موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 32

Topic of the Week - Volume 03 Issue 32
Last Updated: اگست 8, 2026By Categories: موضوعِ ہفتہ0 Comments on موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 320 min readViews: 14

امام حسن مجتبیٰؑ کا صلح نامہ اور امت کی ذمہ داری 

سید ہاشم موسوی

دوسرا حصہ: معاہدہ شکنی کے بعد امت کی کیا ذمہ داری تھی؟

تمہید: لوگوں کو دوبارہ اصل واقعے کی طرف لوٹانا

پہلے شمارے میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ امام حسن مجتبیٰؑ کا صلح کرنا کمزوری، خوف یا معاویہ پر خوش گمانی کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ اپنے دشمن اور اپنے معاشرے کے بارے میں امامؑ کی حقیقت پسندانہ تشخیص کا تقاضا تھا۔ عراق کا لشکر اندر سے کمزور ہو چکا تھا، قبائل کے بعض سردار معاویہ کی رشوت اور لالچ کا شکار ہو کر اس سے جا ملے تھے، اور جنگ کو جاری رکھنے میں فتح کی امید سے زیادہ خطرہ اس بات کا تھا کہ وفادار افراد ختم ہو جائیں اور امامؑ خود اسی متزلزل معاشرے کے ہاتھوں شہید کر دیے جائیں۔

لیکن صلح ذمہ داریوں کا خاتمہ نہیں تھا؛ اس نے صرف جدوجہد کی شکل تبدیل کی تھی۔ اس کے بعد معاویہ پر امت کے سامنے واضح ذمہ داریاں عائد ہو چکی تھیں، اور اس کے طرزِ عمل کو معاہدۂ صلح، کتابِ خدا، سنتِ رسول اکرم ﷺ اور مسلمانوں کے عمومی حقوق کی روشنی میں پرکھا جانا چاہیے تھا۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ معاہدہ شکنی کے بعد کیا صرف امام حسنؑ ہی اقدام کے ذمہ دار تھے، یا امت بھی عہد شکنی، ظلم، دین میں تحریف اور حکومت کی ماہیت کو بدلنے کے مقابلے میں اپنی ذمہ داری رکھتی تھی؟

قرآن اور سنت کا جواب بالکل واضح ہے: صرف امام ہی معاشرے کا مکلف نہیں ہوتا، بلکہ امت بھی اپنے علم، طاقت، اثر و رسوخ اور وسائل کے مطابق حق کی حمایت اور باطل کے استحکام کو روکنے کی ذمہ دار ہے۔

عہد شکنی؛ کیا یہ صرف امام حسنؑ اور معاویہ کے درمیان ایک ذاتی معاملہ تھا یا امت کے حقوق پر حملہ؟

صلح کا معاہدہ امام حسنؑ اور معاویہ کے درمیان کوئی ذاتی معاہدہ نہیں تھا، بلکہ اس کا تعلق حکومت، عوام کے امن، شیعوں کی جانوں، خلافت کے مستقبل اور مسلمانوں کے خون کو بہنے سے روکنے سے تھا۔ لہٰذا اس معاہدے کی خلاف ورزی صرف امامؑ کے حق پر تجاوز نہیں تھی، بلکہ امت کے اجتماعی حقوق کی پامالی بھی تھی۔

قرآنِ کریم عہد کی پابندی کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:

﴿وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا﴾

“اور عہد کو پورا کرو، بے شک عہد کے بارے میں باز پرس ہوگی۔”

(سورۂ اسراء: 34)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن وفائے عہد کو ایک دینی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ لہٰذا وہ لوگ جو کسی معاہدے کے فوائد سے مستفید ہوتے ہوں اور اس کے دفاع کی قدرت رکھتے ہوں، ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عہد شکنی کو ایک مستقل روش بن جانے پر خاموش تماشائی بنے رہیں۔

قرآن کا حکم: جب خیانت یا معاہدہ شکنی کا اندیشہ یا واضح ثبوت موجود ہو

قرآنِ کریم ایک طرف مسلمانوں کو عہد کی پابندی کا حکم دیتا ہے اور دوسری طرف انہیں عہد شکنوں کے بارے میں سادہ لوحی اور بے جا خوش گمانی سے بھی روکتا ہے۔ ان دونوں قسم کی آیات سے ایک متوازن اور حقیقت پسندانہ پالیسی سامنے آتی ہے؛ نہ پیشگی خیانت جائز ہے اور نہ دشمن کی خیانت کے مقابلے میں سستی، غفلت اور بے عملی۔

اللہ تعالیٰ سورۂ انفال میں فرماتا ہے:

﴿وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ﴾

“اور اگر تمہیں کسی قوم کی طرف سے عہد شکنی کا اندیشہ ہو تو ان کا معاہدہ برابری کی بنیاد پر ان کی طرف واپس پھینک دو (یعنی انہیں واضح طور پر آگاہ کر دو کہ اب معاہدہ باقی نہیں رہا)، بے شک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”

(سورۂ انفال: 58)

اور سورۂ توبہ میں کھلی معاہدہ شکنی کے بارے میں فرمایا:

﴿وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُونَ﴾

“اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین پر طعنہ زنی کریں تو کفر کے پیشواؤں کا مقابلہ کرو، کیونکہ وہ کسی قسم اور عہد کے پابند نہیں ہیں، شاید وہ باز آ جائیں۔”

(سورۂ توبہ: 12)

ان آیات کی روشنی میں اسلامی معاشرہ نہ تو یہ حق رکھتا ہے کہ عہد شکن کے مقابلے میں خود بھی خیانت کا راستہ اختیار کرے، اور نہ ہی اسے یہ اجازت ہے کہ وہ کھلی عہد شکنی کو نظر انداز کر دے۔ البتہ مقابلے کی نوعیت حالات، طاقت، مصالحِ اسلام اور جائز و شرعی قیادت کی رائے کے مطابق طے ہوگی، لیکن عہد شکنی اور دین پر حملے کے مقابلے میں بے حسی اختیار کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

امام حسن مجتبیٰؑ نے نہ خیانت کا راستہ اختیار کیا اور نہ ہی قبل از وقت اقدام کیا، لیکن امت کا ایک بڑا حصہ کوتاہی کا شکار ہو گیا اور معاہدہ شکنی کے مقابلے میں اپنی اجتماعی اور سماجی ذمہ داریوں کو ادا نہ کر سکا۔

کیا معاویہ کی عہد شکنی خود بخود معاہدۂ صلح کے خاتمے کا سبب بن گئی تھی؟

اس مقام پر چند امور کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے:

  1. 1. معاویہ کی اخلاقی اور سیاسی حیثیت کا ختم ہو جانا؛
  2. 2. اس کی خلاف ورزیوں کے مقابلے کا حق پیدا ہونا؛
  3. 3. نئی جنگ شروع کرنے کے امکان اور مصلحت کا سوال۔

ہر عہد شکنی، عہد توڑنے والے کی اخلاقی اور سیاسی مشروعیت کو کمزور کر دیتی ہے اور دوسرے فریق کے لیے اعتراض اور مناسب انداز میں مقابلہ کرنے کا حق پیدا کرتی ہے؛ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ امام، معاشرے کی طاقت، جنگ کے نتائج اور مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہوئے فوراً دوبارہ جنگ شروع کرنے کے پابند ہو جائیں۔

اسلامی سیاسی فقہ میں “تکلیف کے ثابت ہونے” اور “اس تکلیف کی کسی خاص صورت پر عمل درآمد کے امکان” کے درمیان فرق ہے۔ ممکن ہے برائی کا مقابلہ کرنا واجب ہو، لیکن اس مقابلے کی صورت حالات، قوت، اثر پذیری کے امکان اور نتائج کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ کبھی ذمہ داری جنگ ہوتی ہے، کبھی علانیہ احتجاج، کبھی حقائق کو بے نقاب کرنا، کبھی مظلوموں کی حمایت، کبھی ظالم حکومت کے ساتھ تعاون سے انکار، اور کبھی مناسب وقت آنے تک اپنی قوت کو محفوظ رکھنا۔

امام حسن مجتبیٰؑ نے صلح کے بعد معاویہ کی گمراہیوں پر خاموش تائید اختیار نہیں کی۔ آپؑ نے اپنے خطبات اور مناظروں میں بنو امیہ کی اخلاقی مشروعیت کو چیلنج کیا اور اہلِ بیتؑ کے حق کا بھرپور دفاع کیا۔ البتہ آپؑ نے ایسی نئی جنگ کا آغاز نہیں کیا، ایک ایسے معاشرے کے ساتھ جو اس سے پہلے بھی ثابت کر چکا تھا کہ وہ مستقل طور پر امامؑ کی نصرت کے لیے تیار نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ معاویہ کی عہد شکنی امت کے لیے ایک نئی شرعی ذمہ داری کا سبب بن سکتی تھی؛ لیکن امت یہ حق نہیں رکھتی تھی کہ اپنی تمام ذمہ داری امامؑ پر ڈال دے، اور پھر انہی لوگوں کے ساتھ، جنہوں نے پہلے مرحلے میں امامؑ کو تنہا چھوڑ دیا تھا، دوبارہ جنگ شروع کرنے کا مطالبہ کرے۔

الٰہی رہبر اس بات کا پابند نہیں کہ وہ لوگوں کی طرف سے ایمان لے آئے، ان کی جگہ وفاداری کا مظاہرہ کرے، اور معاشرتی شرائط فراہم نہ ہونے کے باوجود، ان کی تمام کوتاہیوں کا بوجھ بھی خود اپنے کندھوں پر اٹھا لے۔

امت کی پہلی ذمہ داری: عہد شکنی کو پہچاننا اور سرکاری پروپیگنڈے کا شکار نہ ہونا

معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد عوام کی پہلی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ حقیقت کو صحیح طور پر پہچانیں، کیونکہ بصیرت کے بغیر کوئی اجتماعی اقدام ممکن نہیں ہوتا۔

اموی حکومت اپنی خلاف ورزیوں کو “امن کا تحفظ”، “فتنے کی روک تھام” اور “امت کے اتحاد کی حفاظت” جیسے خوش نما نعروں کے ذریعے جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتی تھی۔

اسی لیے قرآنِ کریم مسلمانوں کو بغیر تحقیق کسی خبر کو قبول کرنے سے منع کرتا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ﴾

“اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا دو، پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونا پڑے۔”

(سورۂ حجرات: 6)

امت کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ معاویہ کے کردار کا جائزہ سرکاری پروپیگنڈے کی بنیاد پر نہیں، بلکہ معاہدۂ صلح کی شقوں اور قرآن و سنت کے معیار کے مطابق لے۔

شیعوں کا تعاقب اور ان پر ظلم، یزید کے لیے زبردستی بیعت لینا، اور معترضین کو قتل کرنا، یہ سب ایسے واضح شواہد تھے جو معاہدے کی خلاف ورزی اور حکومت کی حقیقی ماہیت میں تبدیلی کو نمایاں کرتے تھے۔

لہٰذا امت کی پہلی شکست میدانِ عمل میں نہیں بلکہ میدانِ فہم و بصیرت میں ہوئی۔ جب لوگوں نے دین کے معیاروں کی بجائے حکومت کی زبان اور اس کے بیانیے کو قبول کر لیا، تو رفتہ رفتہ ان کی یہ صلاحیت ختم ہو گئی کہ وہ عہد شکنی اور حق و باطل میں صحیح امتیاز کر سکیں۔

دوسری ذمہ داری: گناہ اور ظلم میں تعاون سے اجتناب

حق سے انحراف کو پہچان لینے کے بعد دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ انسان اس انحراف کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون نہ کرے۔ قرآنِ کریم فرماتا ہے:

﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾

“نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ نہ دو۔”

(سورۂ مائدہ: 2)

یہ آیت سماجی ذمہ داری کو صرف خود ظلم کرنے تک محدود نہیں رکھتی، بلکہ جھوٹی رپورٹ دینا، ناحق گواہی دینا، ظلم کو دینی رنگ دینا، مالی تعاون فراہم کرنا، یا ایسا منصب قبول کرنا جو ظلم کے نظام کو مضبوط کرے، یہ سب گناہ اور زیادتی میں تعاون کے مصادیق ہیں۔

معاویہ کی حکومت گورنروں، قاضیوں، خطیبوں، شاعروں، قبائلی سرداروں اور فوجی اہلکاروں کے ایک وسیع نیٹ ورک کے بغیر اپنی پالیسیوں کو نافذ نہیں کر سکتی تھی۔ اسی لیے امت کی ذمہ داری کے فقہ کا بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون لوگ تھے جنہوں نے ظلم کے اس نظام کو چلنے کے قابل بنایا۔

کم از کم امت کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ ظلم اور تحریف میں شریک نہ ہو؛ حکومت کے جھوٹ کو نہ دہرائے، بے گناہوں کے خلاف جھوٹی گواہی نہ دے، اور معاویہ کی پالیسیوں کو دینی جواز فراہم نہ کرے۔

تیسری ذمہ داری: ظالموں کی طرف جھکاؤ اور ان پر بھروسا نہ کرنا

قرآنِ حکیم تنبیہ کرتا ہے:

﴿وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ﴾

“اور ظالموں کی طرف مائل نہ ہو جاؤ، ورنہ تمہیں بھی آگ آ پکڑے گی۔”

(سورۂ ہود: 113)

یہاں “رکون” کا مطلب صرف ظالم کے ساتھ رسمی وابستگی اختیار کرنا نہیں، بلکہ اس پر اعتماد کرنا، اس کی طرف عملی میلان رکھنا اور اس پر سہارا لینا بھی ہے۔ بہت سے لوگ ظلم کو پسند نہیں کرتے، لیکن اپنی حیثیت، سلامتی یا ذاتی مفاد کے تحفظ کے لیے ظالمانہ نظام پر انحصار کرتے رہتے ہیں۔

معاویہ کی حکومت کی پائیداری کا ایک بڑا سبب بھی یہی سماجی جھکاؤ تھا۔ معاشرے کے خواص انحراف کو دیکھ رہے تھے، لیکن “امن برقرار رکھنے” اور “فتنے سے بچنے” جیسے نعروں کے ذریعے موجودہ باطل نظام کو مضبوط کرنے میں مدد دیتے رہے۔

چوتھی ذمہ داری: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

امت کی ذمہ داری کے فقہ کی ایک بنیادی اساس امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔

قرآنِ کریم فرماتا ہے:

﴿وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾

“تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو لوگوں کو بھلائی کی دعوت دے، نیکی کا حکم کرے اور برائی سے روکے، یہی لوگ کامیاب ہیں۔”

(سورۂ آلِ عمران: 104)

اور مؤمن مردوں اور عورتوں کے بارے میں فرمایا:

﴿وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ﴾

“مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں ایک دوسرے کے سرپرست ہیں؛ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔”

(سورۂ توبہ: 71)

یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پوری امت کی اجتماعی ذمہ داری ہے، اگرچہ اس کے درجات اور طریقے علم، قدرت، اثر پذیری کے امکان اور بڑے فساد سے بچنے جیسے شرائط کے تابع ہیں۔

معاہدۂ صلح کی خلاف ورزی کے بعد برائی کے مصادیق بالکل واضح تھے؛ شیعوں کا تعاقب، امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی شخصیت کو مجروح کرنا، بیت المال کا ناجائز استعمال، قبائلی سرداروں کو خریدنا، اور یزید کی ولی عہدی کی راہ ہموار کرنا۔

امت کی ذمہ داری تھی کہ ان سب کو منکر سمجھے اور یہ اجازت نہ دے کہ مسلسل تکرار اور حکومتی پروپیگنڈا انہیں ایک معمول اور قابلِ قبول حقیقت بنا دے۔

پانچویں ذمہ داری: مظلوم کا دفاع

منحرف حکومت کے خلاف جدوجہد صرف ایک سیاسی نظریے کے دفاع تک محدود نہیں تھی، بلکہ حقیقی انسان ظلم، قید، جلاوطنی اور قتل کا نشانہ بن رہے تھے۔

قرآنِ کریم اہلِ ایمان کو عدل کے لیے قیام کا حکم دیتا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ﴾

“اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ وہ تمہارے اپنے خلاف ہو یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔”

(سورۂ نساء: 135)

عدل کے لیے قیام صرف حکمران کی ذمہ داری نہیں، بلکہ اس آیت کا خطاب تمام مؤمنین سے ہے۔ معاشرے کو چاہیے کہ اپنی استطاعت کے مطابق مظلوم کا ساتھ دے، حق کو بیان کرے، اور یہ نہ ہونے دے کہ حکومتی پروپیگنڈے کے ذریعے ظلم کا شکار افراد ہی مجرم قرار دے دیے جائیں۔

حجر بن عدیؓ کے واقعے میں، اگرچہ ممکن ہے کہ تمام لوگ براہِ راست ان کی جان نہ بچا سکتے، لیکن علماء، قبائل اور عوام کم از کم یہ تو کر سکتے تھے کہ حق کی گواہی دیتے، اہلِ ایمان کو ظالم حکومت کے حوالے نہ کرتے، اور شہداء و مظلومین کے خاندانوں کو تنہا نہ چھوڑتے۔

چھٹی ذمہ داری: امامِ برحق کی نصرت

شیعہ فکر میں صرف امام کی معرفت کافی نہیں، بلکہ اس کی نصرت بھی اس معرفت کا لازمی تقاضا ہے۔ ولایت صرف قلبی محبت یا نظری اعتقاد کا نام نہیں، بلکہ جب ضرورت پیش آئے تو اس کے ساتھ نصرت، اطاعت اور قربانی بھی شامل ہوتی ہے۔

صلح کے بعد امام حسن مجتبیٰؑ کی نصرت مختلف صورتوں میں انجام پا سکتی تھی؛ مثلاً آپؑ سے فکری اور روحانی تعلق برقرار رکھنا، آپؑ کے موقف کو لوگوں تک پہنچانا، ظلم کا شکار پیروکاروں کی حمایت کرنا، اموی پروپیگنڈے کو قبول نہ کرنا، اور علوی مخالف پالیسیوں کے ساتھ تعاون سے انکار کرنا۔

یہ توقع رکھنا کہ امام تنہا معاویہ کی وسیع حکومت کا مقابلہ کریں جبکہ عوام خود کوئی قربانی نہ دیں، امامت کے فلسفے سے ہم آہنگ نہیں۔ امام امت کے رہبر ہوتے ہیں، امت کے ایمان، ارادے اور عملی ذمہ داری کا متبادل نہیں۔

خواصِ امت کی خصوصی ذمہ داری

اگرچہ معاشرے کے تمام افراد ذمہ دار ہیں، لیکن سب کی ذمہ داری یکساں نہیں ہوتی۔ علماء، قراء، خطباء اور بااثر شخصیات چونکہ عوامی افکار پر اثر انداز ہوتی ہیں، اس لیے ان کی ذمہ داری کہیں زیادہ بھاری تھی؛ کیونکہ ان کا ایک بیان یا ان کی خاموشی بھی معاشرے کی سمت بدل سکتی تھی، بلکہ اسے حکومت کی تائید سمجھا جا سکتا تھا۔

خواص کی بنیادی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ دینی معیاروں کی حفاظت کریں اور عوامی افکار کو تحریف سے بچائیں۔

انہیں واضح کرنا چاہیے تھا کہ حکمران کی اطاعت مطلق نہیں ہوتی، اور وحدت، امن یا فتنہ سے بچنے جیسے کوئی بھی نعرے کتابِ خدا، سنتِ رسول اکرم ﷺ اور لوگوں کے حقوق کو پامال کرنے کا جواز نہیں بن سکتے۔

اسی طرح ان پر لازم تھا کہ وہ معاہدۂ صلح کی شقوں اور ان کی خلاف ورزیوں کو لوگوں کے سامنے زندہ رکھیں، تاکہ حکومت تاریخ کو ازسرِنو نہ لکھ سکے اور اپنی عہد شکنی کو عوامی مصلحت کا نام نہ دے سکے۔

شیعوں اور اصحابِ رسول ﷺ کے خلاف ظلم و ستم کے موقع پر خواص کی ذمہ داری تھی کہ وہ حق کی گواہی دیں، مظلوموں کا دفاع کریں، اور حکومتی پروپیگنڈے کو یہ موقع نہ دیں کہ وہ ان عظیم شخصیات کو امت کی دینی یادداشت سے مٹا دے۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں یزید کی ولی عہدی کے منصوبے کو دینی جواز نہیں دینا چاہیے تھا، کیونکہ یہ اقدام اسلامی حکومت کو ایک ذمہ دار خلافت سے موروثی بادشاہت میں تبدیل کر رہا تھا۔

خواص کی خاموشی ہمیشہ غیر جانبداری نہیں ہوتی؛ بسا اوقات معاشرہ ان کی خاموشی سے یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ کوئی انحراف واقع ہی نہیں ہوا، اور یہی خاموشی غیر ارادی طور پر باطل نظام کی مشروعیت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

البتہ حقیقی بے بسی اور اپنے منصب، مال یا جان کے تحفظ کی خاطر حق کو چھپانے کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ خوف قابلِ فہم ہو سکتا ہے، لیکن خوف کو ظلم کے جواز کے لیے دائمی نظریہ بنا لینا دینی ذمہ داری سے فرار ہے۔

حکومتی کارندوں اور اہلکاروں کی ذمہ داری

حکومتی اہلکار اپنی اخلاقی ذمہ داری کو اعلیٰ حکام کے احکامات کی آڑ میں چھپا نہیں سکتے تھے اور یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ ہم تو صرف حکم کی تعمیل کر رہے تھے۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔ کوئی بھی سرکاری حکم ظلم، جھوٹی گواہی، بے گناہ کے قتل یا عوام کے حقوق کی پامالی کو جائز نہیں بنا سکتا۔

گورنر، قاضی، سرکاری اہلکار، خطیب اور جھوٹے گواہ، ہر ایک اپنے کردار کے مطابق ظلم کے نظام میں شریک اور اس کے ذمہ دار تھے۔ اپنے جرم کو صرف حکمران کے سر ڈال دینا ان کی ذاتی ذمہ داری کو ختم نہیں کرتا۔

حکومتی ظلم عموماً فیصلے، جواز، عدالتی حکم، عملی نفاذ، پروپیگنڈے اور خاموشی کی ایک پوری زنجیر سے وجود میں آتا ہے۔ اگر اس زنجیر کی ایک بھی کڑی ظلم کا ساتھ دینے سے انکار کر دے تو ظلم کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔

لہٰذا ظالم حکومت کا دوام صرف حکمران کے حکم پر موقوف نہیں ہوتا، بلکہ ان لوگوں پر بھی منحصر ہوتا ہے جو اپنی ذاتی ذمہ داری سے انکار کر کے خود کو اقتدار کا بے اختیار آلہ سمجھنے لگتے ہیں۔

عام لوگوں کی ذمہ داری؛ کیا بے بسی تمام ذمہ داریوں کو ختم کر دیتی ہے؟

عام لوگوں کی طاقت علماء، فوجی کمانڈروں اور قبائلی سرداروں جیسی نہیں تھی، اور شریعت بھی کسی کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتی۔

قرآنِ کریم فرماتا ہے:

﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾

“اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتا۔”

(سورۂ بقرہ: 286)

لیکن طاقت کی کمی تمام ذمہ داریوں کو ختم نہیں کر دیتی۔ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق اپنے گھر اور معاشرے میں حق کو زندہ رکھ سکتا تھا، حکومت کے جھوٹ کو نہ پھیلاتا، مظلوم کی توہین نہ کرتا، مخبری اور جھوٹی گواہی سے بچتا، قیدیوں اور شہداء کے خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کرتا، اور اہلِ بیتؑ کی محبت کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرتا۔

دل سے برائی کو برا جاننا، نہی عن المنکر کا سب سے نچلا درجہ ہے، نہ کہ تمام مراتب کا متبادل۔ جو شخص زبان یا عمل سے حق کا اظہار کرنے کی قدرت رکھتا ہو، وہ صرف دل میں نفرت رکھنے پر اکتفا نہیں کر سکتا۔ البتہ جو واقعی بے بس ہو، کم از کم اسے ظلم پر راضی نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اس میں شریک ہونا چاہیے۔

معاویہ کے دور میں معاشرے کے ایک بڑے حصے کا مسئلہ صرف بے بسی نہیں تھا، بلکہ موجودہ حالات کا عادی ہو جانا اور دینی ذمہ داری پر اپنی ذاتی سلامتی اور مفاد کو ترجیح دینا تھا۔

یہیں سے عافیت پسندی، انسانی کمزوری سے بڑھ کر دینی ذمہ داری ترک کرنے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

کیا امت نے اپنی ذمہ داری ادا کی؟

اس سوال کا جواب یکساں نہیں دیا جا سکتا۔

تمام لوگ خاموش نہیں تھے۔ حجر بن عدیؓ، عمرو بن حمقؓ اور دیگر بہت سے مخلص شیعہ اپنے موقف پر ثابت قدم رہے اور جان، قید، جلاوطنی اور دربدری کی قیمت ادا کی۔ ایسے سخت حالات میں اہلِ بیتؑ کی محبت اور ان کی پیروی پر قائم رہنا امت کے ایک حصے کی استقامت کی روشن دلیل تھا۔

لیکن مجموعی طور پر معاشرے کا ردِّ عمل انحراف کی شدت کے متناسب نہ تھا۔ معاہدے کی خلاف ورزیاں مسلسل ہوتی رہیں، احتجاج کرنے والے شیعہ اکثر تنہا چھوڑ دیے گئے، یزید کی ولی عہدی کا منصوبہ کامیاب ہو گیا، اور وحدت، فتنہ سے اجتناب اور حکمران کی اطاعت جیسے مقدس تصورات ظلم کے خلاف آواز دبانے کے لیے استعمال ہونے لگے۔

اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ پوری امت اپنی ذمہ داری سے غافل تھی، لیکن مجموعی طور پر اس نے اپنا تاریخی فریضہ ادا نہیں کیا۔ ایک اقلیت نے مزاحمت کی، جبکہ اکثریت خوف، مصلحت اندیشی، دنیا طلبی، فکری الجھن اور عافیت پسندی کا شکار ہو گئی۔

امام حسنؑ نے لوگوں کی طرف سے قیام کیوں نہیں کیا؟ 

یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اگر لوگ اپنی ذمہ داری پوری نہ کر سکے تو کیا امام حسنؑ اپنے قلیل وفادار ساتھیوں کے ساتھ قیام کر کے اس کمی کو پورا نہیں کر سکتے تھے؟

یہ سوال دو پہلوؤں سے قابلِ غور ہے۔

پہلا یہ کہ امام اس بات کے پابند نہیں کہ جب لوگ اپنی ذمہ داری ترک کر دیں تو وہ نتائج کی پروا کیے بغیر اپنی اور اپنے مخلص ساتھیوں کی جان ایک ایسی جدوجہد میں قربان کر دیں جس کا کوئی مثبت نتیجہ متوقع نہ ہو۔ اسلام میں شہادت بذاتِ خود مستقل مقصد نہیں، بلکہ اس وقت عظیم حکمت رکھتی ہے جب وہ دین کی حفاظت، حجت کے اتمام اور امت کی بیداری کا ذریعہ بنے۔

معاویہ کا دور یزید کے دور جیسا نہیں تھا۔ معاویہ سیاسی تجربے، دینی ظاہرداری، مضبوط تبلیغاتی نظام اور عوامی افکار پر اثر انداز ہونے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ امامؑ کی محدود تحریک کو معاہدہ شکنی، مسلمانوں کے اتحاد کے خلاف بغاوت یا دوبارہ خانہ جنگی شروع کرنے کی کوشش قرار دے سکتا تھا۔

دوسرا یہ کہ کم از کم سماجی آمادگی کے بغیر امام کا قیام دوبارہ اسی مسئلے کو جنم دیتا جس کے نتیجے میں صلح ہوئی تھی۔ جن لوگوں نے پہلے امامؑ کا ساتھ چھوڑ دیا تھا، وہ صرف معاویہ کی عہد شکنی کی وجہ سے اچانک وفادار سپاہی نہیں بن گئے تھے۔

امامؑ کو صرف اپنے قیام کے حق ہونے ہی کو نہیں، بلکہ اس کے مقاصد کے عملی طور پر پورا ہونے کی حقیقی صلاحیت کو بھی مدنظر رکھنا تھا۔ امامت کی حکمت کا تقاضا یہی تھا کہ احتجاج اور جنگ، حقائق کو آشکار کرنے اور مسلح اقدام، اور حجت کو محفوظ رکھنے اور مؤمنوں کی قوت کو ضائع کر دینے کے درمیان فرق کیا جائے۔

لہٰذا معاویہ کی مسلسل عہد شکنی کے باوجود امام حسنؑ کا مسلح قیام نہ کرنا ہرگز ان خلاف ورزیوں کی تائید نہیں تھا، بلکہ اس حقیقت کا اظہار تھا کہ معاشرہ ابھی اس قابل نہیں ہوا تھا کہ حق کے احتجاج کو ایک مؤثر انقلابی تحریک میں بدل سکے

صلح کی شکست یا امت کی شکست؟

گزشتہ بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ معاہدۂ صلح کی خلاف ورزی امام حسنؑ کی حکمتِ عملی کی ناکامی نہیں تھی۔ اگر امامؑ کا مقصد یہ ہوتا کہ معاویہ کو ایک وفادار اور عہد شناس انسان بنا دیں، تو یقیناً کہا جا سکتا تھا کہ صلح ناکام ہو گئی، لیکن ایسا ہرگز نہیں تھا۔

صلح کے متعدد اہم مقاصد تھے:

* مؤمنین کے محاذ کو فوری تباہی سے بچانا؛

* عراق کے لشکر اور معاشرے کی حقیقی کیفیت کو آشکار کرنا؛

* معاویہ پر واضح شرائط اور ذمہ داریاں عائد کرنا؛

* اس کے آئندہ طرزِ عمل کو جانچنے کا معیار فراہم کرنا؛

* اموی پروپیگنڈے سے جنگ پسندی کا بہانہ چھین لینا؛

* اور معاہدہ شکنی کے بعد امت کی ذمہ داری کو واضح کر دینا۔

معاویہ نے معاہدہ توڑ کر صلح کو ناکام نہیں بنایا، بلکہ خود اپنی حقیقت کو بے نقاب کر دیا۔ اس نے ثابت کر دیا کہ اس کے نزدیک معاہدے کی کوئی ذاتی حرمت نہیں، بلکہ وہ صرف اس وقت تک قابلِ احترام ہے جب تک اقتدار کے حصول اور استحکام میں معاون ہو۔

اصل ناکامی امت کی تھی، جو اس حقیقت کے آشکار ہو جانے کے باوجود اس سے صحیح فائدہ نہ اٹھا سکی۔ بہت سے لوگوں نے حقیقت کو پہچان لیا، مگر اسے عملی اقدام میں تبدیل نہ کر سکے۔

لہٰذا دو باتوں میں فرق کرنا ضروری ہے: عملی اعتبار سے معاہدہ ضرور توڑا گیا، لیکن حجت تمام کرنے اور حکومت کی حقیقی ماہیت کو آشکار کرنے کے اعتبار سے صلح اپنے مقصد میں کامیاب رہی۔

اصل شکست اس وقت ہوئی جب امت کے ایک بڑے حصے نے، حق پوری طرح واضح ہو جانے کے بعد بھی، اپنی شرعی اور تاریخی ذمہ داری ادا نہ کی۔

خلاصہ

امت کی ذمہ داری کا فقہ یہ بتاتا ہے کہ امام حسن مجتبیٰؑ کی صلح کے بعد معاویہ کی عہد شکنی، ظلم اور حکومت کو موروثی بادشاہت میں تبدیل کرنے کے منصوبے کے مقابلے میں امت، خصوصاً علماء، دینی رہنماؤں اور قبائلی سرداروں کی ذمہ داری نہایت سنگین تھی۔

اگرچہ حجر بن عدیؓ جیسے باوفا افراد نے ثابت قدمی اور قربانی کی روشن مثالیں قائم کیں، لیکن معاشرے کی اکثریت قربانی دینے کے لیے تیار نہ تھی، اس لیے وہ اپنی دینی اور تاریخی ذمہ داری پوری نہ کر سکی۔

اسی بنا پر امام حسن مجتبیٰؑ کی صلح کو امامؑ کی شکست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ امامؑ نے معاشرے کی حقیقی صورتِ حال کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا، مؤمنین کے خون کی حفاظت کی، معاویہ پر واضح شرائط عائد کیں، اور امت پر حجت تمام کر دی۔

اصل شکست اس معاشرے کی تھی جس کے ایک بڑے حصے نے حق کو پہچان لیا، مگر اس کے دفاع میں قربانی دینے کی آمادگی پیدا نہ کر سکا۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔