حدیثِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 36
دل کی پاکیزگی: خالص نیت کے بارے میں امام حسن علیہ السلام کا درس
درج ذیل حدیث پر غور کرنے کی مناسبت: ۲۵ ربیع الاول، امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے معاہدۂ صلح کا دن۔
مقدمہ
اس مناسبت پر ہم امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے ایک نہایت خوبصورت اور بامعنی فرمان پر غور کرسکتے ہیں؛ ایسا فرمان جس میں آپ ہمیں اس دل کی قوت اور قدر و منزلت کے بارے میں تعلیم دیتے ہیں جو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب ہو۔
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں:
«أَنَا اَلضَّامِنُ لِمَنْ لَمْ يَهْجُسْ فِي قَلْبِهِ إِلاَّ اَلرِّضَا أَنْ يَدْعُوَ اَللَّهَ فَيُسْتَجَابَ لَهُ»
’’میں اس شخص کے لئے ضمانت دیتا ہوں جس کے دل میں رضائے خدا کے سوا کوئی چیز نہ ہو؛ اگر وہ اللہ سے دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہوگی۔‘‘
(بحارالانوار، جلد ۴۳، صفحہ ۳۵۱)
نوجوانوں کے لئے اس حدیث کے تربیتی پیغامات
۱۔ اپنی نیت کو پاک کریں
آپ جو بھی کام انجام دیں، خواہ بڑا ہو یا چھوٹا، اپنی نیت کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خالص بنانے کی کوشش کریں۔
عملی چیلنج:
کسی اہم کام کا آغاز کرنے سے پہلے چند لمحے رکیں اور اپنے آپ کو یاد دلائیں:
’’میں یہ کام اللہ کی رضا کے لئے انجام دے رہا ہوں۔‘‘
۲۔ رضائے الٰہی کو اپنا سب سے بلند مقصد بنائیں
اللہ کی رضا حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنے دوسرے مقاصد چھوڑ دیں؛ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ رضائے الٰہی کو اپنی تمام نیتوں اور مقاصد میں سب سے بلند مقام دیں۔
خواہ تعلیم ہو، کامیابی، روزگار کمانا، خاندان کی مدد کرنا یا دوسروں کی خدمت، ہر مقصد کو رضائے خدا سے جوڑا جاسکتا ہے۔
عملی چیلنج:
جب بھی اپنے لئے کوئی ہدف طے کریں تو خود سے پوچھیں:
’’میں اس ہدف کو اللہ کی رضا اور دوسروں کی بھلائی کے راستے میں کیسے قرار دے سکتا ہوں؟‘‘
۳۔ اپنی نیت کو اپنے عمل کو بہتر بنانے دیں
اگر آپ کی نیت حقیقتاً اللہ کے لئے ہے تو اس کا اثر آپ کے طریقۂ عمل اور رویّے میں بھی ظاہر ہونا چاہیے۔
کسی غلط یا غیر اخلاقی کام کو انجام دیتے ہوئے یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ ہم خلوص کے ساتھ اللہ کی رضا چاہتے ہیں۔
عملی چیلنج:
کسی اہم انتخاب سے پہلے خود سے پوچھیں:
’’اگر میں کہوں کہ یہ کام اللہ کے لئے کررہا ہوں، تو کیا پھر بھی یہ کام درست ہوگا؟‘‘
۴۔ اپنے دل کی نگرانی کریں
آپ کا دل اس وقت حقیقی طور پر قیمتی بنتا ہے جب وہ اللہ کے نور اور اس کی رضا سے بھرا ہوا ہو، نہ کہ ایسی چیزوں کی وابستگی سے جو انسان کو اس سے دور کردیں۔
عملی چیلنج:
ہر روز چند منٹ خاموشی میں اپنے ساتھ گزاریں اور دیکھیں کہ آپ کے ذہن اور دل کو سب سے زیادہ کس چیز نے گھیر رکھا ہے:
اللہ؟ یا مال، مقبولیت، ظاہری شکل اور دیگر دنیاوی چیزیں؟
۵۔ دنیاوی اہداف بھی رضائے خدا کے لئے حاصل کریں
دنیا میں جس چیز کے لئے بھی کوشش کریں، اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ وابستہ کریں، نہ کہ صرف دنیاوی فائدہ حاصل کرنے کے لئے ۔
عملی چیلنج:
پڑھتے ہوئے، کام کرتے ہوئے یا مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے وقت اپنے مقصد کو کسی اچھی نیت کے ساتھ جوڑیں، مثلاً:
خاندان کی خدمت، دوسروں کی مدد یا حلال روزی کمانا۔
۶۔ اپنے فیصلوں پر غور کریں
اپنے اہم اعمال اور فیصلوں کے بارے میں سوچنے کے لئے وقت نکالیں اور جائزہ لیں کہ ان میں واقعی اللہ کی رضا حاصل کرنے کی خواہش کس حد تک آپ کی رہنمائی کررہی ہے۔
عملی چیلنج:
ہر دن کے اختتام پر اپنے کسی ایک اہم فیصلے کے بارے میں سوچیں اور خود سے پوچھیں:
’’اس فیصلے میں اللہ کی رضا نے میری رہنمائی کس حد تک کی؟‘‘
۷۔ نیکی کریں، چاہے کوئی آپ کی تعریف نہ کرے
نیک عمل اس وقت زیادہ قیمتی ہوجاتا ہے جب آپ اسے اس حال میں بھی انجام دیں کہ نہ کوئی اسے دیکھے اور نہ آپ کی تعریف کرے۔
عملی چیلنج:
ایک ہفتے تک ہر روز کسی شخص کے لئے کوئی مفید کام کریں، لیکن بعد میں اس کا ذکر دوسروں سے نہ کریں۔
۸۔ دوسروں کو اپنے مقاصد طے نہ کرنے دیں
آپ کی زندگی فیشن، وقتی رجحانات، دوستوں یا سوشل میڈیا کے زیرِ اثر نہیں چلنی چاہیے۔
ایسے مقاصد اختیار کریں جنہیں آپ دیانت داری اور اطمینان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرسکیں۔
عملی چیلنج:
اپنے موجودہ تین اہداف لکھیں اور خود سے پوچھیں:
’’اگر کسی کو کبھی معلوم نہ ہو کہ میں نے یہ کامیابی حاصل کی ہے، تو کیا پھر بھی میں اس مقصد کو حاصل کرنا چاہوں گا؟‘‘
اگر جواب نفی میں ہو تو اپنے کسی ایک مقصد پر دوبارہ غور کریں اور اسے بہتر بنائیں۔
۹۔ جب آپ کو تکلیف پہنچے تو بہتر ردِعمل کا انتخاب کریں
جب کوئی آپ کی توہین کرے، آپ کو رد کردے یا مایوس کرے تو رضائے خدا کا طالب ہونا یہ ہے کہ غصے اور انتقام کو اپنے اگلے فیصلے پر قابو نہ پانے دیں۔
عملی چیلنج:
اگلی مرتبہ جب کوئی آپ کو ناراض کرے تو پیغام کا جواب دینے یا کوئی ردِعمل ظاہر کرنے سے پہلے کم از کم دس منٹ انتظار کریں، پھر ایسا جواب دیں جس پر بعد میں آپ کو پچھتاوا نہ ہو۔
۱۰۔ اپنی نجی اور اجتماعی زندگی میں ہم آہنگی پیدا کریں
اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان کوشش کرے کہ تنہائی میں بھی وہی اچھا انسان ہو جو دوسروں کے سامنے دکھائی دیتا ہے۔
عملی چیلنج:
کوئی ایک چھوٹی عبادت یا اچھا عمل منتخب کریں جو آپ عموماً دوسروں کی موجودگی میں انجام دیتے ہیں، اور اسے سات دن تک ہر روز تنہائی میں بھی انجام دیں۔
والدین کے لئے اس حدیث کے تربیتی پیغامات
۱۔ بچوں کی تربیت میں رضائے خدا کو مقصد بنائیں
اپنے بچوں کی تربیت اور ان سے متعلق فیصلوں میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنی بنیادی نیت بنائیں۔
عملی چیلنج:
اپنے بچے کے بارے میں کوئی اہم فیصلہ کرنے سے پہلے رک کر خود سے پوچھیں:
’’کیا میں یہ فیصلہ بنیادی طور پر اپنے بچے کی بھلائی اور اللہ کی رضا کے لئے کررہا ہوں؟‘‘
۲۔ اپنے بچوں کو رضائے خدا کی اہمیت سکھائیں
اپنے بچوں کو سمجھائیں کہ ہمارے فیصلوں اور رویّوں کی رہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا کو معیار کیوں بنانا چاہیے۔
عملی چیلنج:
جب آپ کا بچہ کسی انتخاب کے سامنے ہو تو اس سے پوچھیں:
’’تمہارے خیال میں کون سا انتخاب اللہ کو زیادہ پسند آئے گا؟‘‘
پھر اس کے جواب پر اس کے ساتھ گفتگو کریں۔
۳۔ اپنی نیتوں کا دوبارہ جائزہ لیں
اس بارے میں غور کریں کہ آپ اپنے بچوں کے لئے جو کچھ کرتے ہیں، اس کی اصل وجہ کیا ہے۔
کیا آپ رشتہ داروں کو متاثر کرنا چاہتے ہیں؟ دوسروں سے مقابلہ کررہے ہیں؟ اپنی خواہشات پوری کرنا چاہتے ہیں؟ یا حقیقتاً اللہ کی رضا چاہتے ہیں؟
عملی چیلنج:
ہفتے میں ایک مرتبہ اپنے بچے کے لئے کیے گئے کسی ایک کام کو منتخب کریں اور دیانت داری سے خود سے پوچھیں کہ اس کے پیچھے آپ کی حقیقی نیت کیا تھی۔
۴۔ بچوں کو صرف ’’کیا؟‘‘ نہیں بلکہ ’’کیوں؟‘‘ پوچھنا بھی سکھائیں
صرف یہ بتانے پر اکتفا نہ کریں کہ کون سا کام صحیح یا غلط ہے، بلکہ اپنے بچے کی مدد کریں کہ وہ اپنے اعمال کے پیچھے موجود نیت اور محرک کو بھی سمجھے۔
عملی چیلنج:
دن میں ایک مرتبہ، جب آپ کا بچہ کوئی اچھا کام کرے تو اس سے پوچھیں:
’’تمہارے خیال میں یہ کام اچھا کیوں تھا؟‘‘
اس کا جواب سنیں اور فوراً اس کی اصلاح یا تنقید کرنے کے بجائے اسے سوچنے دیں۔
۵۔ کامیابیوں سے زیادہ کردار کی تعریف کریں
اگر بچوں کی تعریف صرف اچھے نمبروں، دولت یا کامیابیوں پر کی جائے تو ممکن ہے وہ اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کی تعریف اور منظوری حاصل کرنا سیکھیں۔
عملی چیلنج:
ایک ہفتے تک جان بوجھ کر نمبروں، انعامات اور کامیابیوں کے مقابلے میں سچائی، مہربانی، صبر اور اخلاص جیسی صفات کی زیادہ تعریف کریں۔
۶۔ بچوں کو روزمرہ زندگی میں رضائے خدا تلاش کرنا سکھائیں
اخلاص کو صرف نماز، دعا اور دوسری عبادات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
تعلیم حاصل کرنا، گھر کے کاموں میں مدد دینا، حلال روزی کمانا اور دوسروں کی دیکھ بھال کرنا بھی، اگر اللہ کے لئے انجام دیا جائے، عبادت اور معنوی قدر اختیار کرسکتا ہے۔
عملی چیلنج:
ایک ہفتے تک ہر رات کھانے کے وقت خاندان کے ہر فرد سے کہیں کہ وہ دن بھر میں کیے گئے کسی ایک معمول کے کام کا ذکر کرے اور بتائے کہ اس کام کو اللہ کی رضا کے لئے کیسے انجام دیا جاسکتا ہے۔
ائمۂ جماعت اور اساتذہ کے لئے اس حدیث کے تربیتی پیغامات
۱۔ خالص نیت کے ساتھ تعلیم دیں
دوسروں کی تعلیم اور رہنمائی کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی خالص نیت کے ساتھ انجام دیں۔
عملی چیلنج:
ہر تقریر، درس یا عوامی سرگرمی سے پہلے چند لمحے اپنی نیت تازہ کرنے کے لئے مخصوص کریں اور خود کو یاد دلائیں کہ آپ کا مقصد اللہ کی خدمت اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔
۲۔ مقاصد کی درجہ بندی سکھائیں
اپنے مخاطبین کو سمجھائیں کہ اللہ کی رضا کو تمام مقاصد میں سب سے بلند مقام دینا چاہیے، جبکہ باقی اہداف اور مقاصد اس کے تابع ہوں۔
عملی چیلنج:
جب تعلیم، ملازمت یا خاندانی زندگی جیسے کسی روزمرہ مقصد کے بارے میں گفتگو کریں تو لوگوں کو دکھائیں کہ اسے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے اعلیٰ تر مقصد سے کیسے جوڑا جاسکتا ہے۔
۳۔ عمل سے پہلے نیت کی تعلیم دیں
لوگوں سے زیادہ نیک کام کرنے کا مطالبہ کرنے سے پہلے انہیں یہ سمجھنے میں مدد دیں کہ وہ یہ کام کیوں کررہے ہیں اور بالآخر کس کو راضی کرنا چاہتے ہیں۔
عملی چیلنج:
اس ہفتے اپنے کسی درس، تقریر یا کلاس کا آغاز اس سادہ سوال سے کریں:
’’ہم یہ کام کیوں کرتے ہیں؟‘‘
پھر لوگوں کو ایک منٹ دیں کہ وہ اپنے جواب پر غور کریں۔
۴۔ پوشیدہ نیکی کے مواقع پیدا کریں
انسان اخلاص کو اس وقت بہتر طور پر سیکھتا ہے جب وہ اس نیکی کی قدر کو محسوس کرے جو بغیر تعریف، شہرت اور پہچان کے انجام دی جائے۔
عملی چیلنج:
اپنی کلاس یا اجتماعی پروگرام میں کوئی ایسی خفیہ خدمت کی سرگرمی ترتیب دیں جس میں لوگ دوسروں کی مدد کرسکیں، لیکن ان کے نام ظاہر نہ کیے جائیں۔
۵۔ نمایاں ہونے اور عوامی تعریف کا دباؤ کم کریں
انعامات، القابات اور عوامی تعریف پر حد سے زیادہ زور دینا غیر ارادی طور پر لوگوں کی توجہ اللہ کی رضا سے ہٹا کر لوگوں کی منظوری کی طرف منتقل کرسکتا ہے۔
عملی چیلنج:
اپنے اگلے پروگرام میں کسی اچھے عمل کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے بار بار اس شخص کی تعریف کرنے کے بجائے خود نیک عمل کی قدر، مقصد اور اہمیت پر زیادہ زور دیں۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

