فقہ اسلامی کا تعارف – جلد 03 شمارہ 37

Exploring Islamic Jurisprudence - Volume 03 Issue 37

اسلامی فقہ میں طہارت (ساتواں حصّہ )

مُطہّرات (1)

مطلق اور مضاف پانی، اور پانی سے تطہیر کے احکام

دس عینی نجاستوں کے احکام کا جائزہ مکمل ہونے کے بعد، اس شمارے سے ہم ’’مطہرات‘‘ (پاک کرنے والی چیزوں) کے موضوع میں داخل ہو رہے ہیں۔

شریعتِ اسلامی میں سب سے پہلا اور بنیادی مطہّر پانی ہے۔ اسلام نے پانی سے متعلق احکام کے سلسلے میں ایک جامع نظام پیش کیا ہے، تاکہ ایک طرف شرعی طہارت برقرار رہے اور انسان اطمینانِ قلب کے ساتھ عبادات انجام دے سکے، اور دوسری طرف زندگی کا ایک عقلائی، پاکیزہ اور وسوسے سے دور طرزِ عمل اختیار کیا جا سکے۔

شرعی اصول اور فقہاء کی آراء 

  • پانی کی بنیادی تقسیم: مطلق پانی اور مضاف پانی

مطلق پانی: ایسا پانی جسے بغیر کسی اضافی قید کے صرف ’’پانی‘‘ کہا جا سکے، جیسے نل کا پانی، کنویں کا پانی، بارش، سمندر اور دریا کا پانی۔

یہ پانی خود بھی پاک ہے اور دوسری چیزوں کو بھی پاک کرتا ہے۔

مضاف پانی: ایسا مائع جسے تنہا ’’پانی‘‘ نہیں کہا جا سکتا، بلکہ اس کے ساتھ کسی دوسری چیز کی نسبت ضروری ہوتی ہے، جیسے پھلوں کا رس، عرقِ گلاب یا بہت زیادہ مٹی ملا ہوا پانی۔

شرعی حکم: مضاف پانی بذاتِ خود پاک ہو سکتا ہے، لیکن کبھی بھی مطہّر نہیں ہوتا؛ یعنی نہ اس سے نجاست کو پاک کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے وضو یا غسل صحیح ہے۔ اسی طرح اگر مضاف پانی نجاست کی معمولی مقدار سے بھی مل جائے تو پورا مائع نجس ہو جاتا ہے، خواہ اس کی مقدار کم ہو یا زیادہ۔

2- مطلق پانی کی اقسام اور ان سے تطہیر کے احکام 

جاری پانی، بارش کا پانی اور آبِ کُر 

آبِ کُر : کُر پانی کی وہ مقدار ہے جو ایسے برتن کو بھر دے جس کی لمبائی، چوڑائی اور گہرائی ہر ایک تقریباً ساڑھے تین بالشت ہو۔

عام لیٹر کے حساب سے اس کی مقدار کم از کم تقریباً 384 لیٹر بیان کی گئی ہے، جبکہ بعض فقہاء نے 377 یا 383   لیٹر کے قریب مقدار ذکر کی ہے۔

جاری پانی : ایسا پانی جو زمین سے پھوٹے اور بہتا رہے، جیسے چشمے یا قنات کا پانی۔

شرعی حکم: جاری پانی، بارش کا پانی اور کُر پانی صرف نجاست سے ملنے کی وجہ سے نجس نہیں ہوتے، جب تک نجاست کے سبب ان کا رنگ، بو یا ذائقہ تبدیل نہ ہو جائے۔

تطہیر: کُر یا جاری پانی سے نجس برتن یا لباس کو پاک کرنے کے لئے  ، عینِ نجاست دور ہو جانے کے بعد، عموماً ایک مرتبہ دھونا کافی ہوتا ہے۔

بہت سے معاصر فقہاء کے نزدیک ایسے پانی سے لباس دھوتے وقت اسے نچوڑنا بھی ضروری نہیں ہوتا۔

قلیل پانی: قلیل پانی وہ ہے جو زمین سے نہ پھوٹتا ہو اور مقدار میں کُر سے کم ہو، جیسے ایک لوٹے یا گلاس میں موجود پانی۔

شرعی حکم: قلیل پانی نجاست کے ساتھ ملتے ہی نجس ہو جاتا ہے، خواہ اس کا رنگ، بو یا ذائقہ تبدیل نہ بھی ہو۔

تطہیر: قلیل پانی سے نجس چیز کو پاک کرتے وقت ضروری ہے کہ پانی نجس چیز پر ڈالا جائے اور پھر اس سے جدا ہو جائے؛ اس جدا ہونے والے پانی کو غُسالہ کہا جاتا ہے۔ پیشاب سے نجس ہونے والی چیزوں یا برتنوں کے بارے میں، فقہاء کے فتاویٰ کے مطابق بعض صورتوں میں دو یا تین مرتبہ دھونا ضروری ہوتا ہے۔

انسانی کرامت، ذمہ داری اور حسنِ اخلاق

تطہیر کے دوران دوسروں کے اموال اور عزت کا تحفظ

کسی چیز کو پاک کرنے کی شرعی ضرورت دوسروں کی اشیاء کو نقصان پہنچانے، مشترکہ جگہوں پر ناگوار بو یا آلودگی پیدا کرنے، یا دوسرے شہریوں کے لئے   بے احترامی کا سبب نہیں بننی چاہلئے ۔

سماجی نظم کی رعایت: شرعی طہارت اور دھلائی کے تمام امور شہری قوانین، دوسروں کی نجی زندگی اور عوامی مقامات کے احترام کے ساتھ انجام دلئے  جانے چاہییں۔

3-عقل کا تحفظ، باطنی پاکیزگی اور وسوسے کی نفی

پانی کے استعمال میں اسراف سے پرہیز

اسلام غسل، وضو اور نجاستوں کی تطہیر میں پانی کے بے جا استعمال اور اسراف سے منع کرتا ہے۔

وسوسے کا مقابلہ: شریعت نے تطہیر کے لئے   واضح حدود مقرر کی ہیں۔ جب عینِ نجاست دور ہو جائے اور شرعی طریقے کے مطابق پانی بہہ جائے تو طہارت حاصل ہو جاتی ہے۔ شرعی شرائط پوری ہو جانے کے بعد بھی بار بار دھوتے رہنا وسوسے کا نتیجہ بن سکتا ہے، اور ایسا رویّہ مذموم ہے۔

4-    پاکیزہ طرزِ زندگی، صحتِ عامہ اور شہری زندگی

صفائی اور صحتِ عامہ: پانی کو بنیادی پاک کرنے والے وسیلے کے طور پر استعمال کرنا صرف ایک عبادی حکم نہیں، بلکہ ذاتی صفائی اور اجتماعی صحت کے تحفظ کا بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

نل کے پانی سے شہری زندگی میں آسانی

معاصر فقہاء کے فتاویٰ کے مطابق، گھروں اور شہروں کا نل کا پانی، جب مسلسل بڑے ذخیرۂ آب سے متصل ہو، کُر یا جاری پانی کے حکم میں ہوتا ہے۔ اس وجہ سے جدید زندگی میں لباس، بدن اور برتنوں کی تطہیر بہت آسان ہو گئی ہے اور پیچیدہ روایتی طریقوں کی ضرورت نہیں رہتی۔

5۔ جدید مسائل میں عملی احکام

خودکار واشنگ مشین سے نجس لباس کی تطہیر: اگر واشنگ مشین دھلائی کے مراحل کے دوران نل کے کُر پانی سے متصل ہو، عینِ نجاست دور ہو جائے، کپڑوں کو پاک پانی سے دھویا جائے اور غُسالہ خارج ہو جائے، تو لباس مکمل طور پر پاک ہو جاتا ہے اور اسے دوبارہ ہاتھ سے دھونے کی ضرورت نہیں رہتی۔

صاف شدہ اور صنعتی طور پر دوبارہ قابلِ استعمال بنایا گیا پانی

اگر گندے یا فاضل پانی کو کیمیائی اور صنعتی مراحل سے گزارنے کے بعد اس طرح صاف کر دیا جائے کہ وہ دوبارہ مطلق پانی کی خصوصیات اختیار کر لے، تو وہ پاک اور پاک کرنے والا شمار ہو سکتا ہے۔

پانی کے کُر ہونے میں شک: اگر ہمیں معلوم ہو کہ کوئی پانی پہلے کُر تھا، لیکن اب شک ہو کہ آیا اس کی مقدار کُر سے کم ہو گئی ہے یا نہیں، تو اصل یہ ہے کہ اسے کُر ہی سمجھا جائے گا۔

6۔ عام سوالات — معاصر مراجع کے فتاویٰ کی روشنی میں

واشنگ مشین سے نجس لباس کی تطہیر

شہیدآیت اللہ خامنہ‌ای: اگر واشنگ مشین لباس کو دھوئے، نجاست کو دور کرے اور اسے نل کے پانی سے آب کشی کرے تو کپڑے پاک ہیں۔

آیت اللہ سیستانی: لباس پاک ہو جاتا ہے، بشرطیکہ عینِ نجاست دھونے سے پہلے یا دھلائی کے دوران دور ہو جائے اور لباس نل کے متصل پانی سے دھویا جائے۔

آیت اللہ مکارم شیرازی: ایسی خودکار واشنگ مشینوں میں دھوئے گئے کپڑے جو شرعی طریقے کے مطابق آب کشی کرتی ہوں، پاک شمار ہوتے ہیں۔

نل کے شہری پانی سے تطہیر

مراجع کا مشترکہ موقف —شہید آیت اللہ خامنہ‌ای، آیت اللہ سیستانی اور آیت اللہ مکارم شیرازی:

شہری نل کا پانی، جب کُر ذخیرے سے متصل ہو، آبِ کُر کے حکم میں ہے۔

لہٰذا جب پانی نجس مقام تک پہنچ جائے اور عینِ نجاست دور ہو جائے تو وہ جگہ پاک ہو جاتی ہے، اور قلیل پانی کی طرح کپڑے کو نچوڑنے یا متعدد مرتبہ دھونے کی ضرورت نہیں رہتی۔

اختتامی کلمات

اسلامی فقہ میں پانی، اولین مطہّر ہونے کے ساتھ جسمانی اور روحانی پاکیزگی کی علامت بھی ہے۔

اسلامی فقہ نے جدید پانی کی فراہمی کے نظام میں، کُر پانی سے متصل نل کے پانی کے احکام کے ذریعے، آج کی زندگی میں تطہیر کے عمل کو بہت آسان اور سہل بنا دیا ہے؛ تاکہ اہلِ ایمان وسوسے اور اسراف میں مبتلا ہوئے بغیر اپنی شرعی اور عبادی طہارت برقرار رکھ سکیں۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔