موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 22
اپنے اندرکا اسماعیل— وابستگیوں سے نجات کا عرفانی تجزیہ
سید ہاشم موسوی
تمہید
آج کا انسان شاید تاریخ کے کسی بھی دور سے زیادہ اس خواہش میں مبتلا ہے کہ اشیاء، افراد اور مواقع کو اپنی ملکیت میں محفوظ رکھے۔ یہی روحِ تملّک انسان کے اندر بے شمار اضطراب، خوف اور عدمِ تحفظ کو جنم دیتی ہے۔ جتنی وابستگی گہری ہوتی جاتی ہے، اتنا ہی کھو دینے کا خوف شدید تر ہو جاتا ہے۔
یہیں سے حج اور عیدِ قربان کے عظیم رازوں میں سے ایک راز روشن ہوتا ہے:
آخر کیوں انسان کی روحانی تکمیل کا نقطۂ عروج ایک عظیم “قطعِ تعلق” اور قربانی کے ساتھ وابستہ ہے؟
اس حکم کا روح کی تربیت، دلبستگیوں پر قابو پانے اور باطنی آزادی سے کیا تعلق ہے؟
ہر سال عیدِ قربان کی آمد پر دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان تاریخِ توحید کے عظیم ترین مناظر میں سے ایک منظر کو زندہ کرتے ہیں؛ وہ منظر جس میں حضرت ابراہیمؑ اپنے سب سے عزیز سرمایۂ حیات کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے، اور حضرت اسماعیلؑ بھی کامل ایمان اور سکون کے ساتھ فرمانِ الٰہی کے سامنے سرِ تسلیم خم کر گئے۔
لیکن اصل سوال یہ ہے:
کیا عیدِ قربان صرف ایک تاریخی واقعے کی یادگار ہے؟
کیا اس کا پیغام محض ایک جانور کی قربانی تک محدود ہے؟
یا پھر یہ عید ہر زمانے کے انسان کے لیے ایک دائمی اور زندہ پیغام اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی داستان صرف “ایک باپ اور بیٹے” کی کہانی نہیں، بلکہ انسان اور اس کی وابستگیوں کی دائمی داستان ہے۔ اسی لیے عیدِ قربان ہم سے یہ سوال کرتی ہے:
“ہماری زندگی کا اسماعیل کیا ہے؟ اورہم اس سے جدا ہونے کے لیے کس حد تک آمادہ ہیں؟”
یہ تحریر اسی زاویے سےغور کرنےکی ایک کوشش ہے کہ حضرت ابراہیمؑ و اسماعیلؑ کے واقعے کے ظاہری اور تاریخی پہلو سے آگے بڑھ کر اس بات پر غور کیا جائے کہ “قربانی کی سنت” کوکس طرح انسان کی بیمار وابستگیوں کے علاج کے لیے ایک نفسیاتی و تربیتی بنایا سکتاہے اور اسے باطنی آزادی کی طرف متوجہ کرایاجاسکتا ہے۔
اسماعیل — انسان کی سب سے بڑی وابستگی کی علامت
حضرت اسماعیلؑ، حضرت ابراہیمؑ کے لیے صرف ایک فرزند نہ تھے؛ وہ عمر بھر کی دعا کا ثمر، امید کا مرکز، اور زندگی کی سب سے عزیز اثاثہ تھے۔
الٰہی امتحان بھی عین اسی مقام سے شروع ہوا جہاں دل کی سب سے گہری وابستگی موجود تھی؛ کیونکہ انسان کی حقیقی رشد اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ رکاوٹ بننے والی وابستگیوں سے عبور نہ کرلے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
«لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ»
“تم ہرگز نیکی کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سےکچھ خرچ نہ کرو۔”
(سورۂ آل عمران، آیت 92)
درحقیقت قربانی کی قدر اس چیز میں نہیں جو قربان کی جاتی ہے، بلکہ اس “محبوب شے” میں ہے جس سے انسان دستبردار ہوتا ہے۔
آج کی زندگی کے پوشیدہ اسماعیل
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ بت پرستی اور خطرناک وابستگیاں ماضی کا قصہ ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جدید انسان کے پاس بھی بے شمار “اسماعیل” موجود ہیں؛ ایسی چیزیں جنہوں نے بعض اوقات خدا سے زیادہ دل میں جگہ بنا رکھی ہے۔
آج کے انسان کے لیے “اسماعیل” ہر اُس شے کی علامت ہے جس کے ساتھ اُس نے اپنی شناخت اور سکون کو باندھ رکھاہے:
ملازمت، ڈگری، شریکِ حیات، سماجی مقام، یا حتیٰ کہ اپنی ذات کا وہ تصور جو اس نے اپنے ذہن میں بنا رکھا ہے۔
لہٰذا ہر انسان کا “اسماعیل” مختلف صورت اختیار کر سکتا ہے:
1۔ مال و دولت:کبھی انسان مال و دولت سے اس قدر وابستہ ہو جاتا ہے کہ دوسروں کے حقوق فراموش کر دیتا ہے، محتاجوں کی مدد سے بھاگتا ہے، یا اپنے مفاد کی خاطر حق کو قربان کر دیتا ہے۔ ایسے موقع پر دولت اُس کا “اسماعیل” بن جاتی ہے۔
2۔ منصب اور شہرت:بعض لوگ سماجی حیثیت یا مقبولیت کی خاطر اخلاق، صداقت بلکہ اپنے دین تک کو قربان کر دیتے ہیں۔ انسان “بندۂ خدا” ہونے کے بجائے لوگوں کی نظروں کا اسیر بن جاتا ہے۔
3۔ آرام طلبی اور لذت پرستی: جدید دور کے سب سے بڑے اسماعیلوں میں سے ایک “بغیر مشقت کی زندگی” ہے۔
آج کی مادّی تہذیب انسان کو دائمی آرام، فوری لذت اور ذمہ داری سے فرار کی دعوت دیتی ہے، حالانکہ ترقی کا راستہ مجاہدہ کے بغیر ممکن نہیں۔
حضرت امیرالمؤمنینؑ فرماتے ہیں:
«لا تُدرَکُ المَعالی إلا بالمَکارِه»
“بلندیاں سختیوں کے بغیر حاصل نہیں ہوتیں۔”
4۔ دنیا سے حد سے زیادہ وابستگی:کبھی انسان گھر، گاڑی، تجارت، ظاہری نمود یا مادّی مستقبل میں اس قدر ڈوب جاتا ہے کہ آخرت اور معنویت حاشیے پر چلی جاتی ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
«أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ»
“زیادہ حاصل کرنے کی دوڑ نے تمہیں غافل کر دیا۔”
(سورۂ تکاثر، آیت 1)
5۔ نفس اور خود پرستی: شاید انسان کا سب سے بڑا اسماعیل اُس کا اپنا نفس ہو؛ وہی نفس جو تکبر، حسد، غضب، شہوت اور خودمحوری کو غذا دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سی ظاہری قربانیاں اُس وقت معنی رکھتی ہیں جب انسان اپنے “سرکش نفس” کو قربان کر سکے۔
خدا نے قربانی کو کیوں روک دیا؟
حضرت ابراہیمؑ کی داستان کا نہایت لطیف نکتہ یہ ہے کہ آخرکار اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیلؑ کو ذبح ہونے نہیں دیا۔ کیوں؟
اس بنیادی سوال کا جواب یہ ہے کہ توحیدی مکتب میں الٰہی آزمائشوں کا مقصد انسان کی تربیت اور روحانی شکوفائی ہے، نہ کہ اس کی تباہی۔ خدا ہرگز ایک انسان کا خون بہانا یا ایک باپ کو غمزدہ کرنا نہیں چاہتا تھا؛ بلکہ مقصد یہ تھا کہ وابستگی کی آخری زنجیر بھی ٹوٹ جائے اور تسلیم و رضا کا بلند ترین مرتبہ ظاہر ہو جائے۔
جو چیز بارگاہِ الٰہی میں قبول ہوئی وہ مادّی نہ تھی، بلکہ ایک عظیم روحانی کیفیت تھی:
- حضرت ابراہیمؑ نے ثابت کیا کہ خدا کی محبت اُن کے نزدیک ہر وابستگی سے برتر ہے۔
- حضرت اسماعیلؑ نے دکھایا کہ وہ اپنی جان کو بھی رضائے الٰہی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اسی لیے جب یہ روحانی تبدیلی کامل ہو گئی اور نیتیں خالص ہو گئیں تو امتحان اختتام پذیر ہوا۔
«إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ»
“بے شک یہ ایک کھلا ہوا عظیم امتحان تھا۔”
(سورۂ صافات، آیت 106)
قربانی اور انسانی کرامت: قدیم زمانوں میں بہت سی مشرک اقوام اپنے دیوتاؤں کے لیے بچوں کی قربانی کو عبادت سمجھتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیلؑ کے بدلے دنبہ بھیج کر اس ظالمانہ روایت پر ہمیشہ کے لیے خطِ بطلان کھینچ دیا۔
اس عمل کے ذریعے اعلان کیا گیا کہ:
- انسانی جان محترم ہے۔
- خدا انسانوں کے خون سے خوش نہیں ہوتا۔
- قربِ الٰہی کا راستہ انسان دوستی اور انسانی کرامت کے تحفظ سے گزرتا ہے، نہ کہ ظلم اور سفاکی سے۔
درحقیقت ذبح ہونے والی چیز “حضرت ابراہیمؑ کی وابستگی” تھی، نہ کہ حضرت اسماعیلؑ کی جان۔
عید قربان — خودشناسی اور بیداری کا مقام
عید قربان دراصل ایک سالانہ موقع ہے جہاں انسان اپنی روح کا محاسبہ کرتا ہے۔
یہ دن ہم سے چند سخت مگر ضروری سوال پوچھتا ہے:
- میری پرواز میں رکاوٹ کیا ہے؟
- میری سب سے بڑی وابستگی کیا ہے؟
- اگر آج خدا کی رضا اور میرے ذاتی مفادات میں ٹکراؤ ہو جائے تو میں کس کو ترجیح دوں گا؟
ان سوالات کے سچے جواب انسان کے ایمان کی حقیقت کو آشکار کر دیتے ہیں۔
قربانی ایک جانور ذبح کرنے کا نام نہیں؛ بلکہ اُس شے کو قربان کرنے کی مشق ہے جس نے دل میں خدا کی جگہ تنگ کر دی ہو۔
حقیقی قربانی کیا ہے؟
اسلام قربانی کو محض ایک ظاہری رسم نہیں سمجھتا۔ اللہ تعالیٰ سورۂ حج کی آیت نمبر 37 میں فرماتا ہے:
«لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنكُمْ»
“نہ ان کا گوشت اللہ تک پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ تمہارا تقویٰ اس تک پہنچتا ہے۔”
لہٰذا حقیقی قربانی دراصل روح کی جراحی ہے؛ خودپرستی سے خداپرستی کی طرف سفر۔
یہ آمادگی ہے:
- بخل کو ذبح کرنے کی،
- حسد کو ختم کرنے کی،
- طمع اور بیمار وابستگیوں سے آزاد ہونے کی۔
حقیقی قربانی وہ ہے جب انسان اپنی محبوب چیزوں کو حق کی خاطر چھوڑنے کے لیے تیار ہو جائے۔
وہ معاشرہ جو قربانی کی روح کو بھول جائے
اگر کسی معاشرے سے “قربانی” اور “ایثار” کی روح ختم ہو جائے تو وہ معاشرہ رفتہ رفتہ:
- خودغرضی،
- اندھی مصرفیت،
- اور شدید مادہ پرستی کا شکار ہو جاتا ہے۔
پھر لوگ ایک دوسرے کو ہم سفر نہیں بلکہ صرف مقابل سمجھنے لگتے ہیں۔
عید قربان ہر سال انسان کو یہ یاد دلاتی ہے کہ حقیقی تمدن صرف “حاصل کرنے” اور “جمع کرنے” سے نہیں بنتا، بلکہ:
- ایثار،
- فداکاری،
- اور دوسروں کے لیے جینے سے تشکیل پاتا ہے۔
لفظ “قربان” دراصل “قرب” سے نکلا ہے۔
جو معاشرہ روحِ قربان کو فراموش کر دے، وہ صرف خدا سے نہیں بلکہ اپنی انسانیت سے بھی دور ہو جاتا ہے۔
آخری بات — تمہارا اسماعیل کیا ہے؟
عید قربان صرف کیلنڈر کی ایک تاریخ یا ایک جانور کی قربانی کا نام نہیں، بلکہ انسان کی تربیت اور روحانی ارتقاء کا ایک عظیم مدرسہ ہے۔
اس عید کا دائمی پیغام یہ ہے کہ ہر انسان کو اپنی زندگی کے “اسماعیل” کو پہچاننا ہوگا۔
کسی کا اسماعیل اُس کی دولت ہے، کسی کا منصب، کسی کا فرزند، اور کسی کے لیے لوگوں کی رائے۔
اسماعیل دراصل وہ کمزور مقام ہے جہاں سے شیطان انسان کی بندگی کو نقصان پہنچاتا ہے۔
عید قربان ہمیں دعوت دیتی ہے کہ:
- ہم اپنے دل کا جائزہ لیں،
- وابستگیوں کی جڑ کاٹیں،
- اور خدا کی طرف پلٹ آئیں۔
شاید عید قربان کی دائمی تازگی کا راز بھی یہی ہے کہ انسان ہر سال اپنے دل کے آئینے میں جھانکے اور ابراہیمی جرأت کے ساتھ خود سے پوچھے:
“کیا اب بھی میرے دل میں کوئی ایسی چیز موجود ہے جو خدا سے زیادہ محبوب ہے؟”
اگر جواب “ہاں” ہے، تو عید قربان اُس جھوٹی وابستگی کو کاٹنے اور حقیقی آزادی حاصل کرنے کا سنہرا موقع ہے۔
عید قربان دراصل اُن تمام زنجیروں سے آزادی کا جشن ہے جو محبت کے نام پر ہمیں زمین سے باندھ دیتی ہیں؛
یہ پروردگار کی آغوش میں واپسی کا جشن ہے — ایک ہلکے، پاکیزہ اور مطیع دل کے ساتھ۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

