حدیثِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 42
ہر کام کو بہترین انداز میں انجام دینا: کام کے معیار اور درست انجام دہی کے بارے میں اسلامی تعلیمات
حدیثِ نبوی میں غور و فکر کی مناسبت: ۱۴ اکتوبر، عالمی یومِ معیار (World Standards Day)
مقدمہ
اسلام نے ابتدا ہی سے ہر کام کو پوری توجہ، دقت اور بہترین ممکنہ انداز میں انجام دینے کی اہمیت پر خصوصی زور دیا ہے۔
رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ اللّهَ تَعالى يُحِبُّ إِذا عَمِلَ أَحَدُكُمْ عَمَلاً أَنْ يُتْقِنَهُ
’’بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کوئی کام انجام دے تو اسے پوری مہارت، مضبوطی اور عمدگی کے ساتھ انجام دے۔‘‘
(کنز العمّال، جلد ۳، صفحہ ۹۰۷)
اس حدیث کے نوجوانوں کے لئے تربیتی پیغامات
۱۔ ہمیشہ اپنی پوری کوشش اور صلاحیت بروئے کار لائیں
جو بھی کام انجام دیں، اپنی استعداد اور صلاحیت کے مطابق اسے بہترین ممکنہ انداز میں مکمل کرنے کی کوشش کریں۔
عملی چیلنج: آج کسی ایک کام کا انتخاب کریں اور اسے صحیح اور عمدہ طریقے سے انجام دینے کے لئے اپنی پوری صلاحیت اور توانائی استعمال کریں۔
۲۔ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کریں
کام کو صحیح اور بہترین انداز میں انجام دینے کا اصل محرک آپ کی باطنی اقدار اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے، نہ کہ دوسروں کی تعریف، تائید یا خوشنودی حاصل کرنے کی خواہش۔
عملی چیلنج: اس ہفتے کوئی ایک نیک کام انجام دیں، لیکن اس کے بارے میں کسی کو نہ بتائیں اور نہ ہی کسی کی تعریف و تحسین کی توقع رکھیں۔
۳۔ صرف کم از کم ضروری کام کرنے پر اکتفا نہ کریں
کسی کام سے جلدی جان چھڑانے کے لئے اسے بے توجہی اور لاپروائی سے انجام دینے سے گریز کریں۔
عملی چیلنج: اس ہفتے کسی ایسے کام کا انتخاب کریں جسے آپ عموماً جلد بازی میں انجام دیتے ہیں، اور اس مرتبہ اسے پوری توجہ اور دقت کے ساتھ مکمل کریں۔
۴۔ کام کی مقدار کے بجائے اس کے معیار کو ترجیح دیں
بہت سے کام غیر معیاری انداز میں انجام دینے کے بجائے نسبتاً کم کاموں کو اعلیٰ معیار اور عمدگی کے ساتھ مکمل کرنے پر توجہ دیں۔
عملی چیلنج: کوئی دوسرا کام شروع کرنے سے پہلے ایک اہم کام کو پوری توجہ، دقت اور ذمہ داری کے ساتھ مکمل کریں۔
۵۔ اس وقت بھی نیک کام کریں جب کوئی آپ کو دیکھ نہ رہا ہو
اس بات کو اپنی نیک کوششوں میں رکاوٹ نہ بننے دیں کہ لوگ آپ کی محنت اور خدمات کو نہیں دیکھ رہے یا ان سے واقف نہیں ہیں۔
نیک کام ہمیشہ پوری توجہ، خلوص اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں، چاہے کوئی ان کی قدر کرے یا نہ کرے۔
عملی چیلنج: اس ہفتے دوسروں کے لئے کوئی ایک مفید کام انجام دیں، لیکن اس کے بدلے میں شکریے یا تعریف کی توقع نہ رکھیں۔
۶۔ اپنی آن لائن زندگی میں بھی رضائے الٰہی کو رہنما بنائیں
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر آپ جو کچھ شائع کرتے ہیں، دوسروں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں یا کسی سرگرمی میں حصہ لیتے ہیں، ان سب میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنا بنیادی رہنما اصول بنائیں۔
عملی چیلنج: سوشل میڈیا پر اپنی اگلی پوسٹ شائع کرنے یا کسی موضوع پر تبصرہ لکھنے سے پہلے خود سے سوال کریں:
’’کیا میرا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا باعث بنے گا؟‘‘
۷۔ اپنی غلطیوں کو ترقی اور بہتری کے مواقع میں تبدیل کریں
غلطی کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ناکام ہو گئے ہیں۔ اپنی غلطی کی وجہ پہچاننا اور اگلی کوشش کو بہتر بنانا، کمال کی جستجو اور کام کو صحیح انداز میں انجام دینے کے عمل کا ایک اہم حصہ ہے۔
عملی چیلنج: اپنی تعلیم، کھیل کود یا روزمرہ کے معمولات میں ہونے والی کسی حالیہ غلطی کا انتخاب کریں۔ اس کی وجہ معلوم کریں اور ایک ایسی تبدیلی لکھیں جسے آئندہ اس کام میں بہتری لانے کے لئے اختیار کریں گے۔
۸۔ کاموں کو بہترین انداز میں انجام دینے کی ایک چھوٹی سی عادت اپنائیں
ضروری نہیں کہ آپ اپنی پوری زندگی کو ایک ہی وقت میں بدل دیں۔
ہر روز کسی ایک چھوٹے سے کام کو صحیح اور عمدہ انداز میں انجام دینے کی عادت آہستہ آہستہ آپ کو زیادہ منظم، ذمہ دار اور قابلِ اعتماد انسان بنا سکتی ہے۔
عملی چیلنج: روزمرہ کی کوئی ایک اچھی عادت منتخب کریں، مثلاً مطالعے کی جگہ کو صاف ستھرا اور منظم رکھنا، رات ہی کو اسکول کا بستہ تیار کر لینا یا ہر جگہ وقت کی پابندی کے ساتھ پہنچنا۔ پھر مسلسل سات دن تک اس عادت کی مشق کریں۔
اس حدیث کے والدین کے لئے تربیتی پیغامات
۱۔ صرف نتائج کو نہیں، بلکہ کوشش اور محنت کو بھی اہمیت دیں
اپنے بچوں کی مخلصانہ کوششوں، محنت اور بتدریج ترقی کی قدر کریں۔ اپنی توجہ صرف ان کی فوری کامیابیوں اور حاصل کردہ نتائج تک محدود نہ رکھیں۔
عملی چیلنج: اس ہفتے اپنے بچے کی کسی مخصوص اور قابلِ قدر کوشش کی تعریف کریں، خواہ اس کوشش کا نتیجہ آپ کی توقع کے مطابق نکلا ہو یا نہ نکلا ہو۔
۲۔ والدین کی ذمہ داریاں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے انجام دیں
اپنے بچوں اور خاندان کے لئے جو بھی کام انجام دیں، انہیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے اور اس کا قرب پانے کی نیت سے انجام دیں۔
عملی چیلنج: ماں یا باپ کی حیثیت سے اپنی روزمرہ کی کسی ذمہ داری کو انجام دینے سے پہلے اپنی نیت تازہ کریں اور خود کو یاد دلائیں کہ آپ یہ کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے انجام دے رہے ہیں۔
۳۔ بہتر والدین بننے کا علم اور ہنر حاصل کریں
بچوں کی تربیت سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو بہترین انداز میں انجام دینے کی کوشش کریں اور اس مقصد کے لئے ضروری علم، مہارتوں اور صلاحیتوں کو مسلسل فروغ دیں۔
عملی چیلنج: اس ہفتے بچوں کی تربیت سے متعلق کوئی ایک عملی مہارت کسی معتبر کتاب، تربیتی پروگرام یا قابلِ اعتماد ماہر سے سیکھیں اور اسے اپنی خاندانی زندگی میں استعمال کریں۔
۴۔ اپنے عملی کردار سے بچوں کے لئے نمونۂ عمل بنیں
بچے کام کے معیار، دقت اور ذمہ داری کی اہمیت اس وقت زیادہ اچھی طرح سیکھتے ہیں جب وہ اپنے والدین کو روزمرہ کے کام توجہ سے انجام دیتے ہوئے، اپنے وعدوں کی پابندی کرتے ہوئے اور اپنے رویوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
عملی چیلنج: گھر کی کوئی ایک باقاعدہ ذمہ داری، مثلاً کھانا تیار کرنا یا خاندانی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرنا، منتخب کریں اور پورے ایک ہفتے تک اسے پوری دقت اور توجہ کے ساتھ انجام دیں۔
اس کے ساتھ اپنے بچوں کو یہ بھی سمجھائیں کہ آپ اس کام کو اتنی توجہ اور ذمہ داری سے کیوں انجام دے رہے ہیں۔
اس حدیث کے ائمۂ جماعت اور اساتذہ کے لئے تربیتی پیغامات
۱۔ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی اہمیت سکھائیں
لوگوں کو سمجھائیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا جذبہ ہماری کوششوں اور سرگرمیوں کو کس طرح زیادہ گہرا اور بامقصد مفہوم عطا کرتا ہے اور ہمیں اچھے، مفید اور دیرپا نتائج کی طرف رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
عملی چیلنج: اپنے اگلے درس یا خطاب میں روزمرہ کی زندگی سے کوئی ایک سادہ مثال پیش کریں جو واضح کرے کہ خالص اور سچی نیت ہمارے کام کرنے کے انداز کو کس طرح بدل سکتی ہے۔
۲۔ اپنی تعلیمی اور تبلیغی ذمہ داریاں بہترین انداز میں انجام دیں
انسانوں کی فکر، رویوں اور شخصیت کی تشکیل ایک نہایت عظیم اور حساس ذمہ داری ہے۔
اس لئے اپنی تعلیمی، تربیتی اور تبلیغی ذمہ داریوں کو پوری دقت، توجہ اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں اور ان میں بہتری لانے کے لئے کسی بھی معقول اور مناسب کوشش سے دریغ نہ کریں۔
عملی چیلنج: اپنے اگلے درس یا خطاب کے کسی ایک حصے کو زیادہ بہتر تیاری اور ایک واضح، عملی اور قابلِ فہم مثال کے اضافے کے ذریعے مؤثر بنائیں۔
۳۔ زندگی میں کمال اور عمدگی کی تین صورتوں کی تعلیم دیں
زندگی میں نیکی، عمدگی اور کمال کے تین بنیادی پہلوؤں کو واضح کریں:
نیت میں کمال: کسی کام کو صحیح مقصد اور درست محرک کے تحت انجام دینا۔
عمل میں کمال: کسی کام کو صحیح، مناسب اور بہترین انداز میں انجام دینا۔
گفتار میں کمال: گفتگو میں صداقت، دقت اور درستگی کو ملحوظ رکھنا۔
عملی چیلنج: اپنے اگلے درس یا اجتماع میں ان تینوں پہلوؤں میں سے ہر ایک کی روزمرہ زندگی سے ایک عملی مثال پیش کریں اور حاضرین سے کہیں کہ وہ آئندہ ہفتے ان میں سے کسی ایک کی عملی مشق کریں۔
۴۔ اپنی کارکردگی کا جائزہ لیں اور اس میں مسلسل بہتری پیدا کریں
کام کے اعلیٰ معیار اور عمدگی کی پابندی کا تقاضا یہ ہے کہ آپ باقاعدگی سے اپنی کارکردگی کا جائزہ لیتے رہیں۔
یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا آپ کی تعلیمات، دروس، خطابات اور سماجی سرگرمیاں واقعی لوگوں کے لئے مفید ثابت ہو رہی ہیں یا نہیں۔
اگر کہیں کمی یا بہتری کی گنجائش نظر آئے تو مناسب اور معقول تبدیلیاں اختیار کریں۔
عملی چیلنج: اپنے اگلے درس، خطاب یا سماجی پروگرام کے اختتام پر تین شرکاء سے رائے حاصل کریں۔
ان میں سے ہر ایک سے کہیں کہ وہ پروگرام کے کسی ایک مثبت اور کامیاب پہلو کی نشاندہی کرے اور اس میں بہتری کے لئے ایک تجویز پیش کرے۔
اس کے بعد حاصل ہونے والی آراء اور تجاویز کی روشنی میں اپنے اگلے پروگرام میں کم از کم ایک عملی اور مثبت تبدیلی ضرور متعارف کرائیں۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

