موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 25

Topic of the Week - Volume 03 Issue 25
Last Updated: جون 18, 2026By Categories: موضوعِ ہفتہ0 Comments on موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 250 min readViews: 9

عاشورا؛ دین کی نجات اور ہماری آج کی ذمہ داری

سید ہاشم موسوی

تمہید

ہر سال محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ایک بنیادی سوال ہمارے دینی شعور کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے: عاشورا نے دینِ خدا کو تحریف اور نابودی کے خطرے سے کیسے بچایا، اور آج اس کے نتیجے میں ہماری کیا ذمہ داری بنتی ہے؟

یہ سوال صرف ایک تاریخی واقعے کا مطالعہ نہیں، بلکہ اس رسالت کو سمجھنے کا نام ہے جو کربلا سے شروع ہوئی اور آج تک جاری ہے۔

مشہور قول: "الإسلامُ مُحمَّدیُّ الحُدوثِ وحُسَینیُّ البقاء” یعنی: "اسلام کا آغاز محمدی ہے اور اس کی بقا حسینی ہے"

 عام طور پرشیعہ فکرکو  فلسفۂ عاشورا کا نچوڑ سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ عبارت بعینہٖ روایات میں وارد نہیں ہوئی، لیکن اس حقیقت کی ترجمانی کرتی ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے اسلام کی بنیاد رکھی اور امام حسینؑ نے اپنی قربانی کے ذریعے اسے تحریف اور فنا سے محفوظ رکھا۔

اسی حقیقت کی طرف زیارتِ اربعین میں اشارہ کیا گیا ہے:

«إِنَّ الْحُسَيْنَ بَذَلَ مُهْجَتَهُ فِيكَ لِيَسْتَنْقِذَ عِبَادَكَ مِنَ الْجَهَالَةِ وَحَيْرَةِ الضَّلَالَةِ»

"حسینؑ نے تیرے راستے میں اپنے دل کا خون پیش کر دیا تاکہ تیرے بندوں کو جہالت اور گمراہی کی سرگردانی سے نجات دلائیں۔"

لیکن یہ بات کہ "اسلام کی بقا حسینی ہے" اپنی حقیقی معنویت اُس وقت آشکار کرتی ہے جب ہم یہ سمجھیں کہ امام حسین علیہ السلام کے دور میں اسلام کو درحقیقت کس قسم کے خطرے کا سامنا تھا۔ کیا اسلامی معاشرہ صرف ایک فاسق اور ظالم حکمران کے تسلط میں آ گیا تھا، یا خود دینِ اسلام کی بنیادیں، اس کی شناخت اور اس کا حقیقی پیغام تحریف اور نابودی کے دہانے پر پہنچ چکا تھا؟

اگر اسلام واقعی ایسے نازک مرحلے سے گزر رہا تھا تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے اپنی عظیم تحریک اور قربانی کے ذریعے کس طرح دین کو اس خطرے سے بچایا؟ اور اگر عاشورا اسلام کی بقا کا سبب بنا، تو اس نجات کے نتیجے میں بعد کی نسلوں پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟

ان سوالات کے جوابات ہمیں فلسفۂ عاشورا کی گہرائیوں تک لے جاتے ہیں اور یہ حقیقت آشکار ہوجاتی ہے  کہ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ دین کی حفاظت، حق کی پاسداری اور امت کی بیداری کا ایک دائمی منشور ہے۔

پہلا حصہ: امام حسینؑ کے دور میں اسلام کو کس خطرے کا سامنا تھا؟

امام حسینؑ کے زمانے میں خطرہ صرف یزید کی ذاتی بدکاری نہ تھا، بلکہ اصل خطرہ یہ تھا کہ اسلام اپنی حقیقت سے خالی ہو کر صرف ایک ظاہری نام بن کر رہ جائے۔ بنی امیہ نے طاقت، دولت اور پروپیگنڈے کے ذریعے ایسی فضا پیدا کر دی تھی جس میں اسلام کی روح دفن ہوتی جا رہی تھی۔ یہ انحراف، کئی بنیادی اور بڑے اسباب پر مشتمل  تھا :

1۔ خلافت کا موروثی بادشاہت میں تبدیل ہوجانا

معاویہ نے پہلی بار اسلامی حکومت کو قیصری و کسروی طرز کی موروثی بادشاہت میں تبدیل کیا اور یزید کو ولی عہد مقرر کیا۔

اس طرح:

  • عدل کی جگہ اشرافیت نے لے لی۔
  • مساوات کی جگہ نسلی امتیاز آ گیا۔
  • بیت المال کو عوام کی امانت کے بجائے حکمرانوں کی ملکیت بنادیا گیا۔

امام حسینؑ دراصل حکومت کی ایک معمولی غلطی کے خلاف نہیں بلکہ اسلامی نظام کی ماہیت بدلنے کے خلاف اٹھے تھے۔

2۔ دین کے نام پر علانیہ فسق و فجور کا آغاز

یزید شراب نوشی، عیاشی اور دینی احکام سے بے پروائی کے لیے مشہور تھا۔

اصل خطرہ اس کی ذاتی گناہ گاری نہیں تھا، بلکہ یہ تھا کہ وہ "خلیفۂ رسول” کہلاتا تھا۔

اس سے بھی بڑھ کر اس کے منسوب اشعار میں وحی اور نبوت کا انکار پایا جاتا ہے:

«لَعِبَتْ هاشِمُ بِالْمُلْكِ فَلا خَبَرٌ جاءَ وَلا وَحْيٌ نَزَلَ»

ایسے شخص کی بیعت درحقیقت اس کی روش کو اسلامی نمونہ تسلیم کرنے کے مترادف تھی۔

اسی لئے حسینؑ نے فرمایا:

«وَعَلَى الإِسْلَامِ السَّلَامُ إِذْ قَدْ بُلِيَتِ الأُمَّةُ بِرَاعٍ مِثْلِ يَزِيد»

"اگر امت یزید جیسے حکمران کی متحمل ہو جائے تو اسلام کو الوداع کہہ دینا چاہیے۔" 

3۔ دینی اقدار کا الٹ جانا اور دینی  مفاہیم  کا  تبدیل ہوجانا

بنی امیہ نے دینی مفاہیم کو اس طرح بدل دیا کہ:

  • ظلم کو امن و امان کہا جانے لگا۔
  • خاموشی کو مصلحت قرار دیا گیا۔
  • چاپلوسی کو دینداری سمجھا گیا۔
  • ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کو فتنہ قرار دیا گیا۔

یہاں تک کہ لوگ امام حسینؑ کو باغی اور یزید کو دین کا محافظ سمجھنے لگے۔

4۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا تعطّل

معاشرے کے خواص خرید لیے گئے اور عوام خوف یا دنیا طلبی میں مبتلا ہو گئے۔

امام حسینؑ نے خود اپنے قیام کا مقصد بیان فرمایا:

«إِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الإِصْلَاحِ فِي أُمَّةِ جَدِّي، أُرِيدُ أَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ»

"میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں، میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں۔" 

5۔ اہلِ بیتؑ کی مرجعیت کا  مکمل خاتمہ

بنی امیہ چاہتے تھے کہ اہل بیتؑ کی علمی اور روحانی قیادت کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے تاکہ ان کے ظلم کے خلاف کوئی معیار باقی نہ رہے۔

اگر امام حسینؑ بیعت کر لیتے تو یہ منصوبہ ہمیشہ کے لئے کامیاب ہو جاتا۔

دوسرا حصہ: عاشورا نے اسلام کو کیسے بچایا؟

سید الشہداء امام حسین علیہ السلام نے اپنی جان، اپنے اہلِ بیت اور اپنے وفادار اصحاب کی قربانی پیش کر کے سوئی ہوئی امت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا اور اسلامی معاشرے میں ایک عظیم فکری اور ایمانی بیداری پیدا کی۔ آپؑ کی یہ تحریک کئی اہم پہلوؤں سے اسلام کی بقا اور حفاظت کا سبب بنی:

  • اسلامِ حقیقی اور اسلامِ اموی کے درمیان واضح امتیاز

واقعۂ کربلا سے پہلے عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد حکمرانوں کے اعمال اور طرزِ حکومت کو ہی اسلام سمجھتی تھی۔ امام حسین علیہ السلام، جو نواسۂ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے، کی مظلومانہ شہادت نے بنی امیہ کے چہرے سے دینداری کا نقاب اتار دیا۔ لوگوں پر یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ اگر اسلام میں عدل، تقویٰ، حق طلبی اور انسانی کرامت نہ ہو تو محض اسلام کا نام باقی رہ جانے سے دین زندہ نہیں رہتا۔ کربلا نے یہ واضح کر دیا کہ ظالم حکومت اور حقیقی اسلام دو الگ راستے ہیں اور حکومتِ جور کو دین کا نمائندہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

  • امت کے ضمیر اور روحِ مزاحمت کا احیاء

اگرچہ عاشورا ظاہری اعتبار سے ایک عسکری اور ظاہری شکست تھی، لیکن حقیقت میں یہ خوف کی شکست اور حق کی فتح تھی۔ امام حسین علیہ السلام نے امت کو یہ سبق دیا کہ حقانیت کا معیار افراد کی تعداد یا ظاہری طاقت نہیں، بلکہ اصول اور حقیقت ہیں۔ اس قربانی نے مسلمانوں کے اندر ایک نئی بیداری پیدا کی جس کے نتیجے میں بعد ازاں متعدد اصلاحی اور احتجاجی تحریکیں وجود میں آئیں، جیسے قیامِ توّابین اور قیامِ مختار۔ انہی تحریکوں نے حکمرانوں کو یہ احساس دلایا کہ دین کو مکمل طور پر مٹانا یا اس کی تعلیمات کو ختم کرنا اب ممکن نہیں رہا۔

  • تاریخ کے لئے ایک دائمی معیار اور اصول کی تشکیل

امام حسین علیہ السلام نے اپنے مشہور فرمان:

«مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَ يَزِيد»

"مجھ جیسا شخص یزید جیسے شخص کی بیعت نہیں کر سکتا”

کے ذریعے ایک ایسا دائمی معیار قائم کر دیا جو ہر دور کے انسان کے لیے حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے کا پیمانہ بن گیا۔ یہ جملہ صرف ایک تاریخی موقف نہیں، بلکہ ایک ہمیشگی رکھنے والا اصول ہے، جس کی روشنی میں ہر نسل اپنے حالات، اپنے حکمرانوں اور اپنی دینی و اخلاقی ذمہ داریوں کا جائزہ لے سکتی ہے۔

  • پیغام کی ترسیل کا دائمی اور مؤثر نظام

بنی امیہ کسی سیاسی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچل سکتے تھے، لیکن کربلا کے روحانی، اخلاقی اور جذباتی اثرات کو مٹا نہیں سکتے تھے۔ امام زین العابدین علیہ السلام اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اس پیغام کو زندہ رکھنے کے لیے عزاداری، خطابت، زیارت، مرثیہ گوئی اور مقتل خوانی کی بنیاد رکھی۔ یہی مجالس اور شعائر بعد میں ایک مستقل فکری و سماجی نظام بن گئے، جس نے نسل در نسل واقعۂ کربلا اور اسلامِ ناب محمدیؐ کا پیغام منتقل کیا۔ یوں عاشورا محض ایک واقعہ نہ رہا، بلکہ ایک دائمی مدرسہ، ایک زندہ میڈیا اور ایک مسلسل بیداری کی تحریک بن گیا، جو آج بھی اسلام کی حقیقی روح کی حفاظت کر رہی ہے۔

تیسرا حصہ: آج ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ ذاتی فريضہ یا دائمی نمونہ؟ 

عاشورا کی تفسیر اور فلسفے سے متعلق اہم مباحث میں سے ایک یہ ہے کہ آیا امام حسین علیہ السلام کا قیام صرف آپؑ کی ذات کے ساتھ مخصوص ایک غیر معمولی اور استثنائی فريضہ تھا، یا یہ ایک ایسا نمونہ اور ذمہ داری ہے جو آنے والی نسلوں تک بھی امتداد پاتی ہے؟

مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کا واضح اور دوٹوک مؤقف یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کا اقدام صرف ایک شخصی فريضہ نہیں تھا، بلکہ ایک عمومی اصول، دائمی ضابطہ اور پوری امت کے لیے ایک عملی نمونہ ہے۔

اس کی سب سے روشن دلیل خود امام حسین علیہ السلام کا وہ خطبہ ہے جو آپؑ نے کربلا کے سفر کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث نقل کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

«مَنْ رَأَى سُلْطَاناً جَائِراً مُسْتَحِلّاً لِحُرُمِ اللّٰهِ … فَلَمْ يُغَيِّرْ عَلَيْهِ بِفِعْلٍ وَلا قَوْلٍ كَانَ حَقّاً عَلَى اللّٰهِ أَنْ يُدْخِلَهُ مَدْخَلَهُ … وَأَنَا أَحَقُّ مَنْ غَيَّرَ»

"جو شخص کسی ایسے ظالم حکمران کو دیکھے جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دیتا ہو … اور وہ زبان یا عمل کے ذریعے اس کی مخالفت نہ کرے، تو اللہ کے نزدیک وہ اسی ظالم کے انجام کا مستحق ہوگا … اور میں اس صورتِ حال کو بدلنے کے لیے سب سے زیادہ ذمہ دار ہوں۔" 

اس حدیث میں استعمال ہونے والا لفظ «مَنْ» (جو کوئی بھی) اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ یہ حکم کسی ایک زمانے یا ایک شخصیت تک محدود نہیں، بلکہ تمام زمانوں اور تمام مؤمنین کے لیے ایک دائمی قانون ہے۔

یہی منطق امام حسین علیہ السلام کے اس تاریخی اور فیصلہ کن موقف میں بھی نظر آتی ہے جو آپؑ نے یزید کی بیعت کے مطالبے کے جواب میں اختیار فرمایا:

«مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَ يَزِيد»

"مجھ جیسا شخص یزید جیسے شخص کی بیعت نہیں کر سکتا۔"

اس جملے میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام صرف اپنی ذات اور یزید کی شخصیت کے بارے میں گفتگو نہیں فرما رہے، بلکہ ایک ابدی اصول بیان کر رہے ہیں۔

«مِثْلِي» (مجھ جیسا) اور «مِثْلَ يَزِيد» (یزید جیسا) کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہر وہ شخص جو حق، ایمان اور عدل کے راستے پر ہو، وہ ظلم، فساد، تحریفِ دین اور باطل نظام کو جواز نہیں دے سکتا۔

جس طرح حدیث "من رأى سلطاناً جائراً" ایک عمومی ذمہ داری بیان کرتی ہے، اسی طرح "مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَ يَزِيد” بھی ہر دور کے مؤمن کے لیے حق اور باطل کے درمیان موقف متعین کرنے کا ایک دائمی معیار ہے۔

اسی بنیاد پر عاشورا کی ثقافت کو تاریخ کے مختلف ادوار میں اس معروف حقیقت کے ذریعے بیان کیا گیا:

"كُلُّ يَوْمٍ عَاشُورَاءُ وَكُلُّ أَرْضٍ كَرْبَلَاءُ” "ہر دن عاشورا ہے اور ہر سرزمین کربلا ہے۔”

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر روز بعینہٖ واقعۂ کربلا دہرایا جاتا ہے، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ حق اور باطل، عدل اور ظلم، ہدایت اور گمراہی کے درمیان کشمکش کسی ایک زمانے تک محدود نہیں۔ ہر دور میں باطل نئے چہروں کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے اور ہر دور میں اہلِ ایمان کو یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ وہ کس صف میں کھڑے ہیں۔

قرآن کی نظر میں ہماری ذمہ داری

قرآنِ مجید بھی مؤمنین کو محض تماشائی بن کر رہنے کی اجازت نہیں دیتا، بلکہ انہیں عدل قائم کرنے اور خیر کی دعوت دینے کا حکم دیتا ہے:

﴿كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ﴾

"عدل کو قائم کرنے والے بنو۔”

اور فرمایا:

﴿وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ﴾

"تم میں ایک ایسی جماعت ہونی چاہیے جو لوگوں کو خیر کی طرف بلائے۔”

لہٰذا عاشورا کا پیغام محض جذباتی وابستگی کا نام نہیں، بلکہ یہ عملی ذمہ داریوں کا تقاضا کرتا ہے۔

۱۔ عقیدے کی حفاظت کی جائے اور اس کی مسلسل تشریح  کی جائے

ہر نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو پہچانے اور دوسروں تک پہنچائے۔

ہمیں عاشورا کے پیغام، یعنی:آزادی و حریت،عدالت طلبی،حق گوئی،ذلت کے سامنے نہ جھکنے، جیسی اقدار کو زندہ رکھنا ہوگا۔

اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ عاشورا کو محض رسم، جذباتی اظہار یا مقصد سے خالی عزاداری میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے، بلکہ اسے ایک بیدار کرنے والی اور اصلاحی تحریک کے طور پر محفوظ رکھا جائے۔

۲۔ حریت اور سماجی حساسیت کا تحفظ

امام حسین علیہ السلام نے عاشورا کے دن دشمنوں کے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

«إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ دِينٌ وَكُنْتُمْ لَا تَخَافُونَ الْمَعَادَ فَكُونُوا أَحْرَاراً فِي دُنْيَاكُمْ»

"اگر تمہارے پاس دین نہیں اور تم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، تو کم از کم اپنی دنیا میں آزاد انسان بن جاؤ۔"

یہ پیغام صرف لشکرِ یزید کے لئے نہیں تھا، بلکہ ہر زمانے کے انسان کے لئے ہے۔

جو شخص خود کو حسینی کہتا ہے، وہ معاشرے میں پائے جانے والے:

  • ظلم،غربت،کرپشن،فکری انحراف،اخلاقی زوال،سے بے تعلق نہیں رہ سکتا۔

۳۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا احیاء

کربلا کا سب سے اہم عملی درس یہ ہے کہ معاشرے میں اصلاح کا عمل کبھی رُکنا نہیں چاہیے۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر صرف چند انفرادی اعمال تک محدود نہیں، بلکہ اس کا ایک اہم پہلو اجتماعی اور معاشرتی اصلاح بھی ہے۔

اس لئے:

  • ظلم کے خلاف آواز اٹھانا،
  • حق کی حمایت کرنا،
  • اجتماعی برائیوں کی اصلاح کی کوشش کرنا،
  • امت کے مسائل کے حل میں حصہ لینا، یہ سب عاشورا کے پیغام کا تسلسل ہیں۔

اسی لئے کہا جا سکتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا احیاء، کربلا سے امت تک منتقل ہونے والی سب سے بڑی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔

نتیجۂ کلام: عاشورا صرف 61 ہجری کا ایک واقعہ نہیں، بلکہ اسلام کی بقا کا دائمی ضامن ہے۔

امام حسینؑ نے اپنے خون سے اسلام کو تحریف اور خاموشی سے بچایا، اور بعد کی نسلوں پر یہ ذمہ داری عائد کر دی کہ وہ:

  • بصیرت پیدا کریں،
  • حق کا دفاع کریں،
  • امر بالمعروف کو زندہ رکھیں،
  • ظلم کے سامنے خاموش نہ رہیں،
  • اور دین کی حقیقی روح کی حفاظت کریں۔

لہٰذا عاشورا کو زندہ رکھنا صرف عزاداری نہیں، بلکہ اس تاریخی اور ایمانی ذمہ داری کو زندہ رکھنا ہے جس کے لیے امام حسینؑ نے اپنی جان، اپنے اہلِ بیتؑ اور اپنے اصحاب کو قربان کیا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو امام حسین علیہ السلام کے مقصد کو سمجھیں، اس پر عمل کریں اور اسے آنے والی نسلوں تک پہنچائیں۔

السلام علی الحسین،وعلی علی بن الحسین،وعلی أولاد الحسین،وعلی أصحاب الحسین۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔