موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 34
امام حسن عسکری علیہ السلام ’’انسانِ ۲۵۰ سالہ‘‘ کے تناظر میں
عصرِ حضور سے عصرِ غیبت کی طرف منتقلی کی منصوبہ بندی
سید ہاشم موسوی
مقدمہ
اگر ائمہ علیہم السلام میں سے ہر امام کی زندگی کا الگ الگ مطالعہ کیا جائے تو امام حسن عسکری علیہ السلام کی امامت کا دور بظاہر ایک مختصر، محدود اور کم واقعات پر مشتمل زمانہ دکھائی دیتا ہے؛ چھ سالہ دور، جس کا ایک بڑا حصہ سامرّاء میں عباسی حکومت کی سخت نگرانی میں گزرا۔ لیکن اگر اسے ’’انسانِ ۲۵۰ سالہ‘‘ کے زاویۂ نگاہ سے دیکھا جائے تو یہی مختصر دور، تاریخِ امامت کے نہایت حساس اور فیصلہ کن مراحل میں سے ایک بن جاتا ہے۔
اس نقطۂ نظر کے مطابق، ائمہ علیہم السلام الگ الگ اور جداگانہ منصوبوں کے حامل منتشر شخصیات نہیں تھے، بلکہ سب مختلف تاریخی حالات میں ایک ہی حقیقت کی نمائندگی کرتے تھے۔[کَلامُکُمْ نُورٌ وَ امْرُکُمْ رُشْدٌ:’’آپ کا کلام نور ہے اور آپ کا امر رشد و ہدایت ہے۔‘‘ (زیارت جامعہ کبیرہ)] ان سب کا بنیادی مقصد خالص اسلام کی حفاظت، اہل بیت علیہم السلام کی دینی مرجعیت کی وضاحت، مؤمن معاشرے کی تربیت، اور الٰہی حاکمیت کے قیام کے لئے زمین ہموار کرنا تھا؛ اگرچہ اس مقصد تک پہنچنے کے طریقے زمانے کے حالات کے مطابق بدلتے رہے۔
اس پورے سلسلے میں امام حسن عسکری علیہ السلام کے ذمے ایک نہایت خاص ذمہ داری تھی: سابقہ ائمہ علیہم السلام کی اعتقادی، علمی، اخلاقی اور تنظیمی کاوشوں کو ایک ایسے پائیدار نظام میں تبدیل کرنا جو عصرِ حضور کے اختتام کے بعد بھی شیعہ معاشرے کی حفاظت اور رہنمائی کر سکے۔ اسی لئے شاید امام حسن عسکری علیہ السلام کے خصوصی کردار کو ’’عصرِ حضور سے عصرِ غیبت کی طرف منتقلی کے منصوبے کی تکمیل‘‘ کہا جا سکتا ہے، جس کا آغاز امام رضا علیہ السلام کے بعد ہو چکا تھا۔
250 سالہ جدوجہد کا دشوار ترین مرحلہ
امام حسن عسکری علیہ السلام سنہ 254 ہجری میں امام ہادی علیہ السلام کی شہادت کے بعد ایسے حالات میں منصبِ امامت پر فائز ہوئے جب عباسی خلافت اہل بیت علیہم السلام کے بارے میں غیر معمولی حد تک حساس اور سخت ہو چکی تھی۔ آپ سامرّاء میں قیام پذیر تھے، جو ایک فوجی شہر اور خلافت کے سپاہیوں اور حکومتی اہلکاروں کا مرکزی مقام تھا۔ ایسے شہر میں رہائش نے امام کے لئے شیعوں سے آزادانہ رابطے تقریباً ناممکن بنا دیے تھے۔
بعض تاریخی روایات میں آیا ہے کہ امام علیہ السلام کو مخصوص دنوں میں دارالخلافہ میں اپنی موجودگی ظاہر کرنا پڑتی تھی۔ شیعوں کو بھی عوامی مقامات پر امام کو سلام کرنے یا کھلے طور پر اشارہ کرنے سے منع کیا گیا تھا،[ علی بن جعفر حلبی نقل کرتے ہیں: ایک دن، جب امام علیہ السلام کو دارالخلافہ جانا تھا، ہم آپ کے دیدار کے انتظار میں جمع ہوئے۔ اسی دوران امام کی جانب سے ایک توقیع موصول ہوئی، جس میں فرمایا گیا: ’’کوئی شخص مجھے سلام نہ کرے، بلکہ میری طرف اشارہ بھی نہ کرے، کیونکہ تم محفوظ نہیں ہو۔‘‘ راوندی، الخرائج والجرائح، ج 1، ص 439۔]
اس کے باوجود یہی دور مختلف اسلامی علاقوں کے ساتھ امام کے وسیع ارتباط کا بھی گواہ ہے۔ تاریخی شواہد عراق، حجاز، یمن، قم، ری، نیشاپور، گرگان، ہمدان اور اہواز کے شیعوں سے امام علیہ السلام کے روابط کی خبر دیتے ہیں۔
یہ حقیقت امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور کی ایک نہایت اہم خصوصیت واضح کرتی ہے: حکومت امام کی ذات کو تو ایک فوجی شہر میں محدود کر سکتی تھی، لیکن امامت کے جریان کو محدود نہ کر سکی۔
شہید امام کے تعبیر کے مطابق:
’’حضرت عسکری علیہ السلام اسی شہر سامرّاء میں، جو حقیقتاً ایک فوجی چھاؤنی کی مانند تھا، ایک عظیم تبلیغی اور تعلیمی نیٹ ورک کے ذریعے پورے عالمِ اسلام کے ساتھ اتنے وسیع روابط منظم کرنے میں کامیاب ہوئے۔‘‘
وہ مزید تاکید کرتے ہیں کہ امام کی سرگرمیاں صرف انفرادی اور عبادی مسائل کے جواب دینے تک محدود نہیں تھیں، بلکہ آپ ’’امام کے مقام پر، اسی اسلامی مفہوم کے ساتھ‘‘ معاشرے سے گفتگو کرتے تھے۔
خطرناک ترین مرحلے میں سلسلۂ امامت کا تحفظ
امام حسن عسکری علیہ السلام کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی جان کی حفاظت اور ساتھ ہی شیعوں کے لئے آپ کی ولادت اور امامت کو ثابت کرنا تھا۔
عباسی حکومت امام مہدی موعود سے متعلق روایات سے آگاہ تھی اور جانتی تھی کہ وہ خاندانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ سے ہوں گے اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہوں گے۔ اسی بنا پر امام کے گھر اور خاندان کو انتہائی سخت نگرانی میں رکھا گیا تھا۔
امام عسکری علیہ السلام کو بظاہر دو متضاد کام ایک ساتھ انجام دینا تھے:
- اپنے فرزند کی ولادت کو حکومتی اہلکاروں سے مخفی رکھنا؛
- اور معتبر و قابلِ اعتماد افراد اور شیعہ معاشرے کے لئے ان کے وجود اور امامت کو ثابت کرنا۔
امام علیہ السلام کی حکمتِ عملی ایک طرح کی ’’مرحلہ وار اور محدود سطح پر آشکار سازی‘‘ تھی۔ ولادت کی خبر عام لوگوں اور حکومتی نظام سے پوشیدہ رکھی گئی، لیکن خاندان کے بعض افراد، اصحاب، وکلا اور قابلِ اعتماد شیعوں کو اس سے آگاہ کیا گیا۔
حدیثی روایات میں آیا ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے فرزند کو بعض اصحاب کے سامنے پیش کیا اور انہیں اپنے بعد امام اور حجّتِ خدا کے طور پر متعارف کرایا۔
ان روایات میں سے ایک واقعہ، جسے مرحوم شیخ طوسی نے اپنی کتاب الغیبة میں شیعوں کے ایک گروہ سے نقل کیا ہے، یوں بیان ہوا ہے:
’’ہم امام حسن عسکری علیہ السلام کے بعد حجّتِ الٰہی کے بارے میں سوال کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں جمع ہوئے۔ مجلس میں چالیس افراد موجود تھے۔ عثمان بن سعید عَمری کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے فرزندِ رسول خدا! میں آپ سے ایک ایسے مسئلے کے متعلق سوال کرنا چاہتا ہوں جسے آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔
امام نے فرمایا: اے عثمان! بیٹھ جاؤ۔
عثمان کچھ رنجیدہ ہو کر اٹھے تاکہ مجلس سے باہر چلے جائیں، لیکن امام نے فرمایا: کوئی شخص باہر نہ جائے۔ چنانچہ ہم میں سے کوئی بھی باہر نہ نکلا۔
کچھ وقت گزرنے کے بعد امام علیہ السلام نے عثمان کو آواز دی۔ وہ اٹھے اور امام کے سامنے کھڑے ہو گئے۔
امام نے فرمایا: کیا میں تمہیں بتاؤں کہ تم میرے پاس کیوں آئے ہو؟
حاضرین نے عرض کیا: جی ہاں، اے فرزندِ رسول خدا!
آپ نے فرمایا: تم میرے بعد حجّتِ الٰہی کے بارے میں سوال کرنے آئے ہو۔
انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔
اسی وقت اچانک ایک نوجوان ظاہر ہوا جو گویا چاند کا ٹکڑا تھا اور سب لوگوں سے زیادہ امام حسن عسکری علیہ السلام سے مشابہ تھا۔ امام نے فرمایا:
«هذا إمامكم من بعدي وخليفتي عليكم أطيعوه ولا تتفرقوا من بعدي فتهلكوا في أديانكم، ألا وإنكم لا ترونه من بعد يومكم هذا حتى يتم له عمر، فاقبلوا من عثمان ما يقوله، وانتهوا إلى أمره، واقبلوا قوله، فهو خليفة إمامكم والأمر إليه»
’’یہ میرے بعد تمہارا امام اور تم پر میرا جانشین ہے۔ اس کی اطاعت کرنا اور میرے بعد دین کے معاملے میں اختلاف اور پراکندگی کا شکار نہ ہونا، ورنہ تم ہلاک ہو جاؤ گے۔ آگاہ رہو کہ آج کے بعد تم اسے نہیں دیکھو گے، یہاں تک کہ اس کی مقررہ عمر کا زمانہ پورا ہو۔ پس عثمان بن سعید جو کچھ تم سے کہیں اسے قبول کرنا، ان کے حکم کی پیروی کرنا اور ان کی بات کو ماننا، کیونکہ وہ تمہارے امام کے نمائندہ ہیں اور امور کی تدبیر ان کے سپرد ہے۔‘‘ [شیخ طوسی، کتاب الغیبة، حدیث ۳۱۹۔]
البتہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد شیعہ معاشرہ کچھ مدت کے لئے اختلاف اور حیرت کا شکار ہوا، لیکن امام علیہ السلام کی تدابیر نے اس بات کو یقینی بنایا کہ امامت کا اصیل سلسلہ ختم نہ ہو۔
امام نے غیبت کے امتحان کو ختم نہیں کیا، بلکہ شیعوں کو اس امتحان سے صحیح طور پر گزرنے کا راستہ فراہم کیا۔
امام کی حکمتِ عملی کی نزاکت یہ تھی کہ آپ نے ’’شخصِ حجّت‘‘ کو دشمن کی دسترس سے مخفی رکھا، لیکن ان کی ’’حجیت کی دلیل‘‘ کو آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ کر دیا۔
نظامِ وکالت کی تکمیل
امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور میں نظامِ وکالت کی بنیاد از سرِ نو نہیں رکھی گئی تھی۔ اس کی ابتدائی بنیادیں امام صادق علیہ السلام کے زمانے میں قائم ہو چکی تھیں اور امام کاظم، امام جواد اور امام ہادی علیہم السلام کے ادوار میں یہ نظام مزید وسعت اختیار کر گیا تھا۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کا بنیادی کردار یہ تھا کہ اس نظام کو مکمل، منظم اور پاکیزہ بنایا جائے اور اسے اس مرحلے کے لئے تیار کیا جائے جب امام تک براہِ راست رسائی تقریباً ناممکن ہو جانے والی تھی۔
وکلا کی ذمہ داری صرف شرعی وجوہات وصول کرنا نہیں تھی، بلکہ ان کے ذمے متعدد اہم امور بھی تھے:
- امام کے خطوط، توقیعات اور جوابات لوگوں تک پہنچانا؛
- شرعی وجوہات وصول کرنا اور انہیں مقررہ مقاصد میں خرچ کرنا؛
- دینی سوالات کے جوابات دینا؛
- ضرورت مند شیعوں کی مدد کرنا؛
- شیعہ معاشرے کے اندرونی اختلافات کو حل کرنا؛
- جھوٹے دعوے داروں اور منحرف فکری رجحانات کا مقابلہ کرنا؛
- مختلف شیعہ علاقوں کے درمیان رابطہ برقرار رکھنا۔
امام ہادی اور امام حسن عسکری علیہما السلام کے زمانے میں شیعوں کے امام سے تعلق کا ایک بڑا حصہ خطوط اور نمائندوں کے ذریعے قائم ہوتا تھا۔ یہی نیٹ ورک بعد میں غیبتِ صغریٰ کے آغاز کے ساتھ امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے رابطے کا بنیادی ڈھانچہ بن گیا۔
اس نظام کی نمایاں ترین شخصیات میں عثمان بن سعید عمری تھے، جو پہلے ہی امام ہادی علیہ السلام کے موردِ اعتماد تھے۔ بعد میں امام حسن عسکری علیہ السلام نے بھی عثمان بن سعید اور ان کے فرزند محمد بن عثمان کے بارے میں فرمایا:
«العَمریُّ وابنُه ثقتان، فما أدّیا إلیک فعنّی یؤدّیان، وما قالا لک فعنّی یقولان، فاسمع لهما وأطعهما، فإنّهما الثقتان المأمونان»
’’عمری اور ان کا بیٹا دونوں قابلِ اعتماد ہیں۔ وہ جو کچھ تم تک پہنچائیں گے، میری طرف سے پہنچائیں گے، اور جو کچھ تم سے کہیں گے، میری طرف سے کہیں گے۔ پس ان کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو، کیونکہ یہ دونوں قابلِ اعتماد اور امانت دار ہیں۔‘‘ [ الکافی، ج ۳، ص ۲۰۰۔]
عثمان بن سعید اور محمد بن عثمان کا انتخاب تاریخی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا تھا، کیونکہ بعد میں یہی دونوں بالترتیب امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے پہلے اور دوسرے نائب بنے۔ اس طرح امام حسن عسکری علیہ السلام نے غیبت کے آغاز سے پہلے ہی شیعہ معاشرے میں اس رابطہ کار نظام پر اعتماد کی بنیاد رکھ دی تھی جو عصرِ غیبت میں کام آنے والا تھا۔
براہِ راست رسائی کے بغیر اطاعت کی تربیت
شیعہ معاشرہ اس وقت تک، اگرچہ ہمیشہ امام تک مکمل اور آزادانہ رسائی نہیں رکھتا تھا، پھر بھی امام کی ظاہری موجودگی اور ملاقات کے امکان سے آشنا تھا۔ لیکن غیبت کے آغاز کے ساتھ یہ محدود امکان بھی ختم ہونے والا تھا۔ اس لئے ضروری تھا کہ معاشرہ پہلے ہی امام سے رابطے کی ایک نئی صورت کے لئے تیار ہو۔
براہِ راست ملاقاتوں میں کمی، بعض مجالس میں امام کا پردے کے پیچھے سے گفتگو کرنا، خطوط کے ذریعے جواب دینا، لوگوں کو وکلا کی طرف رجوع کرانا اور امام کے دستخط اور توقیعات کی معتبر حیثیت پر تاکید کرنا، یہ سب آہستہ آہستہ شیعوں کو اس حقیقت کا عادی بنا رہے تھے کہ امام کی ہدایت ہمیشہ اس کی ظاہری شخصیت کو دیکھنے کے مترادف نہیں ہوتی۔
اس دور میں امام سے رابطے کا طریقہ تین بنیادی جہتوں میں تبدیل ہوا:
- حضوری ملاقات سے تحریری رابطے کی طرف؛
- براہِ راست رجوع سے وکیل کے ذریعے رجوع کی طرف؛
- امام کو دیکھنے پر انحصار سے حجّت، نشانی اور معتبر نمائندے پر اعتماد کی طرف۔
اس تبدیلی کا مطلب امام کی حیثیت کو کم کرنا نہیں تھا، بلکہ امام تک رسائی کی صورت بدل رہی تھی۔ امام نے شیعوں کو یہ سکھایا کہ ’’شخص کی غیبت‘‘ اور ’’حجّت و ہدایت کی غیبت‘‘ میں فرق کریں۔ ممکن ہے امام کی ذات نگاہوں سے اوجھل ہو، لیکن اس کا فرمان، معیار، نمائندہ اور ہدایت کا راستہ معاشرے میں باقی رہتا ہے۔
امامت کے سیاسی اور سماجی مفہوم کا تحفظ
امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور کے تجزیے میں ایک اہم غلطی یہ ہے کہ آپ کی سرگرمیوں کو صرف شرعی احکام کے بیان یا غیبت کے لئے عقیدتی تیاری تک محدود کر دیا جائے۔ امام شدید حفاظتی اور سیاسی پابندیوں کے باوجود جامع دینی اور سماجی مرجعیت کے دعوے دار اور عملی رہنما تھے۔
شرعی وجوہات وصول کرنا، وکلا مقرر کرنا، مختلف علاقوں کی رہنمائی کرنا، پیروکاروں کی مالی مدد، بدعنوان نمائندوں کو برطرف کرنا، سماجی مسائل کے جوابات دینا اور شیعہ معاشرے کی سیاسی سمت پر نظر رکھنا، یہ سب اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ اس دور میں امامت محض علمی یا انفرادی مرجعیت نہیں تھی۔
امام حسن عسکری علیہ السلام نے مسلح قیام شروع نہیں کیا، کیونکہ سماجی اور سیاسی حالات ایسے اقدام کے لئے سازگار نہیں تھے۔ لیکن دوسری طرف آپ خلافت کے نظام میں ضم بھی نہیں ہوئے اور نہ ہی دربار کے ایک سرکاری عالم میں تبدیل ہوئے۔ آپ نے ایک تیسرا راستہ اختیار کیا، جسے ’’تنظیمی مزاحمت‘‘ کہا جا سکتا ہے: امامت کی مستقل شناخت کا تحفظ، پوشیدہ روابط کی توسیع، قابلِ اعتماد افراد کی تربیت اور شیعہ معاشرے کو عباسی نظام میں تحلیل ہونے سے بچانا۔
اس نقطۂ نظر سے امام کی ظاہری خاموشی، جدوجہد سے کنارہ کشی کی علامت نہیں تھی، بلکہ اس مرحلے کے مطابق جدوجہد کی ایک موزوں صورت تھی، کیونکہ کھلی تحریک امام، آپ کے جانشین اور پورے شیعہ نیٹ ورک کی تباہی کا سبب بن سکتی تھی۔
تشیع کو محض جذباتی وابستگی سے اخلاقی و سماجی شناخت میں تبدیل کرنا
ایک ایسا معاشرہ جسے طویل دورِ غیبت سے گزرنا تھا، وہ صرف امام سے جذباتی محبت اور عقیدت کے سہارے قائم نہیں رہ سکتا تھا۔ اسے اندرونی طور پر اخلاقی استحکام، باہمی اعتماد اور ذمہ داری کے احساس کی ضرورت تھی۔ اسی لئے امام حسن عسکری علیہ السلام کی تعلیمات کا ایک اہم حصہ شیعوں کی سماجی اخلاقیات سے متعلق ہے۔
آپ فرماتے ہیں:
«أوصیکم بتقوى الله، والورع فی دینکم، والاجتهاد لله، وصدق الحدیث، وأداء الأمانة… وحسن الجوار»
’’میں تمہیں تقوائے الٰہی، دین میں پرہیزگاری، خدا کے لئے کوشش، راست گوئی، امانت ادا کرنے اور ہمسایوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔‘‘
پھر فرمایا:
«کونوا زیناً ولا تکونوا شیناً»
’’ہمارے لئے باعثِ زینت بنو، باعثِ ننگ نہ بنو۔‘‘
امام علیہ السلام شیعوں کو یہ بھی تعلیم دیتے ہیں کہ وہ لوگوں کے درمیان فعال طور پر موجود رہیں، ان کے مریضوں کی عیادت کریں، ان کے جنازوں میں شریک ہوں، امانت دار اور خوش اخلاق رہیں، تاکہ لوگ جب ان کے کردار کو دیکھیں تو کہیں: ’’یہ شخص شیعہ ہے‘‘ اور یہ طرزِ عمل امام کی خوشنودی کا باعث بنے۔[ ان وصیتوں کا ایک مجموعہ تحف العقول، ص ۴۸۷–۴۸۸ میں نقل ہوا ہے۔]
یہ ہدایات محض فردی اخلاقی نصیحتوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ عصرِ غیبت میں شیعہ معاشرے کی بقا کا ایک سماجی پروگرام ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جسے امام تک ظاہری رسائی حاصل نہ ہو، اسے اس طرح تربیت یافتہ ہونا چاہیے کہ اس کا ہر فرد مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کا اخلاقی نمائندہ بن جائے۔
جس نیٹ ورک میں سچائی اور امانت نہ ہو، وہ جلد ہی اندر سے ٹوٹ جاتا ہے؛ اور جو معاشرہ تنہائی، سخت مزاجی اور بدسلوکی کا شکار ہو، وہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور مثبت اثر ڈالنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔
اسی لئے امام حسن عسکری علیہ السلام نظامِ وکالت کے ساتھ ساتھ ایک ’’شبکۂ اعتماد‘‘ بھی تعمیر کر رہے تھے۔ وکالت کا نظام شیعہ معاشرے کے بیرونی تنظیمی ڈھانچے کو محفوظ رکھتا تھا، جبکہ اخلاق اس کی اندرونی یکجہتی اور استحکام کو برقرار رکھتا تھا۔
انتظار کی تفسیر: منظم اور تنظیم یافتہ استقامت
امام حسن عسکری علیہ السلام شیعوں کو عصرِ غیبت کی مشکلات، پیدا ہونے والے شکوک و شبہات اور اپنے جانشین کے بارے میں ممکنہ اختلافات سے آگاہ کرتے تھے۔ بعض خطوط میں آپ انہیں صبر، انتظارِ فرج اور دوسروں کو ثابت قدمی کی دعوت دینے کی تاکید بھی فرماتے تھے۔
لیکن اس فکری نظام میں انتظار کا مطلب معاشرے سے کنارہ کشی اختیار کرنا نہیں تھا۔ ایک منتظر شیعہ کو بیک وقت تین اہم ذمہ داریاں پوری کرنا ہوتی ہیں:
- اپنے عقیدے پر ثابت قدم رہے؛
- معتبر نظامِ ہدایت کے ساتھ اپنا رابطہ برقرار رکھے؛
- اخلاق اور سماجی ذمہ داری کے ذریعے معاشرے میں حق کو قبول کرنے کی فضا وسیع کرے۔
اس بنا پر امام حسن عسکری علیہ السلام کے مکتب میں انتظار کو ’’مقصد کے راستے میں منظم استقامت‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ منتظر معاشرہ کوئی معلق، گوشہ نشین یا ذمہ داری سے عاری معاشرہ نہیں ہوتا، بلکہ ایسا معاشرہ ہے جو امام کی ظاہری عدم موجودگی میں بھی اپنے راستے، معیار اور ذمہ داری سے جدا نہیں ہوتا۔
’’انسانِ ۲۵۰ سالہ‘‘ میں امام حسن عسکری علیہ السلام کا آخری اور فیصلہ کن مقام
اگر سابقہ ائمہ علیہم السلام کے کردار کو تشیع کے اعتقادی، علمی، اخلاقی اور تنظیمی سرمائے کی تشکیل اور توسیع قرار دیا جائے، تو امام حسن عسکری علیہ السلام کا بنیادی کردار ان تمام سرمایوں کو ’’عصرِ غیبت کے لئے ایک پائیدار نظام‘‘ میں تبدیل کرنا تھا۔
امام حسن عسکری علیہ السلام نے:
- سلسلۂ امامت کو نابودی کے خطرے سے محفوظ رکھا؛
- حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی ولادت اور امامت کو خواص اور قابلِ اعتماد افراد کے لئے ثابت کیا؛
- نظامِ وکالت کو مکمل کیا اور مستقبل کے نمائندوں کی حیثیت مستحکم کی؛
- شیعہ معاشرے کو امام کے ساتھ بالواسطہ رابطے کا عادی بنایا؛
- عباسی خلافت کے مقابلے میں امامت کے جامع، دینی اور سماجی مفہوم کو محفوظ رکھا؛
- شیعہ کی اخلاقی اور سماجی شناخت کو مضبوط کیا؛
- اور انتظار کو صبر، ذمہ داری اور ثابت قدمی کے ساتھ جوڑ دیا۔
سنہ ۲۶۰ ہجری میں امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے ساتھ ’’انسانِ ۲۵۰ سالہ‘‘ کا مشن ختم نہیں ہوا، بلکہ اس کی موجودگی اور ہدایت کی صورت بدل گئی۔ ائمہ علیہم السلام کی ظاہری موجودگی کا دور اختتام پذیر ہوا، لیکن وہ میراث جسے امام حسن عسکری علیہ السلام نے منظم اور مستحکم کیا تھا، غیبتِ صغریٰ اور بعد ازاں غیبتِ کبریٰ میں بھی سلسلۂ امامت اور ہدایت کے تسلسل کا ذریعہ بنی۔
اسی لئے امام حسن عسکری علیہ السلام کو صرف ’’عصرِ حضور کے آخری امام‘‘ کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے؛ بلکہ آپ ’’عصرِ غیبت کے معاشرے کے اولین معمار‘‘ بھی تھے۔
آپ کی حکمتِ عملی کا کمال یہ تھا کہ:
آپ نے ملاقات کے مواقع کم کیے، لیکن ہدایت کو کم نہیں ہونے دیا؛
حجّتِ خدا کی ذات کو دشمن سے پوشیدہ رکھا، لیکن اس کی حجّیت کو پوشیدہ نہ ہونے دیا؛
اور امامت کے مرکز کو دشمن کے محاصرے میں محفوظ رکھا، لیکن ہدایت کے نیٹ ورک کو عالمِ اسلام کے دور دراز علاقوں تک پھیلا دیا۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

