اداریہ – جلد 03 شمارہ 36
جب حافظہ، اخلاقی رہنما بن جائے: بدلتی ہوئی دنیا میں مؤمنانہ زندگی کے چند اسباق تمہید
تاریخ محض ان واقعات کا ریکارڈ نہیں جو گزر چکے ہیں؛ ایک مؤمن کے لئے تاریخ اخلاقی سوالات، عبرتوں اور رہنمائی کا ایک قیمتی خزانہ بھی ہے۔ اس ہفتے ہمارے سامنے آنے والی مختلف مناسبتیں — امام حسن علیہ السلام کی صلح اور ابوریحان بیرونی کے علمی ورثے سے لے کر خواندگی، صدقہ و خیرات، عدل و انصاف اور ایثار و قربانی کی یاد تک — ہمیں دعوت دیتی ہیں کہ ہم صرف یہ نہ پوچھیں کہ کیا ہوا تھا؟ بلکہ یہ بھی سوچیں کہ آج ہمیں اس سے کیا سیکھنا چاہیے اور ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
۲۱ ربیع الاول: آیت اللہ نمر باقر النمر کی شہادت
شیخ نمر باقر النمر سعودی عرب کے ایک ممتاز شیعہ عالمِ دین اور سعودی حکومت کے کھلے ناقد تھے۔ انہیں ۲ جنوری ۲۰۱۶ء کو سعودی عرب میں دیگر ۴۶ قیدیوں کے ہمراہ سزائے موت دے دی گئی۔
اس کے بعد مختلف اسلامی حلقوں، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ نے ان کے مقدمے کی منصفانہ سماعت کے حوالے سے سنگین تحفظات کا اظہار کیا اور ان سزاؤں کو فرقہ وارانہ اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی۔
آج کا پیغام:
ہمیں ان لوگوں سے ہوشیار رہنا چاہیے جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی بنیادی اقدار ہی کے خلاف سرگرمِ عمل ہیں اور اپنے دین و دنیا کے فیصلوں کا اختیار کفار اور دین کے دشمنوں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔
۲۲ ربیع الاول: غزوۂ بنی نضیر
بنی نضیر مدینہ میں آباد یہودی قبائل میں سے ایک قبیلہ تھا جس کا مسلمانوں کے ساتھ امن کا معاہدہ تھا۔ لیکن کچھ عرصے بعد انہوں نے اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور یہاں تک کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کرنے کی سازش بھی کی۔
چنانچہ اسلامی لشکر نے امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کی قیادت میں بنی نضیر کے قلعوں کا محاصرہ کیا، یہاں تک کہ بالآخر انہوں نے مدینہ چھوڑ کر جانے پر رضامندی ظاہر کر دی۔
آج کا پیغام:
موجودہ دور میں دین اور مسلمانوں کی مشترکہ شناخت کو درپیش بڑے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں کو باہم متحد، منظم اور یک جان ہونا چاہیے۔
۱۳ شہریور / ۴ ستمبر: ابوریحان بیرونی کی یاد
ابوریحان محمد بن احمد بیرونی قرونِ وسطیٰ کے اسلامی علمی دنیا کے ممتاز ترین دانشوروں میں سے تھے۔ انہوں نے علمِ فلکیات، ریاضی، جغرافیہ، تاریخ، طب، ہندوستان کے مطالعے اور وہاں کی فکری و علمی روایات کے بارے میں انسانی علم کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
تاریخی مصادر ان کی زندگی کو دسویں صدی کے اواخر اور گیارہویں صدی کے ابتدائی حصے سے مربوط کرتے ہیں، جبکہ ان کی وفات ۱۰۴۸ء میں ہوئی۔ ایران میں ۱۳ شہریور کا دن ان کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
آج کا پیغام:
عالمِ اسلام کو ایسی علمی ثقافت کی ضرورت ہے جس میں مطالعہ، تحقیق، شواہد اور دلائل پر اعتماد اور حصولِ علم کو خداوندِ متعال کے سامنے ایک ذمہ داری سمجھا جائے۔
۵ ستمبر: عالمی یومِ خیرات
اقوام متحدہ نے سن ۲۰۱۲ء میں ۵ ستمبر کو عالمی یومِ خیرات (International Day of Charity) قرار دیا۔
یہ تاریخ مدر ٹریسا کی ۱۹۹۷ء میں وفات کی یاد میں منتخب کی گئی۔ اس دن کا مقصد خیراتی اور انسان دوست سرگرمیوں کے بارے میں شعور اجاگر کرنا اور افراد و اداروں کو انسانی مصائب کم کرنے کے لئے مدد اور تعاون کی ترغیب دینا ہے۔
تاہم ایسی مناسبت مقرر ہونے سے صدیوں پہلے ہی اسلام نے خیر و نیکی کو محض کبھی کبھار سخاوت سے کی جانے والی ایک سرگرمی نہیں، بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری قرار دیا تھا جو زکوٰۃ، صدقہ، خدمتِ خلق اور ضرورت مندوں کے ساتھ تعاون و یکجہتی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔
قرآن کریم فرماتا ہے:
مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ
’’جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں اُگیں۔‘‘
(سورۂ بقرہ ،آیت 261)
آج کا پیغام:
ہمیں نیکی اور خیرات کو عزتِ نفس، کرامت اور باہمی یکجہتی کے ساتھ اپنی مستقل عادت بنانا چاہیے، نہ کہ اسے صرف کسی ہنگامی صورتِ حال کا ردِعمل یا سال میں ایک بار مالی امداد دینے تک محدود کر دینا چاہیے۔
۲۳ ربیع الاول: حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی قم آمد
حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا، امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی بہن تھیں۔ آپ سن ۲۰۱ ہجری میں مدینہ سے خراسان کی طرف روانہ ہوئیں۔ سفر کے دوران علیل ہو جانے کے بعد آپ قم تشریف لائیں۔
قم میں آپ کا قیام مختصر رہا، لیکن بعد کے زمانوں میں یہ شہر شیعہ دنیا کے اہم ترین علمی، دینی اور زیارتی مراکز میں تبدیل ہوگیا۔
آج کا پیغام:
ہمیں اپنے ایمان اور طرزِ زندگی کے نمونے دینی بزرگوں سے حاصل کرنے چاہئیں، نہ کہ بے مقصد اور کھوکھلے مشہور افراد اور سلیبریٹیز سے۔ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی حیات اور سیرت آج کی ہماری بیٹیوں اور نوجوان لڑکیوں کے لئے ایک بہترین نمونہ بن سکتی ہے۔
۲۳ ربیع الاول: میرزا جواد آقا تہرانى کی وفات
میرزا جواد آقا تہرانى (۱۹۰۴–۱۹۸۹ء) شیعہ فقہاء اور ممتاز علماء میں شمار ہوتے تھے اور خصوصاً حوزۂ علمیہ مشہد کی علمی روایت سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔
وہ فقہ، تفسیرِ قرآن اور اسلامی معارف کی تدریس کرتے تھے اور زہد، تقویٰ اور عبادت گزارانہ طرزِ زندگی کے لئے معروف تھے۔
ان کی علمی و عملی میراث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کسی عالمِ دین کی تاثیر اس وقت کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے جب اس کا علم، تواضع، تقویٰ، خدمتِ خلق اور عملی کردار کے ساتھ جمع ہو۔
قرآن کریم فرماتا ہے:
إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ
’’اللہ کے بندوں میں سے صرف صاحبانِ علم ہی حقیقتاً اس سے ڈرتے ہیں۔‘‘
( سورۂ فاطر، آیت 28)
آج کا پیغام:
ایک استاد کا سب سے بڑا درس اکثر وہ نہیں ہوتا جو وہ کلاس میں زبان سے بیان کرتا ہے؛ بلکہ وہ شخصیت اور کردار ہوتا ہے جسے اس کے طلبہ اس کی عملی زندگی میں دیکھتے ہیں۔
۲۵ ربیع الاول: امام حسن علیہ السلام کا معاہدۂ صلح
سن ۴۱ ہجری قمری / ۶۶۱ عیسوی میں امام حسن بن علی علیہما السلام نے مسلمانوں کی جانوں کے تحفظ، دین کی بقا، اور اپنے اطراف کے لوگوں اور لشکری سرداروں کی خیانت کے پیشِ نظر معاویہ کے ساتھ ایک معاہدۂ صلح کیا۔
اس معاہدے کے مطابق معاویہ نے اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ اپنے لئے کسی جانشین کا تقرر نہیں کرے گا اور کتابِ خدا اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پابندی کرے گا۔ لیکن معاویہ نے ان شرائط میں سے کسی کی بھی پاسداری نہیں کی اور ایک ایک کرکے ان تمام وعدوں کو پامال کر دیا۔
اسلام محض لڑائی اور نزاع کی خاطر تصادم کی تعریف نہیں کرتا۔ جب امن و صلح کے ذریعے انسانی جانوں، امت کے اتحاد اور مسلم معاشرے کے اعلیٰ تر مفادات کا تحفظ ممکن ہو تو صلح اور مفاہمت بھی جرأت، حکمت اور اصولی قیادت کی ایک عظیم صورت بن سکتی ہے۔
قرآن کریم فرماتا ہے:
وَإِن جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
’’اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ بھی اس کی طرف مائل ہو جائیں اور اللہ پر بھروسا کریں؛ بے شک وہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔‘‘
(سورۂ انفال ، آیت 61)
آج کا پیغام:
حقیقی طاقت ہمیشہ کسی مقابلے میں غالب آ جانے کا نام نہیں؛ کبھی حقیقی طاقت اس حکمت میں ہوتی ہے جس کے ذریعے مزید خونریزی کو روکا جا سکے۔
۱۷ شہریور / ۸ ستمبر: انقلابی تحریک / جمعۂ سیاہ
۱۷ شہریور ۱۳۵۷ ہجری شمسی، بمطابق ۸ ستمبر ۱۹۷۸ء کو ایران کے دار الحکومت تہران میں اس وقت کی شاہی حکومت کے خلاف ایک وسیع احتجاجی مظاہرہ ہوا جسے پہلوی حکومت کی مسلح سکیورٹی فورسز نے، خصوصاً میدانِ ژالہ میں، خونریز انداز میں کچل دیا۔
یہ خونریزی ایرانی انقلاب کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی اور حکومت اور احتجاجی تحریک کے درمیان موجود بحران کو مزید شدید کر دیا۔
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ انسانی جان اور انسانی عزت و کرامت کی قدر انتہائی بلند ہے؛ یہاں تک کہ قرآن مجید ایک بے گناہ انسان کے ناحق قتل کو تمام انسانوں کے قتل کے برابر قرار دیتا ہے۔
قرآن کریم فرماتا ہے:
مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا
’’اسی بنا پر ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم مقرر کیا کہ جو شخص کسی انسان کو، کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے بغیر، قتل کرے تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔‘‘
(سورۂ مائدہ ، آیت 32)
آج کا پیغام:
ہمیں تاریخ کو فراموش نہیں کرنا چاہیے اور ان حکومتوں کے انجام سے سبق لینا چاہیے جنہوں نے انسانوں کی جان، مال اور عزت و حرمت کوپامال کرتی رہیں۔
۸ ستمبر: عالمی یومِ خواندگی
عالمی یومِ خواندگی سن ۱۹۶۷ء سے دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ یونیسکو خواندگی کو انسان کے بنیادی حقوق میں سے ایک قرار دیتا ہے اور یہ یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ آج بھی دنیا میں کروڑوں نوجوان اور بالغ افراد بنیادی پڑھنے لکھنے کی صلاحیتوں سے محروم ہیں۔
اسلام نے جس قدر حصولِ علم، معرفت، سمجھ بوجھ اور شعور کی اہمیت پر زور دیا ہے، اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔
علم کی یہ اہمیت قرآن کریم کی متعدد روشن آیات کے ساتھ ساتھ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات اور سیرت میں بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔
درحقیقت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کا آغاز ہی پڑھنے اور علم حاصل کرنے کے حکم سے ہوا:
اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
’’پڑھیے، اور آپ کا پروردگار سب سے زیادہ کریم ہے؛ وہ جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی؛ انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘
(سورۂ علق، آیات ۳ تا ۵)
آج کا پیغام:
اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے علم کے حصول کی اہمیت کو ہمیشہ مقدم رکھیں؛ البتہ ایسا علم جو خدا کی معرفت، الٰہی شعور، محبتِ خدا اور اس کی بندگی کے ساتھ وابستہ ہو۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

