اداریہ – جلد 03 شمارہ 21

Editorial - volume 03 Issue 21
Last Updated: مئی 24, 2026By Categories: اداریہ0 Comments on اداریہ – جلد 03 شمارہ 210 min readViews: 5

اس بلیٹن کے  سو  (100) ہفتے، ایمان، فکر اور ذمہ داری

مقدمہ

ہر دور اور زمانے میں مؤمنین کا امتحان صرف ان کے محفوظات اور گفتگو سے نہیں لیا جاتا، بلکہ اس بات سے بھی لیا جاتا ہے کہ وہ ان تعلیمات کو عملی اخلاق میں کس طرح تبدیل کرتے ہیں۔ اس ہفتے کی مقدس مناسبتیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اسلام صرف رسومات اور یادگاروں کا دین نہیں، بلکہ اخلاقی شجاعت، علم، ایثار، مہربانی اور انسانی کرامت پر قائم ایک زندہ تہذیب ہے۔

ایک اہم سنگِ میل: ہمارے ہفت  روزہ بلیٹن  کا سوواں شمارہ

یہ شمارہ ہمارے ہفت  روزہ بلیٹن  کا سوواں شمارہ ہے۔ اس مرحلے تک پہنچنا ایک الٰہی نعمت بھی ہے اور ایک بڑی ذمہ داری بھی۔ ان سو شماروں کے دوران ہم نے کوشش کی ہے کہ ائمہ جماعت، اساتذہ، سماجی رہنماؤں اور ثقافتی کارکنوں کی مدد کریں تاکہ وہ عصرِ حاضر کی زندگی کو قرآن کریم اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے حاصل شدہ اسلامی ہدایت کے ساتھ جوڑ سکیں۔

اس سفر کے دوران ہم نے چند اہم اسباق سیکھے:

  • اسلامی معاشروں کو ایسی متوازن اور فکری دینی رہنمائی کی شدید ضرورت ہے جو اپنی روحانی اصالت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید دنیا کے اخلاقی چیلنجوں کا جواب دے سکے۔
  • اسلامی تاریخی مناسبتیں اسی وقت مؤثر اور انقلابی بنتی ہیں جب انہیں آج کے اخلاقی اور سماجی حقائق سے جوڑا جائے۔
  • نوجوان نسل اُس وقت مثبت ردِعمل ظاہر کرتی ہے جب اسلام کو حکمت، رحمت، عدل اور فکری گہرائی کے سرچشمے کے طور پر پیش کیا جائے، نہ کہ صرف ظاہری رسوم اور روایات کے مجموعے کے طور پر۔

ہمیں مساجد، اسلامی مراکز، مدارس اور تعلیمی اداروں میں اپنے قارئین سے جو تاثرات موصول ہوئے ہیں، وہ ہمارے للئے  نہایت حوصلہ افزا رہے ہیں۔ بہت سے قارئین نے اظہار کیا کہ یہ ہفتہ وار تأملات انہیں خطبات، درسی مباحث، نوجوانوں کے پروگراموں اور خاندانی گفتگوؤں کو زیادہ اعتماد اور زمانے کی ضروریات سے گہرے تعلق کے ساتھ پیش کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

اب جبکہ ہم سوویں شمارے کے بعد کے سفر میں داخل ہو رہے ہیں، ہماری امید ہے کہ اس مجلے کے تعلیمی اثرات کو درج ذیل امور کے ذریعے مزید وسعت دیں گے:

  • اساتذہ اور مبلغین کے لئے  عملی تعلیمی وسائل کی تیاری،
  • معاصر اخلاقی مسائل پر زیادہ توجہ،
  • نوجوانوں اور خاندانوں کے چیلنجوں پر خصوصی توجہ،
  • اور ایسے اسلامی  نظریات  کا فروغ جو روحانیت  سےجڑا ہوا ہو اور فکری اعتماد بھی رکھتا ہو۔

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس چھوٹی سی کوشش کو قبول فرمائے اور اسے اپنے بندوں کے للئے  نافع قرار دے۔

۵ ذی الحجہ: جنگِ سویق (۲ ہجری)

جنگِ سویق اُس وقت پیش آئی جب ابوسفیان نے بدر میں قریش کی شکست کے بعد مدینہ پر انتقامی حملہ کیا۔ یہ حملہ ناکام رہا اور حملہ آور فرار کے دوران “سویق” (جو کے آٹے) کی بوریاں چھوڑ گئے، اسی وجہ سے اس جنگ کو “جنگِ سویق” کہا جاتا ہے۔

یہ واقعہ اسلامی معاشرے کے دشمنوں کی مسلسل عداوت اور بیداری، اتحاد اور آمادگی کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسلام مؤمنین کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ اللہ پر توکل کے ساتھ ذمہ داری اور اجتماعی نظم کو بھی اختیار کریں۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ

"اور ان کے مقابلے کے لئے  جہاں تک ہو سکے قوت تیار رکھو۔” (الأنفال: 60)

آج کا پیغام: مسلمان معاشرے کو روحانی استقامت کے ساتھ سماجی شعور اور ذمہ دارانہ آمادگی بھی اختیار کرنی چاہئے ۔

۷ ذی الحجہ: شہادت امام محمد باقر علیہ السلام (114 ہجری)

امام محمد باقر علیہ السلام، اہلِ بیت کے پانچویں امام، کو ہشام بن عبدالملک اموی کے حکم سے زہر دے کر شہید کیا گیا۔ آپؑ نے اسلامی علوم کی نشر و اشاعت اور اصیل دینی معارف کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کیا۔

امام باقر علیہ السلام ایسے دور میں زندگی گزار رہے تھے جو سیاسی فساد اور فکری انتشار سے بھرپور تھا، لیکن آپؑ نے علم، حکمت اور شاگردوں کی تربیت کے ذریعے انحرافات کا مقابلہ کیا۔ آج کے زمانے میں بھی، جب سطحیت اور غلط معلومات عام ہیں، آپؑ کی سیرت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ علم ایک مقدس مزاحمت ہے۔

آج کا پیغام: ایک باشعور اور اخلاقی معاشرے کی تعمیر ہمارے دور کی عظیم ترین ذمہ داریوں میں سے ہے۔

۸ ذی الحجہ: یومِ ترویہ

یومِ ترویہ مناسکِ حج کے روحانی سفر کا آغاز ہے؛ وہ دن جب حجاج عرفات روانگی سے پہلے ظاہری اور باطنی تیاری کرتے ہیں۔

یہ دن تبدیلی سے پہلے تیاری کی علامت ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر گہری روحانی، سماجی یا تعلیمی تبدیلی کے للئے  غور و فکر، منصوبہ بندی اور خالص نیت ضروری ہے۔

آج کا پیغام: کوئی بھی پائیدار اصلاح روحانی تیاری اور سچی نیت کے بغیر ممکن نہیں۔

۸ ذی الحجہ: امام حسین علیہ السلام کی مکہ سے عراق روانگی (60 ہجری)

اسی دن امام حسین علیہ السلام نے یزید کی ظالمانہ حکومت کی بیعت سے انکار کے بعد مکہ سے عراق کی طرف سفر شروع کیا، جو آخرکار واقعۂ کربلا پر منتج ہوا۔

امام حسین علیہ السلام نے سیاسی مزاحمت کو ایک ابدی اخلاقی تحریک میں تبدیل کر دیا۔ ایسے دور میں جب حق کو مصلحت پر قربان کیا جاتا ہے، آپؑ کا قیام مسلمانوں کو یہ سکھاتا ہے کہ عزت اور عدل کو کبھی قربان نہیں کرنا چاہئے ۔

إِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشِرًا وَلَا بَطِرًا… إِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلَاحِ فِي أُمَّةِ جَدِّي

"میں سرکشی اور فساد کے للئے  نہیں نکلا، بلکہ اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے للئے  قیام کیا ہے۔”
(بحار الأنوار، ج 44، ص 329)

آج کا پیغام: اخلاقی جرات اور اصولی قیادت آج بھی ظلم کے مقابلے کےلئے  ضروری ہیں۔

۹ ذی الحجہ: حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ کی قبولیت

بعض روایات کے مطابق اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی سچی توبہ قبول ہوئی۔ اسلام کبھی بھی انسان پر توبہ کا دروازہ بند نہیں کرتا۔ مایوسی، احساسِ گناہ اور اخلاقی انتشار سے بھرپور دنیا میں حضرت آدمؑ کی داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ کی رحمت انسان کی خطاؤں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

آج کا پیغام: ہر فرد اور ہر معاشرہ سچی توبہ اور اخلاقی اصلاح کے ذریعے دوبارہ آغاز کر سکتا ہے۔

۹ ذی الحجہ: یومِ عرفہ

یومِ عرفہ اسلامی سال کے عظیم ترین دنوں میں سے ہے؛ دعا، توبہ، مناجات اور روحانی غور و فکر کا دن۔

عرفہ انسان کو خدا کے سامنے عاجزی اور بندگانِ خدا کے ساتھ مہربانی سکھاتا ہے۔ شور و انتشار سے بھرپور دنیا میں یہ دن انسان کے خدا، ضمیر اور ذمہ داری کے تعلق کو تازہ کرتا ہے۔

آج کا پیغام: حقیقی روحانیت انسان میں عاجزی، اخلاقی شعور اور دوسروں کے لئے  ہمدردی پیدا کرتی ہے۔

۹ ذی الحجہ: واقعۂ سدّ الابواب (2 ہجری)

واقعۂ سدّ الابواب اُس حکم کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند کرنے کا حکم دیا، سوائے امام علی علیہ السلام کے گھر کے دروازے کے۔ یہ واقعہ آپؑ کے خصوصی روحانی مقام کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ مناسبت اسلامی قیادت میں پاکیزگی، وفاداری اور روحانی اہلیت کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ اسلام قیادت کو صرف طاقت نہیں سمجھتا بلکہ اسے صداقت اور الٰہی اقدار سے قربت سے وابستہ قرار دیتا ہے۔

أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِن مُّوسَى

"تمہارا مجھ سے وہی تعلق ہے جو ہارون کا موسیٰ سے تھا۔”
(بحار الأنوار، ج 37، ص 254)

آج کا پیغام: اسلامی معاشرے میں قیادت صداقت، حکمت اور روحانی اصالت پر قائم ہونی چاہلئے ۔

۹ ذی الحجہ: شہادت مسلم بن عقیل اور ہانی بن عروہ (60 ہجری)

مسلم بن عقیل، جو امام حسین علیہ السلام کے نمائندے تھے، اور ہانی بن عروہ کوفہ میں ظلم اور اہلِ کوفہ کی بے وفائی کے مقابلے میں ثابت قدم رہنے کے بعد شہید کر دیئے  گئے۔

ان کی شہادت خوف اور سیاسی مفاد پرستی کی وجہ سے خاموشی اختیار کرنے کے خطرے کو آشکار کرتی ہے۔ اسلام اُن لوگوں کو عزت دیتا ہے جو تنہائی اور دباؤ کے باوجود حق پر قائم رہتے ہیں۔

آج کا پیغام: حق سے وفاداری کو عوامی دباؤ یا سیاسی مصلحتوں کے تابع نہیں ہونا چاہلئے ۔

21 مئی: اعضاء عطیہ کرنے کا دن

یہ دن اعضاء عطیہ کرنے اور انسانی جانیں بچانے کے حوالے سے شعور بیدار کرنے کے لئے  منایا جاتا ہے۔

اسلام انسانی جان کے تحفظ کو بہت عظیم قدر سمجھتا ہے، اور بہت سے معاصر فقہاء نے اخلاقی اصولوں اور انسانی کرامت کی رعایت کے ساتھ اعضاء عطیہ کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔

آج کا پیغام: انسانوں کی خدمت اور ان کی جان بچانا ایمان کے بلند ترین مظاہر میں سے ہے۔

21 مئی: عالمی یومِ ثقافتی تنوع برائے مکالمہ و ترقی

یہ دن اقوامِ متحدہ کی جانب سے ثقافتی تنوع کے احترام اور قوموں و تہذیبوں کے درمیان تعمیری مکالمے کے فروغ کے للئے  مقرر کیا گیا ہے۔

اسلام تنوع کو حکمتِ الٰہی کا حصہ قرار دیتا ہے اور انسانوں کو نفرت اور تفرقے کے بجائے باہمی شناخت اور بقائے باہمی کی دعوت دیتا ہے۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا

"اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔”
(الحجرات: 13)

آج کا پیغام: مکالمہ، باہمی احترام اور اخلاقی بقائے باہمی آج کی باہم مربوط دنیا میں اسلام کی بنیادی اقدار میں سے ہیں۔

22 مئی : یومِ ملاصدرا

ملاصدرا، عظیم مسلمان فلسفی اور متکلم، نے عقل، روحانیت اور وحی کے درمیان ربط قائم کر کے اسلامی فلسفے پر گہرا اثر چھوڑا۔

ان کی فکری میراث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایمان اور عقل ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ ایسے دور میں جو سطحی سیکولر سوچ اور عقل دشمن انتہاپسندی دونوں کا شکار ہے، اسلامی تہذیب کو گہری فکر اور اخلاقی حکمت کی احیا کی ضرورت ہے۔

ملاصدرا کا عقیدہ تھا کہ حقیقی علم صرف ذہن کو نہیں بدلتا بلکہ انسان کی روح کو بھی متحول کرتا ہے۔

آج کا پیغام: اسلامی معاشروں کو فکری بلندی اور روحانی گہرائی دونوں کو فروغ دینا چاہئے ۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔