موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 43

Topic of the Week - Volume 03 Issue 43
Last Updated: اکتوبر 27, 2026By Categories: موضوعِ ہفتہ0 Comments on موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 430 min readViews: 15

وحی کے ذریعےداستان گوئی – قرآنِ کریم میں تبلیغی مہارت کے نمونوں کا  ایک  جائزہ

سید ہاشم موسوی

مقدمہ

آج کی دنیا پیغامات کی مسلسل موجودگی کی دنیا ہے۔ انسانوں کا  بیداری کے ابتدائی لمحات سے دن کے اختتام تک خبروں، تصویروں، آوازوں اور داستانوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ یہ پیغامات اس کے علم میں اضافہ کرسکتے ہیں، اس کے جذبات کو ابھار سکتے ہیں اور اس کے انتخاب پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ ایسی دنیا میں پیغام کی شناخت، اس کے اعتبار کو پرکھنے اور ذرائع ابلاغ کے ذمہ دارانہ استعمال کی صلاحیت زندگی کی ضروریات میں شامل ہے۔ ذرائع ابلاغ اور معلوماتی خواندگی کا عالمی ہفتہ، جو ہر سال ۲۴ تا ۳۱ اکتوبر منایا جاتا ہے، اسی ذمہ داری کی طرف متوجہ ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

یہ مناسبت دینی معاشرے کے سامنے بھی ایک بنیادی سوال رکھتی ہے: دین کا پیغام آج کے مخاطب کی زبان میں کس طرح واضح، پُرکشش اور مؤثر انداز سے پیش کیا جاسکتا ہے؟ قرآن کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وحیِ الٰہی معارف کی تعلیم کے ساتھ ساتھ بیان، داستان، منظرنگاری اور مکالمے کی مختلف صلاحیتوں کو بروئے کار لاتی ہے۔ قرآن داستان کے ذریعے مخاطب کو اپنے ساتھ لے چلتا ہے، سوال کے ذریعے ذہن بیدار کرتا ہے، مثال کے ذریعے معنی کو تجربے سے قریب کرتا ہے، اور مشاہدے کی دعوت کے ذریعے کائنات کو معرفت کا میدان بناتا ہے۔ ان اسالیب کا مطالعہ دینی پیغامات کی تیاری اور ابلاغی شعور کی تربیت کے لئے  رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

قرآن اور پیغام پہنچانے کا جامع نظام

ذرائع ابلاغ، پیغام منتقل کرنے اور بھیجنے والے اور مخاطب کے درمیان رابطہ قائم کرنے کا وسیلہ ہیں۔ قرآن اس کردار کو رسالت، ابلاغ، بیان، تلاوت اور کتاب جیسے تصورات کے ایک مربوط نظام میں پیش کرتا ہے۔ ارشاد ہے:

هَٰذَا بَلَاغٌ لِلنَّاسِ

یہ لوگوں کے لئے  ایک پیغام ہے۔

(سورۂ ابراہیم: ۵۲)۔ 

اسی طرح ارشاد ہے:

هَٰذَا بَيَانٌ لِلنَّاسِ

یہ لوگوں کے لئے  واضح بیان ہے۔ (سورۂ آلِ عمران: ۱۳۸)۔

 اس میں حق کو آشکار کرنے اور اسے قابلِ فہم بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

اس نظام میں «رسالت» کا تعلق پیغام پہنچانے کی ذمہ داری سے، «بیان» کا معنی واضح کرنے سے، «کتاب» کا ثبت و بقا سے، «قرآن» کا قراءت و تلاوت سے اور «فرقان» کا حق و باطل میں امتیاز سے ہے۔ یہ تصورات ہدایت بخش ابلاغ کے مختلف پہلو نمایاں کرتے ہیں: پیغام مخاطب تک پہنچے، سمجھ میں آئے، دستیاب رہے اور اس کی قوتِ امتیاز کو بڑھائے۔اس کے مخاطبین کا دائرہ بھی وسیع ہے:

وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَٰذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ

اور یہ قرآن میری طرف وحی کیا گیا ہے تاکہ میں اس کے ذریعے تمہیں اور ہر اس شخص کو خبردار کروں جس تک یہ پہنچے۔

(سورۂ انعام: ۱۹)۔

«وَمَنْ بَلَغَ» کی تعبیر زمانوں اور خطوں میں پیغام کے پھیلاؤ کی صلاحیت یاد دلاتی ہے۔ تلاوت، تعلیم اور کتابت اسی تسلسل کی خدمت میں ہیں؛ چنانچہ قرآن اپنے ہدایت بخش مضامین کے علاوہ پیغام کو منتقل کرنے اور اسے باقی رکھنے کا کردار بھی ادا کرتا ہے۔

ابلاغ کے حکم سے پیغام کی اجتماعی موجودگی تک

قرآن پیغام پہنچانے کو ایک واضح ذمہ داری قرار دیتا ہے:

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ

اے رسول! جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے، اسے پہنچا دیجیے۔

(سورۂ مائدہ: ۶۷)۔

اسی طرح ان لوگوں کا ذکر کرتا ہے جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں:

يُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللَّهِ وَيَخْشَوْنَهُ

وہ اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں۔

 (سورۂ احزاب: ۳۹)۔ 

ور ذمہ داری کے ساتھ وابستہ ہے۔

اہلِ بیت علیہم السلام کی تفسیر میں آیتِ ابلاغ کا تعلق غدیر کے موقع پر امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ولایت کے اعلان سے ہے۔ اس واقعے میں مخاطبین کا اجتماع اور پیغام کا علانیہ اعلان، ابلاغ کے اجتماعی پہلو کی اہمیت واضح کرتا ہے۔ بنیادی پیغام مناسب موقع پر پیش ہونا چاہیے اور اسے سننے، سمجھنے اور آگے پہنچانے کے مواقع فراہم ہونے چاہییں۔ اس اعتبار سے غدیر پیغام کی اہمیت اور اس کے عمومی اعلان کے طریقے میں نسبت پر غور کرنے کی ایک نمایاں مثال ہے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کا ملکۂ سبا کو خط بھی مقصدی رابطے کی ایک دوسری مثال ہے۔ خط بھیجنے کے ساتھ وصول کرنے والوں کے ردِعمل پر بھی توجہ دی گئی ہے:

اذْهَبْ بِكِتَابِي هَٰذَا فَأَلْقِهْ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ

میرا یہ خط لے جاؤ اور اسے ان کے پاس ڈال دو، پھر ان سے الگ ہوکر دیکھو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔

(سورۂ نمل: ۲۸)۔

 اس منظر میں وسیلے کا انتخاب، پیغام کی ترسیل اور جواب یا تاثرات کا حصول ایک ہی ابلاغی عمل کے اجزا ہیں۔

منفرد آغاز اور توجہ حاصل کرنے کا فن

ابلاغ کا پہلا مرحلہ مخاطب کی توجہ حاصل کرنا ہے۔ بعض سورتوں کا آغاز حروفِ مقطعات مثلاً «الم»، «حم»، «ق» اور «ن» سے ہوتا ہے۔ سماعت کے اعتبار سے یہ ایک منفرد ابتدا ہے۔ سننے والا معمول کی گفتگو سے مختلف آغاز سنتا ہے، جس سے اگلی بات کی طرف اس کی توجہ بڑھتی ہے۔ ابلاغ کی یہ صلاحیت مواد تیار کرنے والوں کو یاد دلاتی ہے کہ پیغام کے ابتدائی جملے اور نقطۂ آغاز کی منصوبہ بندی نہایت اہم ہے۔

اسی طرح:

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ

 کہہ دیجیے: اللہ ایک ہے۔ (سورۂ اخلاص: ۱)۔

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى

 اپنے بلند مرتبہ پروردگار کے نام کی تسبیح کیجیے۔ (سورۂ اعلیٰ: ۱)۔

ایسی آیات ایک واضح حکم سے پیغام کا آغاز کرتی ہیں۔ «قُلْ» نبی کو حقیقت بیان کرنے کی دعوت دیتا ہے اور «سَبِّحْ» براہِ راست عبادت کی طرف بلاتا ہے۔ قرآن کا قاری بھی تلاوت کرتے ہوئے توحید کے پیغام کو اپنی زبان پر جاری کرتا اور تسبیح کی دعوت میں شریک ہوتا ہے۔ یہ آغاز توجہ کو شرکت اور عمل سے جوڑتے ہیں۔

آج کے دینی ذرائع ابلاغ ان طریقوں سے رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ کسی پروگرام کا آغاز ایک مختصر جملے، فکرانگیز سوال، بامعنی تصویر یا واضح دعوت سے کیا جاسکتا ہے۔ مناسب ابتدا مخاطب کو اصل مضمون قبول کرنے کے لئے  تیار کرتی ہے اور اسے بتاتی ہے کہ وہ سننا یا دیکھنا کیوں جاری رکھے۔

داستانی کشش اور تجسس کا دروازہ کھولنا

قرآن کا ایک مؤثر اسلوب ایسی عبارت سے گفتگو شروع کرنا ہے جو ذہن کو مشغول کرے اور قصے کو آگے سننے کا شوق پیدا کرے:

وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَىٰ

کیا آپ تک موسیٰ کی داستان پہنچی ہے؟ (سورۂ طٰہٰ: ۹)۔

اس سوال کو سن کر مخاطب ایک اہم واقعے میں داخل ہونے کے لئے  آمادہ ہوجاتا ہے۔ اصحابِ کہف کا قصہ بھی اس انداز سے شروع ہوتا ہے:

أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ آيَاتِنَا عَجَبًا

کیا آپ نے گمان کیا کہ غار اور رقیم والے ہماری نشانیوں میں سے کوئی نہایت عجیب نشانی تھے؟ (سورۂ کہف: ۹)۔

اصحابِ کہف اور رقیم کا ذکر اور ان کے واقعے کی حیرت انگیزی ذہن میں سوال پیدا کرتی ہے: وہ کون تھے اور کیا واقعہ پیش آیا جس نے ان کی سرگزشت کو یادگار بنادیا؟ پھر قصہ آہستہ آہستہ مخاطب کو ان سوالوں کے جواب تک پہنچاتا ہے۔

حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے میں اعلان ہوتا ہے:

إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً

میں زمین میں ایک خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں۔ (سورۂ بقرہ: ۳۰)۔

 یہ انسان سے متعلق ایک بڑے مسئلے کی تمہید بنتا ہے۔ ذوالقرنین کے قصے میں لوگوں کا سوال داستان کا راستہ کھولتا ہے:

وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ

اور لوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ (سورۂ کہف: ۸۳)۔

یہ آغاز داستانی کشش پیدا کرتے ہیں: ایک سوال سامنے آتا ہے جس کے جواب کی خواہش مخاطب کو آگے بڑھاتی ہے۔ مضمون، تقریر، پوڈکاسٹ اور ویڈیو کے لئے  اس اسلوب سے عملی سبق یہ ہے کہ ابتدا ایسے زندہ سوال سے کی جائے جسے مخاطب اپنا مسئلہ سمجھے اور پوری پیشکش کے دوران مرحلہ وار اس کا جواب سمجھ سکے۔

کائنات بطور راوی اور نشانی

قرآن داستان گوئی کو انسان تک محدود نہیں کرتا۔ سورۂ جمعہ اور سورۂ تغابن کی ابتدا میں ارشاد ہے: 

يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔ (سورۂ جمعہ اور سورۂ تغابن: ۱)۔

ایک دوسری آیت میں اس حقیقت کو مزید وسعت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے:

وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ

اور کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو۔ (سورۂ اسراء: ۴۴)۔

اس نگاہ میں کائنات نشانیوں اور معانی سے معمور ہے۔ مخلوقات اپنی تسبیح کے ذریعے خالق کی عظمت بیان کرتی ہیں۔ قرآن انسان کے سامنے یہ افق کھولتا ہے تاکہ وہ اپنے گردوپیش کی دنیا کو زیادہ گہری توجہ سے دیکھے۔ فطرت کا مطالعہ حکمتِ الٰہی، قدرت اور رحمت کی نشانیوں کو سمجھنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

اونٹ، آسمان، پہاڑوں اور زمین کی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت بھی مخاطب کی نگاہ کو قابلِ مشاہدہ مظاہر کی طرف لے جاتی ہے (سورۂ غاشیہ: ۱۷ تا ۲۰)۔ ایک مانوس جانور سے ابتدا کرکے آسمان و زمین کے وسیع منظر تک نظر پھیلانا تصویری داستان گوئی کے لئے  بڑی رہنمائی رکھتا ہے۔ ایک دینی فلم کا کیمرہ تخلیق کی باریکیوں، مختلف مناظر اور مناسب سوالات کے ذریعے مخاطب کو غوروفکر پر مبنی مشاہدے کی دعوت دے سکتا ہے۔

سفر اور مشاہدہ بطور عملی تعلیم

حکم «سِيرُوا فِي الْأَرْضِ» انسان کو چلنے پھرنے اور مشاہدہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ کہیں اس سفر کا مقصد تخلیق کے آغاز پر غور کرنا ہے:

فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ

پھر دیکھو کہ اللہ نے تخلیق کا آغاز کس طرح کیا۔ (سورۂ عنکبوت: ۲۰)۔

اور کہیں گذشتہ قوموں کے انجام کا جائزہ لینا ہے:

فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلُ

پس دیکھو کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو پہلے گزر چکے تھے۔ (سورۂ روم: ۴۲)۔

 ان آیات میں مشاہدہ سوال اور سیکھنے کے ساتھ وابستہ ہے۔

یہ اسلوب فطرت، جغرافیہ اور تاریخ سے متعلق دستاویزی فلموں کے لئے  رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ مخاطب بیان کے ساتھ میدانِ عمل میں جاتا، مظاہر دیکھتا اور ان کے معنی پر غور کرتا ہے۔ کسی تاریخی عمارت کی تصویری روداد عدل اور تہذیبوں کے انجام پر گفتگو کی بنیاد بن سکتی ہے، اور کسی ماحولیاتی نظام کا مشاہدہ حکمتِ تخلیق اور اس کے تحفظ میں انسان کی ذمہ داری پر سوال اٹھا سکتا ہے۔ ایسے بیان میں زمین توحید کی درس گاہ اور تاریخ کی زندہ یادداشت بن جاتی ہے۔

اشارے کی زبان اور معنی کو قریب لانا

قرآن میں استعمال ہونے والے اشارات مخاطب کی توجہ کو سمت دیتے ہیں اور کلام کو اس کے موضوع سے مربوط کرتے ہیں:

هَٰذَا خَلْقُ اللَّهِ

یہ اللہ کی تخلیق ہے۔ (سورۂ لقمان: ۱۱)۔

یہ عبارت ذہن کو سامنے موجود نشانیوں کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ

یہ روشن کتاب کی آیات ہیں۔ (سورۂ یوسف: ۱)۔

یہ آیات کو توجہ کا مرکز بناتی ہے۔

أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ

یہی لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت پر ہیں۔ (سورۂ بقرہ: ۵)۔

یہ تعبیر متقیوں کے اوصاف بیان کرنے کے بعد انہیں ہدایت یافتہ نمونے کے طور پر پیش کرتی ہے۔

یہ طریقہ مبلغین کو عمومی بیان سے واضح مثال تک پہنچنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ امانت داری پر گفتگو کرتے ہوئے امانت محفوظ رکھنے کا ایک حقیقی واقعہ پیش کیا جاسکتا ہے؛ انسانی وقار کے موضوع پر بااحترام رویے کو نمایاں کیا جاسکتا ہے؛ اور عدل کی تشریح میں کسی منصفانہ فیصلے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ مناسب اشارہ مخاطب کی مدد کرتا ہے کہ وہ موضوع کو زندگی کے تجربات میں پہچان سکے۔

مفاہیم کی تفہیم کے لئے  مثال اور تصویر

قرآن مثال کے ذریعے تصور اور تجربے کے درمیان فاصلہ کم کرتا ہے۔ انفاق کو ایسے دانے سے تشبیہ دی جاتی ہے جو سات بالیاں اگاتا ہے (بقرہ: ۲۶۱)؛ باطل سہاروں کی کمزوری کو مکڑی کے گھر سے (عنکبوت: ۴۱)؛ اور خودساختہ معبودوں کی بے بسی کو ایک مکھی پیدا کرنے سے ان کی عاجزی کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے (حج: ۷۳)۔ ہر مثال ایک ایسا تعلق سامنے لاتی ہے جو معنی کو آسان اور دیرپا بنادیتا ہے۔

ان مثالوں کا دائرہ مچھر جیسی چھوٹی مخلوق سے بھی شروع ہوتا ہے:

إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً

یقیناً اللہ اس بات سے نہیں جھجکتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز کی مثال بیان کرے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۶)۔

اور اصحابِ فیل اور ان کے لشکر کے انجام کی داستان تک پہنچتا ہے۔ ان میں مانوس موضوعات اور مختلف پیمانے معنی کی ترسیل کا ذریعہ بنتے ہیں۔ کسی مثال یا تصویر کی تاثیر کا دارومدار اس حقیقت سے اس کی مناسبت پر ہوتا ہے جسے سمجھانا مقصود ہے۔

آج کا دینی ابلاغ بھی روزمرہ زندگی، گھریلو تعلقات، کام کی جگہ اور ڈیجیٹل ماحول سے مثالیں لے سکتا ہے۔ کسی افواہ کو آگے پھیلانے کی ذمہ داری سمجھانے کے لئے  اس کے پھیلاؤ اور کسی خاندان کی عزت پر پڑنے والے اثرات کی کہانی بیان کی جاسکتی ہے۔ یوں وہ عمل، جو بظاہر محض ایک بٹن دبانے کے برابر ہے، اپنے حقیقی نتائج کے ساتھ مخاطب کے سامنے آجاتا ہے۔

قصہ اور پیغام کی ترسیل کی ساخت

قرآن میں قصہ فکر اور احساس کو ساتھ لے کر چلنے کا وسیلہ ہے۔ مخاطب کرداروں، فیصلوں، مشکلات اور ان کے نتائج سے آشنا ہوتا ہے اور کسی سرگزشت کے دوران معنی کو سمجھتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ اس کی ممتاز مثال ہے: ابتدائی خواب، بھائیوں کا حسد، والد سے جدائی، پاک دامنی کی آزمائش، قید، اجتماعی ذمہ داری اور خاندان کی دوبارہ ملاقات ایک مسلسل ساخت میں مربوط ہیں۔ ابتدا میں بیان ہونے والا خواب اور آخر میں اس کی تعبیر کا پورا ہونا اس داستان کو وحدت عطا کرتا ہے (یوسف: ۴ اور ۱۰۰)۔

اس طویل داستان کے مقابلے میں حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ بعض مقامات پر مختصر صورت میں بیان ہوتا ہے، جبکہ قومِ ثمود کی اونٹنی اور بنی اسرائیل کی گائے کے واقعات میں خاص مناظر کو مرکزیت حاصل ہے۔ قصے کی طوالت اور جزئیات کا انتخاب اس کے ہدایتی پیغام سے وابستہ ہوتا ہے۔ کبھی مختصر کہانی کسی اخلاقی حقیقت کو واضح کرتی ہے اور کبھی ایک کردار کے ساتھ طویل سفر اس حقیقت کے مزید پہلو سمجھنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

دینی مواد کے تخلیق کاروں کے لئے  یہ تنوع مفید ہے۔ موضوع کو ضرورت کے مطابق ایک منٹ کی کہانی، مختصر فلم، صوتی ڈرامے یا کئی اقساط کی سیریز کی صورت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ قالب کا انتخاب، مناظر کی ترتیب اور معلومات کے بتدریج آشکار ہونے کا وقت مخاطب کے تجربے کو تشکیل دیتے ہیں۔ مؤثر کہانی مخاطب کو معنی کی دریافت کے سفر میں ساتھ رکھتی ہے۔

جانور اور زاویۂ نگاہ کی وسعت

قرآنی داستانوں میں جانوروں کی موجودگی انسان کی توجہ کے افق کو وسیع کرتی ہے۔ چیونٹی اپنے گروہ کو خطرے سے خبردار کرتی ہے اور حضرت سلیمان علیہ السلام اس کی بات سمجھ لیتے ہیں (نمل: ۱۸، ۱۹)۔ ہُدہُد سرزمینِ سبا کی خبر لاتا ہے اور اس کی رپورٹ تحقیقات اور رابطوں کے ایک سلسلے کا آغاز بن جاتی ہے (نمل: ۲۲ تا ۲۸)۔ اصحابِ کہف کے کتے کی موجودگی بھی غار کے یادگار منظر کا حصہ ہے (کہف: ۱۸)۔

ان داستانوں میں غیرانسانی مخلوقات توجہ کا مرکز بنتی ہیں اور مخاطب نئے زاویے سے دنیا کو دیکھتا ہے۔ یہ صلاحیت اینیمیشن، بچوں کے ادب اور ماحولیات سے متعلق تخلیقات کے لئے  مفید ہوسکتی ہے؛ ایسی تخلیقات جن میں مخلوقات کی زندگی پر توجہ نگہداشت، ذمہ داری اور تخلیق کی معرفت کا ذریعہ بنے۔

رازِ معرفت اور غوروفکر کی تحریک

مؤثر ابلاغ کا ایک پہلو ایسا افق کھولنا ہے جو مخاطب کو مزید سوچنے پر آمادہ کرے۔ قرآن روح کے بارے میں سوال کے جواب میں فرماتا ہے:

قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي

کہہ دیجیے: روح میرے پروردگار کے امر میں سے ہے۔ (سورۂ اسراء: ۸۵)۔

اس کے بعد انسان کے علم کی کمی بیان ہوتی ہے۔ یہ اسلوب حقیقت کی گہرائی اور معرفت کے وسیع افق کی طرف توجہ دلاتا ہے۔

لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ

 اس جیسی کوئی چیز نہیں۔ (سورۂ شوریٰ: ۱۱)۔

یہ تعبیر ذہن کو اس خیال سے بلند کرتی ہے کہ خدا کو محسوس اشیا کے مانند سمجھا جائے۔ مخاطب کو ایسی حقیقت میں غوروفکر کی دعوت ملتی ہے جو اس کے محدود تجربوں میں محصور نہیں۔ اس طریقے سے حیرت، علمی فروتنی اور سمجھنے کی خواہش پروان چڑھتی ہے۔

دینی ابلاغ میں اس طرزِ فکر سے ایسی تخلیقات وجود میں آسکتی ہیں جو دیکھنے کے بعد بھی ذہن میں کوئی گہرا سوال باقی رکھیں۔ رات کے آسمان کی تصویر، زندگی اور موت پر غور، یا دعا کے تجربے کی روداد معنی اور خدا کے ساتھ انسانی تعلق کے بارے میں مکالمہ شروع کرسکتی ہے۔ اس طرح ابلاغی تخلیق ٹھہر کر سوچنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

مخاطبین کا تنوع اور پیغام کی پائیداری

قرآن کے خطابات مختلف مخاطبین اور ابلاغی حالات کا احاطہ کرتے ہیں۔ «يَا أَيُّهَا النَّاسُ» عام انسانی مخاطب رکھتا ہے؛ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا» اہلِ ایمان کو ان کی ایمانی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتا ہے؛ عقل والوں سے خطاب فکر کی صلاحیت کو سرگرم کرتا ہے؛ اور «يَا عِبَادِيَ» قربت اور امید کے لہجے میں بندگی کا رشتہ یاد دلاتا ہے۔ استدلال، نصیحت، قصہ، بشارت اور انذار کی گوناگونی بھی رابطے کے مختلف راستے فراہم کرتی ہے۔

بنیادی اصول یہ ہے:

وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ

اور ہم نے ہر رسول کو اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا تاکہ وہ ان کے لئے  واضح طور پر بیان کرے۔ (سورۂ ابراہیم: ۴)۔

اس آیت سے پیغام کے قابلِ فہم ہونے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ برطانیہ جیسے کثیراللسانی معاشرے میں مختلف نسلوں کی زبانوں، سوالات اور تجربات پر توجہ اسی ابلاغی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ خاندان کے بارے میں ایک ہی پیغام، نوجوان، نئے شادی شدہ جوڑے اور عمررسیدہ والدین کے لئے  الگ الگ مثالوں اور مناسب ابتدائی نکات کا تقاضا کرتا ہے۔

بیان کی لے اور مناسب تکرار بھی پیغام کو یادگار بناتی ہے۔ سورۂ رحمٰن میں «فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» کی بار بار آمد، مختلف نعمتوں اور مناظر کے درمیان، مخاطب کو ایک مرکزی سوال کی طرف لوٹاتی ہے۔ اس سے ایسی سیریز کی تشکیل کے لئے  رہنمائی لی جاسکتی ہے جس میں ایک پیغام کو مختلف صورتِ حال میں پیش کرکے ہر بار اس کا نیا پہلو واضح کیا جائے۔

قرآنی اخلاق کی روشنی میں میڈیا لٹریسی

قرآن پیغام پہنچانے کے طریقے سکھانے کے ساتھ پیغام وصول کرنے اور اسے پرکھنے کی ذمہ داری بھی یاد دلاتا ہے۔ کسی فاسق کی لائی ہوئی خبر کے بارے میں «فَتَبَيَّنُوا» کا حکم اس لئے  ہے کہ لاعلمی میں دوسروں کو نقصان نہ پہنچایا جائے (حجرات: ۶)۔

وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ

اور جس بات کا تمہیں علم نہیں، اس کی پیروی نہ کرو۔ (سورۂ اسراء: ۳۶)۔

یہ آیت انسان کو علمی ذمہ داری کی طرف بلاتی ہے۔

ہُدہُد کی داستان میں اس کے «نَبَإٍ يَقِينٍ» یعنی یقینی خبر لانے کے دعوے کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام تحقیق کرتے ہیں:

سَنَنْظُرُ أَصَدَقْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْكَاذِبِينَ

ہم دیکھیں گے کہ تم نے سچ کہا ہے یا تم جھوٹ بولنے والوں میں سے ہو۔ (سورۂ نمل: ۲۷)۔

خبر اور تحقیق کا یہ ربط آج کی تبدیل شدہ تصویروں، بے حوالہ اقوال اور افواہوں کے مقابلے میں رہنمائی دیتا ہے۔ خبر کے ماخذ، شواہد اور اسے آگے پھیلانے کے نتائج پر توجہ گھر اور اسلامی مرکز میں دینی تعلیم کا حصہ بن سکتی ہے۔

«حکمت اور اچھی نصیحت» کے ساتھ دعوت دینا (نحل: ۱۲۵)، نیز قول و عمل میں ہم آہنگی (صف: ۲، ۳) اعتماد کو مضبوط کرتی ہے۔ دینی ذرائع ابلاغ جب ان اصولوں پر عمل کرتے ہیں تو مخاطب کی سمجھ، عزتِ نفس اور قوتِ فیصلہ کا احترام کرتے ہیں۔ ان کی کامیابی کا معیار معرفت میں وضاحت، اعتماد میں اضافہ اور ذمہ دارانہ رویے کا فروغ ہوسکتا ہے۔

قرآنی نمونوں سے آج کی ابلاغی جدت تک

قرآن سے حاصل ہونے والے ابلاغی اصول نئی شکلوں میں بھی استعمال ہوسکتے ہیں۔ سوال و جواب انٹرایکٹو پروگرام میں، مشاہدے کی دعوت دستاویزی فلم اور تصویری سفرنامے میں، تمثیل اینیمیشن اور وضاحتی تصویر میں، اور قصہ فلم، صوتی ڈرامے اور ڈیجیٹل داستان میں ظاہر ہوسکتا ہے۔ یہ صلاحیت میڈیا سے وابستہ افراد اور مبلغین کے لئے  جدت کے امکانات کھولتی ہے۔

«آگے شیئر کرنے سے پہلے» کے عنوان سے ایک سلسلے میں مخاطب کے سامنے کوئی خبر پیش کی جاسکتی ہے، پھر اسے خبر کے ماخذ، تاریخ اور شواہد کی جانچ میں شریک کیا جاسکتا ہے۔ «ایک مشاہدے میں ایک آیت» نامی سلسلہ کسی قدرتی مظہر یا تاریخی یادگار سے آغاز کرکے مستند مشاہدے کو قرآنی تفکر سے جوڑ سکتا ہے۔ «آپ کیا فیصلہ کریں گے؟» پروگرام میں مخاطب کسی گھریلو یا معاشرتی صورتِ حال کے بارے میں فیصلہ کرے اور پھر اس کے نتائج اور اخلاقی معیارات پر غور کرے۔

ایک ہی موضوع کئی سطحوں پر بھی پیش کیا جاسکتا ہے: سوال اٹھانے کے لئے  مختصر مواد، تشریح کے لئے  مکالمہ اور گہرے مطالعے کے لئے  مستند تحریر۔ یہ تسلسل ابتدائی توجہ سے فہم اور پھر عمل تک سفر کا راستہ بناتا ہے۔ مخاطب کی رائے حاصل کرنا اور یہ جانچنا کہ اس نے کیا سمجھا ہے، ان تخلیقات کی اصلاح اور بہتری میں بھی معاون ہوتا ہے۔

انسانی ارتقا کے لئے  پیغام رسانی

قرآن کے اسالیبِ بیان کا مطالعہ ذرائع ابلاغ پر غور کرنے کے لئے  ایک نہایت بھرپور نمونہ فراہم کرتا ہے۔ قرآن پیغام کو لوگوں کی دسترس میں لاتا ہے، توجہ بیدار کرتا ہے، فکر اور احساس کو ساتھ لے کر چلتا ہے اور مخاطب کو مشاہدے، سوال، فیصلے اور عمل کی دعوت دیتا ہے۔ ان طریقوں سے رہنمائی لینے کے نتیجے میں دینی معارف پہنچانے کی نئی صورتیں پیدا ہوسکتی ہیں، جو آج کے انسان کی زبان اور ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔

ذرائع ابلاغ اور معلوماتی خواندگی کا عالمی ہفتہ دینی مراکز کے لئے  موقع ہے کہ وہ ایک طرف اپنے پیغامات کی تیاری کا معیار بہتر بنائیں اور دوسری طرف مخاطبین میں پیغامات کو جانچنے کی صلاحیت مضبوط کریں۔ قرآنی نقطۂ نظر سے ذرائع ابلاغ اپنی رسالت کے قریب اس وقت پہنچتے ہیں جب وہ انسان کو حقیقت سے زیادہ باخبر، فیصلہ کرنے میں زیادہ محتاط اور اپنے رویے میں زیادہ ذمہ دار بنائیں۔ ایسا ابلاغ توجہ کو آگہی اور آگہی کو انسانی ارتقا کا وسیلہ بنادیتا ہے۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔