موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 30

Topic of the Week - Volume 03 Issue 30
Last Updated: جولائی 23, 2026By Categories: موضوعِ ہفتہ0 Comments on موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 300 min readViews: 3

صلحِ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور امت کی ذمہ داری کا فقہی تصور

حصہ اوّل: صلحامام کی ذمہ داری کا اختتام یا امت کے امتحان کا آغاز؟

سید ہاشم موسوی

مقدمہ

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی صلح کا تجزیہ کرتے ہوئے عموماً تمام نگاہیں امام ہی کی طرف اٹھتی ہیں اور سوالات بھی اکثر یوں شروع ہوتے ہیں: امام حسن علیہ السلام نے صلح کیوں کی؟ جنگ جاری کیوں نہ رکھی؟ معاویہ کی عہد شکنی کے مقابلے میں قیام کیوں نہ فرمایا؟ کیا امام نہیں جانتے تھے کہ معاویہ اپنے عہد کا وفادار نہیں رہے گا؟

یہ سوالات اپنی اہمیت کے باوجود پوری حقیقت کا احاطہ نہیں کرتے؛ کیونکہ گویا ابتدا ہی سے یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ اسلامی معاشرے میں صرف امام ذمہ دار ہے اور لوگ محض اس کے فیصلوں اور اقدامات کے تماشائی ہیں۔ اس نقطۂ نظر میں امام ہی کو لشکر مہیا کرنا، معاشرے کی رہنمائی کرنا، دشمن کے مقابل کھڑا ہونا، جدوجہد کی قیمت ادا کرنا اور حتیٰ لوگوں کی کمزوری، تردّد، دنیا طلبی اور عہد شکنی کا ازالہ بھی کرنا ہوتا ہے؛ مگر امت کی ذمہ داری کے بارے میں بہت کم سوال کیا جاتا ہے۔

حالاں کہ قرآن و سنت کی رو سے اجتماعی ذمہ داری صرف الٰہی رہبر کے کندھوں پر نہیں ہوتی۔ امام راستہ دکھاتا ہے، حجت تمام کرتا ہے، حق کو باطل سے جدا کرتا ہے اور معاشرے کی حقیقی صلاحیتوں اور مصالح کے مطابق فیصلہ کرتا ہے؛ لیکن اس کے بعد لوگوں کو بھی نصرتِ حق، وفائے عہد، ظلم کے مقابلے اور برحق پیشوا کی حمایت کے میدان میں اپنے ایمان کو ثابت کرنا ہوتا ہے۔

لہٰذا شاید صلحِ امام حسن علیہ السلام کے بارے میں بنیادی سوال یہ نہ ہو کہ ’’امام نے صلح کیوں کی؟‘‘ بلکہ سوال یہ ہونا چاہیے: جب امام نے ایک واضح معاہدہ کیا اور معاویہ نے اس کی دفعات کو یکے بعد دیگرے پامال کر دیا، تو اسلامی معاشرے کی ذمہ داری کیا تھی اور اس نے اس ذمہ داری پر کس حد تک عمل کیا؟

زاویۂ نگاہ کی یہ تبدیلی ہمیں امام کے فیصلے پر محض ایک تاریخی بحث سے نکال کر ایک وسیع تر دائرے، یعنی ’’فقہِ ذمہ داریِ امت‘‘ میں داخل کرتی ہے؛ ایسی فقہ جس کا موضوع برحق امام، منحرف حکومت، حکمرانوں کی عہد شکنی، سیاسی ظلم، دین کی تحریف اور اسلامی معاشرے کے عمومی مصالح کو لاحق خطرات کے مقابلے میں لوگوں کے فرائض ہیں۔

اس مسئلے میں داخل ہونے سے پہلے ایک بنیادی شبہے کو دور کرنا ضروری ہے: کیا امام حسن علیہ السلام کی صلح، کمزوری، خوف، مصلحت پرستانہ سازش یا سیاسی شناخت کے فقدان کا نتیجہ ہو سکتی تھی؟ اگر جواب منفی ہے، تو امام کی شخصیت اور تاریخی شواہدسے منطقِ صلح کے بارے میں کون سی حقیقت آشکار ہوتی ہے؟

کیا امام حسن علیہ السلام کی صلح کمزوری یا سادہ لوحی کا نتیجہ تھی؟

سطحی تجزیوں میں کبھی امام حسن علیہ السلام کی صلح کو امام حسین علیہ السلام کے قیام کے بالمقابل رکھا جاتا ہے اور ایک کو مصالحت کی علامت اور دوسرے کو مقاومت کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ یہ تقابل بنیادی طور پر غلط ہے؛ کیونکہ دونوں معصوم اماموں نے دو متضاد راستے اختیار نہیں کیے، بلکہ دو مختلف حالات میں ایک مشترک مقصد کی پیروی کی: اسلام کی حقیقت کی حفاظت اور دینی مقام پر انحراف کے مکمل تسلط کو روکنا۔

امام حسن علیہ السلام کی صلح کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس صلح کا فیصلہ کرنے والی شخصیت کون تھی۔ کیا وہ کم تجربہ، سیاست سے الگ تھلگ، دشمن سے ناواقف یا مقابلے سے گریزاں شخص تھا؟ یا وہ ایسی شخصیت تھی جس میں بچپن ہی سے عقل، علم، شجاعت اور ولایت کے دفاع کی نشانیاں ظاہر تھیں؟

خاندانِ رسالت میں مجسّم عقل

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سے منسوب ایک روایت میں آیا ہے:

«لَوْ كَانَ الْعَقْلُ رَجُلًا لَكَانَ الْحَسَنَ»

’’اگر عقل انسانی قالب میں مجسّم ہوتی تو حسن ہوتے۔‘‘  

(حمویی جوینی، ابراہیم بن محمد، فرائد السمطین، ج ۲، ص ۶۸)

یہ تعبیر صرف امام کی معمولی ذہانت کی ستائش نہیں ہے۔ اسلامی ثقافت میں عقل محض مادی نفع و نقصان کا حساب لگانے کی قوت نہیں؛ بلکہ حق کی تشخیص، مصالح کی پہچان، نتائج کی پیش بینی اور دشوار امکانات میں بہترین راستے کے انتخاب کی قوت ہے۔ سیاسی عقلانیت کبھی حملے اور پیش قدمی میں ظاہر ہوتی ہے اور کبھی ایسی جنگ روک دینے میں، جس کا تسلسل حق کی قوتوں کی نابودی اور دشمن کے پروپیگنڈے کے استحکام کے سوا کوئی نتیجہ نہ رکھتا ہو۔

اس بنا پر، اگر امام حسن علیہ السلام کو عقل کا مظہر قرار دیا گیا ہے، تو ان کی صلح کو منفعلانہ اقدام یا ناآگاہی سے پیدا ہونے والا فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ امام معاویہ کی حقیقت سے بے خبر تھے؛ بلکہ ممکن ہے کہ وہ معاویہ، لشکرِ شام، عراق کے متزلزل خواص اور اپنے معاشرے کی حقیقی صلاحیت کو سب سے بہتر جانتے تھے۔

بچپن ہی سے حکمت

ابن شہرآشوب نقل کرتے ہیں کہ امام علی علیہ السلام نے امام حسن علیہ السلام کی ابو سفیان سے گفتگو سننے کے بعد، جب آپ کی عمر صرف چار سال تھی، فرمایا: میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے خاندانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ میں ایسی ہستی قرار دی جو یحییٰ بن زکریا کی مانند بچپن ہی میں حکمت سے بہرہ مند ہوئی:

«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي آلِ مُحَمَّدٍ مِنْ ذُرِّيَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى نَظِيرَ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا ﴿وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا﴾»

(ابن شہرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب علیہم السلام، ج ۳، ص ۱۷۳)

یہ روایت بتاتی ہے کہ امام حسن علیہ السلام کی فہم و بصیرت ایسی چیز نہ تھی جو اچانک دورِ خلافت میں پیدا ہوئی ہو۔ آپ ابتدا ہی سے وحی، امامت اور اسلامی سیاست کے ماحول میں پروان چڑھے؛ عہدِ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کو پایا، آپ کی رحلت کے بعد کے واقعات دیکھے، امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خانہ نشینی کے سالوں کا تجربہ کیا اور اپنے والد کے دورِ خلافت میں اسلامی معاشرے کے اہم ترین سیاسی و عسکری بحرانوں کے عین درمیان موجود رہے۔

لہٰذا معاویہ کے ساتھ صلح کسی ایسے شخص کا فیصلہ نہیں تھا جو پہلی بار اقتدار اور سیاست کی پیچیدگیوں سے روبرو ہوا ہو۔

کیا امام حسن علیہ السلام دفاعِ ولایت میں سستی یا پسپائی اختیار کرلی تھی؟

کہا جا سکتا ہے کہ عقل و حکمت کا حامل ہونا لازماً دفاعِ حق میں شجاعت کے مترادف نہیں۔ اس لئے  یہ دیکھنا ضروری ہے کہ حساس مواقع پر امام حسن علیہ السلام ولایت اور حریمِ اسلام کا دفاع کس طرح کرتے تھے۔

بچپن میں مقامِ امیرالمؤمنین علیہ السلام کا دفاع

بلاذری نے انساب الاشراف میں عروہ سے نقل کیا ہے کہ ایک دن ابوبکر منبر پر خطبہ دے رہے تھے۔ امام حسن علیہ السلام، جو اس وقت کم سن تھے، آگے بڑھے اور فرمایا:   اِنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِ أَبِي؛ ’’میرے والد کے منبر سے نیچے اتر جاؤ۔‘‘

جب اس عمل کو امام علی علیہ السلام کی ترغیب سے منسوب کیا گیا تو آپ نے فرمایا: لَيْسَ هَذَا مِنْ مَلَإٍمِنَّا؛ ’’یہ کام ہمارے حکم سے نہیں ہوا۔‘‘  (بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج ۳، ص ۲۶)

اس گزارش کے گرد تاریخی و کلامی گفتگو سے قطع نظر، جو حقیقت واضح طور پر سامنے آتی ہے وہ مقامِ ولایت اور میراثِ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے بارے میں امام حسن علیہ السلام کی حساسیت ہے۔ جو بچہ کسی کی ترغیب اور حکم کے بغیر اس وضاحت سے اپنے والد کے حق کا دفاع کرے، وہ جوانی میں غصبِ حق اور سیاسی انحراف کے مقابلے میں لاپرواہی نہیں کر سکتا۔

معاویہ اور اس کے کارندوں سے دوٹوک مقابلہ

صلح کے انعقاد کے بعد بھی امام حسن علیہ السلام نے کبھی حق بیان کرنا ترک نہیں کیا۔ صلح کا مطلب معاویہ کی دینی مشروعیت قبول کرنا، تحریفات کے مقابل خاموشی اختیار کرنا یا بنی امیہ کے ماضی کو بے نقاب کرنے سے گریز کرنا نہ تھا۔ معاویہ، عمرو بن عاص، مروان بن حکم، ولید بن عقبہ، مغیرہ بن شعبہ اور عتبہ بن ابی سفیان جیسے افراد کے ساتھ آپ کے مناظرے بتاتے ہیں کہ امام پوری صراحت سے اہل بیت علیہم السلام کے مقام کا دفاع کرتے اور مخالفین کا سابقہ ان کے سامنے رکھتے تھے۔

احتجاجی روایات میں دشمنوں نے باہمی ہم آہنگ اور پہلے سے تیار شدہ گفتگو کے ذریعے مجلسِ معاویہ میں امام پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی؛ لیکن آپ ہر ایک کو اس کے مناسب جواب دیتے، دفاعی حالت سے نکل آتے اور ان کی اخلاقی، دینی اور تاریخی مشروعیت کو مشق کر دیتے تھے۔ (طبرسی، فضل بن حسن، الاحتجاج علی اہل اللجاج، ج ۱، ص ۲۸۸)

لہٰذا امام کی صلح کو باطل کے سامنے خاموشی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ آپ نے مخصوص حالات میں عسکری جنگ روک دی، مگر اعتقادی، ثقافتی اور سیاسی جدوجہد جاری رکھی۔ جدوجہد کے ایک طریقے کو روکنا، اصلِ مقاومت سے دست بردار ہونے کے معنی میں نہیں ہے۔

باطل سے سمجھوتے اور میدانِ جدوجہد کی تدبیر میں فرق

دینی منطق میں شجاعت کا مطلب ہمیشہ تلوار کھینچنا نہیں ہوتا۔بلکہ کبھی ایسے حالات میں جنگ کرنا، جب لشکر اندر سے ٹوٹ چکا ہو اور سپہ سالار خریدے جا چکے ہوں، شجاعت نہیں بلکہ مؤمنوں کی جان اور تحریکِ حق کے مستقبل کو نابودی کے خطرے میں ڈالنا ہے۔

اسی طرح صلح بھی ہمیشہ خوف کی علامت نہیں ہوتی۔ ممکن ہے کسی معاہدے کو قبول کرنا، حق کی قوتوں کے تحفظ، دشمن کے انکشاف اور جدوجہد کو ناموزوں میدان سے زیادہ مؤثر میدان میں منتقل کرنے کا ذریعہ ہو۔

امام حسن علیہ السلام نہ معاویہ سے خوف زدہ تھے اور نہ اس کے بارے میں کسی خوش فہمی کا شکار۔ آپ نے ’’اصلِ مقاومت‘‘ اور ’’شکلِ مقاومت‘‘ میں فرق کیا۔ اموی انحراف کا مقابلہ اپنی جگہ باقی رہا؛ لیکن اس کی صورت، سماجی پشت پناہی سے محروم جنگ سے بدل کر ایسی سیاسی و تاریخی محاذ آرائی بن گئی جس میں معاویہ امت کے سامنے واضح عہد قبول کرنے پر مجبور ہوا اور پھر ان عہدوں کو توڑ کر اپنی حقیقی ماہیت آشکار کر گیا۔

کیا امام حسن علیہ السلام بقدرِ کافی سیاسی تجربے سے بہرہ مند تھے؟

غلط تجزیوں کے پس منظر میں ایک اور غیرمنصفانہ شبہ یہ ہے کہ امام حسن علیہ السلام زیادہ تر اخلاقی و عبادی شخصیت تھے اور سیاسی بحرانوں کی تدبیر کا کافی تجربہ نہیں رکھتے تھے۔جبکہ اگرآپ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے دورِ حکومت میں امام علیہ السلام کی سیرت کا مطالعہ کریں تو یقینا  اس تصور کوسرے سے رد کردیں گے۔

واقعۂ حکمیت کی حقیقت کا واضح کرنا

واقعۂ حکمیت، دورِ خلافتِ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے پیچیدہ ترین بحرانوں میں سےایک  تھا۔ اہلِ کوفہ کے ایک گروہ نے امام کی رائے کے برخلاف ابو موسیٰ اشعری کے انتخاب پر اصرار کیا، اور جب حکمیت کا نقصان دہ نتیجہ ظاہر ہوا تو اپنی انتخابی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے معاشرے کو مزید اضطراب میں مبتلا کر دیا۔

ایسے موقع پر امیرالمؤمنین علیہ السلام نے امام حسن علیہ السلام سے فرمایا کہ جاؤ ابو موسیٰ اشعری اور عمرو بن عاص کے بارے میں  لوگوں کو  آگاہ   کرو  اور اس معاملے کی حقیقت لوگوں کے سامنے واضح کرو۔

امام حسن علیہ السلام نے حمد و ثنائے الٰہی کے بعد فرمایا کہ ان دونوں کو قرآن کے مطابق، نہ کہ خواہشِ نفس کے مطابق، فیصلہ کرنے کا مأمور کیا گیا تھا؛ مگر جب انہوں نے خواہشِ نفس کو قرآن پر مقدم کیا، تو وہ اب ’’حاکم‘‘ نہیں رہے بلکہ خود خطا اور انحراف کے ’’محکوم‘‘ بن گئے۔

پھر آپ نے عبد اللہ بن عمر کو خلافت کے لئے  پیش کرنے میں ابو موسیٰ کی خطا پر کئی جہتوں سے تنقید کی: عمر بن خطاب نے اسے خلافت کے لئے  مناسب نہیں سمجھا اور چھ رکنی شورا میں شامل نہ کیا تھا؛ خود عبد اللہ حکومت کا خواہاں نہ تھا؛ اور مہاجرین و انصار بھی اس کی امارت پر متفق نہ تھے۔

اس کے بعد امام نے واقعۂ بنی قریظہ میں سعد بن معاذ کے فیصلے سے استدلال کرتے ہوئے، اصلِ حکمیت و داوری کو ابو موسیٰ اور عمرو بن عاص کی بدعنوانی سے الگ کیا۔ یوں آپ نے نہ جلد بازی میں اصلِ حکمیت کا انکار کیا اور نہ ان نام نہاد منصفوں کی خیانت کا جواز پیش کیا؛ بلکہ ایک دقیق تفکیک کے ذریعے اصلِ فیصلے کی مشروعیت کو قبول فرمایا مگراور اس کے مصداق میں انحراف کو واضح طور پر بیان بھی فرمایا۔

 (قرشی، باقر شریف، حیاۃ الامام الحسن علیہ السلام، ج ۱، ص ۴۷۹)

یہ گفتگو کئی اعتبار سے اہم ہے:

اوّل یہ کہ امام حسن علیہ السلام نے ایک نہایت پیچیدہ سیاسی تنازعے میں حکمیت کے قانونی اصول اور حَکَموں کے غلط عمل میں تفریق کی۔

دوم یہ کہ آپ نے اپنی سیاسی دلیل قرآن، سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ، تاریخی سابقے اور عمومی انتخاب کی منطق پر قائم فرمائی۔

سوم یہ کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے عوامی وضاحت کے محتاج بحران میں اپنے فرزند(امام حسن) کو حکومت کے موقف کی وضاحت کرنے والے کے طور پر معاشرے کے سامنے پیش کیا۔

لہٰذا امام حسن علیہ السلام اپنی خلافت سے پہلے کوئی گوشہ نشین شخصیت نہ تھے، بلکہ علوی حکومت کے نمایاں ترجمان اور محافظ کے طور پر سر گرم عمل رہتے تھے۔

امامتِ جمعہ؛ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے علمی و سیاسی اعتماد کی علامت

ابتدائی اسلامی معاشرے میں نمازِ جمعہ محض فردی عبادت یا رسمی عمل نہ تھی۔ خطبۂ جمعہ دینی، سیاسی اور اجتماعی مسائل کی تشریح کے لئے  حکومت کا سب سے اہم رسمی منبر تھا۔ بالخصوص مرکزِ خلافت میں امامتِ جمعہ دینی علم، سیاسی تجزیے کی قوت، سماجی نفوذ اور عمومی اعتبار کا تقاضا کرتی تھی۔

مسعودی کی روایت کے مطابق، جب بھی امیرالمؤمنین علیہ السلام بیماری یا کسی عذر کے سبب کوفہ کی نمازِ جمعہ قائم نہ کر سکتے، امام حسن علیہ السلام کو اس ذمہ داری پر مقرر فرماتے۔(مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب، ج ۱، ص ۳۴۵)

یہ انتخاب ظاہر کرتا ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی نظر میں آپ حکومت کی علمی و سیاسی نمائندگی کی اہلیت رکھتے تھے۔ جو شخص علوی حکومت کے دارالحکومت میں خطبۂ جمعہ دیتا ہو، نہ معاشرے کے لئے  اجنبی ہوتا ہے اور نہ عمومی نظم و نسق کی پیچیدگیوں سے دور۔

آپ سے منسوب ایک خطبے میں آیا ہے: ’’خدا نے کسی نبی کو مبعوث نہیں کیا مگر یہ کہ اس کے بعد جانشین، خاندان یا ایک جماعت مقرر کی۔ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کو نبوت کے لئے  چنا، جو شخص ہم اہل بیت کے حق میں کوتاہی کرے گا خدا اس کے عمل کو ناقص کر دے گا؛ اور ہمارے خلاف کوئی حکومت قائم نہیں ہو گی مگر یہ کہ سرانجام غلبہ ہمارا ہو گا۔‘‘

یہ کلام بتاتا ہے کہ امام حسن علیہ السلام معاشرے کے سیاسی نزاع کو محض اشخاص کے درمیان رقابت نہیں سمجھتے تھے؛ بلکہ اسے امامت، جانشینیِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ اور اہل بیت علیہم السلام کے مقابل امت کی ذمہ داری کے تناظر میں دیکھتے تھے۔

شہادتِ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے بعد جن لوگوں نے امام حسن علیہ السلام کی بیعت کی، وہ کسی ناشناختہ شخصیت سے روبرو نہ تھے۔ انہوں نے آپ کا علم، خطابت، سیاسی تدبیر، عسکری حضور اور علوی حکومت کا دوٹوک دفاع دیکھا تھا۔ لہٰذا امام کی حمایت میں معاشرے کی کمزوری کو ان کے مقام سے مکمل ناواقفیت کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اگر امام معاویہ کو پہچانتے تھے تو اس سے معاہدہ کیوں کیا؟

اب ایک زیادہ اہم سوال سامنے آتا ہے: اگر امام حسن علیہ السلام ایسی عقل، علم، تجربہ اور بصیرت رکھتے تھے اور معاویہ کی حقیقت سے بھی واقف تھے، تو پھر اس شخص سے معاہدہ کیوں کیا جس کی عہد شکنی کا قوی امکان پایا جاتا تھا؟

 اس کے جواب  کو سمجھنے کے لئے  پہلے دشمن کے ساتھ معاہدے کے اصل کے بارے میں قرآن کا نقطۂ نظر دیکھنا ہوگا۔

قرآن اور وفائے عہد کا اصول

قرآن کریم وفائے عہد کو ایمان کی اہم ترین نشانیوں میں شمار کرتا ہے:

«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ»

’’اے ایمان والو! معاہدوں کو پورا کرو۔‘‘  (المائدہ: 1)

اور فرماتا ہے:

«وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا»

’’اور عہد کو پورا کرو، بے شک عہد کے بارے میں بازپرس ہوگی۔‘‘  (الاسراء: ۳۴)

یہ احکام صرف مؤمنوں کے باہمی معاہدوں تک محدود نہیں۔ مشرکین سے متعلق آیات میں بھی قرآن مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ جب تک دوسرا فریق اپنے عہد پر قائم رہے، وہ بھی وفادار رہیں:

«إِلَّا الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوكُمْ شَيْئًا وَلَمْ يُظَاهِرُوا عَلَيْكُمْ أَحَدًا فَأَتِمُّوا إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلَى مُدَّتِهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ»

’’مگر مشرکین میں سے وہ لوگ جن سے تم نے معاہدہ کیا، پھر انہوں نے تمہارے حق میں کسی چیز کی کمی نہ کی اور تمہارے خلاف کسی کی مدد نہ کی؛ تو ان کا معاہدہ اس کی مدت تک پورا کرو، بے شک اللہ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔‘‘ (التوبہ: ۴)

یہ آیت مشرکین کے مقابلے میں بھی وفائے عہد کو تقویٰ کا حصہ قرار دیتی ہے۔ لہٰذا دشمن کی ممکنہ عہد شکنی کا علم بذاتِ خود معاہدے کے اصل کو نامشروع یا بے فائدہ نہیں بناتا۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے بھی مشرک اور یہودی گروہوں سے معاہدے کئے، باوجود اس کے کہ ان کی دشمنی، رقابت اور عہد شکنی کے احتمال سے آگاہ تھے۔ صلحِ حدیبیہ اس کی روشن ترین مثال ہے۔ اصلِ معاہدہ خون ریزی روکنے، اسلامی معاشرے کے تحفظ، متجاوز فریق کے انکشاف، تبلیغی فرصت پیدا کرنے یا فریقین کی ذمہ داریاں متعین کرنے کے لئے  ضروری ہو تا ہے۔

معاہدے میں سادہ لوحی کے بارے میں قرآن کی تنبیہ

وفائے عہد کے حکم کے ساتھ ساتھ قرآن مسلمانوں کو بدعہد دشمنوں کے بارے میں سادہ لوحانہ خوش فہمی سے بارہا خبردار بھی کرتا ہے۔ مشرکین کے ایک گروہ کے بارے میں فرماتا ہے:

«كَيْفَ وَإِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً»

’’ ان پرکیسے اعتماد کیا جائے، جب کہ اگر وہ تم پر غالب آ جائیں تو تمہارے بارے میں نہ قرابت کا لحاظ کریں اور نہ عہد کا؟‘‘ (التوبہ: ۸)

پھر فرماتا ہے:

«لَا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُونَ»

’’وہ کسی مؤمن کے بارے میں نہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی عہد کا، اور یہی لوگ تجاوز کرنے والے ہیں۔‘‘  (التوبہ: ۱۰)

اور عہد شکنی اور دین پر حملے کی صورت میں مقابلے کا حکم دیتا ہے:

«وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُونَ»

’’اور اگر وہ عہد کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین پر طعن کریں تو کفر کے پیشواؤں سے مقابلہ کرو؛ کیونکہ ان کی قسموں اور عہدوں کی کوئی حرمت نہیں، شاید وہ باز آ جائیں۔‘‘  (التوبہ: ۱۲)

«لَا أَيْمَانَ لَهُمْ» کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمانوں کو کبھی ایسے دشمنوں سے معاہدہ نہیں کرنا چاہیے؛ بلکہ یہ تنبیہ ہے کہ اسلامی معاشرے کی سلامتی اور مستقبل کو بغیر تیاری اور نگرانی کے ان کے زبانی وعدوں پر قائم نہ کیا جائے۔

ان آیات کے مجموعے سے تین اصول اخذ ہوتے ہیں:

مسلمان دشمن سے معاہدہ کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ اسلامی معاشرے کے جائز مصالح کے موافق ہو۔

جب تک دوسرا فریق عہد پر قائم ہے، مسلمانوں کو بھی اس کی پابندی کرنی چاہیے۔

اسلامی معاشرہ خیانت کے امکان سے غافل نہ ہو، اور کھلی عہد شکنی کی صورت میں حالات کے مطابق جائز ردِ عمل دکھائے۔

پس قرآن کی منطق یہ نہیں کہ ’’چونکہ دشمن خیانت کر سکتا ہے، اس لئے  کبھی اس سے معاہدہ نہ کرو‘‘؛ بلکہ یہ ہے: معاہدہ کرو، اپنے عہد کے وفادار رہو، مگر سادہ لوح نہ بنو اور عہد شکنی کے مقابلے میں بے تفاوت نہ رہو۔

امام حسن علیہ السلام کی صلح کو اسی تناظر میں سمجھنا چاہيئے۔

امام حسن علیہ السلام نے معاویہ پر اخلاقی یا شخصی اعتماد کی بنا پر صلح نہیں کی۔ آپ جانتے تھے کہ معاویہ اقتدار کو اپنا اصل مقصد بنائے ہوئے ہے اور اس کے حصول کے لئے  دھمکی، لالچ، افواہ سازی اور سپہ سالاروں کی خریداری سے کام لیتا ہے۔

صلح سے متعلق منابع میں ایسی شرائط نقل ہوئی ہیں جن کی رو سے معاویہ کو کتابِ خدا اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ کے مطابق عمل کرنا، شیعوں اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اصحاب کی سلامتی کی ضمانت دینا، امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے خلاف تعرض نہ کرنا اور اپنے لئے  جانشین مقرر نہ کرنا تھا۔ اگرچہ صلح نامے کی جزئیات کی نقل میں اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن پیروانِ امیرالمؤمنین علیہ السلام کا تحفظ اور معاویہ کے اقتدار کو محدود کرنا تمام گزارشوں کے مشترک عناصر ہیں۔

یہ شرائط ظاہر کرتی ہیں کہ صلح کا مطلب امت کو بلاشرط معاویہ کے حوالے کرنا نہ تھا۔ امام نے معاہدہ مرتب کر کے معاویہ کے آئندہ طرزِ عمل کو واضح معیاروں کے سامنے رکھ دیا:

کیا وہ قرآن و سنت کا پابند رہے گا؟

کیا اپنے سیاسی مخالفین کی سلامتی کا احترام کرے گا؟

کیا حکومت کو اپنی ذاتی ملکیت بنا لے گا؟

کیا خلافت کو موروثی سلطنت میں بدل دے گا؟

کیا اہل بیت علیہم السلام پر تعرض سے باز رہے گا؟

یوں صلح نامہ ایک سیاسی اور اخلاقی آزمائش بن گیا۔ اب معاویہ اپنے طرزِ عمل کو مبہم تبلیغاتی فضا میں چھپا نہیں سکتا تھا۔ ہر عہد شکنی اس کی حکومت کے اسلامی اصولوں سے فاصلے کی کھلی دلیل بن گئی۔

امام کی صلح معاویہ پر اعتماد نہ تھی؛ بلکہ اسے امت کے سامنے اپنی حقیقت آشکار کرنے پر مجبور کرنا تھا۔

امام نے اس موقع پر جنگ جاری کیوں نہ رکھی؟

اس سوال کا مکمل جواب جنگِ جمل، صفین اور نہروان کے بعد لشکرِ عراق، سپہ سالاروں، قبائل اور سماجی ماحول کے تفصیلی جائزے کا محتاج ہے؛ تاہم خلاصہ یہ ہے کہ امام حسن علیہ السلام ایسے معاشرے سے روبرو تھے جس کے ایک بڑے حصے نے مقاومت کی قیمت ادا کرنے کی طاقت اور ارادہ کھو دیا تھا۔

امام کے لشکر میں مختلف گروہ تھے: وفادار شیعہ، خوارج، تذبذب کے شکار افراد، دنیا طلب عناصر، قبائلی سرداروں کے پیروکار اور وہ لوگ جو حق کے دفاع سے زیادہ مالِ غنیمت یا ذاتی سلامتی کے خواہاں تھے۔ معاویہ انہی دراڑوں کو پہچان کر کمانڈروں اور بااثر افراد کو مال و منصب کا لالچ دے کر اپنے راستےسے ہٹاتا رہا۔

تاریخی روایات لشکر کی آشفتگی، سپہ سالاروں کے قتل کی افواہوں، بعض قبائلی سرداروں کی معاویہ سے مراسلت، امام کے خیمے پر حملے اور حتیٰ آپ کے زخمی ہونے کی خبر دیتی ہیں۔ ایسے ماحول میں جنگ جاری رکھنے کا نتیجہ معاویہ کی شکست نہیں، بلکہ بظاہر اپنے ہی افراد کے ہاتھوں امام کی گرفتاری یا شہادت اورلشکر حق کی باقی قوتوں کی نابودی ہو سکتا تھا۔

بعض روایات کے مطابق، لشکر کے ایک حصے کے سپہ سالار عبید اللہ بن عباس نے معاویہ کی مالی پیشکش پر امام کا محاذ چھوڑ دیا؛ یہ واقعہ لشکر میں دشمن کے نفوذ اور داخلی فرسودگی کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔

ان حالات میں امام کسی مثالی اور پسندیدہ صورتحال میں نہیں، بلکہ دو دشوار راستوں کے درمیان کھڑے تھے:

ایک راستہ متزلزل لشکر کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کا تھا، جس میں فتح کا امکان نہایت کم اور حق کی قوتوں کی نابودی کا احتمال بہت زیادہ تھا؛

یا پھر دوسرا راستہ  یہ تھا کہ ایک مشروط معاہدے کی پیشکش کو قبول کرلیا جائے، جس سے مؤمنوں کا خون محفوظ رہے،جبکہ معاویہ کی دینی مشروعیت تسلیم بھی  نہ کی جائے، مزید یہ کہ اس کےخفیہ ناپاک ارادوں کو برملا کیا جائے اورپھر امت کے تاریخی فیصلے کی زمین فراہم کردی جائے۔

دوسرے راستے کا انتخاب ذمہ داری سے فرار نہ تھا، بلکہ ذمہ داری کو اس کی دشوار ترین صورت میں قبول کرنا تھا۔ کبھی رہبر اپنی وقتی مقبولیت کو حقیقت کی بقا پر قربان کر دیتا ہے۔ جنگ شاید امام کے لئے  زیادہ حماسی ظاہری منظر پیدا کرتی، مگر امام اپنی حماسی شبیہ بنانے کے خواہاں نہ تھے؛ ان کا مقصد دین اور مؤمن معاشرے کا تحفظ تھا۔

صلح نے امام کی ذمہ داری ختم نہ کی، لیکن امت کی ذمہ داری کا میدان آشکار کر دیا

معاہدے کے بعد امام حسن علیہ السلام نے اپنے فرائض ترک نہیں کئے۔ آپ حق کے بیان، اموی حکومت کی تنقید، اہل بیت علیہم السلام کے دفاع، مؤمن قوتوں کی تربیت اور معاشرے کی اعتقادی سرحدوں کی حفاظت سے دست بردار نہ ہوئے۔ صلح نے صرف مقابلے کی صورت بدل دی۔

لیکن اسی وقت ایک نئی صورتِ حال پیدا ہوئی۔ معاویہ نے اسلامی معاشرے کے سامنے کچھ عہد و پیمان پر عمل کرنے کو قبول کرلیا تھے اور لوگ ان کے گواہ  بھی تھے۔ اس کے بعد جب بھی وہ کتاب و سنت سے دور ہوتا، شیعوں پر دباؤ ڈالتا، امیرالمؤمنین علیہ السلام کی توہین کرتا یا یزید کی جانشینی کی راہ ہموار کرتا، تو وہ صرف امام حسن علیہ السلام سے اپنا معاہدہ نہیں توڑتا تھا بلکہ پوری اسلامی امت کے سامنےکئے گئے ایک عمومی عہدو پیمان کی حرمت کو پامال کرنے والا تھا۔

یہاں ذمہ داری صرف امام کی نہ تھی۔ بلکہ اسلامی معاشرے کے بھی فرائض تھے:

  • عہد شکنی کو پہچانے؛
  • حکومتی پروپیگنڈا قبول نہ کرے؛
  • مظلوموں کی حمایت کرے؛
  • خلافت کو سلطنت میں بدلنے پر خاموش نہ بیٹھے؛
  • برحق امام کو تنہا نہ چھوڑے؛
  • اور اپنی استطاعت کے مطابق ظلم کے استحکام اور دین کی تحریف کو روکے۔

لیکن کیا لوگوں نے ایسا کیا؟

کیا معاشرے کے خواص نے معاویہ کی عہد شکنی لوگوں کے سامنے واضح کی؟

کیا علما، قرّاء، قبائلی سردار اور بااثر شخصیات شیعوں پر دباؤ کے مقابلے میں کھڑے ہونے کی کوشش فرمائی؟

کیا وہ لوگ جنہوں نے پہلے امام کو جنگ کی دعوت دی اور پھر تنہا چھوڑ دیا تھا، اس بار اپنی ذمہ داری پر توجہ دے سکے؟

یہ سوالات ہمیں مسئلے کے قلب تک پہنچاتے ہیں۔ صلحِ امام حسن علیہ السلام کا تجزیہ اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب امام کے طرزِ عمل کے ساتھ امت کے طرزِ عمل کا بھی جائزہ لیا جائے۔ بعید نہیں کہ جن نتائج کو ’’امام کی صلح کے نتائج‘‘ کہا جاتا ہے، ان میں سے ایک بڑا حصہ دراصل ان لوگوں کی کوتاہی کا نتیجہ ہو جنہوں نے نہ جنگ کے زمانے میں مناسب نصرت کی اور نہ عہد شکنی کے بعد اپنی اجتماعی ذمہ داری نبھانے کی کوشش کی۔

دوسرے حصے میں قرآن کی آیات اور اسلامی سیاسی فقہ کی تعلیمات کی بنیاد پر معاشرے کے مختلف طبقات—علما و خواص سے لے کر قبائلی سرداروں اور عام لوگوں تک—کی ذمہ داریوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ نیز یہ دیکھا جائے گا کہ عہد شکنی، شیعوں کے قتل، امیرالمؤمنین علیہ السلام پر سبّ و دشنام اور یزید کی ولی عہدی کی راہ ہموار کرنے کے مقابلے میں خاموشی، محض ایک سیاسی کمزوری تھی یا دینی و اجتماعی فریضہ ترک کرنے کا مصداق۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔