان کے رسول خدا ﷺ کے بستر پر سو جانے اور غار کے دہانے پر مکڑی کے جالے سے ناکام ہوگئی۔

یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ:

اللہ کے ارادے کے مقابلے میں مادی طاقتیں نہایت کمزور اور ناتواں ہیں۔

  • سخت ترین حالات میں وفاداری اور عہد کی پاسداری — قبا میں توقف

رسول خدا ﷺ مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے قبا میں ٹھہرے اور حضرت علی علیہ السلام اور اہلِ بیت کے پہنچنے سے پہلے شہر میں داخل نہیں ہوئے۔

رسول خدا ﷺ کا یہ طرزِ عمل ہمیں قدر شناسی، ساتھیوں سے وفاداری اور خاندان کے احترام کا عظیم درس دیتا ہے۔

یہ اقدار ایسے تاریخی لمحات میں بھی فراموش نہیں کی گئیں جب ہر طرف جلدی اور ہنگامی حالات کا سامنا تھا۔

  • تقویٰ: مشروعیت اور پائیداری کی واحد بنیاد – مسجدِ قبا

اسلام کی پہلی مسجد کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی:

أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ

یہ حقیقت بتاتی ہے کہ اسلامی معاشرہ سازی میں کسی ادارے یا اقدام کی حقیقی قدر اس کی ظاہری عظمت، عمارت یا وسعت پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ اس کی خالص نیت اور پاکیزہ بنیاد پر ہوتی ہے۔

  • غربت کے عروج میں امید اور مستقبل پر نظر – جحفہ

مکہ واپسی کی بشارت:

لَرادُّكَ إِلىٰ مَعادٍ

ایسے وقت میں نازل ہوئی جب پیغمبر اکرم ﷺ اپنے شہر سے نکلنے پر مجبور تھے۔

یہ واقعہ مستقبل کی روشن تصویر بنانے اور نصرتِ الٰہی سے امیدوار رہنے کا عظیم سبق دیتا ہے۔

مؤمن شدید ترین مشکلات میں بھی شکست کو آخری انجام نہیں سمجھتا بلکہ روشن مستقبل اور اللہ کی مدد پر ایمان رکھتا ہے۔

  • ہجرت اور اعلیٰ مقاصد کی راہ میں کوشش کی عظیم قدر

قرآن کریم نے اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کے اجر کی طرف اشارہ کیا ہے (سورۂ نساء، آیت 100)۔

اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ منطقِ الٰہی میں صرف منزل تک پہنچنا ہی اہم نہیں، بلکہ حق کے راستے میں قدم اٹھانا اور اقدار کے لئے  جدوجہد کرنا بھی اپنی جگہ عظیم قدر رکھتا ہے۔

اگر کوئی انسان اپنی پوری کوشش کرتے ہوئے راستے ہی میں دنیا سے رخصت ہو جائے تو بھی اسے اپنی جدوجہد کا مکمل اجر ملتا ہے۔

قرآنی مصادر:

  • سورۂ انفال، آیت 30: دارالندوہ کی سازش؛ رسول خدا ﷺ کو قید کرنے، قتل کرنے یا مکہ سے نکالنے کے منصوبے کی طرف اشارہ۔
  • سورۂ بقرہ، آیت 207: آیتِ «شراء النفس»؛ لیلۃ المبیت میں حضرت علی علیہ السلام کی جانثاری اور قربانی کے بارے میں۔
  • سورۂ یٰسین، آیت 9: رسول خدا ﷺ کے گھر سے نکلتے وقت حملہ آوروں کی آنکھوں کے سامنے حائل ہونے اور ان کے نہ دیکھ پانے کی آیت۔
  • سورۂ توبہ، آیت 40: غارِ ثور میں رسول خدا ﷺ کی موجودگی اور سکینۂ الٰہی کے نزول کا بیان۔
  • سورۂ بقرہ، آیت 214: ہجرت سے پہلے مکہ میں مسلمانوں کی سختیوں، مصیبتوں اور آزمائشوں کی طرف اشارہ۔
  • سورۂ نساء، آیت 100: اللہ کی راہ میں ہجرت کی عظمت اور ان مہاجرین کے اجر کا ذکر جو سفر کے دوران وفات پا جائیں یا سختیاں برداشت کریں۔
  • سورۂ قصص، آیت 85: مکہ میں فاتحانہ واپسی کی بشارت؛ تفاسیر کے مطابق یہ آیت مقامِ جحفہ میں نازل ہوئی۔
  • سورۂ توبہ، آیت 108: مسجدِ قبا کی فضیلت اور تقویٰ کی بنیاد پر اس کے قیام کے بارے میں۔

روائی اور تاریخی مصادر:

  • تفسیر کبیر، فخر رازی، ج 5، ص 223:
    حضرت علی علیہ السلام کے ایثار کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی فرشتوں، جبرئیل اور میکائیل، کے سامنے مباہات کا واقعہ۔
  • احیاء علوم الدین، غزالی، ج 3، ص 23:
    آیت 207 سورۂ بقرہ کے لیلۃ المبیت اور حضرت علی علیہ السلام کی جانثاری کے بارے میں نازل ہونے کا بیان۔
  • تاریخ الطبری، طبری، ج 2، ص 371–374:
    دارالندوہ کی سازش، حضرت علی علیہ السلام کے بسترِ رسول ﷺ پر سونے اور رسول خدا ﷺ کے غارِ ثور کی طرف روانہ ہونے کی تفصیلی روایت۔

ص 469: قبا میں رسول خدا ﷺ کے توقف، حضرت علی علیہ السلام اور فواطم کے انتظار، اور اس کے بعد مدینہ میں ورود کا بیان۔

  • السیرۃ النبویۃ، ابن ہشام، ج 2، ص 124:
    قریش کے حملہ آوروں کا رسول خدا ﷺ کے گھر پر حملہ کرنے اور وہاں حضرت علی علیہ السلام کو پانے کا واقعہ۔
  • کفایۃ الطالب، گنجی شافعی، ص 239:
    سورۂ بقرہ کی آیت 207 کے حضرت علی علیہ السلام سے اختصاص سے متعلق روایات۔
  • الأمالی، شیخ طوسی، ص 466:
    بسترِ رسول ﷺ پر سونے سے پہلے رسول خدا ﷺ اور حضرت علی علیہ السلام کے درمیان ہونے والی گفتگو اور توافق۔
  • إعلام الوریٰ بأعلام الہدیٰ، طبرسی، ج 1، ص 301:
    لیلۃ المبیت کے داستانی اور روائی پہلوؤں کی تفصیلی تشریح۔
  • تفسیر نمونہ، ناصر مکارم شیرازی، ذیل آیات بقرہ 207 اور انفال 30:
    شأنِ نزول اور تاریخی روایات کا جامع تجزیہ۔

ج 16، ص 376: سورۂ قصص کی آیت کے شأنِ نزول اور ہجرت کے راستے کے بارے میں تجزیہ۔

  • مجمع البیان، طبرسی، ذیل آیت 85 سورۂ قصص:
    مقامِ جحفہ میں رسول خدا ﷺ کی مکہ سے محبت اور اشتیاق، اور واپسی کی بشارت والی آیت کے نزول کی روایت۔
  • السیرۃ النبویۃ، ابن ہشام، ج 2، ص 137–142:
    مسجدِ قبا کی تعمیر اور رسول خدا ﷺ کے تاریخی ورودِ یثرب کی تفصیلات۔
اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔