دلچسپ اورپر کشش واقعہ – جلد 03 شمارہ 17
وہ شمع جس نے بادشاہوں کو بھی مات دے دی
اصفہان کے سنہرے دور میں، جب علماء بادشاہوں کے ساتھ چلتے تھے اور حکمت سلطنتوں کی تقدیر سنوارتی تھی، ایک ایسا شخص رہتا تھا جس کا علم محلوں سے زیادہ ، دلوں کو روشن کرتا تھا،—شیخ بہائیؒ۔
وہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ فقیہ، شاعر، معمار اور مفکر۔ خود شاہ عباس اول انہیں بے حد عزت دیتا تھا۔ مگر اپنے بلند مقام کے باوجود، شیخ بہائیؒ خود کو اللہ کا ایک عاجز بندہ سمجھتے تھے۔
ایک شام، ایک مالدار تاجر ان سے ملاقات کے لئےآیا۔ وہ دور دراز کا سفر طے کر کے قیمتی تحائف ساتھ لےلایا تھا، اس امید کے ساتھ کہ شاید اسے کوئی فائدہ مند فتویٰ یا خاص عنایت حاصل ہو جائے۔ اسے ایک سادہ سے کمرے میں لے جایا گیا، جہاں ایک شمع کی مدھم روشنی تھی۔
شیخ بہائیؒ نے اس کا پرتپاک استقبال کیا اور پوری توجہ سے اس کی باتیں سنیں، جو خوشامد اور ذاتی مفاد سے لبریز تھیں۔
جب گفتگو ذاتی فائدے کے معاملات کی طرف مڑی، تو شیخ بہائیؒ نے خاموشی سے ہاتھ بڑھایا… اور شمع بجھا دی۔
کمرہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔ تاجر حیران ہو کر رہ گیا۔”حضور… آپ نے روشنی کیوں بجھا دی؟”
شیخ بہائیؒ نے نرمی سے جواب دیا، "یہ شمع بیت المال کے پیسے سے خریدی گئی تھی۔ میرے لیے جائز نہیں کہ اسے ذاتی معاملات میں استعمال کروں۔”
پھر انہوں نے اپنی ذاتی شمع جلائی۔
گفتگو دوبارہ شروع ہوئی۔ اس سادہ سے عمل میں، تاجر نے وہ کچھ دیکھا جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا—ایک ایسا شخص جو حکومت سے زیادہ خدا سے ڈرتا ہے، ایک ایسا عالم جو سچائی کو ذاتی مفاد کے ساتھ نہیں ملاتا، چاہے وہ معاملہ ایک معمولی سی شمع کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔
اس تاجرکے ہاتھوں میں موجود تحائف اچانک بوجھل محسوس ہونے لگے۔
اس کی نیت بے نقاب ہو چکی تھی۔ اور اس کا دل منقلب ہو کے رہ گیا۔
وہ اس رات، سونا چاندی کے بجائے بصیرت کی دولت اپنےساتھ لے گیا۔
کبھی کبھی ہدایت لمبی تقریروں سے نہیں، بلکہ اخلاص سے بھرے ایک لمحے کے عمل سے حاصل ہوجاتی ہے ۔
ایک خاموش لمحے سے۔ جب ایک انسان ہر چیز پر اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) کو ترجیح دیتا ہو۔
اس داستان سے ایک سبق:
دیانتداری بڑے بڑے دعوؤں سے ثابت نہیں ہوتی، بلکہ چھوٹے چھوٹے عملی فیصلوں سےظاہر ہوتی ہے—جب کوئی دیکھنے والا نہ ہو، سوائے اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) کے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

