موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 36
صدقہ سے تونگری تک؛ عالمی یومِ خیرات کی مناسبت سے ایک علمی جائزہ
سید ہاشم موسوی
مقدمہ
۵ ستمبر کو اقوام متحدہ کے تقویم میں ’’عالمی یومِ خیرات‘‘ (International Day of Charity)، یا بہتر تعبیر میں ’’عالمی یومِ نیکوکاری‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔
یہ مناسبت صرف مالی امداد بڑھانے کی دعوت نہیں، بلکہ خیر و نیکی کے مفہوم، اجتماعی شرکت کے نئے طریقوں، مدد رسانی کی اخلاقیات، حکومت اور معاشرے کے کردار، اسلام کے مالی واجبات کی ظرفیت، اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کے طریقوں پر ازسرِنو غور کرنے کا ایک موقع ہے۔
بہت سے لوگوں کے ذہن میں آج بھی خیراتی کام کا تصور صرف پیسے دینے، کھانا تقسیم کرنے، مسجد تعمیر کرنے یا کسی مریض کی مدد کرنے تک محدود ہے۔ بلاشبہ یہ سب نیکی اور خیر کے نہایت قابلِ قدر مصادیق ہیں؛ لیکن آج کی دنیا نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ خیر کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
کسی کو کوئی ہنر سکھانا، کسی مظلوم کے حقوق کے دفاع کے لئے قانونی مدد فراہم کرنا، اپنا وقت اور تخصص دوسروں کے لئے وقف کرنا، خصوصی ضروریات رکھنے والے افراد، مثلاً نابینا افراد کے لئے مفت سافٹ ویئر تیار کرنا، علمی وقف قائم کرنا، یا ماحولیات کا تحفظ کرنا بھی نیکوکاری کی صورتیں ہوسکتی ہیں۔
لہٰذا بنیادی سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ:
’’ہم کتنا دیں؟‘‘
بلکہ یہ بھی پوچھنا چاہیے:
’’ہم کیا دیں، کس کو دیں، کس نیت سے دیں، کس طریقے سے دیں اور اس کا نتیجہ کیا ہونا چاہیے؟‘‘
ایک قومی اقدام سے عالمی مناسبت تک
خیراتی امور کے لئے ایک عالمی دن مقرر کرنے کا تصور سن ۲۰۱۱ء میں ہنگری کی سول سوسائٹی کی ایک کاوش کے طور پر سامنے آیا۔ اس تجویز کو ہنگری کی پارلیمنٹ اور حکومت کی حمایت حاصل ہوئی اور بعد ازاں اسے اقوام متحدہ میں پیش کیا گیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۱۷ دسمبر ۲۰۱۲ء کو قرارداد ۶۷/۱۰۵ منظور کرکے ۵ ستمبر کو ’’عالمی یومِ خیرات‘‘ قرار دیا۔
یہ تاریخ مدر ٹریسا کی ۱۹۹۷ء میں وفات کی برسی کے طور پر منتخب کی گئی۔ انہوں نے اپنی زندگی کی کئی دہائیاں غریبوں، بیماروں اور محروم لوگوں کی خدمت میں گزاریں اور ۱۹۷۹ء میں نوبل امن انعام حاصل کیا۔
ہنگری کی اس تجویز کو اتفاقِ رائے سے منظور کیا گیا اور دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والی ۴۴ حکومتوں نے قرارداد کے مسودے کی باقاعدہ حمایت کی۔
اس دن کو مقرر کرنے کا مقصد صرف کسی تاریخی شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کرنا نہیں تھا۔ اقوام متحدہ کی قرارداد نے خیراتی سرگرمیوں کو انسانی رنج و تکالیف کم کرنے، غربت کا مقابلہ کرنے، سماجی یکجہتی مضبوط بنانے اور اقوام کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کا ایک ذریعہ قرار دیا۔
اس قرارداد میں حکومتوں، بین الاقوامی اداروں، غیر سرکاری تنظیموں اور عام افراد سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ تعلیم، آگاہی اور مناسب سرگرمیوں کے ذریعے نیکوکاری کی ثقافت کو فروغ دیں۔
اقوام متحدہ اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ خیراتی سرگرمیاں نہ صرف انسانی بحرانوں کے دوران مدد فراہم کرسکتی ہیں بلکہ صحت، تعلیم، رہائش اور بچوں کے تحفظ سے متعلق عوامی خدمات کی تکمیل بھی کرسکتی ہیں، نیز ثقافت، علم، کھیل، قدرتی ورثے اور محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔
اسی لئے یہ دن محض ’’پیسہ دینے کی تقریب‘‘ نہیں، بلکہ انسانی صلاحیتوں کو اجتماعی خیر اور عوامی بھلائی کے لئے متحرک کرنے کی ایک عالمی دعوت ہے۔[1]
امرِ خیر کیا ہے؟
سماجی مفہوم میں ’’امرِ خیر‘‘ کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے:
ہر ایسا جائز، سوچا سمجھا اور انسانی کرامت پر مبنی عمل جو کسی تکلیف کو کم کرے، کسی حق کو بحال کرے، کسی حقیقی ضرورت کو پورا کرے، انسانی صلاحیت کو پروان چڑھائے یا معاشرے اور دنیا کے لئے کوئی پائیدار فائدہ پیدا کرے، بشرطیکہ وہ خود ظلم، تحقیر یا نقصان دہ انحصار کا سبب نہ بنے۔
اس تعریف میں چند اہم نکات شامل ہیں۔
پہلی بات یہ کہ خیر صرف ’’مال دینے‘‘ تک محدود نہیں ہے۔ علم، وقت، مہارت، سماجی اعتبار، تعلقات اور روابط، روزگار کا موقع، اچھی بات کہنا، حتیٰ کہ کسی نقصان کو وقوع پذیر ہونے سے روکنا بھی خیر کے مصادیق میں شامل ہوسکتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہر وہ عمل جو بظاہر اچھا دکھائی دے، ضروری نہیں کہ حقیقت میں بھی خیر ہو۔ اگر کسی کی مدد کرنے کا طریقہ اس کی عزتِ نفس اور انسانی کرامت کو مجروح کرے، اسے تشہیر یا دکھاوے کا ذریعہ بنائے، یا اس کے دوسروں پر انحصار کو مزید بڑھا دے تو اس طریقۂ مدد پر نظرِ ثانی ضروری ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ ہر خیر مستحب نہیں ہوتا؛ بعض اوقات خیر ایک شرعی واجب اور ذمہ داری کی صورت اختیار کرلیتا ہے، جیسے زکوٰۃ ادا کرنا، خمس دینا، نفقہ ادا کرنا، قرض چکانا اور وہ حقوق ادا کرنا جو انسان کے ذمے واجب ہیں۔
اسلام میں خیر کا تصور مالی صدقے سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
قرآن کریم فرماتا ہے:
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ
’’تم ہرگز حقیقی نیکی کو نہیں پاسکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو۔‘‘
(سورۂ آل عمران، آیت 92)
قرآن کریم ایک اور مقام پر نیکی کو ایمان، عبادت، عہد کی پابندی، صبر و استقامت اور رشتہ داروں، یتیموں، محتاجوں اور مسافروں پر مال خرچ کرنے کے مجموعے کے طور پر بیان کرتا ہے۔ (سورۂ بقرہ، آیت 177)
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی فرمایا:
كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ
’’ہر نیک اور پسندیدہ کام صدقہ ہے۔‘‘
ایک اور روایت میں آیا ہے:
وَالدَّالُّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ
’’جو کسی کو نیکی کی طرف رہنمائی کرے، وہ اس شخص کی مانند ہے جو خود اس نیکی کو انجام دیتا ہے۔‘‘
یہ روایات صدقے کے مفہوم کو صرف مال و دولت سے نکال کر انسان کی تمام صلاحیتوں اور امکانات تک وسیع کردیتی ہیں۔[2]
مختلف ادیان میں نیکوکاری
نیکوکاری کا بنیادی تصور، اگرچہ اس کی بنیادوں اور عملی صورتوں میں فرق پایا جاتا ہے، دنیا کے بڑے مذاہب میں بھی موجود ہے۔
یہودیت:
یہودیت میں ’’تِصِداقا‘‘ (Tzedakah) کا تصور عدل اور اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
اس نقطۂ نظر میں کسی غریب کی مدد کرنا محض ہمدردی کے جذبے سے دیا جانے والا عطیہ نہیں، بلکہ ایک اخلاقی حق کی ادائیگی سمجھا جاتا ہے۔
موسیٰ بن میمون (Maimonides) سے منسوب روایت کے مطابق مدد کا اعلیٰ ترین درجہ یہ ہے کہ ضرورت مند کو اس مقام تک پہنچایا جائے جہاں وہ خود کفیل ہوسکے؛ مثلاً اسے روزگار فراہم کیا جائے، سرمایہ دیا جائے، تعلیم و تربیت دی جائے یا آمدنی حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ مہیا کیا جائے۔
مسیحیت:
مسیحیت میں ’’کاریتاس‘‘ (Caritas) یعنی ایثار پر مبنی محبت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
بھوکے، بیمار اور اجنبی انسان کی خدمت کو حضرت مسیح علیہ السلام کی خدمت کے مترادف سمجھا جاتا ہے، جبکہ پوشیدہ طور پر صدقہ دینا، دکھاوے اور خودنمائی کے ساتھ خیرات کرنے سے افضل قرار دیا گیا ہے۔[3]
ہندو اور بدھ روایات:
ہندو اور بدھ مذہبی روایات میں ’’دانا‘‘ (Dāna) سخاوت، بخشش اور دنیاوی وابستگیوں سے آزادی کی مشق تصور کیا جاتا ہے۔
سکھ مت:
سکھ مذہب میں ’’سیوا‘‘ (Seva) یعنی بے لوث خدمت کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اسی طرح اجتماعی دسترخوان ’’لنگر‘‘ (Langar) کی روایت خدمت، مساوات اور سماجی برابری پر زور دیتی ہے۔
یہ تمام مذہبی روایات ایک جیسی نہیں ہیں، لیکن ایک بنیادی نکتے پر متفق دکھائی دیتی ہیں:
بخشش محض مال و وسائل کو ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل کرنے کا نام نہیں؛ بلکہ یہ بیک وقت دینے والے انسان کی شخصیت اور پورے معاشرے کی اخلاقی تربیت کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔
حوالہ جات
[1] اقوام متحدہ کا عالمی یومِ خیرات سے متعلق سرکاری صفحہ؛ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد ۶۷/۱۰۵؛ اور ہنگری کی حکومت کی جانب سے اس تجویز کی منظوری سے متعلق رپورٹ۔
[2] الکافی، جلد ۴، باب فضل المعروف۔
[3] انجیل متی، ۲۵:۳۵–۴۰ اور ۶:۱–۴۔
نیکوکاری کی مختلف صورتوں کا ایک وسیع نقشہ
عوامی شرکت کو فروغ دینے کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں سے یہ نہ کہا جائے کہ وہ صرف اپنے ’’بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم‘‘ کو دیکھیں؛ بلکہ ہر شخص اپنے مالی اور غیر مالی وسائل اور صلاحیتوں کی ایک فہرست بنا سکتا ہے۔
| خیر کا میدان | مشارکت کی مثالیں | بنیادی فائدہ |
| فوری امداد | جنگ، سیلاب، زلزلے اور بے گھر ہونے کی صورت میں غذا، دوا، پناہ گاہ اور فوری مدد | جان بچانا اور فوری تکلیف کو کم کرنا |
| معاشی و معیشتی مدد | خاندانوں، بزرگوں، یتیموں اور معذور افراد کے ضروری اخراجات پورے کرنا | باعزت زندگی کی کم از کم ضروریات کا تحفظ |
| اقتصادی بااختیار بنانا | ہنر کی تربیت، کام کے آلات، قرضِ حسنہ، روزگار کی فراہمی اور کاروباری مشاورت | انحصار میں کمی اور پائیدار آمدنی پیدا کرنا |
| تعلیم اور علم | اسکالرشپ، رضاکارانہ تدریس، لائبریری، ترجمہ، تحقیق اور آزاد علمی مواد | طویل المدت مواقع کے دروازے کھولنا |
| جسمانی اور ذہنی صحت | علاج، خون اور اعضاء کا عطیہ، مشاورت، مریضوں کی رفاقت اور تسکینی نگہداشت | جان اور معیارِ زندگی کا تحفظ |
| پیشہ ورانہ مہارت | مفت طبی، قانونی، اکاؤنٹنگ، انجینئرنگ، ڈیزائن یا میڈیا خدمات | ذاتی مہارت کو سماجی سرمایہ میں تبدیل کرنا |
| ڈیجیٹل خیر | آلات اور انٹرنیٹ فراہم کرنا، ڈیجیٹل خواندگی، اوپن سورس سافٹ ویئر، نابینا اور سماعت سے محروم افراد کے لئے رسائی کی سہولت، اور اداروں کی سائبر سکیورٹی | نئے مواقع تک منصفانہ رسائی |
| سماجی اور قانونی خیر | ثالثی، تشدد کے متاثرین کی مدد، مظلوم کے قانونی حقوق کا دفاع، پناہ گزینوں اور قیدیوں کی معاونت | حقوق کی بحالی اور سماجی محرومی میں کمی |
| ماحولیات اور ورثہ | درخت لگانا اور ان کی نگہداشت، ماحول کی صفائی، پانی، جانوروں اور ثقافتی آثار کا تحفظ | آئندہ نسلوں کے حقوق کی حفاظت |
| وقت اور جذباتی تعاون | تنہا بزرگ کے ساتھ وقت گزارنا، نوجوان کی رہنمائی، عارضی طور پر بچے کی دیکھ بھال، سننا اور ساتھ دینا | تنہائی کا علاج اور انسانی رشتوں کو مضبوط کرنا |
| وقف اور پائیدار بنیادی ڈھانچہ | جائیداد کا وقف، علمی فنڈ، کلینک، اسکول، ہنر سکھانے کا مرکز یا آمدنی پیدا کرنے والا سرمایہ | نسلوں تک فائدے کا تسلسل |
| تشہیر اور نیٹ ورکنگ | کسی معتبر ضرورت کو سامنے لانا، مخیر افراد کو ماہرین سے ملانا اور رضاکاروں کو متحرک کرنا | ذاتی دولت کے بغیر خیر کی صلاحیت میں اضافہ |
یہ تنوع ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کوئی شخص خیر کرنے کے لئے ’’بہت زیادہ غریب‘‘ یا ’’بہت زیادہ مصروف‘‘ نہیں ہوتا۔
ممکن ہے کسی کے پاس مالی استطاعت نہ ہو، لیکن وہ ہفتے میں ایک گھنٹہ پڑھا سکتا ہے؛ کوئی ڈاکٹر اپنے وقت کا ایک حصہ مفت علاج کے لئے مخصوص کرسکتا ہے؛ کوئی مترجم مہاجرین کے لئے ضروری معلومات کا ترجمہ کرسکتا ہے؛ کوئی پروگرامر کسی خیراتی ادارے کے لئے ایک سادہ سافٹ ویئر یا نظام تیار کرسکتا ہے؛ یا کوئی شخص محض ایک حقیقی ضرورت کو کسی صاحبِ استطاعت فرد تک پہنچا سکتا ہے۔
یقیناً فوری امداد اپنی جگہ نہایت ضروری ہے؛ لیکن اگر نیکوکاری کی تمام توانائی صرف راشن اور غذائی پیکج تقسیم کرنے میں صرف ہوجائے اور تعلیم، روزگار اور مسائل کی پیشگی روک تھام کو بھلا دیا جائے تو ایسی صورت میں غربت کا انتظام تو کیا جاتا ہے، مگر اس کا علاج نہیں ہوتا۔
نیت؛ کارِ خیر کی روح
اسلامی تعلیمات میں کسی عمل کی اخلاقی اور عبادی قدر اس کی نیت سے جدا نہیں ہے۔
امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں:
«لَا عَمَلَ إِلَّا بِنِيَّةٍ»
’’کوئی عمل نیت کے بغیر نہیں ہوتا۔‘‘
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی روایت ہے:
«نِيَّةُ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ عَمَلِهِ… وَكُلُّ عَامِلٍ يَعْمَلُ عَلَى نِيَّتِهِ»
’’مؤمن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے… اور ہر عمل کرنے والا اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے۔‘‘[ الکافی، جلد ۲، باب النیّة]
اللہ کے لئے خالص نیت، نیک عمل کو لوگوں کے ساتھ ایک لین دین سے اٹھا کر خدا کی عبادت میں تبدیل کردیتی ہے۔
قرآن کریم نیک بندوں کے بارے میں فرماتا ہے:
«إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا»
’’ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لئے کھانا کھلاتے ہیں؛ نہ ہم تم سے کسی بدلے کے خواہاں ہیں اور نہ شکریے کے۔‘‘
(سورۂ انسان، آیت ۹)
اس کے برعکس قرآن ایسی خیرات کو بے قدر قرار دیتا ہے جو ریا، احسان جتلانے یا اذیت پہنچانے کے ساتھ ہو۔ ملاحظہ ہو
(سورۂ بقرہ، آیات ۲۶۲ اور ۲۶۴)۔
تاہم اخلاص کا مطلب بے منصوبگی یا غیر پیشہ ورانہ انداز نہیں ہے۔ اچھی نیت کسی غلط طریقے کو درست نہیں بنا دیتی۔
ممکن ہے کوئی شخص حقیقتاً مدد کرنا چاہتا ہو، لیکن لاعلمی کی وجہ سے نامناسب چیزیں بھیج دے، مقامی بازار کو نقصان پہنچا دے، کسی خاندان کی نجی معلومات عام کردے، یا ایسے منصوبے پر بجٹ خرچ کردے جس کا کوئی مؤثر نتیجہ نہ نکلے۔
کامل کارِ خیر تین بنیادوں پر قائم ہوتا ہے: پاک نیت، درست طریقہ اور مفید نتیجہ۔
کارِ خیر کا علانیہ اظہار بھی ہمیشہ ریا نہیں ہوتا۔ قرآن فرماتا ہے کہ صدقات کو ظاہر کرنا اچھا ہے، لیکن انہیں پوشیدہ رکھ کر ضرورت مندوں تک پہنچانا زیادہ بہتر ہے۔
(سورۂ بقرہ، آیت ۲۷۱)
لہٰذا اگر کسی مدد کا اعلان دوسروں کے لئے نمونہ بنانے، مزید لوگوں کو شریک کرنے یا شفاف رپورٹنگ کے لئے ضروری ہو تو یہ اخلاص کے منافی نہیں؛ بشرطیکہ خیر کرنے والے کی نمائش لوگوں کی اصل ضرورت سے زیادہ اہم نہ ہوجائے اور مدد لینے والے کی عزت و آبرو کو تشہیر کی قیمت نہ بنایا جائے۔
کارِ خیر کیسے کریں اور اس کے منفی اثرات سے کیسے بچیں؟
کارِ خیر بھی ہر انسانی سرگرمی کی طرح بعض ضمنی مسائل اور نقصانات کا باعث بن سکتا ہے۔
اس کا حل نیکوکاری چھوڑ دینا نہیں، بلکہ اسے زیادہ اخلاقی، ذمہ دار اور پیشہ ورانہ بنانا ہے۔
۱۔ حقیقی ضرورت کو پہچانیں
مدد کرنے والے کی پسند کو ضرورت مند پر مسلط نہیں کرنا چاہیے۔
ہر منصوبے سے پہلے خود ضرورت مند افراد اور مقامی ماہرین سے پوچھنا چاہیے کہ ان کی اصل ترجیح کیا ہے۔
بعض اوقات ہدف کے مطابق نقد امداد، سامان بھیجنے سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے، جبکہ بعض مخصوص حالات میں غیر نقد مدد ہی ضروری ہوتی ہے۔
۲۔ مدد لینے والے کی عزت و کرامت محفوظ رکھیں
کسی بچے، مریض یا ضرورت مند خاندان کی تصویر اس کی باخبر رضامندی کے بغیر شائع کرنا، ان کی نجی زندگی کی تفصیلات عام کرنا، انہیں ذلت آمیز قطاروں میں کھڑا کرنا یا محروم لوگوں کو تشہیری مواد بنا دینا، روحِ احسان کے مطابق نہیں ہے۔
بہت سے حالات میں پوشیدہ طور پر یا کسی قابلِ اعتماد واسطے کے ذریعے مدد کرنا زیادہ مناسب ہوتا ہے۔
۳۔ فوری امداد اور بااختیار بنانے میں توازن قائم کریں
کسی بھوکے شخص سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پہلے ہنر سیکھو؛ اس کی فوری ضرورت پہلے پوری کی جانی چاہیے۔
لیکن اگر کوئی پروگرام ہمیشہ کھانا کھلانے تک محدود رہے اور تعلیم، علاج، روزگار اور خود کفالت کی کوئی راہ نہ کھولے تو وہ انحصار کو مستقل بنا دیتا ہے۔
۴۔ کارِ خیر کو بنیادی ذمہ داریوں کا متبادل نہ بنائیں
کوئی شخص مزدور کا حق، قرض، خاندان کا نفقہ یا قانونی ٹیکس ادا نہ کرے اور پھر اسی مال کے ایک حصے سے اپنے لئے خیرخواہ شخصیت کا تصور پیدا کرے، یہ درست طرزِ عمل نہیں۔
قرآن کریم حکم دیتا ہے کہ ہم ان پاکیزہ چیزوں میں سے خرچ کریں جو ہم نے کمائی ہیں:
(سورۂ بقرہ، آیت ۲۶۷)
اس لئے نیکوکاری کا آغاز کمائی میں انصاف اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی سے ہوتا ہے۔
۵۔ اپنی استطاعت کی حدود کو پہچانیں
ایسی جذباتی مدد جو انسان کو مقروض کردے، اس کے خاندان کو مشکلات میں ڈال دے یا خود اسے جسمانی اور ذہنی طور پر تھکا دے، عموماً پائیدار نہیں ہوتی۔
روایت میں آیا ہے: «وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ » یعنی ’’ان لوگوں سے آغاز کرو جن کی کفالت تمہارے ذمے ہے۔‘‘
باقاعدہ، متوازن اور اپنی استطاعت کے مطابق عطیہ اکثر ایک بڑے مگر وقتی اور جذباتی عطیے سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
۶۔ نگرانی اور شفافیت کو سنجیدگی سے لیں
خیراتی اداروں میں مالی نگرانی، ذمہ داریوں کی واضح تقسیم، مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق پالیسی، بچوں اور کمزور افراد کے تحفظ، شکایات کے طریقۂ کار، اثرات کے جائزے اور واضح رپورٹنگ کے نظام موجود ہونے چاہئیں۔
انتظامی اخراجات کا صفر ہونا بھی کسی ادارے کی صحت مندی کی دلیل نہیں۔
آڈٹ، کارکنوں کی تربیت، محفوظ ٹیکنالوجی اور نگرانی پر اخراجات ہوتے ہیں۔ درست معیار یہ ہے کہ اخراجات معقول، شفاف اور ادارے کے اصل مقصد کے حصول میں معاون ہوں؛ نہ یہ کہ صرف سب سے کم انتظامی اخراجات کی شرح کو اشتہار بنایا جائے۔
حکومت، عوام اور ادارے؛ ذمہ داری کس کی ہے؟
فلاحی ریاست یا وسیع عوامی خدمات کے نظام کی موجودگی لوگوں کو کارِ خیر سے بے نیاز نہیں کرتی؛ اسی طرح خیراتی سرگرمیاں بھی حکومت کو اس کی قانونی ذمہ داریوں اور سماجی انصاف قائم کرنے کے فرائض سے بری الذمہ نہیں کرتیں۔
اس تعلق کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے:
’’حکومت معاشرے کی جگہ نہیں لے سکتی، اور معاشرے کو بھی حکومت کی جگہ نہیں لینی چاہیے۔‘‘
افراد کا کردار
افراد روزمرہ کے انسانی مسائل اور تکالیف کے سب سے قریب ہوتے ہیں۔
وہ پوشیدہ ضروریات کو دیکھ سکتے ہیں، انسانی تعلق قائم کرسکتے ہیں، رضاکارانہ خدمات انجام دے سکتے ہیں، باقاعدگی کے ساتھ مدد کرسکتے ہیں اور خیراتی اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھ سکتے ہیں۔
بڑے منصوبوں کی بھیڑ میں ضرورت مند خاندان، ہمسایہ اور رشتہ دار کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
خیراتی تنظیموں کا کردار
خیراتی اور غیر سرکاری تنظیمیں منتشر اور انفرادی امداد کو منظم اور تخصصی اقدام میں تبدیل کرتی ہیں۔
ان کی ذمہ داریوں میں ضرورتوں کا درست جائزہ، مستحق افراد کا مناسب انتخاب، پیشہ ورانہ عمل درآمد، امانت کی حفاظت، نتائج کی پیمائش اور شفاف رپورٹنگ شامل ہے۔
ان اداروں کو لوگوں کی نیک نیت اور معاشرے میں حقیقی اور مؤثر نتائج کے درمیان ایک پل بننا چاہیے۔
حکومت کا کردار
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ بنیادی حقوق، سماجی تحفظ، تعلیم، صحت، بحرانوں میں امداد اور کمزور و آسیب پذیر افراد کی حمایت کو یقینی بنائے۔
اسی طرح حکومت کو خیراتی اداروں کے لئے واضح قوانین، متناسب نگرانی، قانونی مراعات، قابلِ اعتماد اعداد و شمار اور تعاون کے مناسب مواقع فراہم کرنے چاہئیں۔
مطلوبہ نمونہ یہ ہے کہ حکومت، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور شہریوں کے درمیان ذمہ دارانہ تقسیمِ کار اور باہمی تعاون قائم ہو؛ یہی وہ شراکت داری ہے جسے اقوام متحدہ بھی پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے ضروری قرار دیتا ہے۔
خمس اور زکوٰۃ؛ اختیاری نیکی سے مالی ذمہ داری تک
اسلامی مالی نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس نے غربت کے خاتمے اور اجتماعی مصالح کی حمایت کو محض وقتی جذبات اور انفرادی سخاوت پر نہیں چھوڑا۔ زکوٰۃ اور خمس، انسان کے مال کے ایک حصے کو ذاتی اختیار کے دائرے سے نکال کر دوسروں کا ’’حق‘‘ قرار دیتے ہیں۔
قرآن کریم میں نماز کے ساتھ بار بار زکوٰۃ کا ذکر اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ دینداری صرف انسان اور خدا کے درمیان تعلق کا نام نہیں؛ بلکہ بندگانِ خدا کے ساتھ اس کا تعلق بھی ایمان کا ایک لازمی حصہ ہے۔
قرآن کریم نے زکوٰۃ کے مخصوص مصارف بیان کیے ہیں؛ جن میں فقرا، مساکین، مقروض افراد اور مسافر وغیرہ شامل ہیں۔
(سورۂ توبہ، آیت ۶۰)
اسی طرح قرآن زکوٰۃ کو انسان کے تزکیے اور روحانی نشوونما کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔
(سورۂ توبہ، آیت ۱۰۳)
خمس بھی سورۂ انفال کی آیت ۴۱ اور فقہی احکام کی تفصیلات کی بنیاد پر مکتبِ اہل بیت علیہم السلام میں ایک اہم مالی فریضہ ہے۔ تاریخی طور پر اس نے دینی اور سماجی ضروریات کی تکمیل، مستحق ضرورت مندوں کی مدد، دینی تعلیم و تبلیغ اور مؤمنین کے اجتماعی مصالح کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے۔
جامع اور قابلِ اعتماد اعداد و شمار کے بغیر تمام اسلامی معاشروں میں ان دونوں واجبات کے تاریخی اثرات کو کسی ایک عدد یا شرح کے ذریعے بیان کرنا ممکن نہیں؛ لیکن ان کی ممکنہ ظرفیت نہایت وسیع ہے۔
اگر شرعی وجوہات وقت پر ادا کی جائیں، انہیں پیشہ ورانہ انداز میں جمع کیا جائے، حقیقی ترجیحات کی بنیاد پر خرچ کیا جائے اور ان کے اثرات کے بارے میں شفاف رپورٹنگ کی جائے، تو یہ غربت میں کمی، علمی و دینی اداروں کے تحفظ اور نئی پیدا ہونے والی ضروریات کے جواب کے لئے ایک پائیدار مالی ذریعہ بن سکتی ہیں۔
البتہ چند اہم نکات کا خیال رکھنا ضروری ہے:
پہلی بات: زکوٰۃ اور خمس کے مصارف نہ تو مکمل طور پر ایک جیسے ہیں اور نہ ہی غیر محدود۔ ادائیگی کرنے والا شخص اپنی پسند کے ہر منصوبے کو شرعی مصرف قرار نہیں دے سکتا۔ خصوصاً خمس میں سہمِ امام اور سہمِ سادات کی ادائیگی اور مصرف، مرجعِ تقلید کے فتویٰ اور ضروری اجازتوں کے تابع ہوتا ہے۔
دوسری بات: واجب مالی حقوق معاشرے کی تمام ضروریات کا احاطہ نہیں کرتے۔ اس لئے ان کے ساتھ مستحب صدقات، وقف، قرضِ حسنہ، سوچ سمجھ کر کی جانے والی نذریں، سرکاری بجٹ اور کاروباری اداروں کی سماجی ذمہ داری بھی ضروری ہے۔
تیسری بات: شرعی وجوہات پر عوامی اعتماد بھی امانت داری، مہارت، صحیح ترجیحات اور مناسب و شفاف رپورٹنگ کا تقاضا کرتا ہے۔
خمس اور زکوٰۃ کے ساتھ ساتھ وقف بھی پائیدار بنیادی ڈھانچے کے قیام کی ایک غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔
اگر زکوٰۃ اور صدقہ زیادہ تر موجودہ اور فوری ضروریات کا جواب دیتے ہیں تو آمدنی پیدا کرنے والا وقف نسلوں تک اسکول، درمان گاہ، تحقیقی مرکز، امدادی رہائش اور روزگار کے فنڈ جیسے منصوبوں کو سہارا دے سکتا ہے۔
آج کے دور کی ضروریات کے مطابق وقف کے نظام کو ازسرِنو فعال اور منظم کیے بغیر اسلامی نیکوکاری کا احیا مکمل نہیں ہوسکتا۔
جب ایک خیانت عوامی اعتماد کو زخمی کردیتی ہے
کسی خیراتی ادارے کے ذمہ دار کی غلطی، بدانتظامی یا خیانت کے اثرات صرف اسی ادارے تک محدود نہیں رہتے، بلکہ کہیں زیادہ وسیع اور تباہ کن ہوسکتے ہیں؛ کیونکہ نیکوکاری کا سب سے بڑا سرمایہ اعتماد ہے۔
جب یہ اعتماد مجروح ہوتا ہے تو اس کے پہلے حقیقی متاثرین وہ ضرورت مند افراد ہوتے ہیں جن کا اس بدعنوانی یا خیانت میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔
اسی لئے خیراتی اداروں کو غلطیوں کو چھپانا نہیں چاہیے؛ بلکہ ان کی تحقیق کرنی چاہیے، انہیں رپورٹ کرنا چاہیے، جہاں ممکن ہو نقصان کا ازالہ کرنا چاہیے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے نظام کو بہتر بنانا چاہیے۔
اس کے باوجود یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ:
’’چونکہ ایک فرد یا ایک ادارے نے خیانت کی ہے، اس لئے اب کسی پر بھی اعتماد نہیں کیا جاسکتا‘‘
منطقی اعتبار سے جلدبازی پر مبنی عمومی نتیجہ ہے، اور اخلاقی اعتبار سے مجرم کی سزا بے گناہ ضرورت مندوں کو منتقل کرنے کے مترادف ہے۔
کسی ایک خیانت کا واقعہ اس مخصوص فرد یا ناقص نظام پر عدم اعتماد اور مزید تحقیقات کے لئے کافی دلیل ہوسکتا ہے، لیکن یہ تمام مخیر افراد اور تمام خیراتی اداروں کے بدعنوان ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔
درست راستہ یہ ہے کہ ’’سادہ لوح اعتماد‘‘ سے نکل کر ’’سمجھ دار اور ذمہ دار اعتماد‘‘ کی طرف بڑھا جائے۔
وقتی طور پر نیکی سے لیکرپائیدار ثقافت تک
عالمی یومِ خیرات اس وقت حقیقی معنوں میں مؤثر ہوسکتا ہے جب نیکوکاری کو محض ایک وقتی اور جذباتی ردِعمل سے نکال کر ذاتی عادت اور سماجی نظام میں تبدیل کرے۔
اس مقصد کے لئے چند اہم تبدیلیاں ضروری ہیں:
- چھوٹی مگر باقاعدہ امداد، وقتی اور جذباتی جوش کی جگہ لے؛
- فوری امداد کے ساتھ بااختیار بنانے کے اقدامات بھی ہوں؛
- مدد حاصل کرنے والے کو محض ہمدردی کا موضوع نہیں بلکہ مسئلے کے حل میں شریک سمجھا جائے؛
- خیراتی ادارے صرف تقسیم کیے گئے پیکٹوں کی تعداد بتانے کے بجائے لوگوں کی زندگی میں آنے والی حقیقی تبدیلی کی رپورٹ دیں؛
- مخیر افراد صرف ’’رقم ادا کرنے والے‘‘ نہ رہیں بلکہ سیکھنے والے، نگرانی کرنے والے اور تعاون کرنے والے شریک بنیں۔
اسی طرح بچوں اور نوجوانوں کو ابتدا ہی سے نیکوکاری سے آشنا کرنا چاہیے۔
یہ تربیت صرف خیراتی صندوق میں رقم ڈالنے تک محدود نہ ہو، بلکہ انہیں عملی خدمت کا تجربہ دیا جائے، معاشرے کی ضروریات کو عزت و احترام کے ساتھ دیکھنا سکھایا جائے، اجتماعی کام میں شریک کیا جائے، ماحولیات کی حفاظت کی ترغیب دی جائے اور اپنے وقت اور صلاحیتوں کا ایک حصہ دوسروں کے لئے مختص کرنا سکھایا جائے۔
جو معاشرہ خیر کی توقع صرف دولت مند افراد سے رکھتا ہے، وہ اپنے انسانی سرمائے کے ایک بڑے حصے کو غیر فعال چھوڑ دیتا ہے۔
اختتامی کلمات
۵ ستمبر ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ دنیا صرف قانون اور بجٹ کے ذریعے نہیں چلتی؛ ہمدردی، رضاکارانہ خدمت، اعتماد اور باہمی ذمہ داری کا احساس بھی کسی معاشرے کے بنیادی ستون ہیں۔
لیکن مطلوبہ نیکوکاری صرف ایک دینے والے ہاتھ اور ایک لینے والے ہاتھ کا نام نہیں؛ بلکہ یہ ایک ایسا تعلق ہے جو:
محبت کو عدالت سے، اخلاص کو مہارت سے، فوری امداد کو بااختیار بنانے سے، عوام کو حکومت سے، اور شرعی فریضے کو سماجی ذمہ داری سے جوڑتا ہے۔
اگر ہم خیر کو ہر ایسے جائز عمل کے طور پر سمجھیں جو کسی تکلیف کو کم کرے، کسی حق کو واپس دلائے یا کسی صلاحیت کو پروان چڑھائے، تو پھر ہر انسان کے پاس کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوگا جسے وہ دوسروں کے لئے پیش کرسکے۔
کوئی اپنا مال دیتا ہے، کوئی اپنا علم؛ کوئی اپنا وقت صرف کرتا ہے، اور کوئی اپنی سماجی ساکھ، تعلقات اور روابط کو کسی ضرورت مند کی مشکل حل کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

