سدا بہار قرآنی کہانیاں – جلد 03 شمارہ 35

Everlasting Tales of the Quran – Volume 03 Issue 35

تاریکی کے زمانے میں نورانی نوجوان — اصحابِ کہف کی داستان

ایک دور دراز زمانے میں، جب سرزمینِ روم پر شرک کی تاریکی چھائی ہوئی تھی اور دِقیانوس نامی ایک ظالم بادشاہ لوگوں کو بتوں کے سامنے سجدہ کرنے پر مجبور کرتا تھا، شاہی دربار کے اندر چند پاک سیرت اور معزز گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان ایک عظیم حقیقت اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے تھے: ایک خدا پر ایمان۔

اللہ تعالیٰ ان کی داستان کے آغاز میں ایک حیرت انگیز انداز سے فرماتا ہے:

أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ آيَاتِنَا عَجَبًا
’’کیا تم نے گمان کیا کہ اصحابِ کہف اور رقیم ہماری نشانیوں میں سے کوئی بہت ہی عجیب نشانی تھے؟‘‘

(سورۂ کہف، آیت 9)

یہ نوجوان چھ افراد تھے جو دِقیانوس کے وزراء اور قریبی مشیروں میں شمار ہوتے تھے: مکسلمینا، تملخا (یملیخا)، مرطونس، ذونواس، سارینوس اور کشفوطط۔

ظاہری طور پر وہ بادشاہ کے ساتھ تھے، لیکن باطن میں ان کے دل اللہ کی طرف مائل تھے۔ 

سالانہ جشن اور بیداری کا لمحہ

دِقیانوس ہر سال ایک بڑا جشن منعقد کرتا تھا اور تمام معزز افراد کو اس کے بتوں کے سامنے قربانی پیش کرنا پڑتی تھی۔

ایسے ہی ایک جشن کے دوران، جب بادشاہ تاج پہنے بیٹھا تھا، اسے خبر دی گئی کہ ایک قبیلے کو سرکشی کے بعد قابو کر لیا گیا ہے۔ خبر سن کر بادشاہ خوف سے کانپنے لگا اور اس کا تاج سر سے گر پڑا۔

اسی لمحے تملخا نے خاموشی سے اپنے ساتھیوں سے کہا:

’’اگر یہ شخص زمین کا خدا ہے تو ایک خبر سن کر اس طرح کیوں کانپ اٹھا؟ ہمارا خدا تو وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے۔‘‘

انہوں نے اشاروں اور نگاہوں کے ذریعے آپس میں عہد کیا اور بتوں کے سامنے سجدہ کیے بغیر مجلس سے باہر نکل گئے۔

بادشاہ کے ساتھ گفتگو

دِقیانوس تک یہ خبر پہنچی۔ اس نے نوجوانوں کو اپنے پاس بلایا اور دیکھا کہ انہوں نے شاہی لباس اتار دیا ہے اور اپنے ایمان کے دفاع کے لیے تیار کھڑے ہیں۔

قرآنِ کریم اس لمحے کو یوں بیان کرتا ہے:

وَرَبَطْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَن نَّدْعُوَ مِن دُونِهِ إِلَهًا
’’اور ہم نے ان کے دل مضبوط کر دیے، جب وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا: ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے؛ ہم اس کے سوا ہرگز کسی دوسرے معبود کو نہیں پکاریں گے۔‘‘(سورۂ کہف، آیت 14)

دِقیانوس نے کہا:

’’تم ابھی جوان ہو، افسوس ہوگا اگر تم قتل کر دیے جاؤ۔‘‘

اس نے انہیں ایک رات کی مہلت دی تاکہ وہ اپنے عقیدے سے واپس آ جائیں، لیکن وہ اپنا فیصلہ کر چکے تھے۔

رات کے وقت انہوں نے اپنے گھوڑے لیے، اپنا مال غریبوں میں تقسیم کیا اور شہر سے نکل گئے۔

چرواہا اور وفادار کتا

پہاڑوں کی طرف جاتے ہوئے ان کی ملاقات ایک چرواہے سے ہوئی۔

انہوں نے اس کے سامنے اپنا ایمان بیان کیا تو وہ بھی ایمان لے آیا اور بولا:

’’میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گا، لیکن پہلے مجھے لوگوں کی بھیڑیں واپس کرنا ہوں گی۔‘‘

اس نے بھیڑیں واپس کیں اور پھر ان نوجوانوں کے پاس لوٹ آیا، لیکن اس کا کتا قطمیر بھی ان کے پیچھے چل پڑا۔

انہوں نے اسے واپس بھیجنے کے لیے پتھر تک پھینکے، مگر وہ واپس نہ گیا۔

روایات میں نقل ہوا ہے کہ اس کتے نے کہا:

’’مجھ سے خوف نہ کرو، میں اللہ کے دوستوں سے محبت کرتا ہوں۔‘‘

بانجلوس کے غار میں داخلہ

وہ نوجوان بانجلوس نامی پہاڑ پر پہنچے اور ایک غار میں داخل ہوگئے۔

انہوں نے نماز ادا کی اور اسی وقت اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک گہری نیند طاری کر دی۔

قرآن اس منظر کو یوں بیان کرتا ہے:

وَكَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بِالْوَصِيدِ
’’اور ان کا کتا غار کے دہانے پر اپنے دونوں بازو پھیلائے بیٹھا تھا۔‘‘(سورۂ کہف، آیت 18)

اللہ تعالیٰ برسوں تک انہیں کبھی دائیں اور کبھی بائیں کروٹ دلواتا رہا تاکہ ان کے جسم محفوظ رہیں۔

یہ الٰہی نیند تین صدیوں سے بھی زیادہ جاری رہی:

وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا
’’اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور نو سال مزید۔‘‘(سورۂ کہف، آیت 25)

309 سال بعد بیداری

اللہ کے حکم سے وہ بیدار ہوئے۔

انہیں محسوس ہوا کہ شاید وہ صرف ایک دن یا دن کے کچھ حصے تک سوئے تھے۔

انہیں بھوک لگی، چنانچہ یملیخا ایک پرانا سکہ لے کر کھانا خریدنے کے لیے شہر روانہ ہوا۔

لیکن شہر اب پہلے جیسا نہیں تھا۔

لوگ کھلے عام عیسیٰ بن مریمؑ اور اللہ کا نام لیتے تھے، اور شہر کے دروازے بھی بدل چکے تھے۔

جب نان بائی نے قدیم سکہ دیکھا تو بولا:

’’تمہیں کوئی خزانہ ملا ہے!‘‘

یملیخا کو اس زمانے کے مؤمن بادشاہ بیدروس کے پاس لے جایا گیا۔ اس نے اپنی پوری داستان سنائی، لیکن ابتدا میں کسی نے اس کی بات پر یقین نہ کیا۔

آخرکار بادشاہ اور علماء نے فیصلہ کیا کہ وہ اس کے ساتھ غار تک جائیں گے۔

غار میں واپسی اور آخری دعا

غار کے قریب پہنچ کر یملیخا نے کہا:

’’آپ لوگ یہیں ٹھہریں تاکہ میرے ساتھی آپ کو دیکھ کر خوف زدہ نہ ہوں۔‘‘

وہ غار میں داخل ہوا اور اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ وہ 309 سال سوئے رہے ہیں اور دنیا مکمل طور پر بدل چکی ہے۔

نوجوانوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اس سے دعا کی کہ وہ ان کی جانیں قبض کر لے، کیونکہ وہ نئے زمانے کے فتنوں میں مبتلا نہیں ہونا چاہتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور ان کی روحیں قبض کر لیں۔

جب بادشاہ اور لوگ غار میں داخل ہوئے تو انہوں نے ان کے بے جان جسم دیکھے۔

اس بات پر اختلاف ہوا کہ انہیں کس طرح یادگار بنایا جائے۔

قرآنِ کریم فرماتا ہے:

قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَىٰ أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَسْجِدًا
’’جن لوگوں کو ان کے معاملے پر غلبہ حاصل تھا، انہوں نے کہا: ہم ضرور ان پر ایک مسجد بنائیں گے۔‘‘(سورۂ کہف، آیت 21)

دِقیانوس کون تھا؟

اسلامی مصادر میں دِقیانوس کو روم کا ایک مشرک بادشاہ بتایا گیا ہے۔

بعض محققین اسے رومی شہنشاہ دِکیوس (Decius) سے تطبیق دیتے ہیں، جس نے تقریباً 250 عیسوی میں لوگوں کو رومی دیوتاؤں کے لیے قربانی پیش کرنے پر مجبور کیا اور مسیحیوں پر دباؤ ڈالا۔

قرآن اس بادشاہ کا نام ذکر نہیں کرتا، بلکہ نوجوانوں کی اصل پہچان ان کے ایمان کے ذریعے بیان کرتا ہے:

إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى
’’وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کر دیا۔‘‘(سورۂ کہف، آیت 13)

بیدار ہونے کے بعد وہ معاشرے میں کیوں نہ رہے؟

  1. ان کا الٰہی مشن مکمل ہو چکا تھا

اصحابِ کہف ایک ’’آیت‘‘ یعنی اللہ کی زندہ نشانی اور قیامت و دوبارہ زندہ کیے جانے کی حقیقت کا عملی ثبوت تھے۔

جس زمانے میں وہ بیدار ہوئے، یعنی مؤمن بادشاہ بیدروس کے دور میں، جسمانی معاد کے بارے میں شدید اختلاف پایا جاتا تھا۔ بعض لوگ جسموں کے دوبارہ زندہ ہونے کو ناممکن سمجھتے تھے۔

اصحابِ کہف کا 309 سال بعد زندہ بیدار ہونا اس حقیقت کی واضح دلیل بن گیا۔

قرآن فرماتا ہے:

وَكَذَٰلِكَ أَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ
’’اور اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان کے حال سے آگاہ کیا، تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ حق ہے۔‘‘(سورۂ کہف، آیت 21)

جب یہ مقصد پورا ہوگیا تو ان کا تاریخی مشن بھی مکمل ہوگیا۔

  1. نئے زمانے کے ساتھ عدم مطابقت

وہ تین سو سال سے بھی زیادہ پرانے زمانے کے لوگ تھے۔

ان کے خاندان، دوست، رشتے اور معاشرتی تعلقات سب ختم ہو چکے تھے۔ جس شہر میں وہ واپس آئے تھے، اس کی ثقافت، معاشرت اور طرزِ زندگی ان کے زمانے سے بالکل مختلف تھا۔

تفسیر القمی میں منقول ایک روایت کے مطابق، جب تملخا نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ 309 سال گزر چکے ہیں اور زمانہ مکمل طور پر بدل چکا ہے، تو سب نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی:

’’پروردگارا! اب جبکہ تو نے لوگوں کو ایمان کی یہ نشانی دکھا دی ہے، ہمیں ہماری پہلی حالت کی طرف واپس لوٹا دے اور ہماری جانیں لے لے، تاکہ ہم نئے زمانے کے فتنوں اور لوگوں کی حیرت بھری نگاہوں میں مبتلا نہ ہوں۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کرلی۔

  1. اس زمانے میں دینی رہنما موجود تھے

اصحابِ کہف نہ کوئی نئی شریعت رکھنے والے نبی تھے اور نہ ایسے امام جن پر پورے معاشرے کی عمومی ہدایت یا حکومت قائم کرنا لازم ہو۔

وہ قرآن کی تعبیر میں ’’فِتْيَة‘‘ یعنی ایمان رکھنے والے مجاہد نوجوان تھے۔

جب وہ بیدار ہوئے تو مسیحیت ظاہر ہو چکی تھی اور معاشرے میں موحّد دینی علماء اور رہنما موجود تھے۔ اس لیے انہیں حاکم یا مربی کے طور پر معاشرے کی براہِ راست قیادت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

  1. عصرِ ظہور کے لیے محفوظ ہونا

بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ گہری نیند میں ڈال دیا تاکہ وہ حضرت امام مہدیؑ کے ظہور کے زمانے کے لیے محفوظ رہیں اور آپ کے اصحاب و انصار میں شامل ہوں۔

اس داستان  سے ملنے والے اسباق

  1. انفرادی اور ایمانی تربیت
  • اصحابِ کہف کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ انتہائی فاسد معاشرے میں بھی اپنی دینی شناخت اور عقیدے کی حفاظت کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اکثریت ہمیشہ حق کی دلیل نہیں ہوتی اور انسان کو گمراہ جماعت کے رنگ میں رنگ نہیں جانا چاہیے۔
  • ایمان کا اظہار کرنے کے بعد انہوں نے صرف انتظار نہیں کیا، بلکہ عملی منصوبہ بنایا۔ انہوں نے مہلت حاصل کی، اپنا مال تقسیم کیا، فرار کی منصوبہ بندی کی اور پھر اللہ پر توکل کیا:

فَأْوُوا إِلَى الْكَهْفِ يَنشُرْ لَكُمْ رَبُّكُم مِّن رَّحْمَتِهِ

’’غار میں پناہ لے لو، تمہارا پروردگار تمہارے لیے اپنی رحمت پھیلا دے گا۔‘‘

  • 309 سال کی نیند کے بعد، شدید بھوک کے باوجود، ان کی پہلی فکر پاکیزہ اور حلال غذا تھی:

فَلْيَنظُرْ أَيُّهَا أَزْكَىٰ طَعَامًا فَلْيَأْتِكُم بِرِزْقٍ مِّنْهُ

’’دیکھے کہ کون سا کھانا زیادہ پاکیزہ ہے، پھر وہاں سے تمہارے لیے کچھ رزق لے آئے۔‘‘

یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکیزہ اور حلال غذا ایمان کی حفاظت میں اہم کردار رکھتی ہے۔

  1. انتظامی اور عملی اصول
  • روایات کے مطابق، شہر سے نکلنے سے پہلے انہوں نے اپنی دولت اور اموال ضرورت مندوں میں تقسیم کیے، تاکہ ایک طرف دنیاوی بوجھ سے آزاد ہو جائیں اور دوسری طرف معاشرے کے ضرورت مند افراد کی مدد بھی کر سکیں۔
  1. تربیتی اور سماجی اسباق
  • قرآن کا ان کے لیے «فِتْيَة» یعنی ’’نوجوان‘‘ کا لفظ استعمال کرنا ان کے اندر تبدیلی کی خواہش، شجاعت اور حق کے سامنے آمادگی کو نمایاں کرتا ہے۔ نوجوان دل، دنیاوی وابستگیوں کے نسبتاً کم ہونے کی وجہ سے، حق قبول کرنے کے لیے زیادہ آمادہ ہو سکتا ہے۔
  • اس سفر میں روم کے معزز گھرانوں کے نوجوان ایک عام چرواہے کے ساتھ ایک ہی جماعت بن گئے۔ ان کے درمیان اتحاد کا معیار صرف ایمان تھا، نہ دولت، نہ سماجی مقام۔
  • کتے قطمیر کا ان کے ساتھ ہونا اور قرآن میں اس کا خصوصی ذکر:

وَكَلْبُهُم بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بِالْوَصِيدِ

وفاداری کی قدر اور نیک لوگوں کی صحبت کے اثر کا ایک اہم سبق ہے۔ یہاں تک کہ صالحین کے ساتھ رہنے والے ایک جانور کا ذکر بھی قرآن میں محفوظ ہو گیا۔

  1. معرفتی اور توحیدی اسباق
  • جب کوئی ماحول اس حد تک فاسد ہو جائے کہ وہاں مؤمنانہ زندگی گزارنا ممکن نہ رہے، تو ایسی جگہ سے ہجرت کرنا، خواہ ایک دشوار سفر یا غار کی تنہائی ہی کیوں نہ ہو، فساد میں رہ کر اس کا حصہ بننے سے بہتر ہے۔
  • 309 سال بعد اصحابِ کہف کا بیدار ہونا قیامت، معاد اور موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے پر ایمان کی ایک نہایت واضح اور محسوس مثال ہے۔

قرآنی مصادر:

  • سورۂ کہف، آیات 9 تا 26

روائی اور تفسیری مصادر:

  • تفسیر القمی، شیخ علی بن ابراہیم قمی، ج 2، ص 31 تا 34۔
  • بحار الأنوار، علامہ محمد باقر مجلسی، ج 14، باب 28، قصة أصحاب الكهف والرقيم، ص 408 تا 440۔
  • تفسیر مجمع البیان، شیخ طبرسی، سورۂ کہف آیات 9 تا 26 کے ذیل میں، ج 6، ص 695 تا 715۔
  • تفسیر نور الثقلین، عبدعلی بن جمعۃ العروسی الحویزی، ج 3، ص 242 تا 262۔
  • الإرشاد، شیخ مفید، ج 2، ص 383۔
  • الغيبة، شیخ طوسی، ص 475۔
  • الکاشف، علامہ محمد جواد مغنیہ، ج 5، ص 109۔
  • تفسیر المیزان، علامہ طباطبائی، ج 13، ص 268 تا 274۔
  • مختصر بصائر الدرجات، حسن بن سلیمان حلی، ص 178۔
  • بحار الأنوار، علامہ مجلسی، ج 53، ص 90، باب الرجعة، حدیث 95؛ نیز ج 52، ص 346۔
  • تفسیر العیاشی، محمد بن مسعود عیاشی، ج 2، ص 32۔

امیرالمؤمنین حضرت علیؑ اور رأس الجالوت یا یہودی علماء کے درمیان، خلیفۂ دوم عمر بن خطاب کے زمانے میں ہونے والے معروف مناظرے کی روایت، جس میں اصحابِ کہف کے ناموں، بادشاہ کے نام اور 300 شمسی سال کو 309 قمری سال سے تطبیق دینے کی تفصیل بیان کی گئی ہے، درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:

  • کمال الدين وتمام النعمة، شیخ صدوق، ج 1، ص 31 تا 36۔
  • قصص الأنبياء، قطب الدین راوندی، ص 254 تا 262۔
  • بحار الأنوار، علامہ مجلسی، ج 14، ص 411، حدیث 1؛ اور ج 10، ص 118۔
  • تفسیر العیاشی، محمد بن مسعود عیاشی، ج 2، ص 321۔
اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔