فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 17
نماز ِمسافر (آٹھواں حصہ)
مراجعِ عظامِ تقلید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای، آیت اللہ العظمیٰ سیستانی اور آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی (دام عزّہم العالی) کے فتوؤں کے مطابق۔
نوٹ: اس پینل میں مسائل کا ذکر (بلا اختلاف یا حوالہ کےساتھ )
جومسائل بغیر کسی مخالف رائے یا خاص حوالہ کے ذکر کئے گئے ہیں، وہ تینوں بزرگ مراجع کے مشترک فتاوی ہیں۔ اور جہاں کسی ایک مرجع کا فتویٰ دوسرے دو سے مختلف ہو، وہاں اسی نمبر کے تحت اس مرجع کےنام کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔
ایک مقام پر دس دن کا قیام: سفر کے ختم ہونے کی دوسری وجہ
(دس دن کے قیام کا حکم)
1۔ اگر مسافر کسی ایک جگہ پر پوری پختگی کے ساتھ دس دن قیام کا ارادہ کرے تو اس کی نماز پوری ہوگی؛ لیکن اگر وہ بغیر ارادے یا شک کے ساتھ ٹھہرے تو نماز قصر رہے گی۔
2۔ اگر ارادہ نہ کیا ہو لیکن اسے یقین یا اطمینان ہو کہ وہ دس دن ٹھہرے گا، تو بھی اس کی نماز پوری ہوگی، لیکن صرف (دس دن قیام کا)گمان کافی نہیں۔
آیت اللہ سیستانی: اگرچہ اسے علم یا اطمینان ہو، لیکن جب تک واضح قصد نہ ہو، وہ مسافر ہی شمار ہوگا اور اس کی نماز قصر ہوگی۔
آیت اللہ مکارم شیرازی: دس دن ٹھہرنے کا حقیقی ارادہ ضروری ہے؛ صرف علم یا اطمینان کافی نہیں، اور ایسی صورت میں اس کی نماز قصر ہی رہے گی۔
- قیام پورے دس دن سے کم نہیں ہونا چاہیے؛ حتیٰ کہ ایک گھنٹہ بھی کم ہو تو قیام کا حکم جاری نہیں ہوگا اور نماز قصر رہے گی۔
- جب دس دن کا قیام محقق ہو جائے، تو جب تک وہ اس مقام سے خارج نہ ہو، اس کی نماز پوری رہے گی اور نئے ارادے کی ضرورت نہیں۔
- قیام کا ارادہ نماز پر موقوف نہیں؛ لہٰذا حائض یا نفساء خواتین بھی قیام کا ارادہ کر سکتی ہیں، اور اگر اس مدت میں نماز نہ بھی پڑھیں تو یہ ایام پھر بھی اسی "دس دن کے قیام” میں شمار ہوں گے۔
دس دن کے قیام کے تحقق کی شرائط
1۔ دس دن کا قیام مسلسل ہو اوردرمیان میں کسی سفر کا ارادہ بھی نہ ہو؛ اگر ان دس دنوں کے درمیان کسی سفر (مثلاً مسافتِ شرعی تک جانے) کا ارادہ ہو تو قیام صحیح نہیں ہوگا۔
2۔ اگر ابتدا ہی سے یہ ارادہ ہو کہ ان دس دنوں میں کچھ چھوٹے سفر بھی کرنا ہے ، جوکہ عرفاً معمولی کہلاتے ہوں ( وہ سفر جس کی مسافت ، چار فرسخ سے کم ہو اور عرف کے لحاظ سے ایک جگہ مقیم ہونے کے منافی نہ ہو)، تو کوئی حرج نہیں اور قیام کا حکم صادق آتاہے۔
3۔دس دن قیام کا معیار،عرفی اعتبار سے ہے، یعنی ایک دن طلوعِ آفتاب سے غروب تک کہلاتا ہے؛ لہٰذا اگر کوئی شخص طلوعِ آفتاب کے وقت کسی جگہ پہنچے اور دسویں دن کے غروب تک رکنے کا ارادہ کرے تو اس کی نماز پوری ہوگی، اور ضروری نہیں کہ پہلی اور آخری رات بھی وہیں گزارے۔
4۔ ان دس دنوں کی درمیانی راتیں بھی قیام میں شامل ہیں؛ اس لئے رات کے وقت مسافتِ شرعی کے برابر نکلنا جائز نہیں۔
- اگر داخل ہونے کے وقت دن کا کچھ حصہ گزر چکا ہو، تو اتنا ہی حصہ قیام کے گیارہویں دن پورا کرنا ضروری ہے۔ تاکہ مکمل دس دن کا قیام شمار ہو سکے۔
قیام کے مقام (رہائش) سے متعلق شرائط
- مقامِ قیام عرف کے لحاظ سے ایک ہی جگہ شمار ہونا چاہیے؛ لہٰذا صرف دو شہروں یا دیہات کا آپس میں جڑ جانا کافی نہیں، جب تک کہ عرف میں انہیں ایک ہی جگہ نہ سمجھا جائے۔
- بڑے شہروں میں مختلف محلّوں کے درمیان آنا جانا کوئی مسئلہ نہیں ، کیونکہ وہ سب ایک ہی مقام کے حکم میں شمار ہوتے ہیں۔
- اگر کسی جگہ کے ایک ہونے یا نہ ہونے میں شک پیدا ہو جائے تو حکم یہ ہوگا کہ نماز قصر پڑھی جائے گی۔
نیتِ قیام میں شک، غلطی یا شرط کی صورتیں
- اگر دس دن کے قیام کو کسی غیر معلوم شرط پر موقوف کیا جائے (مثلاً کسی شخص کے آنے پر)، تو قیام محقق نہیں ہوگا اور نماز قصر ہوگی۔
- اگر دس دن کے قیام کے مکمل ہونے کے ارادےمیں کسی رکاوٹ کا احتمال ہو:
- اگر یہ احتمال کمزور اور غیر اہم ہو تو قیام صحیح ہے۔
- اگر احتمال قابلِ توجہ ہو تو قیام محقق نہیں ہوگا۔
- اگر کوئی شخص کسی معین وقت تک رکنے کا ارادہ کرے(مثلاً مہینے کے آخر تک)، اور حقیقت میں دس دن یا زیادہ ہو جائے:
- اگر اسے خود اس بات کا دھیان نہ ہو تو نماز پوری ہوگی۔
آیت اللہ سیستانی: اگر نیت "دس دن کے قیام ” کے بجائے ” کسی خاص وقت”پر موقوف ہو (جیسے مہینے کے آخر تک)، تو قیام کی نیت واضح طور پرمحقق نہیں ہوتی، چاہے اسے معلوم ہو کہ وہ خاص وقت ، دس دن سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے؛ ایسی صورت میں احتیاطِ واجب کی بنا پر قصر اور تمام دونوں کو جمع کرے ( یعنی نماز قصر بھی پڑھے اور پوری بھی)۔
- اگر کسی نے غلطی سے سمجھا کہ وہ دس دن رہے گا لیکن حقیقت میں دس دن کم رہا، تو اس کی نماز قصر ہوگی اور اس نے جو نمازیں پوری پڑھی ہیں، انہیں پھر سے قصر کر کے پڑھنی ہوگی۔ اب اگر اپنی غلطی کا احساس، وقت کے اندر ہو جائے تو نماز کو دوبارہ پڑھے (نمازقصرکےطور پر)، اور اگر وقت کے بعد معلوم ہو تو احتیاطِ واجب کی بنا پر قضا کرے۔لیکن اگر اس یہ نیت رہی ہوکہ اگر دس دنوں کی گنتی میں غلطی ہوئی تو باقی دن بھی ٹھہر کر دس دن مکمل کرے گا، تو اس کی نماز پوری ہوگی۔
- اگر کوئی شخص نمازِ قصر کے دوران ہی دس دن کے قیام کا ارادہ کر لے تو اسی نماز کو چار رکعت (پوری) مکمل کرے گا۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

