سدا بہار قرآنی کہانیاں – جلد 03 شمارہ 32

Everlasting Tales of the Quran – Volume 03 Issue 32

حضرت صالحؑ اور قومِ ثمود – خوشحالی کی انتہا سے سرکشی کے انجام تک

قومِ ثمود قدیم عرب اقوام میں سے تھی جو قومِ عاد کے بعد آباد ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں “حِجر” نامی سرسبز اور زرخیز علاقے (جو حجاز اور شام کے درمیان واقع تھا) میں بسایا۔

یہ قوم فنِ تعمیر اور انجینئرنگ میں نہایت ترقی یافتہ تھی۔ قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ وہ میدانوں میں عالی شان محلات تعمیر کرتے اور پہاڑوں کو تراش کر مضبوط اور محفوظ مکانات بناتے تھے۔

﴿وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ عَادٍ وَبَوَّأَكُمْ فِي الْأَرْضِ تَتَّخِذُونَ مِنْ سُهُولِهَا قُصُورًا وَتَنْحِتُونَ الْجِبَالَ بُيُوتًا…﴾

(الأعراف: 74)

ترجمہ:

“اور یاد کرو جب اللہ نے قومِ عاد کے بعد تمہیں ان کا جانشین بنایا اور تمہیں زمین میں اقتدار عطا کیا، تم اس کے میدانوں میں محلات تعمیر کرتے تھے اور پہاڑوں کو تراش کر اپنے لیے گھر بناتے تھے۔”

لیکن آسائش، دولت اور طاقت نے انہیں غرور، بت پرستی، ظلم اور سرکشی میں مبتلا کر دیا۔ معاشرے پر متکبر سرداروں کا قبضہ تھا اور فساد ہر طرف پھیل چکا تھا۔

حضرت صالحؑ کی بعثت

اللہ تعالیٰ نے حضرت صالحؑ کو، جو اپنی قوم میں شریف، امانت دار اور دانا شخصیت کے طور پر معروف تھے، اپنا رسول بنا کر بھیجا۔

انہوں نے اپنی قوم کو:

* اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت،

* عدل و انصاف،

* اسراف اور فساد سے اجتناب

کی دعوت دی۔

لیکن قوم نے حیرت اور انکار کے ساتھ جواب دیا:

﴿قَالُوا يَا صَالِحُ قَدْ كُنْتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَذَا أَتَنْهَانَا أَنْ نَعْبُدَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا…﴾

(ہود: 62)

ترجمہ:

“انہوں نے کہا: اے صالح! اس سے پہلے تو تم ہماری امیدوں کا مرکز تھے، کیا اب تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکتے ہو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں؟”

معجزے کا مطالبہ

آخرکار قوم کے متکبر سرداروں نے کہا:

﴿مَا أَنْتَ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا فَأْتِ بِآيَةٍ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾

(الشعراء: 154)

ترجمہ:

“تم تو ہماری ہی طرح ایک انسان ہو، اگر سچے ہو تو کوئی معجزہ لے آؤ۔”

روایات کے مطابق انہوں نے مطالبہ کیا:

“اگر تم واقعی اللہ کے رسول ہو تو اس سخت چٹان کے اندر سے ایک سرخ رنگ کی حاملہ اونٹنی نکال کر دکھاؤ۔”

حضرت صالحؑ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔

اللہ کے حکم سے پہاڑ شق ہوا اور اسی چٹان سے ایک عظیم الجثہ سرخ رنگ کی حاملہ اونٹنی ظاہر ہوئی، جس نے فوراً بچہ بھی جنا۔

قرآن اسے “ناقۃُ اللہ” (اللہ کی اونٹنی) قرار دیتا ہے، جو قوم کے لیے ایک کھلا امتحان تھی۔

حضرت صالحؑ کی اونٹنی کی نمایاں خصوصیات 

1۔ معجزانہ پیدائش

یہ اونٹنی عام پیدائش کے ذریعے نہیں بلکہ براہِ راست ایک سخت چٹان سے نمودار ہوئی، جو خود قوم کے مطالبے کے مطابق ایک واضح معجزہ تھا۔

2۔ غیر معمولی جسامت

روایات کے مطابق وہ عام اونٹنیوں سے کہیں زیادہ بڑی اور شاندار تھی۔

3۔ سرخ رنگ

اس کے بال سرخی مائل تھے، جیسا کہ متعدد روایات میں مذکور ہے۔

4۔ پانی کی تقسیم

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿قَالَ هَٰذِهِ نَاقَةٌ لَهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ﴾

(الشعراء: 155)

ترجمہ:

“صالح نے کہا: یہ اللہ کی اونٹنی ہے، اس کے لیے پانی پینے کا ایک مقررہ دن ہے اور تمہارے لیے بھی ایک مقررہ دن۔”

جس دن اونٹنی کی باری ہوتی، وہ چشمے کا پانی پی لیتی۔

لیکن اس کے بدلے اسی دن اتنا دودھ دیتی کہ پورا شہر سیراب ہو جاتا اور لوگ اگلے دن کے لیے بھی دودھ محفوظ کر لیتے۔

5۔ جانوروں پر اس کی ہیبت

روایات کے مطابق جب وہ پانی پینے آتی تو دوسرے تمام جانور اس کی عظمت کی وجہ سے خود بخود راستہ چھوڑ دیتے تھے۔

اونٹنی: صرف معجزہ نہیں بلکہ امتحان

حضرت صالحؑ نے حکم دیا:

﴿فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللَّهِ﴾

(الأعراف: 73)

ترجمہ:

“اسے اللہ کی زمین میں آزاد چھوڑ دو تاکہ چرے۔”

نیز فرمایا:

﴿وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ﴾

“اسے کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچانا۔”

اس اونٹنی کو نقصان پہنچانا گویا اللہ کے خلاف اعلانِ جنگ تھا۔

اونٹنی کا قتل

اونٹنی کی موجودگی نے ظالم سرداروں کی طاقت کو چیلنج کر دیا۔

قرآن ان کے بارے میں فرماتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلانے والے نو افراد اس سازش میں شریک تھے۔

ان میں سب سے بدبخت شخص قدار بن سالف تھا، جسے اسلامی روایات میں “اشقی الاولین” کہا گیا ہے۔

اس نے گھات لگا کر پہلے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں، پھر اسے قتل کر دیا۔

اس کے بعد انہوں نے حضرت صالحؑ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا:

﴿فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ وَقَالُوا يَا صَالِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ﴾

(الأعراف: 77)

ترجمہ:

“پس انہوں نے اونٹنی کو قتل کر دیا، اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور کہا: اے صالح! اگر تم واقعی رسول ہو تو وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو۔”

اونٹنی کے بچے کا انجام

اس بارے میں دو مشہور روایات ہیں:

پہلی روایت (زیادہ مشہور)

اونٹنی کا بچہ پہاڑ کی طرف بھاگا، تین مرتبہ بلند آواز سے چیخا، پھر اللہ کے حکم سے پہاڑ شق ہوا اور وہ اس میں غائب ہو گیا۔

حضرت صالحؑ نے فرمایا کہ انہی تین چیخوں کے مطابق قوم کو تین دن کی مہلت دی گئی۔

دوسری روایت

بعض تاریخی روایات کے مطابق باغیوں نے اونٹنی کے بچے کو بھی پکڑ کر ذبح کر دیا۔

تاہم مفسرین کی اکثریت پہلی روایت کو زیادہ معتبر قرار دیتی ہے۔

عذاب سے پہلے تین دن کی مہلت

ان تین دنوں میں عذاب کی نشانیاں ظاہر ہونے لگیں:

* پہلا دن: چہرے زرد ہو گئے۔

* دوسرا دن: چہرے سرخ ہو گئے۔

* تیسرا دن: چہرے سیاہ ہو گئے۔

پھر صبح کے وقت اللہ کا عذاب نازل ہوا۔

یہ عذاب:

* آسمانی خوفناک چیخ (صیحہ)،

* بجلی کی کڑک (صاعقہ)،

* اور شدید زلزلہ (رجفہ)

کا مجموعہ تھا۔

تمام سرکش لوگ اپنے گھروں میں ہلاک ہو گئے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت صالحؑ اور ان کے مومن ساتھیوں کو نجات عطا فرمائی۔

حضرت صالحؑ کے آخری الفاظ

قرآن بیان کرتا ہے:

﴿فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَٰكِنْ لَا تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ﴾

(الأعراف: 79)

ترجمہ:

“پھر صالح ان سے منہ موڑ کر بولے: اے میری قوم! میں نے اپنے رب کا پیغام تم تک پہنچا دیا تھا اور تمہاری خیرخواہی بھی کی تھی، لیکن تم خیرخواہوں کو پسند نہیں کرتے تھے۔”

اس واقعے کے سماجی اور نفسیاتی اسباق

1۔ اخلاق کے بغیر خوشحالی، زوال کا پیش خیمہ ہے۔

دولت، ٹیکنالوجی اور ترقی اس وقت تک مفید ہیں جب وہ اخلاق اور انسانیت کی خدمت کریں۔ مادی ترقی اگر روحانی اور اخلاقی تربیت سے خالی ہو تو انسان خود کو بے نیاز سمجھنے لگتا ہے اور یہی غرور اس کے زوال کا سبب بنتا ہے۔

2۔ ظلم کے سامنے خاموشی، جرم میں شرکت ہے۔

اونٹنی کو ایک شخص نے قتل کیا، لیکن عذاب پوری قوم پر آیا، کیونکہ اکثریت نے اس ظلم پر خاموش رضامندی اختیار کی۔ جو معاشرہ ظلم اور فساد کے مقابلے میں خاموش رہتا ہے، وہ بالآخر اس کے نتائج میں شریک ہو جاتا ہے۔

3۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم ہی اصل امتحان ہے۔

اونٹنی کے معجزے کے ساتھ پانی کی عادلانہ تقسیم کا حکم بھی دیا گیا۔ جب طاقتور طبقے کو اپنے قبضے میں موجود وسائل دوسروں کے ساتھ بانٹنے پڑے تو ان کی سرکشی آشکار ہو گئی۔ کسی بھی معاشرے کا اخلاقی معیار اسی وقت سامنے آتا ہے جب وسائل اور حقوق کی منصفانہ تقسیم کا مسئلہ درپیش ہو۔

4۔ حقیقت کو مٹانے سے حقیقت نہیں بدلتی۔

قومِ ثمود نے اپنی اصلاح کرنے کے بجائے حق کی نشانی یعنی اونٹنی کو ختم کر دیا۔ فرد یا معاشرہ اگر تنقید کرنے والوں یا حق کی علامتوں کو مٹا دینے کی کوشش کرے تو اس سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی بلکہ تباہی کا سفر تیز ہو جاتا ہے۔

5۔ ہٹ دھرمی عقل کو اندھا کر دیتی ہے۔

اونٹنی کو قتل کرنے کے بعد بھی انہوں نے توبہ کرنے کے بجائے تکبر سے کہا: “اگر سچے ہو تو عذاب لے آؤ!” جب غرور انسان پر غالب آ جائے تو وہ اپنی غلطی ماننے کے بجائے اپنی تباہی تک اس پر اڑا رہتا ہے۔

6۔ اللہ کی مہلت غفلت نہیں بلکہ اتمامِ حجت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس عظیم جرم کے باوجود انہیں تین دن کی مہلت دی تاکہ شاید وہ توبہ کر لیں، مگر انہوں نے اس مہلت کو بھی مذاق سمجھا۔ زندگی میں اصلاح کے جو مواقع ملتے ہیں، انہیں معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہ ہمیشہ باقی نہیں رہتے۔

ماخذ 

قرآن کریم

* سورۂ اعراف (73–79)

* سورۂ ہود (61–68)

* سورۂ شعراء (141–159)

* سورۂ قمر (23–31)

* سورۂ شمس (11–15)

معتبر تفاسیر و روایات

*تفسیر المیزان (علامہ طباطبائی)

*تفسیر نمونہ (آیت اللہ مکارم شیرازی)

*کمال الدین (شیخ صدوق)

*نہج البلاغہ، خطبہ 201، جس میں امیرالمؤمنین حضرت علیؑ نے قومِ ثمود پر اجتماعی عذاب کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ اگرچہ اونٹنی کو ایک شخص نے قتل کیا، لیکن پوری قوم اس پر راضی تھی، اس لیے سب عذاب کے مستحق قرار پائے۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔