موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 21
مکتبِ امام باقرؑ میں محبت اور اطاعت کا باہمی تعلق
سید ہاشم موسوی
تمہید
امام محمد باقر علیہ السلام یکم رجب سنہ 57 ہجری قمری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والدِ گرامی امام سجاد علیہ السلام اور والدہ محترمہ فاطمہ بنت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام تھیں۔ اس طرح آپ والد کی طرف سے امام حسین علیہ السلام اور والدہ کی طرف سے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے نسبت رکھتے ہیں، اور یوں آپ کا پاکیزہ نسب اہلِ بیت علیہم السلام کی دو نورانی شاخوں کے حسین امتزاج کی جھلک پیش کرتا ہے۔
سنہ 95 ہجری میں اپنے والد کی شہادت کے بعد، امام باقر علیہ السلام نے 38 سال کی عمر میں شیعوں کی امامت سنبھالی۔ آپ کی امامت کا دور، جو انیس سال پر مشتمل تھا، بنی امیہ کے پانچ خلفاء کے زمانے کے ساتھ ہم عصر رہا۔
بالآخر سات ذی الحجہ سنہ 114 ہجری میں، آپ 57 برس کی عمر میں شہید کر دیے گئے۔ بعض تاریخی منابع ہشام بن عبدالملک کو اور بعض ابراہیم بن ولید کو اس جرم کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ آپ کا پاکیزہ جسد جنت البقیع میں امام حسن مجتبیٰ اور امام سجاد علیہما السلام کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
امام باقر علیہ السلام کا دائمی ورثہ صرف آپ کی زندگی کی تاریخ تک محدود نہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر دینی معارف کی گہری تشریح اور تشیع کی حقیقی روح کی تجدید میں جلوہ گر ہے، اور یہی نکتہ ہمیں اس تحریر کے بنیادی موضوع کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
امام باقرؑ کے کلام میں شیعہ کی حقیقت اور اطاعتِ الٰہی کی وضاحت
دینی معاشروں کو ہمیشہ سے جن خطرات نے گھیر رکھا ہے، ان میں ایک بڑا خطرہ “دینی شناخت” کا “دینی عمل” سے جدا ہو جانا ہے؛ یعنی انسان نام، نعروں، نسبتوں اور جذبات پر خوش ہو جائے، مگر اس کی عملی زندگی میں دینداری کی واضح علامت نظر نہ آئے۔
ائمہ معصومین علیہم السلام، خصوصاً امام باقر علیہ السلام، نے اس خطرے کو گہرائی سے محسوس کرتے ہوئے بارہا کوشش کی کہ تشیع کی حقیقت کو محض دعوے اور نسبت سے بلند کر کے بندگی، اطاعت اور عملی سلوک کے ساتھ جوڑ دیں۔
آپؑ کے نورانی مکتب میں “حقیقی شیعہ” کی پہچان تین عناصر کے بغیر ممکن نہیں:
- اطاعتِ الٰہی
- عملِ صالح
- اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت
اسی لیے امام باقر علیہ السلام کے بیانات شیعہ شناخت کے بارے میں نہایت واضح اور عمیق شمار ہوتے ہیں۔ یہ بیانات ایک طرف غلو اور سطحی سوچ سے حد بندی کرتے ہیں، اور دوسری طرف واضح کرتے ہیں کہ تشیع صرف جذباتی وابستگی یا نسبی نسبت نہیں، بلکہ ایک تربیتی اور ذمہ داری پیدا کرنے والا مکتب ہے۔
پہلی حدیث: خَیثمہ جعفی، جو امام باقر اور امام صادق علیہما السلام کے خاص اصحاب اور راویوں میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ میں امام باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ سے رخصت لوں۔ اس وقت امامؑ نے فرمایا:
"يا خيثمة أبلِغْ شيعَتَنا أنَّهُ لا يُنالُ ما عِندَ اللّه ِ إلاّ بِالعَمَلِ ، و أبلِغْ شيعَتَنا أنَّ أعظَمَ النّاسِ حَسرَةً يَومَ القِيامَةِ مَن وَصَفَ عَدلاً ثُمَّ خالَفَهُ إلى غَيرِهِ”
"اے خَیثمہ! ہمارے شیعوں کو یہ پیغام پہنچا دو کہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ صرف عمل کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، اور انہیں یہ بھی بتا دو کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ حسرت اُس شخص کو ہوگی جو عدل کی تعریف کرے مگر خود اس کے خلاف عمل کرے۔”
(امالی شیخ طوسی، ص 370)
دوسری حدیث: امام باقر علیہ السلام نے اپنے مشہور صحابی میسر بن عبدالعزیز سے فرمایا:
«یَا مُیَسِّرُ أَلاَ اُخْبِرُکَ بِشِیعَتِنَا؟ … رُهْبَانٌ بِالْلَیلِ اُسُدٌ بِالْنَهارِ»
"اے میسر! کیا میں تمہیں اپنے شیعوں کی پہچان نہ بتاؤں؟
وہ مضبوط قلعے، امانت دار سینے، متین عقلوں والے لوگ ہیں۔ نہ کسی کا راز فا ش کرتے ہیں، نہ سخت مزاج اور ریاکار ہوتے ہیں۔ راتوں کو عبادت گزار اور دن میں شیروں کی مانند ہوتے ہیں۔”
(بحار الأنوار، ج 65، ص 180)
تیسری حدیث: جابر بن یزید جعفی کہتے ہیں کہ میں اٹھارہ سال امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں رہا۔ جب میں نے رخصت چاہی تو عرض کیا: مجھے نصیحت فرمائیے۔ امامؑ نے فرمایا:
«یا جابر بلّغ شیعتی منی السلام و اعلمهم انه لا قرابة بیننا و بین الله عز و جل و لا یتقرب الله الا بالطاعة، یا جابر من اطاع الله و احبنا فهو ولینا و من عصی الله لم ینفعه حبنا»
"اے جابر! میرے شیعوں کو میرا سلام پہنچاؤ اور انہیں بتاؤ کہ ہمارے اور اللہ کے درمیان کوئی خاندانی تعلق نہیں، اور اللہ سے قرب صرف اطاعت کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ جو اللہ کی اطاعت کرے اور ہم سے محبت رکھے، وہی ہمارا حقیقی دوست اور پیرو ہے، اور جو اللہ کی نافرمانی کرے، ہماری محبت اسے کوئی فائدہ نہیں دے گی۔” (امالی شیخ طوسی، ص 296)
ان تمام روایات سے تشیع کی ایک جامع تصویر سامنے آتی ہے، جس کی بنیاد دو اساسی اصولوں پر قائم ہے:
- اللہ کی بندگی
- اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت اور ولایت
1۔ قرآن کی نظر میں حقیقی بندگی
قرآن کریم بندگی کو صرف دعوے یا اندرونی احساس کا نام نہیں دیتا، بلکہ اس کی حقیقت “اطاعت” میں بیان کرتا ہے:
«وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَ لَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَ رَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ»
"کسی مومن مرد یا عورت کے لیے جائز نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو وہ اپنے لیے کوئی اور راستہ اختیار
کرلے۔” (سورۂ احزاب: 36)
اسی طرح قرآن فرماتا ہے:
«قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ»
"کہہ دیجئے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ بھی تم سے محبت کرے گا۔”
(سورۂ آل عمران: 31)
اس منطق کے مطابق انسان کی قدر و قیمت نہ دعوے سے ہے، نہ نسب سے اور نہ نعروں سے، بلکہ اللہ کے سامنے اس کے تسلیم و اطاعت سے ہے۔
یہاں تک کہ انبیاء کے خاندان سے نسبت بھی اطاعت کے بغیر نجات کا سبب نہیں بنتی۔ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کو، خاندانی نسبت کے باوجود، نافرمانی کی وجہ سے نجات یافتہ قرار نہیں دیا گیا۔
امام باقر علیہ السلام نے اسی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:
«لا یتقرب الله الا بالطاعة»
"اللہ کا قرب صرف اطاعت کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔”
یہ جملہ ہر قسم کی خیالی “خصوصی نسبت” کی نفی کرتا ہے اور اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ نجات کا معیار صرف عمل اور بندگی ہے۔
2۔ اہلِ بیتؑ کی محبت اور اطاعتِ خدا کا تعلق
جب یہ واضح ہو گیا کہ حقیقی بندگی اطاعت کے بغیر ممکن نہیں، تو اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت اور ولایت کا مقام کیا ہے؟
قرآن کریم فرماتا ہے:
«قُل لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى»
"کہہ دیجئے: میں تم سے اس رسالت پر کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اپنے قرابت داروں کی محبت کے۔”
(سورۂ شوریٰ: 23)
امام باقر علیہ السلام اس محبت کی حقیقت یوں بیان فرماتے ہیں:
«یا جابِرُ مَنْ أَطاعَ اللهَ وَ أَحَبَّنا فَهُوَ وَلِیُّنا وَ مَنْ عَصى اللهَ لَمْ یَنْفَعْهُ حُبُّنا»
"اے جابر! جو اللہ کی اطاعت کرے اور ہم سے محبت رکھے، وہ ہمارا دوست اور پیرو ہے، اور جو اللہ کی نافرمانی کرے، ہماری محبت اسے فائدہ نہیں دے گی۔”
یعنی اہلِ بیتؑ کی محبت محض جذباتی وابستگی نہیں، بلکہ ایسی محبت ہے جو انسان کو اطاعت کی طرف لے جاتی ہے۔ حقیقی محبت انسان کو اپنے محبوب کے راستے پر چلنے پر آمادہ کرتی ہے۔ اسی لیے محبتِ اہلِ بیتؑ، اطاعت کا مقدمہ ہے، اس کا متبادل نہیں۔
3۔ محبتِ اہلِ بیتؑ اور اطاعتِ خدا — سعادتِ ابدی کے دو پر
اب یہ سمجھنا آسان ہے کہ سعادتِ ابدی کے لیے انسان کو دو مکمل پروں کی ضرورت ہے:
1۔معرفت اور محبت
یہ دل کی وہ کیفیت ہے جو انسان کے اعمال کو روح بخشتی ہے، گناہوں کو پگھلاتی ہے اور زندگی کی سمت متعین کرتی ہے۔
امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
«ولایتی لعلی بن ابی طالب احب الیّ من ولادتی منه»
"علی بن ابی طالب کی ولایت و محبت میرے لیے ان کی اولاد ہونے سے زیادہ محبوب ہے۔”
2۔ اطاعت اور عمل
یہ وہ پر ہے جو ولایت کے دائرے میں داخل ہونے اور اعمال کی قبولیت کی شرط ہے۔
اسی حقیقت کو امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:
«أنَّهُ لا يُنالُ ما عِندَ اللّه ِ إلاّ بِالعَمَلِ»
“اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ صرف عمل سے حاصل ہوتا ہے۔”
حقیقی شیعہ کون؟
اہلِ بیت علیہم السلام کی نظر میں حقیقی انسان وہ ہے جو اپنے ایمان کو عملی شکل دے۔
حقیقی شیعہ وہ نہیں جو شفاعت کے سہارے فرائض ترک کر دے، اور نہ وہ جو اپنی عبادت پر غرور کرتے ہوئے ولایتِ اہلِ بیتؑ سے بے نیاز ہو جائے۔
بلکہ حقیقی شیعہ وہ ہے:
- جس کے دل میں اہلِ بیتؑ کی محبت ہو،
- جس کے اعمال میں اللہ کی اطاعت نظر آئے،
- اور جس کی زندگی میں اہلِ بیتؑ کا اخلاق جھلکتا ہو۔
نتیجہ: امام باقر علیہ السلام کی نگاہ میں محبت اور اطاعت دو الگ حقیقتیں نہیں، بلکہ ہدایت کے راستے کے دو تکمیلی ستون ہیں۔ محبت انسان کے دل میں حرکت اور شوق پیدا کرتی ہے، جبکہ اطاعت اس محبت کی سچائی کو عمل کے میدان میں ثابت کرتی ہے۔
لہٰذا جہاں محبت عمل سے جدا ہو جائے، وہ بے اثر جذبہ بن جاتی ہے، اور جہاں عمل محبت سے خالی ہو، وہاں روح اور معنویت باقی نہیں رہتی۔ تشیع کی حقیقی روح انہی دونوں حقیقتوں کے اکھٹا ہونے میں جلوہ گر ہوتی ہے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

