حدیثِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 31
امام حسین علیہ السلام کی آخری نصیحت: بے سہارا لوگوں کے مددگار بنو
اس حدیث پر غور و فکر کی مناسبت: ۲۰ صفر: اربعین حسینی
مقدمہ
اربعین، امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے چالیسویں دن کی مناسبت ہے۔ اس دن دنیا بھر میں لاکھوں انسان حق، عدل اور انسانی کرامت کے دفاع میں آپ کی عظیم قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
اس مناسبت پر امام حسین علیہ السلام کی آخری نصیحتوں میں سے ایک پر غور کرنا نہایت مناسب ہے۔ آپ نے یہ نصیحت اپنے فرزند امام زین العابدین، امام سجاد علیہما السلام، سے فرمائی۔
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:
يَا بُنَيَّ، إِيَّاكَ وَظُلْمَ مَنْ لَا يَجِدُ عَلَيْكَ نَاصِراً إِلَّا اللهَ.
“اے میرے بیٹے! اس شخص پر ظلم کرنے سے بچو جسے تمہارے مقابلے میں اللہ کے سوا کوئی مددگار میسر نہ ہو۔”
(الکافی، جلد ۴، صفحہ ۲۵)
نوجوانوں اور جوانوں کے لئے اس حدیث کے تربیتی اسباق
۱۔ اپنے سے کمزور لوگوں کے ساتھ مہربانی سے پیش آؤ
اپنی طاقت، مقبولیت یا خود اعتمادی کو کبھی اپنے ہم جماعتوں، بالخصوص خاموش، تنہا یا کمزور افراد کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال نہ کرو۔
عملی مشق
اس ہفتے اس بات کا خیال رکھو کہ تمہاری کسی بات یا رویّے کی وجہ سے کوئی شخص خود کو مسترد، تنہا یا اذیت کا شکار محسوس نہ کرے۔
۲۔ صرف موجودہ لمحے کے بارے میں نہ سوچو
عارضی تفریح یا چند لمحوں کی لذت کی خاطر اپنے مستقبل اور کردار کو قربان نہ کرو۔
عملی مشق
کسی مشکل فیصلے سے پہلے اپنے آپ سے پوچھو: “کیا ایک سال بعد بھی مجھے اپنے اس فیصلے پر فخر ہوگا؟”
۳۔ یاد رکھو کہ اللہ سب سے برتر ہے اور ہر چیز کو دیکھتا ہے
کوئی شخص خواہ کتنا ہی طاقت ور دکھائی دے، اصل اور سب سے بڑی قدرت ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اگر کسی ناانصافی کو کوئی انسان نہ بھی دیکھے، تب بھی اللہ تعالیٰ پوری حقیقت سے آگاہ ہے۔
عملی مشق
جب بھی تمہیں کسی کے ساتھ ناانصافی کرنے کا وسوسہ ہو تو ایک لمحے کے لئے رک جاؤ اور خود کو یاد دلاؤ: “اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔”
۴۔ اپنے والدین پر ظلم نہ کرو
بے ادبی، نافرمانی یا ناشکری کے ذریعے والدین کو تکلیف پہنچانا ظلم کی ایک سنگین اور ناقابلِ معافی صورت ہے۔
عملی مشق
اس ہفتے والدین کے کہے بغیر ان کے لئے محبت اور خدمت کا کوئی کام انجام دو۔
۵۔ خود کو دوسروں کی جگہ رکھ کر دیکھو
کچھ کہنے یا کرنے سے پہلے تصور کرو کہ تم خود دوسرے شخص کی جگہ ہوتے تو تم پر کیا گزرتی۔
عملی مشق
کسی ایسے اہم فیصلے سے پہلے جو دوسرے شخص پر اثر انداز ہوتا ہو، اپنے آپ سے پوچھو: “اگر میرے ساتھ ایسا ہوتا تو میں کیسا محسوس کرتا؟”
۶۔ ناانصافی کے سامنے کبھی خاموش نہ رہو
ظلم کو نظر انداز کرنا اسے جاری رہنے کا موقع دیتا ہے اور خاموش تماشائی کو بھی کسی حد تک اس ظلم میں شریک بنا دیتا ہے۔
عملی مشق
اگر اس ہفتے تم دیکھو کہ کسی شخص کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے تو اس کی حمایت کرو یا کسی قابلِ اعتماد بڑے شخص سے مدد حاصل کرو۔
۷۔ انٹرنیٹ پر کسی کو ہراساں کرنے میں کبھی شریک نہ ہو
دوسروں کی توہین یا بدنامی پر مبنی مواد کو شیئر کرنا یا ایسے رویّوں کی حوصلہ افزائی کرنا بھی سنگین ظلم ہے، چہ جائیکہ تم خود کسی کو ہراساں کرو۔
عملی مشق
کوئی تبصرہ کرنے یا مواد دوبارہ شیئر کرنے سے پہلے اپنے آپ سے پوچھو: “اگر یہ شخص میرے سامنے موجود ہوتا تو کیا میں یہی بات اس کے منہ پر بھی کہتا؟”
۸۔ فتح کے بجائے عدل کو ترجیح دو
کسی جھگڑے، بحث یا مقابلے میں کامیابی حاصل کرنا کبھی بھی دوسروں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔
عملی مشق
اگلی مرتبہ کسی سے اختلاف ہو تو اس بات کا خیال رکھو کہ تمہارا غصہ تمہیں جھوٹی بات کہنے یا غلط رویّہ اختیار کرنے پر مجبور نہ کرے۔
والدین کے لئے اس حدیث کے تربیتی اسباق
۱۔ اپنی اولاد کی صرف ضروریاتِ زندگی نہیں، بلکہ دینداری بھی فراہم کریں
آپ کی ذمہ داری صرف خوراک، لباس اور آسائش فراہم کرنا نہیں، بلکہ اپنی اولاد کے ایمان اور کردار کی تربیت کرنا بھی آپ کے فرائض میں شامل ہے۔
عملی مشق
ہر ہفتے کچھ وقت کسی اسلامی قدر یا اخلاقی سبق کے بارے میں خاندانی گفتگو کے لئے مخصوص کریں۔
۲۔ غلط قسم کی محبت سے اپنے بچوں کو نقصان نہ پہنچائیں
بچے کی ہر خواہش پوری کرنا ہمیشہ محبت کی علامت نہیں ہوتا۔ اسے نقصان دہ انتخاب کرنے کی اجازت دینا بھی اس کے حق میں ظلم ہوسکتا ہے۔
عملی مشق
اگلی مرتبہ جب آپ کا بچہ کوئی غیر صحت مند یا نقصان دہ چیز مانگے تو فوراً مان جانے کے بجائے صبر کے ساتھ اپنے فیصلے کی وجہ سمجھائیں۔
۳۔ اپنے شریکِ حیات کے ساتھ انصاف سے پیش آئیں
میاں بیوی کو ایک دوسرے کے اعتماد سے کبھی ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے، کیونکہ وہ ہمیشہ اپنے باہمی مسائل دوسروں کے سامنے بیان یا منتقل نہیں کرسکتے۔
عملی مشق
اس ہفتے کسی اختلاف کو انصاف، احترام اور ایک دوسرے کی بات سکون سے سننے کے ذریعے حل کریں۔
۴۔ گھر میں ناانصافی کے بارے میں بات کریں
بچے ظلم کی مخالفت اس وقت سیکھتے ہیں جب خاندان میں اس موضوع پر کھلے اور دیانت دار انداز میں گفتگو کی جائے۔
عملی مشق
ہر ہفتے کسی حقیقی مثال کا انتخاب کریں اور خاندان کے ساتھ اس بات پر غور کریں کہ اس صورتِ حال میں عدل کیسے قائم کیا جاسکتا ہے۔
۵۔ بچے انصاف آپ سے سیکھتے ہیں
بچے آپ کی باتوں سے زیادہ آپ کے عمل اور رویّے کی پیروی کرتے ہیں۔
عملی مشق
گھر میں عملی طور پر انصاف دکھائیں۔ کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے خاندان کے تمام افراد کی بات صبر سے سنیں۔
۶۔ خاموش اور کم گو بچے کی حفاظت کریں
بعض اوقات جو بچہ کم شکایت کرتا ہے، اسے دوسروں سے زیادہ توجہ اور حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔
عملی مشق
اس ہفتے اپنے ہر بچے کے ساتھ الگ الگ دس منٹ گزاریں اور کسی خلل کے بغیر اس کی بات سنیں۔
۷۔ ذلیل کیے بغیر اصلاح کریں
تربیت کا مقصد بچے کی رہنمائی کرنا ہے، نہ کہ اس کی عزتِ نفس کو تباہ کرنا۔
عملی مشق
اگلی مرتبہ بچے کو سمجھانے کی ضرورت ہو تو دوسروں کے سامنے تنقید کرنے کے بجائے تنہائی میں اس سے بات کریں۔
۸۔ اپنی غلطی پر معافی مانگیں
جو والدین اپنی غلطیوں کو قبول کرتے ہیں، وہ اپنے بچوں کو سچائی، دیانت اور انکساری سکھاتے ہیں۔
عملی مشق
اگر آپ سے کوئی غیر منصفانہ فیصلہ ہوگیا ہو تو خلوص کے ساتھ معافی مانگیں اور واضح کریں کہ آئندہ آپ کس طرح بہتر طرزِ عمل اختیار کریں گے۔
ائمۂ جماعت اور اساتذہ کے لئے اس حدیث کے تربیتی اسباق
۱۔ ظلم کی موجودہ صورتوں کو واضح کریں
لوگوں کو سمجھائیں کہ ناانصافی صرف تاریخ میں نہیں ہوئی، بلکہ وہ آج بھی ان کی روزمرہ زندگی میں مختلف صورتوں میں موجود ہے۔
عملی مشق
اپنے آئندہ درس یا تقریر میں کم از کم تین ایسی ناانصافیوں کی مثالیں بیان کریں جن کا آج کے دور میں لوگوں کو سامنا ہوسکتا ہے۔
۲۔ حقیقی واقعات کے ذریعے تعلیم دیں
ظالموں اور ان کے اعمال کے نتائج سے متعلق حقیقی کہانیاں لوگوں کے ذہنوں میں دیرپا سبق پیدا کرتی ہیں۔
عملی مشق
کوئی تاریخی یا موجودہ مثال بیان کریں جس سے واضح ہو کہ ظلم سے ممکن ہے کچھ عرصے کے لئے فائدہ حاصل ہوجائے، لیکن طویل مدت میں اس کا نتیجہ نقصان اور تباہی ہوتا ہے۔
۳۔ ظلم سے بچنے کے عملی طریقے سکھائیں
لوگوں کو ایسی عملی عادات کی ضرورت ہوتی ہے جن کے ذریعے وہ دوسروں کو نقصان پہنچانے سے پہلے اپنے آپ کو روک سکیں۔
عملی مشق
اپنے مخاطبین کو ترغیب دیں کہ روزانہ کچھ وقت خود احتسابی کے لئے مخصوص کریں اور بولنے یا عمل کرنے سے پہلے اپنے رویّے پر غور کریں۔
۴۔ غلطی کی تلافی کی اہمیت سکھائیں
اگر کسی پر ظلم ہوچکا ہو تو حقیقی توبہ صرف پشیمانی کا نام نہیں، بلکہ جہاں تک ممکن ہو لوگوں کے ضائع شدہ حقوق واپس کرنا بھی ضروری ہے۔
عملی مشق
مخاطبین سے کہیں کہ کسی ضائع شدہ حق یا حل نہ ہونے والی غلطی کی نشاندہی کریں اور اس کی اصلاح کے لئے کوئی عملی قدم اٹھائیں۔
۵۔ حقوق الناس کی اہمیت پر زور دیں
دوسروں کے حقوق ضائع کرنا اسلام میں نہایت سنگین معاملہ ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
عملی مشق
سب کو ترغیب دیں کہ ہفتے کے اختتام سے پہلے جائزہ لیں کہ آیا وہ کسی شخص سے معافی مانگنے، اس کی رقم واپس کرنے یا اس کا کوئی حق لوٹانے کے ذمہ دار تو نہیں۔
۶۔ ہر شخص کو بات کرنے کا موقع دیں
خاموش یا شرمیلے افراد بھی اتنے ہی حق دار ہیں کہ ان کی بات سنی جائے جتنے پُراعتماد اور سماجی افراد۔
عملی مشق
اپنی اگلی کلاس یا نشست میں کسی ایسے شخص کو اپنی رائے بیان کرنے کی دعوت دیں جو عموماً کم گفتگو کرتا ہے۔
۷۔ کمزور اور آسیب پذیر افراد کے ساتھ کھڑے ہوں
ایک حقیقی مربی اور رہنما ان لوگوں کا دفاع کرتا ہے جو اپنی حفاظت اور دفاع کی طاقت نہیں رکھتے۔
عملی مشق
اپنی برادری میں کسی ایسے شخص کو پہچانیں جو تنہائی یا الگ تھلگ ہونے کا احساس کررہا ہو، اور اس ہفتے ذاتی طور پر اس سے رابطہ کریں۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

