موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 29

Topic of the Week - Volume 03 Issue 29
Last Updated: جولائی 17, 2026By Categories: موضوعِ ہفتہ0 Comments on موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 290 min readViews: 140

شہید کی تشییع یا بیداری کا ذریعہ؟

اسلامی ثقافت میں تشییع جنازہ کا فلسفہ اور  شہداء کے مشن کے تسلسل میں اس کا کردار

سید  ہاشم  موسوی

مقدمہ

موت، بظاہر، ہر انسان کی زندگی کا سب سے شخصی اور ناگزیر تجربہ ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں انسان کے دنیا سے تمام مادی تعلقات منقطع ہو جاتے ہیں، اور وہ اپنی وجودی حقیقت کی انتہائی برہنہ صورت میں تنہا اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہوتا ہے۔

قرآنِ کریم نے بارہا اس انفرادی حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا﴾

"اور قیامت کے دن سب کے سب تنہا اس کے حضور حاضر ہوں گے۔
(سورۂ مریم، آیت 95)

اسلامی شریعت بھی اپنی بہت سی عبادات اور دینی ذمہ داریوں میں انسان کو خلوت، شب بیداری، پوشیدہ گریہ و زاری، اور اپنے رب کے ساتھ ایک نہایت ذاتی اور بےواسطہ تعلق قائم کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ نمازِ شب، اعتکاف، اور رات کی تاریکی میں طویل سجدے، سب اس حقیقت کے مظہر ہیں کہ روحانی تکامل میں خلوت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

لیکن اسلامی شریعت کی حکمت انگیز خصوصیت یہ ہے کہ عین اسی مقام پر، جہاں انسانی زندگی کا سب سے انفرادی واقعہ، یعنی موت، پیش آتا ہے، شریعت رخ بدل دیتی ہے اور اس واقعے کو تنہائی کی چار دیواری سے نکال کر معاشرے کےبیچ میں لے آتی ہے۔

یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو شریعت عبادات کو پوشیدہ رکھنے پر زور دیتی ہے، وہ ایک مومن کی وفات کے موقع پر پورے معاشرے کو کیوں جمع کرتی ہے؟ کیوں اجتماعی شرکت، باہمی ہمدردی اور اجتماعی رخصت کو اس قدر اہمیت دیتی ہے؟ کیوں محتضر کو تلقین، غسلِ میت، کفن، نمازِ جنازہ، تشییع، تدفین، تعزیت، زیارتِ قبر اور اموات کی یاد جیسے تمام اعمال، جو بنیادی طور پر اجتماعی نوعیت رکھتے ہیں، ایک انفرادی واقعے کے فوراً بعد ضروری قرار دئے  گئے ہیں؟

اسی سوال کا جواب اسلامی معاشرتی فکر کے ایک نئے افق کو ہمارے سامنے کھولتا ہے؛ ایسا افق جس میں موت صرف ایک حیاتیاتی یا انفرادی انجام نہیں، بلکہ زندہ انسانوں کی تربیت، بیداری اور اجتماعی شعور کی تشکیل کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔

موت کے دو پہلو: انفرادی سفر سے اجتماعی بیداری تک

اسلام کی نگاہ میں موت ایک یک رخی حقیقت نہیں ہے۔ اگرچہ متوفیٰ کی روح اپنا انفرادی سفر شروع کرتی ہے، لیکن اس کا جسم اور اس کی یاد معاشرے کے لئے  ایک تربیتی سرمایہ بن جاتی ہے۔

اسلامی سماجی نفسیات کے مطابق معاشرہ ایک جسمِ واحد کی مانند ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ مومنین باہمی تعلق میں "كَالْجَسَدِ الْوَاحِدِ" یعنی ایک جسم کی مانند ہیں۔ اس اعتبار سے ایک فرد کی وفات پورے معاشرے کے وجود پر اثر انداز ہوتی ہے۔

شریعت نے غسل، کفن، نمازِ جنازہ اور تشییع جیسے احکام کے ذریعے اس نقصان کو پوری امت کی روحانی اور اخلاقی تعمیرِ نو کا موقع بنا دیا ہے۔

تشییع جنازہ مسلمانوں کے اہم ترین اجتماعی اعمال میں سے ایک ہے، جو امت کی شناخت اور وحدت کو مضبوط کرتا ہے۔ جب کسی مسلمان کا انتقال ہوتا ہے تو اس کی تشییع میں لوگوں کی شرکت اس حقیقت کا اعلان ہوتی ہے کہ اسلامی معاشرے میں کوئی شخص تنہا اور بے سہارا نہیں۔ جس طرح اس کی زندگی محترم تھی، اسی طرح اس کی وفات بھی عزت و احترام کی مستحق ہے۔

یہ اجتماعی عمل معاشرتی فاصلے کم کرتا ہے اور دولت، منصب، طبقاتی حیثیت یا سماجی مرتبے سے قطعِ نظر، سب انسانوں کو موت کی اٹل حقیقت کے سامنے برابر کھڑا کر دیتا ہے۔

درحقیقت تشییع جنازہ میں شرکت انسان کو روزمرہ کی غفلت سے نکال کر اجتماعی غور و فکر کی ایک ایسی منزل تک پہنچا دیتی ہے جہاں وہ اپنی زندگی، انجام اور ذمہ داریوں پر نئے سرے سے نظر ڈالتا ہے۔

عیادتِ مریض اور تشییعِ جنازہ: باہمی حقوق اور اسلامی یکجہتی کا عملی مظہر

اہلِ بیت علیہم السلام کی احادیث میں مسلمانوں کے باہمی حقوق کا ایک جامع نظام بیان کیا گیا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ سے ایک مشہور روایت نقل ہوئی ہے کہ آپؐ نے فرمایا:

«لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ سِتَّةُ حُقُوقٍ»

"مسلمان کے اپنے مسلمان بھائی پر چھ حقوق ہیں…”

ان حقوق میں "عِيَادَةُ الْمَرِيضِ" (بیمار کی عیادت) اور "اتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ" (جنازے کے ساتھ جانا) کو ایک دوسرے کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ ان دونوں حقوق کا ساتھ ساتھ بیان ہونا ایک نہایت عمیق حکمت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

بیمار کی عیادت دراصل اس مؤمن کے ساتھ اس وقت کھڑا ہونے کا نام ہے جب وہ کمزوری، تکلیف اور بیماری سے دوچار ہو۔ یہ اس کے حوصلے کو مضبوط کرنے اور اس کی زندگی سے وابستگی کو قائم رکھنے کا ایک عملی اظہار ہے۔

تشییعِ جنازہ اسی رفاقت کا فطری تسلسل ہے۔ گویا اسلامی معاشرہ اپنے ایک فرد سے یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ ہم صرف تمہاری بیماری اور کمزوری میں ہی تمہارے ساتھ نہیں تھے، بلکہ تمہارے ابدی سفر کے آخری مرحلے تک بھی تمہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

یہ طرزِ عمل معاشرے میں نفسیاتی اطمینان، باہمی اعتماد اور جذباتی وابستگی کی ایک مضبوط فضا پیدا کرتا ہے۔

یہی حقیقت واضح کرتی ہے کہ اسلامی تہذیب میں انسان کبھی ایک بےیار و مددگار فرد نہیں ہوتا، بلکہ وہ "امت" نامی ایک عظیم خاندان کا رکن ہوتا ہے۔

معاشرہ بیماری میں اس کے بستر تک پہنچتا ہے تاکہ اسے زندگی کی طرف واپس لائے، اور وفات کے بعد اس کے جسدِ خاکی کو عزت و احترام کے ساتھ سپردِ خاک کرتا ہے تاکہ اس کے اور اس کے اہلِ خانہ کے حقِ احترام کو ادا کیا جا سکے۔

یہ پورا عمل ایمانی اخوت اور سماجی سرمایہ کی بلند ترین شکل کو وجود میں لاتا ہے۔

تشییعِ جنازہ کے اجر و فضائل کی حکمت: کیا یہ صرف اعداد و شمار ہیں یا ایک تربیتی انقلاب؟

احادیث پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تشییعِ جنازہ میں شرکت کےلئے  بے شمار فضائل اور عظیم ثواب بیان کئے  گئے ہیں۔

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:

"مَنْ شَيَّعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ.”

"جو شخص کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے یہاں تک کہ اس پر نماز پڑھی جائے، اسے ایک قیراط اجر ملے گا، اور اگر تدفین تک ساتھ رہے تو اسے دو قیراط اجر ملیں گے، اور ہر قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہوگا۔"

بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ جنازے کے ساتھ چلنے والے کے ہر قدم پر ہزاروں نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ہزاروں گناہ معاف کئے  جاتے ہیں۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے:

کیا ان فضائل کا مقصد صرف ثواب کی ریاضیاتی مقدار بیان کرنا ہے؟ یا یہ اعداد دراصل اس عمل کے عظیم تربیتی اثرات کی علامت ہیں؟

اسلامی تعلیمات کا مجموعی مزاج یہی بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اجر کا معیار صرف ظاہری عمل نہیں بلکہ انسان کی باطنی کیفیت اور اس کے اندر پیدا ہونے والی تبدیلی ہے۔

اس بنا پر تشییعِ جنازہ کے بارے میں بیان کئے  گئے یہ عظیم فضائل دراصل اس عمل کی بے مثال تربیتی طاقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔

جب کوئی شخص ایک جنازے کے پیچھے چلتا ہے تو وہ بیک وقت کئی گہرے روحانی اور اخلاقی تجربات سے گزرتا ہے۔

۱۔ حقیقتِ حیات کا ادراک اور غرور کا خاتمہ

جب انسان اپنے جیسے ایک شخص کو ہمیشہ کے لئے  دنیا سے رخصت ہوتے دیکھتا ہے تو اس کی دنیاوی آرزوؤں کے محلات منہدم ہونے لگتے ہیں۔

وہ اپنی حقیقت، اپنے انجام اور اپنے مقصدِ زندگی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے لگتا ہے۔

۲۔ ہمدردی اور قلب کی نرمی

سوگوار خاندان کے غم میں شریک ہونا دل کی سختی کو ختم کرتا ہے اور انسان کے اندر اجتماعی ہمدردی اور رحمدلی کے جذبات کو مضبوط بناتا ہے۔

۳۔ توبہ اور زندگی کی اصلاح

احادیث میں تاکید کی گئی ہے کہ جنازے کے ساتھ چلتے ہوئے اپنے آپ کو اس تابوت کے اندر تصور کرو۔

یوں خیال کرو کہ تم اللہ تعالیٰ سے دنیا میں واپس آنے کی مہلت مانگ رہے تھے اور اب تمہیں یہ مہلت عطا کر دی گئی ہے۔

یہ ذہنی تصور انسان کو اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے، گناہوں سے توبہ کرنے اور اپنی زندگی کی اصلاح پر آمادہ کرنے کا نہایت مؤثر ذریعہ ہے۔

اسی لئے  تشییعِ جنازہ کے بارے میں بیان ہونے والے یہ عظیم اجر محض عددی مبالغہ نہیں بلکہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ ایک ایسا تربیتی مدرسہ ہے جو چند گھنٹوں کے اندر ایک غافل انسان کی پوری زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔

شاید اسی وجہ سے علمائے اخلاق ہمیشہ اس بات کی تاکید کرتے رہے ہیں کہ تشییعِ جنازہ میں شرکت سے کبھی غفلت نہ برتو، کیونکہ بعض اوقات جو اثر گھنٹوں کی نصیحت سے پیدا نہیں ہوتا، وہ ایک جنازہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے سے چند لمحوں میں پیدا ہو جاتا ہے۔ 

عام افراد کی تشییع اور شہداء کی تشییع میں فرق: خون کا پیغام اور بیداری کا ذریعہ

اگرچہ ہر مؤمن کی تشییعِ جنازہ اپنے اندر فضیلت اور تربیتی اثرات رکھتی ہے، لیکن شہداء، ربانی علماء اور الٰہی پیشواؤں (معصومین علیہم السلام) کی تشییع ایک بالکل مختلف اور بلند تر حقیقت کی حامل ہے۔ ان دونوں کے درمیان صرف درجے کا نہیں بلکہ مقصد اور اثر کا بھی بنیادی فرق پایا جاتا ہے۔

عام انسان کی تشییع کا بنیادی مقصد لوگوں کو موت کی یاد دلانا، متوفیٰ کے لئے  دعائے مغفرت کرنا اور اس کے اہلِ خانہ کو تسلی دینا ہوتا ہے۔

لیکن شہید کی تشییع صرف ایک جنازہ نہیں، بلکہ ایک حماسی، فکری، دینی اور سماجی تحریک ہوتی ہے۔

شہید صرف وہ شخص نہیں جس کی زندگی ختم ہو گئی ہو؛ بلکہ وہ مزاحمت، ایثار اور حق کی گواہی کا زندہ پیغام ہوتا ہے۔

اس نے اپنی جان کسی ذاتی مفاد کےلئے  نہیں، بلکہ حق، عدالت، دین اور انسانی اقدار کے تحفظ کے لئے  قربان کی ہوتی ہے۔

لیکن اس عظیم قربانی کی حقیقی تاثیر اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب اس کا پیغام معاشرے تک پہنچے۔

یہیں سے امت کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔

جب لوگ شہید کے پاکیزہ جسد کو اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں تو وہ دراصل ان تمام اقدار کے ساتھ دوبارہ عہد و پیمان کرتے ہیں جن کے لئے  اس شہید نے اپنی جان پیش کی تھی۔

اسی حقیقت کو ایک جملے میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے:

"اگر شہید کا خون پیغام ہے تو اس کی تشییع اس پیغام کو پہنچانے والا ذریعۂ ابلاغ ہے۔"

شہادت کا دوسرا مرحلہ

شہید اپنی شہادت کے ذریعے اپنی پہلی ذمہ داری پوری کر دیتا ہے۔

وہ اپنے خون سے مردہ دل معاشرے میں نئی روح پھونکتا ہے، باطل کے مقابلے میں حق کی گواہی دیتا ہے اور دین کی صداقت پر اپنی جان کی مہر ثبت کر دیتا ہے۔

لیکن اس کے بعد ایک دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔

یہ مرحلہ اس پیغام کو زندہ انسانوں اور آنے والی نسلوں تک پہنچانے کا ہے۔

یہ ذمہ داری خود امت ادا کرتی ہے۔

جتنا زیادہ کسی شہید کی تشییع عظیم، منظم اور پرجوش ہوگی، اتنا ہی زیادہ اس کا پیغام معاشرے میں پھیلے گا اور تاریخ میں زندہ رہے گا۔

اس اعتبار سے تشییع صرف ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ ایک طاقتور سماجی اور ثقافتی ابلاغی عمل ہے۔

تشییعِ شہید: روحِ ایثار کی تجدید

شہید کی تشییع معاشرے میں ایثار، استقامت، مزاحمت اور شہادت کے جذبے کو دوبارہ زندہ کرتی ہے۔

اس ماحول میں غم اور حزن، روحانی مسرت اور حماسی ولولے کے ساتھ یکجا ہو جاتے ہیں۔

ایسے اجتماع میں شریک ہونے والا شخص خود کو ایک عظیم نمونے کے سامنے کھڑا محسوس کرتا ہے۔

وہ صرف ایک میت کو رخصت نہیں کر رہا ہوتا بلکہ ایک ایسے انسان کو الوداع کہہ رہا ہوتا ہے جس نے اپنی جان اللہ تعالیٰ کی رضا کے للئے  قربان کی اور جو قرآن کی تعبیر کے مطابق اپنے رب کے حضور زندہ ہے۔

اسی طرح ایک ربانی عالم کی تشییع علم، تقویٰ اور معرفت کی عظمت کو نمایاں کرتی ہے اور معاشرے کو فضیلت، علم دوستی اور دینی شعور کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

تاریخ کی عظیم  ہستیوں کی تشییع  ایک مکتب کی بقا اور امت کے عہد کی تجدید

اسلام، بالخصوص تاریخِ تشیع، ایسی بے شمار تشییعوں کی گواہ ہے جنہوں نے تاریخ کا رخ بدل دیا یا ہمیشہ کے لئے  حقانیت اور مظلومیت کی علامت بن گئیں۔

حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا:

حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی شبانہ اور مخفیانہ تدفین خود ایک نہایت گہرا سیاسی اور ابلاغی اقدام تھی۔

یہ خاموش احتجاج تھا، جس نے خلافت کے راستے میں آنے والی انحرافات کے بارے میں ایک ایسا سوال چھوڑ دیا جو آج بھی تاریخ کے سامنے موجود ہے۔

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام:

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی تشییع، اگرچہ بنی امیہ کی رکاوٹوں کا شکار ہوئی، لیکن اس نے اہلِ بیت علیہم السلام کی مظلومیت کو ہمیشہ کے لئے  تاریخ میں محفوظ کر دیا۔

امام رضا علیہ السلام:

اس کے برعکس، امام رضا علیہ السلام کی خراسان میں ہونے والی عظیم الشان تشییع، اہلِ بیت سے عوام کی محبت اور وفاداری کا ایسا مظہر بنی جس نے عباسی حکومت کی سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔

اربعینِ حسینی:

امام حسین علیہ السلام کا عظیم اجتماعِ اربعین درحقیقت اسی تاریخی تشییع کا تسلسل ہے۔

صدیاں گزرنے کے باوجود لاکھوں بلکہ کروڑوں انسان آج بھی کربلا کی طرف اسی وفاداری اور عہد کی تجدید کے جذبے کے ساتھ رواں ہوتے ہیں۔ یہ صرف ایک زیارت نہیں بلکہ شہادت کے پیغام کی مسلسل تجدید ہے۔

عصرِ حاضر کا سب سے بڑا  اجتماع :

موجودہ دور میں بھی عظیم قائد شہید اور  دیگرشہداء کی لاکھوں افراد پر مشتمل تشییع جنازہ نے اس مذہبی و سماجی رسم کی غیر معمولی قوت کو دنیا کے سامنے نمایاں کردیا ہے۔

امام خمینیؒ اور آیت اللہ شہید خامنہ‌ای کے عظیم الشان جنازوں میں عوام کی وسیع شرکت محض جذباتی اظہار نہیں تھی۔

بہت سے مبصرین اور اہلِ قلم کے اعتراف کے مطابق، یہ درحقیقت ایک عوامی ریفرنڈم تھا، جس میں لوگوں نے ان نظریات اور مقاصد سے اپنی وفاداری کا اعلان کیا جن کے لئے  ان شخصیات نے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔

اس تناظر میں شہید رہبر کی تشییع نے یہ حقیقت واضح کی کہ شہادت اختتام نہیں بلکہ ایک مکتب کی اجتماعی زندگی کے نئے اور زیادہ متحرک مرحلے کا آغاز ہے۔

جب شہید کا جسد لاکھوں ہاتھوں پر اٹھایا جاتا ہے تو وہ قومی وحدت، اجتماعی استقامت اور دشمنوں کی سازشوں کے مقابلے میں ایک طاقتور محرک بن جاتا ہے۔

یہ اجتماعی شرکت دراصل ایک نئے عہد و پیمان کی تجدید ہوتی ہے، جس کے ذریعے امت دوبارہ شہید کے راستے اور اس کے افکار سے وابستگی کا اعلان کرتی ہے۔ 

اختتامی کلمات: تشییع، زندہ لوگوں کی ذمہ داری کا آغاز

اس پورے جائزے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلامی ثقافت میں تشییعِ جنازہ محض ایک مادی جسم کو قبر تک پہنچانے کی رسم نہیں، بلکہ ایمان، خدمت، مجاہدت اور فضیلت سے بھرپور ایک پوری زندگی کو عزت و احترام کے ساتھ رخصت کرنے کا عمل ہے۔

جس قدر تشییع کئے  جانے والے شخص کا مقام بلند، الٰہی اور اثر انگیز ہوگا، اسی قدر اس تشییع کی تربیتی، ابلاغی اور تہذیبی تاثیر بھی وسیع تر ہوگی۔

ایک ربانی عالم کی تشییع انسان کو علم، تقویٰ اور معرفت کی عظمت کا احساس دلاتی ہے۔

ایک شہید کی تشییع معاشرے کی رگوں میں ایثار، حریت، استقامت اور مزاحمت کی نئی روح پھونک دیتی ہے۔

اور اہلِ بیت علیہم السلام کی یاد، امت کی اجتماعی حرکت کو حق، عدل اور ہدایت کی سمت متعین رکھنے والی قطب نما بن جاتی ہے۔

اس اعتبار سے اسلام میں تشییع کسی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ زندہ لوگوں کی نئی ذمہ داری کا آغاز ہے۔

جب معاشرہ اس رسم میں شریک ہوتا ہے تو وہ درحقیقت یہ عہد کرتا ہے کہ جس پرچم کو متوفیٰ یا شہید نے اپنے ہاتھوں میں اٹھائے رکھا، اسے زمین پر گرنے نہیں دے گا۔

وہ اس بات کا التزام کرتا ہے کہ جن اقدار، اصولوں اور آرمانوں کے لئے  اس شخص نے زندگی گزاری، خدمت کی اور اگر ضرورت پڑی تو اپنی جان تک قربان کر دی، انہیں فراموش نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اسی لئے  تشییع صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ مستقبل کی تعمیر کا ذریعہ بھی ہے۔

یہ گزشتہ نسل کے مجاہدوں کو موجودہ نسل سے اور موجودہ نسل کو آنے والی نسلوں سے جوڑنے والا ایک زندہ اور متحرک رشتہ ہے۔

یہ ایسا شعوری اور بامقصد اجتماعی عمل ہے جو معاشرے کے چہرے سے غفلت کی گرد جھاڑ دیتا ہے، اسے اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے اور اسے مسلسل بیداری، حرکت اور فکری حیات کے راستے پر قائم رکھتا ہے۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔